بابا بلیک شیپ کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ


میرا چھوٹا بھتیجا خوشی خوشی انگریزی نظم ”Baa Baa Black Sheep“ گنگنا رہا تھا۔ اس کے لہجے میں ایک معصوم خوشی، نرمی اور بے فکری تھی۔ نرسری کلاس کے دنوں میں ہم بھی اسی طرح جھوم جھوم کر انگریزی نظمیں گاتے تھے اور سیکھنے کے عمل کو تفریح کے طور پر محسوس کرتے تھے۔ آج، جب میں نے اس مشہور زمانہ نظم کو مکمل توجہ سے سنا، تو اس کے الفاظ میرے لیے یکایک اجنبی اور کسی حد تک چونکا دینے والے محسوس ہوئے۔ گو کہ نظم کا لہجہ ہلکا پھلکا اور بچوں کے لیے موزوں دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی تہہ میں ایک گہرا نو آبادیاتی بیانیہ پوشیدہ ہے، جو غور کرنے پر کئی فکری دروازے کھول دیتا ہے۔

مختلف سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں جیسے کہ:
کیا ہم آج بھی اپنی نئی نسل کو وہی نو آبادیاتی سوچ غیر محسوس انداز میں منتقل کر رہے ہیں؟

کیا ہمارے بچوں کو ایسی نظمیں یاد کروا کر ہم ان کے ذہنوں میں ایک ایسی دنیا کا نقش قائم کر رہے ہیں جس کی تہذیبی، معاشی اور فکری جڑیں مغرب کی برتری اور مشرق کی محکومی سے جڑی ہوئی ہیں؟

کیا ہم اب بھی اپنی تہذیب و تمدن کو تعلیمی میدان میں اتنی اہمیت دینے سے قاصر ہیں کہ بچوں کے لیے اپنی ثقافت، زبان، اور تاریخ پر مبنی معیاری ادب تخلیق کر سکیں؟

یہ نظم ”Baa Baa Black Sheep، have you any wool؟“ کب لکھی گئی، کس تاریخی پس منظر میں، اور کیسے مختلف نو آبادیاتی تعلیمی نظاموں کا حصہ بنی، یہ موضوع تفصیلی تحقیق کا متقاضی ہے۔ تاہم، اس مضمون میں ہم اس کا ایک مختصر مگر بامعنی مابعد نو آبادیاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

نظم کا آغاز ہی ایک گہرے علامتی تصور سے ہوتا ہے۔ ”Black Sheep“ یعنی ”سیاہ بھیڑ“ ایک ایسا استعارہ ہے جسے صدیوں سے رنگ، نسل اور سماجی حاشیے پر موجود طبقات کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں ”Black“ محض ایک رنگ نہیں بلکہ استعماریت کی اُس گہری علامت کا اظہار ہے، جس کے ذریعے افریقی، ایشیائی اور دیگر نو آبادیاتی اقوام کو کمتر، وحشی اور غیر مہذب قرار دیا گیا۔

بھیڑ ایک ایسا جانور ہے جس سے مکمل فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ اس کا گوشت، دودھ اور اون سب کچھ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ جانور استعمار کے لیے اُن محکوم اقوام کی علامت بن جاتا ہے جن کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا۔

انگریزوں نے برصغیر، افریقہ اور دیگر نوآبادیاتی خطوں کے قدرتی و انسانی وسائل کو اسی بے دردی سے استعمال کیا۔ سونا، چاندی، کپاس، چائے، قیمتی پتھر، اناج، حتیٰ کہ انسانی محنت بھی، غرض، سب کچھ یورپ منتقل ہوا۔ اس لوٹ مار کے نتیجے میں ترقی یافتہ مغرب کی بنیاد رکھی گئی اور محکوم دنیا کو غربت، پسماندگی اور شناخت کے بحران میں دھکیل دیا گیا۔

ششی تھرور نے اپنی کتاب An Era of Darkness اور آکسفورڈ یونین میں کی گئی اپنی معروف تقریر میں برطانوی استعماری استحصال کی تفصیلات نہایت موثر اور مدلل انداز میں پیش کی ہیں، جو ”Baa Baa Black Sheep“ جیسی نظموں کے پس پردہ معانی کو سمجھنے میں گراں قدر معاونت فراہم کرتی ہیں۔ اسی تناظر میں، ایڈورڈ سعید نے اپنی تصنیف Orientalism میں مشرق اور مغرب کے درمیان قائم کردہ استعماری تفریق کو ”سفید/سیاہ“ ، ”مہذب/وحشی“ اور دیگر دوئیوں کے ذریعے بے نقاب کیا ہے، جو نہ صرف ادبی متون کی نو آبادیاتی تعبیر میں مددگار ہے بلکہ مغربی بیانیے کے نظریاتی پس منظر کو بھی روشن کرتی ہے۔

نظم کے اگلے مصرعوں میں تین ”بیگ“ اون کی بات کی جاتی ہے جو تین کرداروں کو دی جاتی ہے :
ایک ماسٹر کے لیے، ایک بیگم کے لیے، اور ایک ننھے بچے کے لیے۔

یہ تقسیم بظاہر ایک سادہ سی ترتیب دکھائی دیتی ہے، مگر درحقیقت یہ نو آبادیاتی سماج کی درجہ بندی کو نمایاں کرتی ہے۔ ”ماسٹر“ یعنی انگریز حاکم، ”بیگم“ یعنی اس کا خاندانی و سماجی ڈھانچہ، اور ”ننھا بچہ“ یعنی مغرب کی نئی نسل، جو استعماری استحصال کو ایک معمول کے طور پر اپناتی ہے۔

یہ تینوں کردار استعمار کے اُس تسلسل کی علامت ہیں جو نسل در نسل چلا اور آج بھی کئی شکلوں میں قائم ہے۔ کچھ ناقدین اس تقسیم کو مذہبی استعارہ بھی سمجھتے ہیں، جو عیسائیت کی ”ہولی ٹرینیٹی“ یعنی باپ، بیٹے اور روح القدس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یوں ایک سادہ سی نظم، طاقت کے مذہبی، نسلی اور معاشی تانے بانے کو مربوط انداز میں پیش کرتی ہے۔

یہ نظم بظاہر بچوں کی تعلیم و تفریح کا ذریعہ ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ایسا سیاسی بیانیہ ہے جو غیر محسوس انداز میں بچوں کے ذہنوں میں سامراجی نظریات کو راسخ کر دیتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ ایک ایسی دنیا کو قبول کرنا سیکھتے ہیں جس میں طاقت کا سرچشمہ مغرب، اور تابعیت کا مقدر مشرق ہے۔

سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ آزادی کے 70 سال گزرنے کے باوجود ہمارے ماہرین تعلیم نے بچوں کے لیے ایسی نظمیں تخلیق کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جو ہماری تاریخ، ثقافت، اور سماجی شعور کی نمائندہ ہوں۔ ہم نے انگریزی زبان اور مغربی ادب کو ترقی کی علامت سمجھ لیا ہے، اور اس دوڑ میں اپنی تہذیبی شناخت، لسانی ورثہ اور فکری خودمختاری کو تقریباً قربان کر دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں نو آبادیاتی باقیات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، اور ایک ایسا متبادل بیانیہ تیار کریں جو بچوں کو اپنے ماضی، حال اور مستقبل سے باخبر، باشعور اور خودمختار بنائے۔

Facebook Comments HS