پرانی یادیں: اسکول میں داخلہ


میرے والد محکمہ موسمیات میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس محکمے میں لوگوں کا ایک یا دو سال ایک جگہ گزارنے کے بعد کافی باقاعدگی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جب 1957 میں ان کی پوسٹنگ کراچی میں تھی تو انہیں پشاور جانے کے لیے تبادلے کے احکامات ملے۔ پشاور میں انہوں نے محکمہ موسمیات سے وابستہ جس آفس کو جوائن کیا اس کا نام
Upper Atmospheric Research Station (UARS)
تھا۔ اگرچہ یہ دفتر حکومت پاکستان کے محکمہ موسمیات کے زیر انتظام چلایا جاتا تھا، لیکن یہ بنیادی طور پر سوویت یونین کی طرف سے کیے گئے جوہری تجربات کو ریکارڈ کرنے کے لیے انگریزوں کی طرف سے قائم کردہ آفس تھا۔ روزانہ زلزلے سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کر کے برطانوی ہائی کمیشن کو بھیجا جاتا تھا۔ کام کی حساس نوعیت کی وجہ سے دفتر کے تکنیکی حصے میں جہاں ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا تھا وہاں کسی بھی غیر مجاز شخص کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ مجھے آفس کے اس حصے میں صرف ایک بار داخل ہونا یاد ہے جب میں ابھی بچہ تھا اور میرے والد کے ایک ساتھی نے نرمی سے مجھے اٹھایا اور باہر لے آئے۔ میں نے اپنے والد کا دفتر اندر سے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ اس دفتر کی حساسیت کی وجہ سے جن لوگوں کو وہاں بھیجا جاتا تھا ان کا تبادلہ شاذ و نادر ہی ہوتا تھا اور وہ کئی سال تک وہیں رہتے تھے۔ میرے والد نے 1981 میں ریٹائر ہونے تک اپنے باقی سال پشاور ہی میں گزارے۔

پشاور میں قیام کا اچھا پہلو یہ تھا کہ ہم ایک رہائشی کالونی میں رہتے تھے، جو اسی کمپاؤنڈ میں بنی تھی جہاں دفتر واقع تھا۔ کالونی کا محل وقوع کچھ اس طرح تھا کہ ایک طرف ریس کورس اور گالف کورس تھے اور دوسری طرف کے پی اسمبلی اور پشاور ریڈیو اسٹیشن کی عمارتیں تھیں۔ 10 منٹ کے پیدل فاصلے پر بالا حصار کا شاندار قلعہ تھا جس کی تاریخ ساتویں صدی تک جاتی ہے۔ قلعے کے سامنے ایک بڑا سا پارک تھا جس میں میں نے ایوب خان کے دور کے بہت سے جلسے دیکھے۔

یہ وہ وقت تھا جب پاک فضائیہ کا ہیڈ کوارٹر پشاور میں تھا۔ ہم نے کئی بار ائر فورس کے سربراہ ائر مارشل اصغر خان اور بعد میں ائر مارشل نور خان کو اپنی کالونی سے متصل گالف کورس میں گالف کھیلتے دیکھا۔ UARS کے تمام ملازمین کالونی میں رہتے تھے۔ بہترین گھر انگریزوں کے لیے مختص تھے جو وہاں نگران کردار میں موجود تھے۔ 1965 میں جب انہیں وہاں سے جانے کو کہا گیا تو میرے والد سمیت مقامی لوگ ان گھروں میں منتقل ہو گئے۔

یہ کالونی زمین پر جنت کی طرح تھی۔ چاروں طرف ہریالی تھی اور پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ ہمارا گھر چھوٹا تھا لیکن چاروں طرف سے لان میں گھرا ہوا تھا۔ پچھلی طرف گلاب کے پودوں سے بھری ایک باڑ تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اپریل میں دو ہفتے ایسے ہوتے تھے جب پوری باڑ گلاب کے پھولوں سے اس حد تک سرخ ہوتی تھی کہ سبز پتے نظر نہیں آتے تھے۔ چاروں طرف مختلف رنگوں کی تتلیاں اڑ رہی ہوتی تھیں۔ میں نے اپنی زندگی میں پھر کبھی اتنے خوبصورت رنگ کی تتلیاں نہیں دیکھیں۔ لیکن یہ صورت حال اس وقت تک تھی جب تک کالونی کا انتظام انگریزوں کے ہاتھ میں تھا۔ جب ساٹھ کی دہائی کے آخر میں اسے PWD کے حوالے کیا گیا تو دیکھ بھال کی سطح تیزی سے نیچے چلی گئی۔

