ڈاکٹر سنتوش کامرانی کا طلبا و اساتذہ کے لیے قیمتی ادبی تحفہ


ڈاکٹر خالد سہیل
ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی سے میرا تعارف کووڈ کی وبا کے دنوں میں ہوا جب ہم زوم پر گرین زون فلسفے کے سیمینار منعقد کر رہے تھے۔ میں شروع سے ہی ان کی قابلیت اور شخصیت سے متاثر تھا۔ دھیرے دھیرے وہ میرے دوست بن گئے۔ جب میں نے ان کے کالم ’ہم سب‘ پر پڑھے تو ان کی شخصیت کے ساتھ ان کی علمیت سے بھی متاثر ہونے لگا اور پھر ایک دن مجھے ایک خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا جب انہوں نے مجھے اپنی کتاب

فہم انسانی: روح، رشتہ اور رویہ

کا مسودہ بھیجا۔ یہ کتاب انہوں نے برسوں کی محنت، محبت اور ریاضت سے تیار کی ہے جس میں انہوں نے سینکڑوں برس کے علم و دانش کو چند صفحات میں یکجا کیا ہے جیسے کوئی دریا کو کوزے میں بند کر دے۔

ڈاکٹر کامرانی کی کتاب فلسفے، نفسیات اور سماجیات کے درمیان عملی و نظریاتی پل تعمیر کرتی ہے۔ یہ کتاب طلبا و اساتذہ کے لیے ایک قیمتی ادبی تحفہ ہے۔

میں ڈاکٹر کامرانی کو اس علمی، تحقیقی اور تخلیقی کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
مجھے ان کی دوستی پر فخر ہے۔

ڈاکٹر کامرانی کے لیے ڈاکٹر سہیل کے دس سوالات

1۔ ڈاکٹر کامرانی! آپ کو یہ کتاب لکھنے کا خیال کب اور کیسے آیا؟
2۔ آپ کو یہ کتاب لکھنے میں کتنا عرصہ لگا اور آپ کو کس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا؟
3۔ آپ کو فلسفے میں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی اور کس فلسفی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور کیوں؟
4۔ آپ فلسفے، نفسیات اور سماجیات میں کیا تعلق محسوس کرتے ہیں؟
5۔ آپ کے خیال میں مذہب، فلسفے اور سائنس کا کیا رشتہ ہے؟
6۔ آپ کی نگاہ میں طلبا و طالبات میں سائنسی سوچ کیسے پیدا کی جا سکتی ہے؟
7۔ آپ کی پاکستانی نظام تعلیم کے بارے میں کیا رائے ہے؟
8۔ کیا آپ ایک سیکولر پاکستان کے حق میں ہیں؟ اگر ہیں تو کیوں؟

9۔ کیا آپ کے خیال میں فلسفے، نفسیات اور سائنس کی تعلیم مذہبی شدت پسندی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے؟

10۔ آپ کی اپنی کاتب سے کیا توقعات وابستہ ہیں؟

ڈاکٹر سنتوش کامرانی کے جوابات

محترم گُرو جی ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
آپ کے ادبی محبت نامہ پر بے حد مشکور و ممنون ہوں۔

میں حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں گزشتہ دس، بارہ سال سے علم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوں۔ اس عرصے میں، میں نے انسانی رویے، منطق، فلسفہ، انسانی علوم، اور تعلیمی نفسیات جیسے گہرے اور پیچیدہ مضامین کو پڑھانے کا شرف حاصل کیا۔ میری کلاسوں میں اوسطاً متوسط اور اعلیٰ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ ہوتے ہیں، اور یہ وہ طبقہ ہے جس کے بچے عموماً انگریزی گیتوں کو تو شوق سے گنگناتے ہیں اور انہیں سمجھ بھی لیتے ہیں، لیکن جب یونیورسٹی کی نصابی کتب کو انگریزی میں پڑھنے اور ان سے مکمل استفادہ کرنے کی باری آتی ہے تو انہیں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، جب بات اردو یا سندھی میں تفہیم و اظہار کی ہو تو ان کی صلاحیتیں کہیں زیادہ بہتر اور پختہ دکھائی دیتی ہیں۔ یہ مشاہدہ مجھے اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر گیا کہ آخر اس لسانی خلا کو کس طرح پر کیا جائے تاکہ ہمارے طلبہ تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

