لفظوں کی موت


ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی ایک مدت مقرر ہوتی ہے اور اس کے بعد وہ فنا ہو جاتی ہے۔ مگر لفظ کی موت ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات کا دائرہ کار وسیع ہے۔ لفظوں کی موت سے زبان بھی آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ لیکن لفظوں کی موت کیسے واقع ہوتی ہے چلیں میں آپ کو ایک قصے سے سمجھاتی ہوں۔

ایک دن میں نے اپنے طالب علم کو اسلامیات کا سوال یاد کرنے کے لیے کہا۔ طلباء کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے جس کے مطابق وہ اپنا سبق یاد کرتے ہیں مگر عموماً بچے متن کو بلند آواز میں بول کر یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بچہ بھی بلند آواز میں پڑھ رہا تھا کہ ایک لفظ نے مجھے چونکا دیا۔ جملہ آخرت کی فکر کے متعلق تھا مگر وہ بچہ فکر کی بجائے چنتا پڑھ رہا تھا۔ چنتا کا لفظ سنتے ہی میرے کان کھڑے ہو گئے اور میں نے اس بچے کو اپنے پاس بلا کر دوبارہ متن پڑھنے کو کہا۔ اس بار بچے نے چتنا کی بجائے فکر کا لفظ ہی پڑھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ چنتا کا کیا مطلب ہے تو کچھ لمحے سوچنے کے بعد بچے نے مجھے مطلب بتایا۔ جس طرح سے بچہ لاشعوری طور پر اس لفظ کو بار بار دہرا رہا تھا ہو سکتا کہ ٹی وی پر ہندی زبان میں نشر ہونے والے کسی کارٹون یا ڈرامے سے بچے نے یہ لفظ سنا ہو اور پھر یہ لفظ اس کے لاشعور میں محفوظ ہو گیا ہو۔ بار بار سننے یا پھر گفتگو میں استعمال کرنے کی وجہ سے اسے لفظ فکر کی بجائے چنتا ہی یاد رہا۔ ایسے ہی کسی دوسری زبان کے لفظ کو اپنی زبان کے لفظ سے تبدیل کرنے سے زبان آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ اردو کے کتنے ایسے الفاظ ہیں جن کے لیے ہم انگریزی کے متبادل لفظ بولتے ہیں۔ حالانکہ یہ اردو کے سادہ اور عام فہم لفظ ہوتے ہیں۔ کسی بھی دوسری زبان کو سیکھنا اور بولنا بہت اچھی بات ہے لیکن ایک ہی زبان کے لفظوں کو دوسرے لفظوں سے بدل دینا نا انصافی ہے جو آج کل عام ہے۔ اردو زبان ایک ایسی زبان ہے جو سنسکرت، عربی، فارسی اور دیگر کئی زبانوں کے باہم اشتراک سے وجود میں آئی۔ اردو زبان کی خاصیت ہے کہ یہ دوسری زبانوں کے لفظوں کو اپنے دامن میں پناہ دے دیتی ہے جس سے اس زبان کی وسعت میں اضافہ ہوا۔ لیکن جو لفظ پہلے ہی ایک زبان میں موجود ہو اسے کسی دوسری زبان کے متبادل لفظ سے تبدیل کرنا زبان کے معدوم ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔

نسل نو کا اردو زبان کے ساتھ رویہ بھی باعث تشویش ہے۔ اگر انہیں اردو کے کسی لفظ کا مطلب سمجھانا ہو تو انگریزی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح اردو کے کئی ایسے لفظ ہیں جن کے لیے انگریزی لفظ استعمال کیے جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ لفظ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ زبانیں سیکھنا بری بات نہیں ہے لیکن جس بھی زبان کو سیکھیں اسے مکمل طور پر بولیں اور گفتگو میں استعمال کیجئے۔ اپنی نئی نسل کو اردو سے محبت کرنا سکھائیں۔ انہیں یہ بتائیں کہ ہماری زبان کس قدر خوبصورت اور شاندار ادب سے بھرپور ہے۔ اپنی زبان یا پھر ثقافت کو تعصب کی نذر مت کریں۔ بلکہ اپنی تہذیب و ثقافت، روایات و اقدار اور زبان و ادب کو دل سے تسلیم کریں اور نئی نسل کو بھی ان سے محبت کرنا سکھائیں۔

Facebook Comments HS