ادب اور سیاست


پرانے وقتوں سے ادب نکمے لوگوں کی تخلیق کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ ادب سے شغف صرف شغل کی حد تک تو ٹھیک سمجھا جاتا تھا مگر اس کو ایک کارآمد شے کے طور پر دیکھنا بھی ناممکن تھا۔ اس لئے افلاطون کی مثالی ریاست میں شعراء پر پابندی ہے۔ افلاطون کا شعراء کے ساتھ یہ سلوک محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پاس بہت سے شواہد موجود تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ اس نے دنیا کو اصل کی نقل کی نقل قرار دیا تھا۔ انگریزی میں the world is thrice removed from reality۔ ایک ایسی بے بنیاد شے کو افلاطون جیسا مفکر اور فلسفی کیسے اصلاح معاشرہ کے لئے استعمال کر سکتا تھا۔ ان کے بعد ارسطو نے بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہی نظریہ جاری رکھا اور کہا کہ دنیا اصل کی نقل ہے۔ ان کے بعد آنے والے مفکرین اور نقاد اور فلسفی انہی نظریات کو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ بیسویں صدی تک اپناتے رہے۔ یہ نظریات، خاص طور پر ادب کی حد تک، بڑے مقدس گردانے جاتے تھے اور ہیں۔ اور تنقید کا یہی مستند اور قابل اعتبار طریقہ تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ادب کو دائمی سمجھا جاتا تھا۔

بیسویں صدی کے دوران ادبی نظریات کی آمد نے سارا منظر نامہ یکسر تبدیل کر دیا اور نئے منظر نامے پیش کیے۔ ادب کی ابدیت بھی چیلنج ہوئی اور ادب کو روزمرہ زندگی کی ایک متعلقہ شے بنا کر پیش کیا۔ بیسویں صدی سے پہلے تک ادب ایک غیر متعلقہ شے بنا رہا۔ ادب کو روزمرہ کی روٹین میں دیکھا جانا لگا کہ یہ ہماری زندگیوں پر کتنا اثرانداز ہوتا ہے۔ میتھیو آرنلڈ نے سب سے پہلے ادب کو اصلاح معاشرہ کے لئے استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ تب سے ادب اور سیاست، ادب اور معاشرہ، ادب اور زندگی وغیرہ جیسے مباحثے شروع ہوئے۔

اس کے علاوہ مابعد سامراجیت کے نظریات نے سارے دائمی دعووں کی قلعی کھول دی اور صدیوں پہلے لکھا گیا ادب بھی نئے نظریات کی روشنی میں پڑھا جانے لگا اور سامراجی ارادوں اور منصوبوں کا کھوج لگایا جانے لگا۔

موجودہ دور میں ادب ایک صنعت کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر ابھی تک کام نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم کیوں تیسری دنیا ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے ادب کو اور اس کی اشاعت کو ترویج نہیں دی۔ اور ایسا ہم نے مجرمانہ غفلت کی وجہ سے کیا ہے۔ آپ تصور کریں کہ تاج محل، آکسفورڈ اور کیمبرج تینوں تقریباً ہم عمر ہیں۔ یہ سارا سوچ اور ترجیحات کا فرق ہے۔

Facebook Comments HS