کینیڈا کی مالٹن ویمن کونسل اور مہاجر خواتین کے نفسیاتی مسائل
کینیڈا میں عورتوں کی کامیابی اور خوشحالی، آزادی و خودمختاری کو فروغ دینے والے ادارے مالٹن ویمن کونسل نے اپنے تئیس مئی دو ہزار پچیس کے سیمینار میں مجھے دعوت دی کہ میں ان کے ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی اپنے خیالات کا اظہار کروں کیونکہ میں نے پچھلے دو سال ان کے ادارے کی نفسیاتی مسائل کا شکار مہاجر خواتین کا علاج کیا تھا اور ان کی مدد کی تھی۔ میں اپنے اس کالم میں اپنی تقریر کا خلاصہ پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ بھی کینیڈا کی امیگرنٹ خواتین کے نفسیاتی مسائل اور ان کے علاج سے آگاہ ہو سکیں۔
مالٹن ویمن کونسل کا پہلا گروہ وہ نوجوان خواتین تھیں جو ابھی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ اس کی مثال وہ پہلی نوجوان مریضہ تھی جو مجھ سے ملنے سے پہلے کئی اور ماہرین نفسیات سے مل چکی تھی لیکن ان کے رویے سے خوش نہ تھی اس لیے اس نے علاج منقطع کر دیا تھا۔ جب وہ میرے ساتھ کئی سیشن کر چکی تو میں نے باقی تھراپسٹوں سے قطع تعلق کرنے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ وہ تھراپسٹ مجھے بچی، کم عقل اور بے وقوف سمجھتے تھے آپ نے مجھے ایک عاقل و بالغ انسان سمجھا اور مجھ سے عزت سے پیش آئے اس لیے میں نے آپ کے ساتھ علاج جاری رکھا اور آپ کے علم اور تجربے سے استفادہ کیا۔
اس نوجوان خاتون نے کالج کی تعلیم کے بعد ایک سال کی چھٹی لی تھی تا کہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کر سکے کہ اسے اپنی زندگی میں کیا کرنا ہے اور کون سا پیشہ اختیار کرنا ہے۔
کینیڈا میں مہاجر خاندانوں کے نوجوان بچے اور بچیاں اپنے ماں باپ سے یہ سماجی دباؤ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر انجینئر بنیں تا کہ ان کا سماجی قد بڑا ہو لیکن کینیڈا میں پلنے بڑھنے والے نوجوان اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے تھراپی میں اس نوجوان خاتون کا حوصلہ بڑھایا اور اسے اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مدد کی۔ تھراپی کامیاب ہوئی اور اب وہ یونیورسٹی میں نرس بننے کی تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ یہ کامیاب تھراپی کی ایک درخشاں مثال ہے۔ دیر آید درست آید
ہم نوجوانوں کی تھراپی کے دوران والدین کی تھراپی بھی کرتے ہیں تا کہ وہ اپنے نوجوان بچوں کے نفسیاتی مسائل کو سمجھ سکیں، ان پر اپنے فیصلے نہ تھوپیں اور ان کو اپنے خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں ان کی مدد کریں۔
مالٹن ویمن کونسل میں دوسرا گروپ ان عورتوں کا تھا جنہیں زندگی میں کامیاب بنانے کے لیے میں نے ان کا گرین زون تھراپی سے تعارف کروایا اور انہیں تھراپی کے بنیادی اصولوں سے روشناس کرایا۔ چند باتیں آپ بھی سن لیں۔
گرین زون تھراپی کی بنیاد یہ ہے کہ ٹریفک کی گرین ییلو ریڈ لائٹس کی طرح انسان بھی تین خیالی زونز میں رہتے ہیں۔
جب ہم خوش ہوتے ہیں مسکرا رہے ہوتے ہیں زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں تو ہم اپنے گرین زون میں ہوتے ہیں۔
جب ہم قدرے پریشان و اداس ہوتے ہیں تو ہم اپنے ییلو زون میں ہوتے ہیں۔
اور جب ہم غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور چیخنے چلانے لگتے ہیں یا ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں تو ہم اپنے ریڈ زون میں ہوتے ہیں۔
ہمارے مریض روزانہ کی ایک گرین زون ڈائری رکھتے ہیں جس میں وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں سے کتنے گھنٹے کس زون میں گزارے۔
ہم انہیں بتاتے ہیں کہ انسانوں کی طرح رشتے اور خاندان بھی گرین ییلو یا ریڈ زون میں رہتے ہیں۔
گرین زون تھراپی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے گرین زون کے گھنٹے بڑھنے لگتے ہیں اور ییلو اور ریڈ زون کے گھنٹے کم ہونے لگتے ہیں۔ دھیرے دھیرے لوگ ایک صحتمند خوشحال اور پرسکون گرین زون زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔ گرین زون تھراپی سے بہت سی خواتین نے بہت سا استفادہ کیا۔