اس لسانی رکاوٹ کا سامنا کرنے کے بعد ، میرے ذہن میں یہ خیال پنپنا شروع ہوا کہ اگر طلبہ کو درکار تعلیمی مواد ان کی مادری زبان یعنی اردو میں فراہم کیا جائے تو یہ ان کے لیے تصورات کو گہرائی سے سمجھنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ میری یہ سوچ تھی کہ جب طلبہ کسی بھی تصور (Concept) کو اپنی زبان میں مکمل طور پر سمجھ لیں گے، تو انہیں بعد میں انہی تصورات کو بنیادی انگریزی میں بیان کرنا اور وضاحت کرنا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔

یہ طریقہ نہ صرف ان کی فوری تفہیم میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ طویل مدتی سیکھنے (Long term Learning) اور سمجھ بوجھ کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ یہی وہ بنیادی خیال تھا جس نے مجھے اپنے تدریسی لیکچرز کو، جو پہلے انگریزی میں ہوتے تھے، انگریزی اصطلاحات اور عالمی ماہرین کے حوالوں کو برقرار رکھتے ہوئے، اردو میں منتقل کرنے کی جانب گامزن کیا۔

اس علمی سفر کا آغاز میں نے انسانی رویے (Human Behaviour) کے مضمون سے کیا، کیونکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو ہر انسان کی ذاتی زندگی اور معاشرتی تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کے بعد جیسے جیسے میرا یہ تجربہ کامیاب ہوتا گیا، میں نے اپنی تدریس میں منطق اور تنقیدی سوچ (Logic and Critical Thinking) ، فلسفہ (Philosophy) اور انسانی علوم (Humanities) کے مضامین کو بھی شامل کرنا شروع کیا۔ اس عمل سے نہ صرف میرے پاس ہر مضمون کا جامع تدریسی مواد جمع ہوتا چلا گیا، بلکہ مجھے ہر موضوع کو مختلف فکری زاویوں سے دیکھنے اور پرکھنے کا انمول موقع بھی میسر آیا۔

جب میں کلاس روم میں ہوتا تو ہر موضوع کو فلسفیانہ، نفسیاتی، سماجیاتی، تاریخی اور تنقیدی نقطہ نظر سے پرکھنے، تجزیہ کرنے اور پھر طلبہ تک پہنچانے کا موقع ملتا۔ اس کثیرالجہتی اندازِ تدریس نے ہر موضوع پر کثیرالجہتی (Holistic) اور بھرپور مواد کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جو طلبہ کی مکمل ذہنی تربیت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوا۔

آج میرے پاس نفسیات کے فلسفے، شخصیت، خاندان، سماج، ثقافت، ایمانداری و استقامت، ایثار، اخلاقیات، ہم احساسی اور انسانیت کے موضوعات کے علاوہ انسانی ذہن، یادداشت، تناؤ (Stress) ، استدلال (Reasoning) ، سیکھنے کے عمل (Learning) ، ابلاغ (Communication) ، تحریک (Motivation) ، جذبات (Emotion) ، جارحیت (Aggression) ، قیادت (Leadership) ، رویہ (Attitude) ، ٹیم ورک (Teamwork) ، موڈ ڈس آرڈرز (Mood Disorders) ، مفہوم (Connotations) ، دلائل (Arguments) ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving) ، فیصلہ سازی (Decision Making) ، قائل کرنے کی صلاحیت (Persuasion) ، سوچ (Thinking) ، مثبت سوچ (Positive Thinking) ، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) ، تخلیقی سوچ (Creative Thinking) ، ادراک (Perception) ، سماجیات کا فلسفہ (Philosophy of Sociology) ، اجتماعی رویہ (Collective Behaviour) ، جرم اور انحراف (Crime and Deviation) جیسے اور ان سے ملتے جلتے لاتعداد اہم موضوعات پر وافر تدریسی مواد موجود ہے۔

