ڈاکٹر آدم نئیر: سرائیکی خطے کا گمشدہ ماہرِ انسانیات و موسیقی اور ہماری علمی بے حسی


Muhammad Salman Rao

جنوبی پنجاب کے دیہات میں گونجنے والے لوک گیت، چولستان کے صحرا میں بکھری داستانیں، اور سرائیکی خطے کی صوفیانہ روایات۔ یہ سب کچھ اگر آج تک زندہ ہے، تو اس میں ڈاکٹر آدم نئیر جیسے گمشدہ محققین کا خونِ جگر شامل ہے۔ مگر افسوس، ہم نے اپنے ہی مورخ کو فراموش کر دیا۔ جنوبی پنجاب کی ثقافت، موسیقی اور روایات پر جب بھی تحقیق کی بات ہوتی ہے تو چند نام ہی سامنے آتے ہیں۔ لیکن ایک ایسا محقق جس نے بہاولپور، چولستان اور سرائیکی خطے کی ثقافت کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا، جس نے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں بیٹھ کر بھی اپنی تحقیق کا محور بلوچستان، گلگت بلتستان اور جنوبی پنجاب کے دیہات کو بنایا، وہ ہماری اپنی یونیورسٹیوں کے نصاب سے کیوں غائب ہے؟ ڈاکٹر آدم نئیر ( 1948۔ 2008 ) صرف ایک نام نہیں بلکہ پورے سرائیکی وسیب کے ثقافتی مورخ تھے۔

آدم نئیر کون تھے؟

وہ 10 دسمبر 1948 کو پیدا ہوئے اور بہاولپور میں پلے بڑھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، اور جرمنی کی یونیورسٹی آف ہائیڈلبرگ سے انسانیات (اینتھروپالوجی) میں پی ایچ ڈی کی۔ آدم صاحب نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ انسانیات پاکستان اسٹڈیز میں تدریس کے فرائض انجام دیے، نیز لوک ورثہ (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فولک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج) اسلام آباد کے ڈائریکٹر رہے، 29 جولائی 2008 کو ڈاکٹر آدم نیّر کا انتقال ہوا۔ اس وقت وہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھے۔

مایہ ناز مصور غلام رسول، جو 1974 سے ڈاکٹر نئیّر کو جانتے تھے، نے ڈاکٹر نئیّر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ملک نے ڈاکٹر نئیّر جیسے ہیرے کو ضائع کر دیا“ ۔ انہوں نے کہا، ”وہ ہم سب کی سوچ سے کہیں زیادہ باصلاحیت تھے۔ ایک عمدہ محقق، پیشہ ور اور ہونہار شخص تھے“ ۔ ڈاکٹر نئیّر کی آخری دو کتابیں، ’اے ٹریٹائز آن قوالی ریڈنگز، اور نیریٹو اینڈ انسیڈ ان دی غزل‘ ، اشاعت کے لیے تیار تھیں جب ان کا انتقال ہوا۔ یہ کتابیں، جیسا کہ مصور غلام رسول نے کہا تھا، ان کی ’ثقافتی سفارت کاری کو مزید آگے بڑھانے میں موثٔر ثابت ہوئیں۔ ڈاکٹر نئیّر پاکستان کے مشہور ماہرِ انسانیات Anthropologist اور ماہرِ موسیقی ethnomusicologist میں سے ایک تھے، جنہوں نے فیلڈ ورک کو اپنا بنیادی طریقہ تحقیق بنایا۔ لوک ورثہ اسلام آباد کے ساتھ کام کرتے ہوئے پاکستانی ثقافت کے 2000 سے زائد لوک گیتوں اور داستانوں کو ریکارڈ کیا۔ ڈاکٹر نئیّر کو پاکستانی موسیقی، خاص طور پر صوفی اور لوک موسیقی، اور ثقافت پر ایک مستند اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ ان کے دلچسپی اور تجربے کے شعبوں میں ایتھنوگرافک تحقیقات، تدریس و تربیت، موسیقی اور شاہراہ ریشم کی موسیقی شامل تھے۔ ایتھنوموسیقولوجسٹ کی حیثیت سے ان کی دلچسپی انہیں وسطی ایشیا کے ممالک تاجکستان، ترکمانستان، مغربی افریقہ کے سینیگال، گنی اور کوٹ ڈی آئیوائر، نیز امریکہ اور فرانس تک لے گئی۔ ڈاکٹر نئیّر نے یونیسکو جیسے اداروں کے لیے پاکستانی دیہی ترقی پر کام کیا۔ جرمنی، فرانس اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں لیکچرز دیے مگر ہمیشہ ان کی تحقیق کا محور پاکستان کے دیہی علاقے جیسے آستور، بلوچستان کے علاقے اور خاص طور پر سرائیکی خطہ ہی رہا۔

