تحریک انصاف اور مذاکرات
پاکستان کی سیاسی فضا ایک بار پھر کشیدگی کے گھنے بادلوں میں گھِری نظر آ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور طاقتور حلقوں کے درمیان جاری سرد جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ذرائع اور سیاسی مبصرین کے مطابق پس پردہ مذاکرات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور بعض حلقے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ممکنہ رہائی کے امکانات پر بھی بات کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف واضح اور دو ٹوک ہے کہ اگر عمران خان رہا نہ کیے گئے تو جماعت ایک نئی احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ آئین کی سربلندی، عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور حقیقی جمہوریت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول یہ صرف ایک سیاسی معرکہ نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کریک ڈاؤن، میڈیا بلیک آؤٹ، گرفتاریوں اور تمام تر ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود عمران خان کی مقبولیت میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے جو ریاستی اداروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں عمران خان آج بھی کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں؟ اس کا جواب سادہ ہے وہ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں اور قوم انہیں ایک نجات دہندہ کی صورت میں دیکھتی ہے۔
ان حالات میں مذاکرات ہی واحد راستہ بچا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ ریاست صرف طاقت کے زور پر نہیں چل سکتی۔ قومی استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے سب سے پہلے سیاسی مکالمے کی بحالی ناگزیر ہے۔ مذاکرات کا آغاز نہ صرف موجودہ بحران کا حل نکال سکتا ہے بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے ایک جمہوری مثال بھی قائم کر سکتا ہے۔
عمران خان کا موقف ہے کہ وہ مذاکرات اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں ریاستی اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ہاتھ کو تھامیں جو پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لیے بڑھایا جا رہا ہے۔
آج بھی وقت ہے کہ ہم سیاسی انا کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