یہ مواد نہ صرف میرے تدریسی عمل کا حصہ ہے بلکہ اس میں مزید گہرائی اور وسعت پیدا کرنے کی گنجائش بھی ہے۔ اس مواد کو مزید مناسب ترتیب، ضروری اضافوں اور کہیں کہیں جدیدیت (Upgradation) کی ضرورت ہے، جس کے بعد مزید ایک یا دو علمی کتب کی شکل دی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کے لیے ایک اہم شرط یہ ہے کہ میرے اس تجرباتی تدریسی طریقہ کار پر طلبہ اور تعلیمی ماہرین کا کیا فیڈ بیک (Feedback) آتا ہے، جو آئندہ کی راہ متعین کرے گا۔

اس سارے عمل میں سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ یہ رہا ہے کہ جب آپ مسلسل پڑھتے اور مواد جمع (Material Collection) کرتے جاتے ہیں تو آخر میں یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا مواد برقرار رکھا جائے اور کون سا حذف کیا جائے۔ اس سے بھی بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ اپنے فکری مواد کو کس طرح اور کس ترتیب سے پیش کیا جائے تاکہ وہ قارئین یا طلبہ کے لیے انتہائی واضح، موثر اور قابل فہم ہو سکے۔ اس مرحلے پر مواد کی تعداد اور نوعیت دونوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے تاکہ ایک متوازن اور بامقصد پیشکش تیار کی جا سکے۔ یہ ایک ایسا فکری عمل ہے جس میں تجربہ اور بصیرت دونوں ہی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

فلسفے میں میری ذاتی دلچسپی اس وقت جڑی جب میں نے خود اس مضمون کو پڑھنا اور اسے گہرائی سے سمجھنے کی کوشش شروع کی۔ تب یہ حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی کہ فلسفہ کوئی علیحدہ یا محدود شعبہ نہیں ہے، بلکہ یہ زندگی کے ہر شعبے اور علم کی ہر شاخ کو گہرائی سے سمجھنے کا ایک بنیادی طریقہ ہے۔ درحقیقت، کسی بھی شعبہ علم کو اس کی صحیح معنوں میں گہرائی کے ساتھ تب ہی سمجھا جا سکتا ہے جب اسے فلسفے کی نگاہ سے دیکھا اور پرکھا جائے۔ یوں، ہر موضوع کا فلسفیانہ اور نفسیاتی نقطہ نظر سے تجزیہ کرنے کی عادت میری فکری تربیت کا مستقل حصہ بنتی چلی گئی، جس نے میری تدریس اور تحقیق دونوں کو مزید گہرائی اور وسعت بخشی۔

چونکہ میرا پس منظر میڈیکل، سائیکارٹری اور سائیکالوجی سے تعلق رکھتا ہے، اور اس کے ساتھ مجھے تھوڑا بہت ادب، موسیقی اور تخلیقی ادب سے بھی شغف ہے۔ اس پس منظر کی روشنی میں، سگمنڈ فرائیڈ نے مجھے انسانی ذہن کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اس کی بنیاد پر اپنے اور دوسروں کے سماجی رویوں (Social Behaviours) کو پرکھنے کی راہ دکھائی۔ فرائیڈ کے شعور، تحت الشعور اور لاشعور کے فلسفے کو پڑھ کر یہ بھی اندازہ ہوا کہ انسانی ذہن اتنا پیچیدہ اور ناقابلِ رسائی (The most unpredictable) کیوں ہے۔

دوسری طرف، ابراہم میسلو نے مجھے عقیدے اور جذبات سے ہٹ کر، خالص منطق اور دلیل کی بنیاد پر زندگی کے معنی کو سمجھنے میں بے پناہ مدد فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں مفکرین کی تعلیمات نے مجھے ہیومنزم (Humanism) اور مثبت نفسیات (Positive Psychology) کو نہ صرف گہرائی سے سمجھنے بلکہ اسے اپنی زندگی اور تدریسی عمل میں عملی طور پر شامل کرنے کی راہ ہموار کی۔