یونیسکو اور لوک ورثہ کے لیے کام

ڈاکٹر آدم نئیر نے پاکستان کے غیر مادی ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے نمایاں کام کیا، خاص طور پر یونیسکو اور لوک ورثہ جیسے عالمی اداروں کے تعاون سے چولستان کے گیتوں، رقصوں اور روایتی موسیقی کو دستاویزی شکل دی۔ انہوں نے مقامی فنکاروں کے گیتوں، دھنوں اور ثقافتی اظہار کو ریکارڈ کیا، جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ثقافتی تنوع کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی یہ قیمتی ریکارڈنگز لوک ورثہ اسلام آباد کے علاوہ بین الاقوامی موسیقی کے آرکائیوز میں بھی محفوظ ہیں، جس سے آنے والی نسلیں سرائیکی اور چولستانی ثقافت کی اصل روح سے روشناس ہو سکیں گی۔ ان کی کاوشیں نہ صرف مقامی فن کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہیں بلکہ اس بات کی عکاس بھی ہیں کہ پاکستان کا لوک ورثہ کتنا وسیع اور منفرد ہے۔

ڈاکٹر آدم نئیر: پاکستانی موسیقی (قوالی) کے ورثے کے محافظ

ڈاکٹر آدم نئیّر پاکستان کے نامور موسیقار، محقق اور ثقافتی ماہر تھے جنہوں نے قوالی کے فن کو نہ صرف گہرائی سے سمجھا بلکہ اس کی ترویج و تحفظ کے لیے قابلِ ذکر کام کیا۔ انہوں نے قوالی کی تاریخ، ثقافتی اہمیت اور صوفیانہ پیغام پر تحقیقی کام کیا، جس میں نصرت فتح علی خان جیسے عظیم فنکاروں کی موسیقی کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر آدم نے پاکستانی موسیقی کے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1991 میں، بطور ٹیم اینتھروپولوجسٹ کام کرتے ہوئے، انہوں نے پاکستان کے موسیقی کے ورثے پر ایک فلم ”پردیسی“ پروڈیوس کی، جس نے کانز فلم فیسٹیول میں ”اعزازی ذکر“ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ ان کی دو دیگر فلمیں، ”ریلیجس اینڈ صوفی میوزک“ اور ”دی میوزک آف بلوچستان“ ، جو انہوں نے ایک فرانسیسی ٹیم کے ساتھ پروڈیوس کیں، نے فلورنس فلم فیسٹیول میں سلور میڈل بھی جیتا۔ یہ فلمیں نہ صرف پاکستانی موسیقی کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ڈاکٹر نئیر کے اس شعبے میں گہرے عشق اور لگن کا بھی ثبوت ہیں۔

بہاولپور اور چولستان پر ان کی انمٹ تحقیق

اگرچہ انہوں نے چولستان پر الگ سے کوئی کتاب نہیں لکھی، لیکن ان کے تحقیقی مقالے اور لوک ورثہ کی رپورٹس میں چولستان کے بارے میں اہم معلومات موجود ہیں۔ ان کی رپورٹ ”فولک میوزک اینڈ میوزیکل انسٹرومنٹس آف پاکستان“ میں پنجاب اور چولستان کی موسیقی پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

1۔ چولستان کے خانہ بدوشوں کی زبانی تاریخ

1980 کی دہائی میں ڈیرہ نواب، لال سہانرا اور فورٹ عباس کے علاقوں میں رہ کر ماروی، سسی پنوں کی لوک داستانوں کو ریکارڈ کیا۔ چولستان کے پالن دار قبائل کی رسومات اور موسمی تہواروں پر ایک مکمل رپورٹ لکھی۔

2۔ سرائیکی لوک موسیقی کا تحفظ

بہاولپور کے میراثی گھرانے (خصوصاً ڈھول نوازوں ) کے ساتھ کام کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ موسیقی صرف تفریح نہیں بلکہ تاریخ کا زندہ ریکارڈ ہے۔ سرائیکی لوک گیتوں خصوصاً جھومر، دوہڑے اور کافیوں کو پہلی بار علمی انداز میں محفوظ کیا۔ انہوں نے چولستان کی خانہ بدوش برادریوں (جیسے مارواڑی، بھیل وغیرہ) کی موسیقی کا مطالعہ کیا۔