رہائشی کالونی میں رہنے کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ دیکھ بھال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے، تمام گھر صاف ستھرے ہوتے ہیں، پڑوسی عام طور پر ایک جیسے سماجی پس منظر سے آتے ہیں، اور بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایک بڑا خاندان ایک ساتھ رہ رہا ہو۔ منفی پہلو یہ ہے کہ کالونی میں رہتے ہوئے یہ احساس بڑا واضح ہوتا ہے کہ کون افسر ہے اور کون ماتحت۔ گھر کا سائز دفتر کے اندر کی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بعض اوقات افسروں کی بیویوں اور بچوں کے اندر یہ طبقاتی سوچ سرایت کر جاتی ہے۔

اکتوبر 1957 میں پشاور منتقل ہونے کے بعد ، میرے والدین کے کاموں کی فہرست میں سب سے پہلی چیز میری بڑی بہنوں اور مجھے سکولوں میں داخل کروانا تھی۔ میرے لیے یہ اسکول کا آغاز تھا۔ میری چھوٹی بہن اس وقت اسکول جانے کے لیے بہت چھوٹی تھی۔

سکولوں کے حوالے سے صورتحال پاکستان میں منفرد ہے، ایک درجہ بندی کا ایسا ڈھانچہ موجود ہے جو میں نے دنیا میں کہیں نہیں دیکھا۔ پاکستان میں اسکول کا نظام ہمیشہ سے ہمارے نو آبادیاتی ماضی کا عکاس رہا ہے یعنی علیحدہ سماجی طبقات کے لیے علیحدہ اسکول۔

حیرت انگیز طور پر جب میرے والد مجھے پہلی جماعت میں داخل کرانے کے لیے ایک موزوں اسکول کی تلاش کر رہے تھے، پشاور میں پہلے سے ہی پانچ درجات کے اسکول موجود تھے جو مختلف سماجی طبقات کی ضروریات کو پورا کرتے تھے۔

سب سے باوقار پی اے ایف اسکول تھا جو صرف اعلیٰ ترین سول اور ملٹری بیوروکریسی اور غیر ملکیوں کے لیے مختص تھا۔ اس کے بعد ایک سرکاری انگلش میڈیم اسکول تھا جو اپر مڈل کلاس کی خدمت کرتا تھا۔ اس کی نوعیت کچھ ایسی تھی جیسے آج کل اسلام آباد میں ماڈل سکولوں کی۔ تیسرے درجے پر کنٹونمنٹ بورڈ کے اردو میڈیم اسکول ملٹری اور سول بیوروکریسی کے نچلے رینکوں اور آس پاس کے دیہات کے بچوں کے لیے مختص تھے۔ سب سے کم درجے کا تعلق سرکاری اسکولوں کا تھا جو آبادی کے سب سے بڑے حصے کی ضروریات کو پورا کرتے تھے۔ یہ تمام اسکول سرکاری اخراجات پر چلتے تھے، ان پیسوں پر جس کی ادائیگی ٹیکس دہندگان کرتے تھے۔ ان چار سطح کے سرکاری سکولوں کے علاوہ، سینٹ میری یا سینٹ جان جیسے مشنری اسکول بھی تھے جن کی فیسیں عام لوگوں کی پہنچ سے باہر تھیں۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 75 سال سے زیادہ گزرنے کے باوجود بھی حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ کسی تعلیمی پالیسی نے اس موروثی عدم مساوات کے مسئلے کو حل نہیں کیا۔ درحقیقت پرائیویٹ سکولوں کی آمد سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے جنہوں نے زیادہ تر ماضی کے مشنری سکولوں کی جگہ لے لی ہے۔ یہ سکول صرف اشرافیہ کی خدمت کر رہے ہیں۔

