گل شیر سنگھ کی دادی حسینو کو بچھڑے بھائیوں کا انتظار


کئی دنوں سے واٹس ایپ پہ لگاتار کال آ رہی تھی اور کتنی ہی دیر گھنٹی بجتی ہی رہتی تھی۔ جب سبز بٹن دبایا تو سرحد پار کہیں سے کسی گل شیر خان کی گھگھی سی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ انڈین پنجاب کے ضلع مکتسر کے گاؤں ’چبھڑاں والی‘ سے کریانے کی ایک چھوٹی سی دکان پہ بیٹھا گل شیر کوئی بہت ضروری بات کرنا چاہتا تھا۔

انیس سو سنتالیس کی ہجرت کے وقت چبھڑاں والی کا ضلع فیروزپور تھا۔ چبھڑاں والی کے پڑوس میں گندڑاں، پاکاں، بھاگ سر، شیرے والا، بمباں، لٹھے والی اور خنن کلاں جیسے گاؤں واقع ہیں۔

گل شیر خان کھنکتی ہوئی کڑک آواز میں بولا ’بھائی آپ بزرگوں سے ملتے ہیں اور ان سے سنتالیس کی کہانیاں سنتے ہیں۔ التجا ہے کہ ہمارے کچھ بچھڑے بزرگ نہیں مل رہے۔ آپ ان کی تلاش میں میری کچھ مدد کر دیں۔ ‘

’بتائیے کس کی تلاش ہے آپ کو؟‘
گل شیر کا التجا بھرا لہجہ میرے دل میں اترا جا رہا تھا۔
’دادی حسینو کے بھائیوں کی جو پاکستان میں ہیں‘

گل شیر نے اپنی سگی دادی اور اس کے بچھڑے بھائیوں کی کہانی سنانا  شروع کی تو گویا  درد، جدائی، بے بسی، مجبوری، انتظار اور دکھوں کا ایک طوفان چل پڑا۔ گل شیر کہانی کے واقعات سے دکھوں کی پرتیں ایک ایک کر کے کھولتا چلا گیا۔ اس کی آواز زیادہ بوجھل اور بھاری ہوتی چلی گئی۔ دکان پر آنے والے گھی چینی، پتی کے گاہگوں کو شاید وہ بالکل بھول گیا تھا۔

گل شیر خان ولد شندرپال کے دادا اکبر علی اور پردادا رحمت علی موگا کے گاؤں رونتا میں رہتے تھے۔ سن سنتالیس سے دو تین سال قبل وہ رونتا چھوڑ کر چبھڑاں والی میں آباد ہو گئے۔ دادا اکبر علی کی شادی ’نکو‘ کی بیٹی حسینو سے ہوئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی ہنگامے شروع ہو گئے۔ شادی کی خوشی اور مہندی کے رنگ ہوا ہو گئے۔

دادی کی ماں کا نام جیونی تھا۔ چراغ دین، سراج دین اور مہر دین دادی کے بھائی تھے۔

سنتالیس کے ہنگاموں نے زور پکڑا تو پورا خاندان چبھڑاں والی چھوڑ کر سرحد پار کر گیا اور ضلع بہاولنگر (پنجاب۔ پاکستان) کی تحصیل چشتیاں کے ایک قصبے ڈونگا بونگا میں آباد ہو گیا۔

چبھڑاں والی کے نمبردار سردار سجن سنگھ کی بیوی ’چھوٹو‘ اور ’حسینو‘ کی گوڑھی دوستی تھی۔ یوں ایک دم حسینو کے چلے جانے سے چھوٹو اداس ہو گئی تھی۔ اس نے اپنے شوہر سردار سجن سنگھ سے بہت زور دے کر کہا کہ حسینو کو واپس بلا لیں۔ سجن سنگھ کو پچھتاوا تھا کہ صدیوں تک مل جل کر ایک ہی گاؤں میں بستے بستے چبھڑاں والی سے ایک دم مسلمانوں کا ایک بھی گھر باقی نا رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ چبھڑاں والی میں مسلمانوں کا نشاں باقی ضرور رہنا چاہیے۔ کوئی ایک خاندان ادھر ہی رہے تو اچھا ہو گا۔