ڈاکٹر نئیر نے چولستان کے صحرا میں رہ کر وہاں کی خانہ بدوش برادریوں کے مخصوص موسیقی کے آلات کو دریافت کیا اور ان کا تفصیلی ریکارڈ تیار کیا۔ ان میں سب سے منفرد ”یکتارو“ تھا۔ ایک تار والا وہ ساز جو چولستان کے صوفی گیتوں کے لیے مخصوص تھا۔ انہوں نے اس ساز کی تعمیر، دھنوں اور استعمال کے طریقوں کو تفصیل سے محفوظ کیا۔ ڈھولک اور سپیروں کی بین پر ان کا کام بھی قابل ذکر ہے۔

3۔ صوفی روایات پر کام

چولستان کے صوفی میلے، شادی بیاہ کے گیت اور اونٹ چرانے والوں کے نغموں کا تجزیہ کیا۔ چنن پیر، لعل عیسن شاہ اور خواجہ غلام فرید کے عرسوں میں گائے جانے والے روحانی کلام کو دستاویزی شکل دی۔ ان کا سب سے اہم کام ”فولک میوزک اینڈ میوزیکل انسٹرومنٹس آف پاکستان“ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں انہوں نے نہ صرف سرائیکی خطے بلکہ پورے پاکستان کے مقامی موسیقی کے آلات کی تفصیلی تاریخ اور استعمال کو محفوظ کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ یہ آلات محض موسیقی کے ذرائع نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں۔ چولستان کے صوفی گیتوں میں استعمال ہونے والے مخصوص آلات پر ان کی تحقیق نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ یہ آلات صدیوں سے روحانی موسیقی کا حصہ رہے ہیں اور ان کے ذریعے صوفیانہ پیغامات عوام تک پہنچائے جاتے تھے۔

ڈاکٹر آدم نئیر اور نصرت فتح علی خان: ایک علمی رفاقت اور قوالی کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کا سفر

ڈاکٹر آدم نئیر اور نصرت فتح علی خان صاحب کا تعلق محض ایک موسیقار اور محقق کا رشتہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی علمی دوستی تھی جس نے پاکستانی صوفیانہ موسیقی کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پہچان دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر آدم، نصرت صاحب کی صلاحیتوں کے قائل تھے۔ ڈاکٹر آدم نئیر نہ صرف نصرت صاحب کے قریبی دوست تھے، بلکہ وہ ایک ثقافتی سفیر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے پاکستانی موسیقی کو عالمی سطح پر فروغ دینے کا سبب بنے۔ ان کی کوششوں سے نصرت فتح علی خان کی آواز جاپان اور امریکہ تک پہنچی، جس نے بعد میں عالمی موسیقی کے منظر نامے پر قوالی کو ایک نمایاں مقام دلایا۔

ڈاکٹر آدم کے، نصرت صاحب کی یاد میں لکھے مقالے کے مطابق، ڈاکٹر آدم نے 1986 میں یونیسکو کے ایک اجلاس کے دوران جاپانی منصوبہ سازوں کو پاکستانی قوالوں کو مدعو کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کی سفارش پر 1987 میں جاپانی ٹیم (یوکی مینی گیشی اور رتسوکو تاکاہاتا) اسلام آباد پہنچی اور ڈاکٹر آدم کی وساطت سے نصرت صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جنھوں نے نصرت صاحب کو جاپان میں قوالی پرفارم کرنے کی دعوت دی اور نصرت صاحب نے یہ دعوت نامہ قبول کیا۔ اور جاپانی موسیقی (پینٹاٹونک سکیل) کو سمجھتے ہوئے اپنی پرفارمنس میں بھوپالی اور پہاڑی راگ شامل کیے تاکہ جاپانی سامعین کے لیے یہ تجربہ مانوس ہو۔ یہ دورہ نصرت صاحب کی بین الاقوامی شہرت میں سنگِ میل ثابت ہوا۔ 1992 میں پروفیسر ہیرومی لورین ساکاتا (ایتھنوموسیقولوجسٹ) نے نصرت صاحب کو یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں وزٹنگ آرٹسٹ کے طور پر مدعو کیا۔ جو پاکستانی موسیقی (UCLA) کی تحقیق کر رہی تھی۔ ان کی دعوت پر نصرت صاحب نے امریکہ میں تدریسی دور کیا۔ جہاں انہوں نے چھ ماہ تک طلباء کو قوالی کی تربیت دی۔ ڈاکٹر آدم نے اس دورے کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں مغرب میں قوالی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ آج بھی نصرت صاحب کی موسیقی کی عالمی پذیرائی میں ڈاکٹر آدم نئیر کے تعاون کو سنہری حروف میں یاد کیا جاتا ہے۔

اعزاز

ڈاکٹر آدم نئیر کو ( 2008 ) میں فرانس کی حکومت کی طرف سے (نائٹ آف آرٹس اینڈ لیٹرز) کا اعزاز دیا گیا۔ ڈاکٹر آدم نئیر کو ان کی موسیقی، ثقافتی تحقیق اور پاکستانی لوک ورثے کے تحفظ میں غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا۔ یہ فرانس کا ایک اعلیٰ ثقافتی اعزاز ہے جو دنیا بھر کے ادیبوں، فنکاروں اور دانشوروں کو دیا جاتا ہے۔

ہم کیوں پیچھے رہ گئے؟

تعلیمی اداروں میں مقامی ثقافت اور تحقیق کی اہمیت کو اکثر نظرانداز کیا جانا تشویش ناک ہے۔ خاص طور پر شعبہ انسانیات میں سرائیکی کلچرل اسٹڈیز جیسے الگ مضمون کی شدید ضرورت ہے، جس میں مقامی محققین جیسے کہ آدم نئیر کے کام کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے بغیر، ہمارا تعلیمی نظام اپنی ہی ثقافتی میراث سے بے خبر رہے گا۔ مزید برآں، ثقافتی ادارے بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ صوفی میلے اور ثقافتی نمائشوں جیسے پروگراموں میں بین الاقوامی شخصیات کو تو سراہا جاتا ہے، لیکن مقامی محققین کے نام تک گم کر دیے جاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ان کی محنت کو نظرانداز کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی علمی روایت سے دور کر دیتا ہے۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ طلباء یورپی مفکرین کے نظریات تو رٹ لیتے ہیں، لیکن اپنے ہی خطے کے دانشوروں اور محققین سے ناواقف رہتے ہیں۔ اگر تعلیمی اور ثقافتی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مقامی علم کو فروغ دیں، تو ہم اپنی شناخت کو محفوظ کر سکتے ہیں۔

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

مقامی ثقافت اور تحقیق کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اداروں کو عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ سب سے پہلے، ایک مقامی ثقافت ریسرچ سیل قائم کیا جانا چاہیے جو علاقائی دانشوروں، خاص طور پر آدم نئیر جیسے محققین کے کام کو یکجا کرے اور اسے نئی نسل تک پہنچائے۔ اس کے علاوہ، ہر سال ایک سالانہ لیکچر سیریز کا اہتمام کیا جائے جس میں مقامی تحقیق کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور اس کے اثرات پر علمی مباحثے ہوں۔ ساتھ ہی، طلباء کو عملی تحقیق کی طرف راغب کرنے کے لیے طالبعلمی منصوبے متعارف کرائے جائیں، جن میں زبانی تاریخ اور میدانی مطالعہ جیسے طریقوں کو اپناتے ہوئے مقامی ثقافت اور تاریخ کو ریکارڈ کیا جائے۔ یہ اقدامات نہ صرف مقامی علم کو محفوظ کریں گے بلکہ طلباء کو اپنی روایات سے جوڑنے کا بھی اہم ذریعہ بنیں گے۔

ایک لازوال علمی ورثہ

پاکستان کے مشہور شاعر اور ڈراما نگار سرمد صہبائی نے ڈاکٹر نئیّر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ”ٓٓوہ 40 سالہ ذاتی دوست سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ ثقافتی دنیا ایک شاندار اور بصیرت افروز اسکالر سے محروم ہو گئی ہے۔“ ٓانہوں نے مزید کہا کہ، ”ٓٓآدم کا پنجاب سے عشق قابل ستائش تھا اور ثقافت اور عالمی موسیقی، خاص طور پر قوالی، کے لیے ان کا جنون قابل احترام ہے۔“ ٓ

ڈاکٹر آدم نئیر نے اپنی زندگی ہماری موسیقی کی میراث کو بچانے میں صرف کر دی۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ نہ صرف ان کے کام کو محفوظ کریں بلکہ ان کے شروع کیے گئے کام کو آگے بڑھائیں۔ کیا ہم اپنی موسیقی کی تاریخ کے محافظ بنیں گے یا پھر آنے والی نسلوں کو خالی ہاتھ چھوڑ دیں گے؟

تہذیبیں اپنے مورخین کو یاد رکھ کر ہی زندہ رہتی ہیں۔

Facebook Comments HS

محمد سلمان راؤ

محمد سلمان راؤ شعبہ انٹرپولوجی (انسانیات) میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں لیکچرر ہیں۔ ان کے پاس ہیومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ موجود ہے، نیز وہ ایک ماہرِ سکّہ شناسی (نمیزمیٹسٹ) بھی ہیں۔

muhammad-salman-rao has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-salman-rao