میرے نزدیک پاکستان کے بہت سے مسائل کی جڑ اس طبقاتی تعلیمی نظام میں ہے۔ اس نظام کا سب سے پہلا اثر تو یہ ہے کہ اس نے طبقاتی تفریق کو اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی برقرار رکھا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ دیکھا ہے کہ اقدار گھر سے بنتی ہیں جب کہ خود اعتمادی سکول سے ملتی ہے۔ اشرافیہ کے لیے مخصوص تعلیمی اداروں میں تعلیم کا تقریباً وہی نظام قائم ہے جو مغرب کے تعلیمی اداروں میں موجود ہے۔ اس تعلیمی نظام میں طلبا کی شخصیت کی آبیاری کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان سکولوں میں تعلیم یافتہ طلبا کے کے طور طریق میں خود اعتمادی جھلکتی ہے۔ یہ طلبا اپنی عملی زندگی میں قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔

اشرافیہ کے بچوں کے لیے مخصوص تعلیمی اداروں سے تعلیم یافتہ اور ایک عام سے گورنمنٹ سکول سے پڑھے ہوئے بچوں کی شخصیت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ گورنمنٹ سکول سے پڑھے ہوئے بچے کے انداز میں شکست خوردگی نظر آتی ہے۔ علمیت میں آگے ہونے کے باوجود خود اعتمادی کا فقدان عمومی طور پر واضح نظر آتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع ایسے بچے کے لیے کم ہوتے ہیں۔ وہ پوزیشنیں جن میں قائدانہ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے، ان پر اشرافیہ کے بچے حقدار پائے جاتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ کہ اس طبقاتی نظام نے مقتدر طبقوں کو تعلیمی شعبے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ ان کی اپنی اولاد تو اے اور او لیول کرانے والے اسکولوں میں بہترین تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ لیکن انہوں نے شاید کبھی ان اسکولوں میں قدم نہیں رکھا جہاں ملک کی 90 فیصد آبادی اپنے بچوں کو اسکول بھیج رہی ہے۔ وہ تو تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ان اسکولوں کی کیا حالت ہے۔ لیکن یہی لوگ ملک کے ان سکولوں کی تعلیمی پالیسی بنانے کے ذمہ دار ہیں جہاں کی کوالٹی سے انہیں براہ راست کوئی سروکار نہیں۔

میرے والد نے مجھے ہمارے گھر سے قریب ترین اسکول میں داخل کرایا جو ایک سرکاری اسکول تھا۔ یہ ایک ہائی سکول تھا جس میں ہر کلاس کے کئی سیکشن تھے۔ اسکول ہمارے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا لیکن سڑک پر ہمیشہ بہت رش رہتا تھا۔ راستے میں فردوس سینما سمیت بہت سے کاروبار تھے۔

مجھے آج بھی اسکول کا پہلا دن یاد ہے۔ میں ایک معمولی پس منظر سے آیا تھا لیکن مجھے پورا ماحول بہت ناگوار لگا۔ پورے سکول میں ایک عجیب سی بو پھیلی ہوئی تھی۔ اڑسٹھ سال گزرنے کے بعد بھی مجھے وہ ناگوار بو یاد ہے۔ اساتذہ کے حلیے بھی عمومی طور پر باوقار نہیں تھے اور ان کا رویہ بھی دوستانہ نظر نہیں آتا تھا۔ میں اس اسکول سے اس قدر ناخوش تھا کہ اپنے پہلے ہفتے کے دوران ایک دن میں آدھی چھٹی کے وقت اسکول سے چپکے سے باہر نکلا اور ایک پرہجوم سڑک سے گزر کر واپس گھر پہنچا۔ گھر پہنچ کر میں نے اپنے والد سے واضح طور پر کہا کہ مجھے اسکول پسند نہیں ہے اور میں دوبارہ اس اسکول میں نہیں جاؤں گا۔ میرے والد ایسی محبت کرنے والی شخصیت تھے کہ وہ میری بات سن کر بالکل ناراض نہیں ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر سرزنش ضرور کی کہ میں اکیلا اس طرح یوں گھر لوٹ آیا تھا۔ انہوں نے اپنے پانچ سالہ بیٹے کے جذبات کا پوری طرح احترام کیا، یہ ایسا رویہ تھا جس کی ہم عام طور پر اس نسل کے باپوں کے ساتھ توقع نہیں رکھتے۔

