جنگ کے بعد کی اصل جنگ۔ قومی تعمیر اور استحکام کی ضرورت
دس مئی کو پاکستان نے بہادری، جرات اور حکمت عملی کے ایسے جوہر دکھائے جو نہ صرف ملک کی عسکری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے موقف کو تقویت ملی۔ پہلگام میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کا الزام ایک بار پھر بغیر تحقیق کے پاکستان پر دھر دیا گیا۔ بھارتی میڈیا اور حکومت کی جانب سے روایتی الزام تراشی کے ساتھ ساتھ سرحدی خلاف ورزیاں، میزائل اور ڈرون حملے اور مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انڈیا کی طرف سے جنگ کا آغاز تھا۔
پاکستان نے صبر کا دامن تھامے رکھا لیکن جب معصوم شہریوں کی شہادت کی خبریں آئیں تو دس مئی کو ایک موثر اور بروقت جواب دیا گیا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف دشمن کو منہ توڑ جواب دیا بلکہ دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ ہم اپنی خود مختاری اور جغرافیائی حدود پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ انڈیا کی درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان نے عسکری اور سفارتی دونوں محاذوں پر اپنی برتری منوائی۔
ملک بھر میں جشن منایا گیا۔ پوری قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ افواج پاکستان کی جرات و قربانی کو سراہا گیا اور جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے کر یہ ثابت کر دیا گیا کہ بہادری کی قدر کی جاتی ہے۔ مگر اب جب جنگ ختم ہو چکی ہے اور ہم فتح کے نشے میں سرشار ہیں تو ایک اور جنگ کا آغاز ہونا چاہیے اور وہ ہے قومی تعمیر، اداروں کے استحکام اور اندرونی امن کی بحالی کی جنگ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جاری سیاسی افراتفری، انتقامی سیاست اور چادر و چار دیواری کی پامالی کا خاتمہ کیا جائے۔ آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، عدلیہ کو حقیقی معنوں میں آزاد اور خودمختار ادارہ بنایا جائے اور قانون کی حکمرانی کو ہر سطح پر نافذ کیا جائے۔
ہم نے سرحد پر دشمن کو شکست دی اب وقت ہے کہ اندرون ملک بھی بکھرے ہوئے دھاگوں کو جوڑا جائے۔ ایک قوم بن کر آگے بڑھا جائے تاکہ ہم نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ قومی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی مضبوطی کے میدان میں بھی دنیا کو اپنی کامیابیاں دکھا سکیں۔ کیونکہ اصل جشن تب ہو گا جب پاکستان ہر محاذ پر فاتح ہو۔ سرحد پر بھی اور اپنے گھر کے اندر بھی۔