مالٹن ویمن کونسل کا تیسرا گروہ ان عورتوں کا تھا جو نفسیاتی مسائل کی وجہ سے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار سے دور ہو گئی تھیں۔ میں نے ان کی حوصلہ افزائی کی تو انہوں نے دوبارہ اپنے قلم سے رشتہ بحال کیا اور شعری و نثری فن پارے تخلیق کرنے لگیں۔ اس سلسلے میں ڈائری لکھنے نے ان کی بہت مدد کی۔ ڈائری لکھنے سے وہ نفسیاتی رکاوٹیں دور ہو گئیں جو ان کے تخلیقی اظہار میں حائل تھیں۔ ڈائری لکھنے سے ان کے لاشعور میں چھپے جذبات و احساسات و خیالات کو جب اظہار کا موقع ملا تو وہ نہ صرف صحتمند ہونے لگیں بلکہ خوش بھی رہنے لگیں۔ تخلیقی اظہار نے انہیں ایک دفعہ پھر پرمسرت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔
مالٹن ویمن کونسل کا چوتھا گروہ ان عورتوں کا تھا جو ازدواجی و خاندانی مسائل کا شکار تھیں۔ میں نے ان کے خاندان والوں کو دعوت دی اور ہم نے مل کر ان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ تھراپی سے دھیرے دھیرے دکھی ریڈ زون خاندان ایک سکھی گرین زون خاندان بن گئے اور ان کے آنسوؤں نے مسکراہٹوں کا روپ دھار لیا۔
مالٹن ویمن کونسل کی عورتوں کا پانچواں گروپ وہ تھا جن کے شوہر جابر و ظالم تھے اور ان پر زیادتی کرتے تھے۔ ان کی تذلیل و تحقیر کرتے تھے۔ ایسی عورتوں کو ان کے انسانی حقوق سے آگاہ کیا گیا اور ان اداروں سے روشناس کرایا گیا جو ایسی عورتوں کی مدد کرتے ہیں۔ جب عورتوں میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے تو پھر وہ کسی طرح کے ظلم اور جبر کو برداشت نہیں کرتیں۔ ہم نے ان عورتوں کو جو خاندان والوں کے لیے قربانیاں دیتے ہوئے اپنا خیال رکھنا بھول جاتی ہیں یہ سکھایا کہ
خود خیالی خود غرضی نہیں ہے (SELF CARE IS NOT SELFISHNESS) ۔
مالٹن ویمن کونسل کا چھٹا گروپ ان عورتوں کا تھا جن سے شادی سے پہلے جھوٹے وعدے کر کے کینیڈا لایا گیا تھا۔ جب ہجرت کرنے کے بعد اور اپنے خاندان سے ہزاروں میل دور ہونے کے بعد انہیں پورے سچ کا پتہ چلا تو ان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ دکھی ہو گئیں۔
میں نے اپنی تقریر میں مثال دی کہ ایک صاحب جو ہسپتال میں اردلی تھے انہوں نے ہندوستان جا کر یہ بتایا کہ وہ ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں۔ جب دلہن کو کینیڈا آ کر پتہ چلا کہ وہ ڈاکٹر کی نہیں ایک اردلی کی بیوی ہے تو وہ بہت حیران و پریشان ہوئی۔ اس نے دولہا سے پوچھا کہ تم نے جھوٹ کیوں بولا تو وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا میں نے جھوٹ نہیں بولا ہسپتال میں سب دوست مجھے پیار سے ڈاکٹر ہی کہتے ہیں۔ یہ مذاق ایک ایسا بھونڈا مذاق تھا جس نے ایک عورت کی زندگی کو تباہ و برباد کر دیا۔
مالٹن ویمن کونسل کا ساتواں گروہ ان عورتوں کا تھا جو شدید احساس تنہائی کا شکار تھیں۔ وہ کینیڈا میں کچھ خواب لے کر آئی تھیں لیکن ان کے سہانے خواب ڈراؤنے خواب بن گئے تھے۔ ان کا نہ کوئی دوست تھا نہ سہیلی۔ وہ سارا دن اپنے اپارٹمنٹ کی چار دیواروں کو گھورتی رہتی تھیں۔ ہم نے ایسی خواتین کو مالٹن ویمن کونسل کی والنٹیر عورتوں سے جوڑا تا کہ ان کا دوستوں اور سہیلیوں کا حلقہ بن سکے جسے ہم فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتے ہیں۔ ہم خیال اور ہم مزاج دوست ہماری ذہنی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے دوستوں کی دیس سے زیادہ پردیس میں ضرورت ہوتی ہے۔
میں نے اپنی تقریر میں مالٹن ویمن کونسل کی قیادت کرنے والی شخصیات کا، جن میں انو رندھاوا، عظمیٰ عزیز اور پرمیندر رندھاوا شامل ہیں، ان کے سٹاف ممبرز کا اور ان خواتین کا جو اس ادارے کے لیے والنٹیر کام کرتی ہیں، تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے مجھے ان کی دو سال خدمت کا موقع فراہم کیا۔ میں نے ان دو سالوں میں ان سے بہت کچھ سیکھا۔
مالٹن ویمن کونسل مبارکباد کی مستحق ہے کیونکہ انہوں نے دیار غیر میں پاکستان اور ہندوستان کی مہاجر خواتین کے لیے ایسا ماحول تیار کیا ہے جہاں وہ
ایک دوسرے کی مدد کر سکتی ہیں
ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو سکتی ہیں
عزت نفس سے زندہ رہ سکتی ہیں
اور اپنی آزادی و خودمختاری کی جنگ لڑ سکتی ہیں۔
یہ ادارہ کینیڈا کی دیگر عورتوں اور عورتوں کی مدد کرنے والے اداروں کے لیے ایک مثبت رول ماڈل ہے۔
یہ میری خوش بختی ہے کہ ایک مرد تھراپسٹ ہونے کے باوجود انہوں نے مجھے ان کی خدمت کا موقع فراہم کیا۔
عین ممکن ہے مالٹن ویمن کونسل کی خواتین جانتی ہوں کہ میرے اندر بھی ایک عورت چھپی رہتی ہے جو عورتوں سے ہمدردی رکھتی ہے اور ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی ہے۔