نئے سکول کی تلاش شروع ہو گئی۔ میرے والد کے وسائل محدود تھے اور وہ مجھے پبلک اسکول بھیجنے کے متحمل نہیں تھے جو کہ فطری انتخاب ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے، وہ مجھے کنٹونمنٹ کے علاقے میں ایک اردو میڈیم پرائمری اسکول لے گئے۔ یہ اسکول ہمارے گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور راستہ صاف ستھرا اور باوقار تھا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میرے والد مجھے پہلی بار اس نئے اسکول میں لے گئے تھے۔ جو چیز مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے وہ سکول کے ہیڈ ماسٹر نذر حسین شاہ کی دلکش شخصیت تھی۔ وہ ایسی باوقار شخصیت کے مالک تھے کہ انہوں نے مجھ جیسے چھوٹے بچے پر اثر چھوڑا۔ ان کا لہجہ بہت نرم تھا، وہ میرے والد کے ساتھ بے پناہ احترام کے ساتھ پیش آئے اور ان کا رویہ میرے ساتھ بھی بہت مشفقانہ تھا۔ وہ اس بات سے متاثر ہوئے تھے کہ میں اردو روانی سے پڑھ سکتا تھا، انگریزی میں آسان اقتباسات پڑھ سکتا تھا اور ریاضی کے آسان سوال حل کر سکتا تھا۔ اس زمانے میں جب نرسری اور کے جی سکولوں کا رواج نہیں تھا، پہلی جماعت میں داخل ہوتے بچے میں اتنی تعلیمی استعداد کوئی عام بات نہیں تھی۔ لیکن اس کا سارا کریڈٹ میری والدہ کو جاتا تھا۔ میری والدہ نے مجھ سمیت اپنے تمام بچوں کو اسکول میں داخلے سے قبل گھر میں تعلیم کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ایک اردو میڈیم سکول میں جانے کے باوجود جہاں انگریزی کا مضمون پانچویں جماعت میں شروع ہوتا تھا، میری انگریزی کی صلاحیت ساتویں یا آٹھویں جماعت کے طالب علم کے برابر تھی۔ یہ اسی مضبوط بنیاد کا اثر تھا کہ یونیورسٹی کی تعلیم تک میں ہمیشہ اپنی کلاس کا بہترین طالب علم رہا۔

یہ کنٹونمنٹ بورڈ پرائمری سکول ہر سال ایک سال آگے بڑھتا رہا اور جب میں چھٹی جماعت میں پہنچا، یہ ہائی سکول بن چکا تھا۔ میں نے میٹرک کا امتحان 1967 میں اسی سکول سے پاس کیا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy

2 thoughts on “پرانی یادیں: اسکول میں داخلہ

  • 24/05/2025 at 11:20 صبح
    Permalink

    The person termed as Englishmen were I believe Americans and if i am not wrong the facility is part of US activities estab at Peshawar to check USSR and China and we today remembered as Badaber. It was almost started in 1957 times and U2 sorties were flown in those days from Central Punjab for ISR missions ag USSR
    After U2 incident in May 1960, US was in pressure and left Badaber around 1969-70 and that was the time when better houses of UARS colony was made accessible to locals. Good old days when Peshawar was like its name Pursh Pur ie City of Flowers

    • 24/05/2025 at 3:02 شام
      Permalink

      I remember it has one tech setup at Badaber, one at Warsak Colony and other at where
      writer has mentioned
      It was time when US provided Pakistan weather rockets which were fired in atmosphere and return with weather data. Jinnah series rockets were part of same activity. Interestingly this was time when there ere no Satellites

Comments are closed.