اکبر علی اپنی بیوی حسینو، ماں جیونی اور بھائی خورشید محمد کے ساتھ نمبردار سجن سنگھ کے کہنے پر اپنے گاؤں چبھڑاں والی واپس چلا گیا۔

چھوٹو کی خواہش پوری ہو گئی۔ چبھڑاں والی میں مسلمانوں کا ایک گھر بھی رہ گیا۔ لیکن آنے والے سالوں میں اس گھر پر درد کے کتنے پہاڑ گرے یہ شاید کوئی نہیں جانتا۔

گل شیر نے بتایا کہ پاکستان آ کر دوبارہ چبھڑاں والی میں واپسی آسان نہ تھی۔ حالات خراب تھے۔ زندگیاں خطرے میں تھیں۔ سجن سنگھ کے سندیسے پر اکبر علی، حسینو، جیونی اور خورشید پھر سے چبھڑاں والی کی طرف، چڑھتے سورج کی سمت روانہ ہوئے۔ حسینو کے پاس ایک دودھ پیتی بچی بھی تھی۔ دن کو کہیں بوٹے جھاڑیوں میں چھپ کر پڑے رہتے اور رات کی سیاہ چادر لپیٹ کر دبے پاؤں چلتے رہتے۔

انڈین پنجاب میں مسلمانوں کا یوں بے یار و مددگار سفر کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ جلال آباد کے قریب کسی گاؤں کے پاس کوئی بھلا مانس کسان کھیتوں کو پانی لگا رہا تھا۔ ہر سو رات کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ مینڈک ٹرا رہے تھے اور ٹڈیاں تیکھی آواز میں شور مچائے جا رہی تھیں۔ سہمے سہمے قدم اٹھ رہے تھے۔ کسان کے ہاتھ میں لالٹین تھی جس کی مدھم سی روشنی کسان کے قدموں پہ بچھی جاتی تھی۔ ہلکی سی آہٹ پر کسان نے لالٹین اٹھا کر دیکھا تو اسے چار ڈرے، سہمے، لاچار افراد نظر آئے۔

اکبر علی نے کسان کو اپنی روداد سنائی۔ کسان نے کہانی سنی اور ’چینک‘ میں اپنے لیے جو چائے ساتھ لایا تھا اس کے دو دو گھونٹ سب کو پلا دیے۔ راستہ بتایا، سلامتی کی دعا دی اور جاتے جاتے لالٹین اونچی کر کے روشنی کی چند کرنیں اس اجڑے ہوئے بے بس قافلے کے ہمراہ بھیج دیں۔

دادی کا خاندان ڈونگا بونگا رہ گیا۔ خاندان دو حصوں میں، دو ملکوں میں، دو سرحدوں میں بٹ گیا۔ دو ٹکڑے ہو گئے۔

کیا معلوم تھا کہ دو بار کی ہجرت بھی جیون میں سکون نا لا سکے گی۔ دل کبھی چین نا پا سکیں گے۔ ٹوٹے دل کی کرچیاں دوبارہ نا جڑ سکیں گی۔

وقت گزرتا چلا گیا، اور خاندان کے بچھڑے لوگوں سے ملنے کے لیے حالات سازگار نا رہے۔ جب سرحد پہ باڑ نہیں تھی تو دادی کے بھائی چھپ چھپا کر ایک دو بار اپنی بہن سے ملنے گئے۔ پھر جان کے خطرے کے باعث دوریاں بڑھتی چلی گئیں اور رابطے ختم ہوتے چلے گئے۔

گل شیر کے پاس دادی حسینو کا پاسپورٹ پڑا ہے جس پر وہ دو بار پاکستان آ کر بھائیوں سے ملی۔ پاسپورٹ کی تصویر اس نے وٹس ایپ کی۔ اس پہ پاکستان کے شہر چشتیاں کے پولیس اسٹیشن کے منشی کی ایک رپورٹ بھی اردو میں درج ہے۔ تاریخ آمد 24 جنوری 1963 اور واپسی روانگی چھ فروری 1963۔ ایک سال کے بعد پھر آمد کی تاریخ 23 فروری 1964 اور روانگی پانچ مارچ 1964۔ اس پہ دو بچوں کا بھی ذکر ہے جو ہمراہ تھے۔ گل شیر کہتا ہے کہ ایک اس کا والد شندر اور دوسرا ذوالفقار تھا۔