میرے خیال میں فلسفہ، نفسیات اور سماجیات کا آپس میں ایک ایسا گہرا ربط ہے جیسے ایک مالا میں پروئے ہوئے موتیوں کا۔ یہ تینوں شعبے ایک دوسرے سے اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے کے بغیر مکمل طور پر سمجھنا ناممکن ہے۔ اگر ہم انسانی ذہن کی پیچیدگیوں اور سماجی بناوٹ (Social Fabric) کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں تو فلسفے کی آنکھ سے دیکھنا لازم ہے۔ فلسفہ ہمیں بنیادی سوالات پوچھنا سکھاتا ہے، نفسیات انفرادی رویوں کی سائنسی بنیادیں فراہم کرتی ہے، اور سماجیات اجتماعی رویوں اور معاشرتی ڈھانچوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان تینوں کا امتزاج ہی ہمیں انسانی وجود اور معاشرے کی گہرائیوں تک لے جا سکتا ہے۔

دیکھیے، بنیادی طور پر انسانی ذہن دو طریقوں سے سوچتا، سمجھتا اور فیصلہ کرتا ہے۔ یا تو وہ جذباتی سطح پر سوچتا، سمجھتا اور فیصلے کرتا ہے، یا پھر منطق اور دلیل (Logic and Reason) کی بنیاد پر یہی کام سرانجام دیتا ہے۔ اگر جذبات کی بنیاد غالب آ جائے تو اس بات کا قوی امکان رہتا ہے کہ آپ کی منطق اور دلیل میں مغالطے (Fallacy) اور جھوٹا استدلال (Pseudo Reasoning) اس طرح شامل ہو جاتے ہیں کہ آپ آہستہ آہستہ حقیقی منطق اور دلیل سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس، اگر منطق اور دلیل کا ڈوز زیادہ ہو جائے تو دنیا میں آپ جذباتی طور پر اپنے خاندان اور معاشرے سے لاتعلق ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے، اگر انسان جذبات، منطق اور دلیل کے درمیان توازن قائم کرنا نہ سیکھ پائے تو اسے فکری بلندیوں (Intellectual Heights) پر پہنچنے میں دشواری محسوس ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کی فکری تربیت فلسفے کی بنیاد پر اور سوچ کی تربیت سائنس کے پلیٹ فارم پر ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی، اگر رویوں کی نفسیاتی بنیادوں (Psychological Basis) پر تربیت ہو تو آپ جذباتی طور پر بھی متوازن ہونے لگتے ہیں۔ اور یہی فارمولا آج کے طلبہ میں سائنسی سوچ (Scientific Thinking) کو پروان چڑھانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں بھی اگر ہمارے تعلیمی نظام میں مذکورہ بالا فارمولے کے تحت نصاب (Curriculum) ، درسی کتب (Textbooks) اور امتحانی نظام (Examination System) کو ترتیب دیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بھی تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کے حامل طلبہ کو دنیا کے مقابلے میں لا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا بنیادی ڈھانچہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو نہ صرف علمی اعتبار سے مستحکم کرے گا بلکہ انہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنائے گا۔ یہ سوچ ہمیں سائنسی اور فکری خود مختاری کی جانب لے جانے کا راستہ ہموار کرے گی۔

میں بنیادی طور پر عقیدے (یعنی جذبات) اور سائنس (یعنی دلیل) کے درمیان توازن (Balance) کا پیروکار ہوں۔ مجھے کسی کے عقیدے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جب تک وہ دوسرے کی آزادی اور حقوق میں مخل نہیں ہوتا۔ اور شاید یہی فارمولا ہے کہ اگر جذبات اور دلیل کو متوازن کر لیا جائے تو ہم ہر قسم کی انتہا پسندی (Extremism) سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اور یہی میری اپنی تدریس، اور اس کی بنیاد پر تیار کیے گئے لیکچرز سے امید وابستہ ہے کہ شاید ہم ایک بہتر دنیا اور اس دنیا کے متوازن شہری پیدا کر سکیں گے۔ یہ میرا زندگی کا مقصد اور فکری و تعلیمی جدوجہد کا خلاصہ ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail