فیلڈ مارشل


Faysal Pakistani

فوجی دنیا میں فیلڈ مارشل کا لقب محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ یہ قیادت، شجاعت، بصیرت اور حکمت عملی کا ایک ایسا بلند و بالا مینار ہے جو فوجی تاریخ کے افق پر ایک روشن ستارے کی طرح جگمگاتا ہے۔ فیلڈ مارشل کی اصطلاح کا آغاز قرون وسطیٰ کے یورپی درباروں سے ہوا، جہاں مارشل کا مطلب ابتدا میں شاہی لشکر کا منتظم ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ، یہ عہدہ فوجی سربراہی کی علامت بن گیا اور کئی ممالک میں اسے فوج کا سب سے اعلیٰ ترین رینک قرار دیا گیا۔ یہ رینک عام طور پر جنگ کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی، کسی بڑی جنگ میں فیصلہ کن فتح، یا پھر طویل اور مثالی فوجی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اس کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ یہ عموماً بہت کم اور منتخب افراد کو دیا جاتا ہے، اور اس کی نایابی ہی اس کی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی افواج کے سربراہان عام طور پر فور سٹار جنرل کے عہدے پر پہنچ کر ریٹائر ہو جاتے ہیں، مگر انگلیوں کی پوروں پر گنے جانے والے چند خوش نصیب ہی ایسے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے اظہار کی وجہ سے ایک اور ستارہ حاصل کرتے ہوئے فیلڈ مارشل جیسا اعزاز اپنے نام کیا۔ یہ محض ایک اضافی اختیار یا تنخواہ کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک قومی فخر اور فوجی طاقت کی علامت بن کر ابھرا ہے، جو قوم کے لیے ایک پیغام ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہیروز کو نہ صرف یاد رکھتی ہے بلکہ سراہتی بھی ہے۔

فیلڈ مارشل کے اعزاز نے مختلف ممالک کی فوجی تاریخ میں اپنے منفرد نقوش چھوڑے ہیں۔ آئیے پچھلی دو صدیوں کی چند اہم فوجی شخصیات کا جائزہ لیتے ہیں جنہیں یہ پروقار اعزاز حاصل ہوا۔ برطانوی فوج میں فیلڈ مارشل کا عہدہ صدیوں سے فوجی عظمت کی علامت رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے عظیم برطانوی کمانڈروں میں سے ایک برنارڈ لا منٹگمری کو 1944 میں فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا گیا۔ ان کی قیادت میں اتحادی افواج نے شمالی افریقہ میں صحرا میں لڑی جانے والی جنگ میں جرمن جنرل رومیل کو شکست دی، اور بعد ازاں یورپ میں اتحادیوں کی کامیاب پیش قدمی میں ان کا کلیدی کردار رہا۔ وہ اپنی محتاط مگر منظم حکمت عملی، نفسیاتی جنگ میں مہارت اور اپنے فوجیوں میں اعتماد پیدا کرنے کی صلاحیت کے لیے مشہور تھے۔ مونٹی کے نام سے پہچانے جانے والے منٹگمری آج بھی فوجی اکیڈمیوں میں حکمت عملی کے ایک اہم باب کے طور پر پڑھائے جاتے ہیں۔

1949 میں فیلڈ مارشل کا اعزاز حاصل کرنے والے برطانیہ ہی کے ولیم سلم نے دوسری عالمی جنگ میں برما مہم میں چودہویں فوج کی کمان کی۔ جاپانی افواج کے خلاف برما کے گھنے جنگلات اور مشکل ترین حالات میں ان کی شاندار فتوحات نے انہیں ایک لیجنڈ بنا دیا۔ سلم کو اپنے ماتحتوں کی دیکھ بھال، ان کے حوصلے بلند رکھنے اور مشکل ترین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے۔

امریکہ میں باقاعدہ طور پر فیلڈ مارشل کا عہدہ استعمال نہیں ہوتا، تاہم اس کے مساوی جنرل آف دی آرمی (فوج کے لیے ) اور فلیٹ ایڈمرل (بحریہ کے لیے ) کے پانچ ستارہ عہدے دوسری عالمی جنگ کے دوران وضع کیے گئے، جو اسی طرح جنگی کامیابیوں اور غیر معمولی قیادت کا اعتراف تھے۔ 1944 میں پانچ ستارہ جنرل کا عہدہ پانے والے آئزن ہاور نے دوسری عالمی جنگ میں یورپ میں اتحادی مہم کی کمان کی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی مختلف ممالک کی افواج کو ایک جھنڈے تلے متحد رکھنے اور پیچیدہ فوجی و سیاسی تعلقات کو مہارت سے نبھانے کی صلاحیت تھی۔ جنگ کے بعد وہ امریکہ کے صدر بھی بنے، جو ان کی قیادت کی عالمی پہچان ہے۔

اسی برس یعنی 1944 میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے جنرل آف دی آرمی ڈگلس میک آرتھر نے دوسری عالمی جنگ میں پیسفک محاذ پر امریکی افواج کی کمان کی۔ وہ اپنی جرات مندانہ حکمت عملیوں، جاپانی قبضے سے فلپائن کی آزادی کے وعدے اور جنگ کے بعد جاپان کی تعمیر نو میں کلیدی کردار کے لیے مشہور ہیں۔

جرمنی سے تعلق رکھنے والے اور صحرا کا لومڑ کہلانے والے ایرون رومیل کو 1942 میں فیلڈ مارشل بنایا گیا۔ شمالی افریقہ میں ان کی ٹینکوں کی غیر معمولی حکمت عملی نے اتحادی افواج کو حیران کر دیا۔ وہ اپنی تیز رفتار پیش قدمی، غیر متوقع حملوں اور دشمن کو دھوکہ دینے کی مہارت کے لیے جانے جاتے تھے۔ اگرچہ بالآخر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی فوجی ذہانت کو دنیا بھر میں آج بھی سراہا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ میدان جنگ میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ موجود رہتے تھے۔

جرمنی کے ہی ایرک وان مانسٹائن 1942 میں فیلڈ مارشل بنے اور دوسری عالمی جنگ کے دوران مشرقی محاذ پر اپنی دفاعی حکمت عملیوں اور بیک ہینڈڈ پنچ جیسے تخلیقی حملوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ فوج بظاہر پیچھے ہٹ کر یا دفاعی پوزیشن لے کر دشمن کو آگے بڑھنے دیتی تھی۔ جب دشمن اپنی پوزیشنیں کمزور کرتا، تو غیر متوقع طور پر ایک طاقتور جوابی حملہ کیا جاتا جس سے اسے شدید نقصان پہنچتا تھا۔ مانسٹائن نے دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کے خلاف اسے کامیابی سے استعمال کیا۔ ان کی فوجی بصیرت کو کئی فوجی مورخین سراہتے ہیں، اور انہیں جنگ کے سب سے باصلاحیت جرمن جنرلوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے، جس کی جغرافیائی حیثیت اور سیکیورٹی چیلنجز غیر معمولی نوعیت کے ہیں، فیلڈ مارشل کا اعزاز قومی فخر اور فوجی طاقت کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان کی فوجی تاریخ میں اب تک صرف دو شخصیات کو فیلڈ مارشل کے رینک پر ترقی دی گئی ہے، دونوں کی خدمات اور حالات و واقعات مختلف مگر قابلِ قدر ہیں۔ پاکستان کے پہلے آرمی چیف اور بعد ازاں صدر ایوب خان نے 1958 میں مارشل لاء نافذ کیا اور ایک سال بعد خود کو فیلڈ مارشل کا رینک دے دیا۔ ان کا دور فوجی نظم و نسق، اقتصادی ترقی اور 1965 کی جنگ جیسے اہم واقعات سے جڑا ہے۔ اگرچہ ان کے خود کو یہ اعزاز دینے پر تنقید بھی کی جاتی ہے، اور انہیں وہ پذیرائی نہ مل سکی جو دیگر ممالک میں فیلڈ مارشل کو حاصل ہوئی۔

پاکستان کے موجودہ آرمی چیف، جنرل سید عاصم منیر کو حال ہی میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کی فوجی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے بھارت کے حالیہ حملے (آپریشن سندور) کے جواب میں (آپریشن بنیان المرصوص) کے تحت دشمن کو دندان شکن جواب دیا، اور نہایت کامیاب و موثر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بھارت کی فوجی تنصیبات پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ بھارت کو بھاگ کر جنگ رکوانے کے لیے امریکی صدر کی منت کرنی پڑی، جس کی وجہ سے اسے نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں جو آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس دونوں کی سربراہی کر چکے ہیں، اور ان کی ساکھ، نظم و ضبط اور حب الوطنی کو نہ صرف فوج بلکہ عوامی حلقوں میں بھی سراہا جا رہا ہے۔

بھارتی فوج کے پہلے فیلڈ مارشل سام مانک شا کو یہ اعزاز 1971 کی پاک بھارت جنگ میں بھارتی افواج کی قیادت اور مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو سپورٹ کرنے اور بنگلہ دیش کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے پر ملا۔ 2004 میں فیلڈ مارشل کا اعزاز حاصل کرنے والے محمد فہیم قسیم ایک ممتاز افغان فوجی و سیاسی رہنما تھے۔ انہوں نے شمالی اتحاد کے اہم کمانڈر کے طور پر طالبان کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا اور بعد ازاں وزیر دفاع کی حیثیت سے افغانستان میں امن و استحکام لانے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ سری لنکا کے سارتھ فونسیکا کو 2015 میں یہ اعزاز تامل ٹائیگرز کے خلاف تقریباً تین دہائیوں پر محیط خانہ جنگی کو ختم کرنے میں ان کے فیصلہ کن کردار کے لیے ملا۔ ان کی قیادت میں سری لنکن فوج نے 2009 میں تامل ٹائیگرز کو شکست دی، جس کے بعد انہیں قوم نے ایک ہیرو کا درجہ دیا۔

فیلڈ مارشل کا لقب صرف ایک فوجی اعزاز نہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحریک اور ایک سبق ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں اپنے ان بہادر بیٹوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ملک و ملت کی خاطر میدانِ جنگ میں اترتے ہیں یا مشکل وقت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں۔ یہ اعزاز ہمیں بتاتا ہے کہ قیادت صرف میدان جنگ میں بہادری کا نام نہیں، بلکہ یہ بصیرت، حکمت عملی، اور اپنے ماتحتوں کی دیکھ بھال اور ان کے حوصلے بلند رکھنے کا بھی نام ہے۔ ہر فیلڈ مارشل کی کہانی فوجی قیادت کے مختلف اور ہمہ جہت پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ کوئی جنگی حکمت عملی کا بے مثال ماہر ہوتا ہے اور کوئی ملک کو مشکل دور سے نکالنے والا مسیحا۔ ان تمام شخصیات میں جو چیز مشترک ہے وہ ان کی غیر متزلزل وفاداری، غیر معمولی عزم، اور اپنی قوم کے لیے بے پناہ محبت ہے۔ یہ وہ روشن مثالیں ہیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ عزم اور لگن کے ساتھ کوئی بھی چیلنج بڑا نہیں ہوتا، اور یہ کہ اپنے ملک اور قوم کی خدمت سے بڑھ کر کوئی اور اعزاز نہیں۔ فیلڈ مارشل کا ہر ستارہ فوجی تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں رقم ایک ایسی داستان ہے جو بہادری، تدبر اور قربانی کی لازوال روایت کو زندہ رکھتی ہے۔

Facebook Comments HS

فیصل پاکستانی

فیصل پاکستانی بزنس مینجمنٹ کی تعلیم اور ڈیڑھ دہائی پر محیط انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک معروف ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سوشل ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورمز پر کرنٹ افیئرز، کھیل، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آن لائن فراڈ اور سماجی موضوعات پر مستقل لکھتے ہیں۔

faysal-pakistani has 26 posts and counting.See all posts by faysal-pakistani