سن 1964 کے بعد دادی کے آخری سانس لینے تک ( حسینو 2018 میں فوت ہو گئی) دادی اپنے بھائیوں کو نا مل سکی۔ بھائیوں کی ڈونگا بونگا سے چٹھیاں آتی تھیں وہ بھی آہستہ آہستہ آنا بند ہوں گئیں۔ سب رابطے ختم  ہو گئے۔ بس باتوں میں، یادوں میں دادی کے سب بھائی ہمیشہ موجود رہے۔

بٹوارے کے بعد جبھڑاں والی میں سکھوں کی اکثریت ہو گئی۔ مسجد کی جگہ پہ بھی گھر بن گئے۔ قبرستان کی قبریں ختم ہو گئیں اور ان کی جگہ عمارتیں کھڑی ہو گئیں۔ اکبر علی اور خورشید محمد کے لیے اپنی الگ شناخت قائم رکھنا مشکل ہوتا چلا گیا۔ ہر طرف سکھ دھرم کے سائے پھیلے تھے۔ اکبر علی نے چبھڑاں والی گاؤں کے سکول میں بیٹا داخل کروایا تو ماسٹر نے اس کا نام شندرپال سنگھ لکھ دیا تھا۔ سکھ دھرم اپنانے کے سوا کوئی چارہ نا تھا۔

گل شیر خان بھی گل شیر سنگھ ہے۔ کہتا ہے کہ کارڈ پہ نام گل شیر خان لکھوایا ہے۔ شناخت کا معاملہ بھی ہے۔

سکھ ہیں یا مسلمان؟ نماز پڑھیں یا پاٹھ؟ مسجد جائیں یا گردوارے؟
گردوارے جائیں بھی تو چین نہ پڑے۔ کیا کریں!
بلھیا کی جانا میں کون!

اور خورشید محمد عرف چڑی بھی سکھ ہو گئے تھے۔ چڑی کے دو بیٹے گورا اور سکھا تھے، دو بیٹیاں ویری اور رانی تھیں۔ وہ سب امریکہ چلے گئے تھے۔ وہیں کے ہو گئے۔

گل شیر کا خاندان بکھر چکا تھا۔ ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔ ریزے بھی دور دور اڑ گئے تھے۔ اکبر علی بیس سال قبل فوت ہو چکا تھا۔ حسینو کو اپنے بھائی پل پل یاد آتے تھے۔

گل شیر نے بتایا کہ دادا دادی کے چھ بچے تھے۔ چھوٹو، مٹھو لال، ذوالفقار، راج بی بی، شندرپال سنگھ اور لڈو۔ مٹھو لال نے بھی مذہب بدل لیا اور لال سنگھ ہو گیا۔ لڈو بھی غربت کے مارے لڈو سنگھ ہو گیا اور اب اس کے بیٹے سندیپ سنگھ اور کالا سنگھ چبھڑاں والی گاؤں کے گردوارے کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

نا جانے کیوں کہانی سناتے سناتے گل شیر کی آواز بیٹھ گئی تھی۔ سب کچھ الٹ پلٹ ہونے پہ وہ بہت رنجیدہ تھا۔ بار بار منت سماجت کرتا کہ دادی کے بھائیوں چراغ دین، سراج دین اور مہر دین کو تلاش کر دیں۔

’دادی سن دو ہزار اٹھارہ میں فوت ہو گئی تھی۔ دادی آخری سانسوں تک اپنے بھائیوں کے نام کی مالا جپتی رہی اور بستر مرگ پہ زندگی موت کی کشمکش میں تھی جب لرزتی آواز میں مجھے کہا کہ انہیں ضرور ڈھونڈنا۔‘

