خاموش الزام، بے آواز سچائی


میری عدالت میں پیشی تھی۔ موسم کی خنکی میں کچھ خاص شدت نہ تھی، مگر دلوں میں کچھ ایسا ضرور تھا جو سرد مہری کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔

میں اس دن عدالت میں بچوں کے نان و نفقہ کا مقدمہ دیکھ رہا تھا۔ یہ غالباً سنہ 2020 اوائل میں پاکستان میں کورونا کے باعث لاک ڈاؤن سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔ میں ان دنوں فیملی کیسز بہت ہی کم لیتا تھا مگر ایک وکیل دوست کے اصرار پر یہ مقدمہ لینا پڑا۔ اس مقدمہ میں پہلے بھی دو تاریخیں پڑ چکی تھیں۔ تیسری پیشی پر میں حاضر ہوا تھا۔ سامنے ایک عورت بیٹھی تھی۔ سر پر صاف ستھرا کالا دوپٹہ اوڑھے، گود میں چھوٹا بچہ اور ساتھ میں ایک چھ سالہ بیٹی جس کی آنکھوں میں ماں کے آنسوؤں کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔

اس کا شوہر طاہر (نام فرضی ہے ) پہلے سے کورٹ روم میں موجود تھا۔ چہرے پر تپش، دل میں شکوک اور لہجے میں روایتی مردانہ انا۔ وہ اب اس عورت کا شوہر نہیں تھا دو طلاقیں ہو چکی تھیں البتہ تیسری ابھی نہیں۔

”جناب، یہ عورت گھر کے کام کاج کی پرواہ کیے بغیر دن بھر فون پر مصروف رہتی تھی“ ”مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا تھا تبھی میں نے اسے اپنے گھر سے نکالا اور طلاق بھیج دی“ اس نے کہا جیسے وہ کوئی مقدمہ نہیں، فتح کا اعلان کر رہا ہو۔

اس نے دوبارہ دہرایا ”میں نے کئی بار سمجھایا، روکا، پر یہ نہ رکی۔ میری والدہ نے بھی اسے بہت بار سمجھایا مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ الٹا اس نے میری والدہ کے ساتھ بدتمیزی کی۔ آخر تنگ آ کر دو طلاقیں دے دیں۔ اب عدالت سے بچوں کے خرچے کا مطالبہ کر رہی ہے۔“

جج نے میری طرف دیکھ کر حکم دیا ”جی عامر صاحب آپ کیا کہیں گے اس بارے؟“ ۔
میں نے روسٹرم پر کھڑے ہو کر آہستگی سے فائل کھولی۔ اور کہا:

”جنابِ والا، میرے پاس ان تمام کالز اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے۔ لیکن ان سے زیادہ اہم وہ بات ہے جو شاید طاہر صاحب یا ان کی والدہ نے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔“

میں نے عدالت کی اجازت سے عورت کو گواہی کے لیے بلایا۔ سعدیہ کے بیان کا لب لباب یہ ہے۔

”میرا نام سعدیہ ہے۔ ہمارے گھر کے حالات اچھے نہ تھے۔ میں نے سوشل میڈیا پر کچھ پیجز جوائن کیے تھے جن میں ماں باپ کے علاج، معذور بچوں کی تربیت اور آن لائن قرآن کورس شامل تھا۔“

”اور کالز؟“ جج نے سوال کیا۔

”میری بہن کو بلڈ کینسر ہے۔ روزانہ اس کی دوائی، رپورٹ، ڈاکٹر۔ سارا بوجھ میرے سر تھا کیونکہ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے میرے ابا گزشتہ برس فوت ہو گئے ہیں، گھر کی بڑی بہن ہونے کے ناتے مجھے کافی معاملات دیکھنا پڑتے ہیں طاہر سب جانتے ہیں۔

میں نے کئی بار انھیں بتایا بھی ہے مگر یہ ہیں کہ مان کر نہیں دیتے۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتی ہوں کہ میں طاہر سے بے پناہ محبت کرتی ہوں میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں میرا ان کے سوا کون ہے؟ ”

طاہر کا چہرہ جیسے بے رنگ ہو گیا۔
میں نے ایک اور صفحہ عدالت کے سامنے رکھا۔ سعدیہ کی بہن کی میڈیکل رپورٹس اور کچھ دیگر دستاویزات۔

”عالی جناب دراصل طاہر صاحب کو بدگمانی نے اندھا کر دیا اور جب محبت میں اعتماد مر جائے تو رشتہ جسم کا لباس رہ جاتا ہے روح کا نہیں۔“

عدالت میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔
جج صاحبہ نے باری باری فریقین کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا:

”کیا تم دونوں اس رشتے کو بچانا چاہتے ہو؟ طلاق ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ یہ وقت ہے سچ کو نہ صرف سننے بلکہ سمجھنے کا بھی۔“ جج صاحبہ نے مزید کہا: ”یہاں پر آپ دونوں کو اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنی اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی ضرورت ہے“ ۔

سعدیہ نے نظریں جھکا لیں اور طاہر کا رنگ پیلا پڑ گیا۔

موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عدالت نے مجھے اور میرے فاضل دوست کو مصالحت کے انتظامات کرنے اور مثبت پیش رفت کی امید کے ساتھ ایک ہفتے بعد کی تاریخ دے دی۔

اگلے ہی روز میں نے سعدیہ کے ایک دور پار کے چچا کو اپنے آفس بلا کر تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا انھوں نے اپنی لاعلمی پر بہت افسوس کا اظہار کرنے کے بعد مجھے یقین دلایا کہ وہ آج ہی اس معاملے کو حل کروانے کی کوشش کریں گے۔

دو دن بعد سعدیہ کے چچا نے مجھے کال کر کے کہا کہ فریقین سے ان کی ملاقات ہو گئی ہے اگر ایک روز آپ وقت نکال لیں تو بہتر ہو گا۔ میں نے اگلے ہی روز انھیں اپنے پاس بلا لیا۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان چھوٹے چھوٹے شکوے شکایتیں تھیں جنہیں بروقت نہ سننے کی وجہ سے بڑھاوا ملا اور وہ دونوں کی علیحدگی کا باعث بنیں۔ سعدیہ کے چچا نے دونوں کو سمجھایا بالآخر عدالتی پیشی سے ایک روز پہلے دونوں نے دوبارہ رجوع کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کر دیا۔

مقررہ پیشی کے دن پہلی بار طاہر کا لہجہ بہت نرم تھا:
”جو کچھ بھی ہوا۔ مجھے افسوس ہے۔ میں۔ معافی چاہتا ہوں۔“
جج صاحبہ نے معنی خیز نظروں سے سعدیہ کی طرف دیکھا۔

سعدیہ نے ہلکے سے سر ہلایا اور سر جھکاتے ہوئے کہا: ”میں مانتی ہوں کہ مجھ سے بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہیں میں نے اپنے گھر کو نظر انداز کیا جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مجھے اتنی سمجھ نہ تھی۔ میں اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کروں گی“

جج صاحبہ نے مسکرا کر کہا:

”شکر ہے، آپ دونوں کو اپنی اپنی غلطیاں سمجھ آ گئی ہیں۔ عدالت صلح کی اجازت دیتی ہے۔ تاکہ ایک خاندان دوبارہ جُڑ سکے۔“

بیشتر فیملی مقدمات اسی طرح کے معمولی گھریلو لڑائی جھگڑے کے بعد عدالت میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ سچی کہانی دراصل اُس سچ کا آئینہ ہے جو اکثر بدگمانی کے دھندلے شیشے میں چھپ جاتا ہے۔

Facebook Comments HS