آنسو دادی کی گال پہ بہہ رہے تھے۔ آواز گلے میں ہی اٹک گئی تھی۔ آخری سانس بھی جیسے بھائیوں کا نام لے کر نکل گئی تھی۔

ہائے بے بسی! دادی بھائیوں سے ملے بنا ہی چلی گئی تھی۔

گل شیر کی درد بھری داستان سن کر میں نے چشتیاں میں دوستوں سے رابطے کیے۔ واٹس ایپ گروپوں میں پیغام بھیجے لیکن حسینو کے بھائیوں، چراغ دین، سراج دین اور مہر دین کا معلوم نہ ہو سکا۔ رب جانے وہ زندہ بھی تھے یا ان کے جیون کے چراغ بھی گل ہو گئے ہوں گے۔ رب جانے اب ان بھائیوں کے خاندان کہاں بستے ہوں گے۔ حسینو کو وہ یاد بھی کرتے ہوں گے یا نہیں۔

کافی دن گل شیر مجھ سے رابطہ کرتا رہا۔ کہتا کریانے کی دکان اچھی چل رہی ہے۔ ڈیری کا کام بھی خوب چل رہا ہے، سیکنڈ ہینڈ چھوٹی گاڑی بھی خرید لی ہے۔ رب کی کرپا سے سب بہترین ہے۔ بس دادی کے خاندان سے ملنا خواہش ہے۔ کاش وہ مل جائیں اور ہم ایک دوسرے کو اپنے بچھڑے دنوں کی داستاں سنا سکیں۔ کرتار پور کاریڈور پہ مل لیں۔ واٹس ایپ رابطے ہو جائیں۔ ساٹھ سال سے ٹوٹے رابطے پھر جڑ جائیں تو دادی کی روح کو شانتی ملے۔ گل شیر نے ایک شعر بھی کچھ ان الفاظ میں پڑھا تھا۔

ٹر گئے دلدار جناں دے او کد روون تھوڑا
روگاں دے و چوں روگ محمد جس دا نام وچھوڑا

گل شیر سے یہ پوچھنا تو میں بھول ہی گیا تھا کہ دادی کی چتا جلائی تھی یا قبرستان میں دفن کیا تھا۔ اب تو گل شیر کا نمبر بھی کہیں ڈیلیٹ ہو گیا ہے۔ جب دادی کے بھائیوں کا سراغ نہ ملا تو گل شیر مایوس ہو گیا۔ اس کے پیغام کم ہوتے ہوتے بند ہو گئے۔ گل شیر نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے دادی حسینو کا ایک صندوق سنبھال کر رکھا ہوا ہے جس میں دادی کی کچھ پرانی چیزیں پڑی ہیں۔ صندوق یادوں کی پٹاری ہے جس میں کچھ چٹھیاں ہیں جس کے اوراق پھٹ گئے ہیں۔ ان چٹھیوں کی تصویریں اس نے مجھے بھیجی تھیں۔ دادی کے جیون کی طرح اجڑے ہوئے کاغذ کے پرانے ٹکڑے تھے۔ ان پہ لکھے حروف کی روشنائی بہت مدھم ہو گئی تھی۔ بہت سارے الفاظ مٹ گئے تھے۔

یہ چٹھیاں پاکستان سے دادی کے بھائیوں کی طرف سے بھیجی گئی تھیں۔ ان پہ لکھی عبارت مٹ چکی ہے۔ مدھم سا نظر آ رہا ہے جیسے لکھا ہو ’خط کا جواب جلدی دینا‘ ۔

یہ فقرہ بھی جلد ہی مٹ جائے گا۔

حسینو کے بھائی یا بھائیوں کے بچے اگر مجھے کہیں مل جائیں تو میں ان کو یہ کتھا سناؤں اور ان سے کہوں کہ دادی کے نام ایک خط لکھ دیں اور اس پتے پہ پوسٹ کر دیں۔

’دادی حسینو، قبرستان چبھڑاں والی، ضلع مکتسر، انڈیا‘ ۔
خط پہنچے گا تو دادی حسینو کی روح بہت خوش ہو گی۔

Facebook Comments HS

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti