خواب، محبت اور زندگی 25
اب میں اس دور کے بارے میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرے والدین خوش باش رہنے والے سیماب صفت لوگ تھے۔ دونوں فلموں، کتابوں اور رسالوں کے شیدائی تھے۔ مجھے یاد ہے امی نے ایک دفعہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا تھا جس میں کراچی میں تھیٹر کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مراسلے کو پڑھ کے تھیٹر کے ایک عمر رسیدہ، خستہ حال فن کار ہمارے گھر آ پہنچے۔ ان کو امید تھی کہ مراسلہ نگار یعنی ہماری امی ان کی مالی سرپرستی فرمائیں گی۔ اور وہ کراچی میں دم توڑتے ہوئے تھیٹر کو دوبارہ زندہ کر پائیں گے۔ امی نے بڑی نرمی سے انہیں سمجھایا کہ وہ ان کی صرف اخلاقی مدد کر سکتی ہیں مالی نہیں۔
ہماری رہائش میری ویدر ٹاور کے بالمقابل مرکزی شاہراہ پر بنے ہوئے دفاتر کی عقبی گلی کی رہائشی عمارتوں کے ایک فلیٹ میں تھی۔ ہم اپنی کھڑکی سے روزانہ صبح ایک دلچسپ منظر دیکھا کرتے تھے۔ ایک ادھیڑ عمر صاحب اپنی چھوٹی سی کار عقبی گلی میں پارک کرتے اور باہر نکلنے کے بعد چند قدم چل کر واپس آتے اور کار کے دروازے کا ہینڈل کھینچ کر تشفی کرتے کہ دروازہ لاک ہے۔ ایسا وہ ایک بار نہیں، دو بار نہیں تین بار کرتے تھے اور ہم کھڑکی سے لٹک کر یہ ماجرا دیکھا کرتے تھے۔ ہر روز ہم یہی سوچتے تھے کہ شاید آج وہ ایسا نہ کریں اور کار سے اتر کر ایک مرتبہ ہی دروازہ بند کر کے دفتر چلے جائیں۔ اس وقت تو ان کی یہ حرکت ہمارے لئے مزاح کا باعث تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے جسے
OBSESSIVE COMPULSIVE DISORDER
کہتے ہیں۔ ورنہ ہم یہی سمجھتے تھے کہ ان کی کار ان کے لئے بے حد قیمتی ہے اور شاید انہیں اس کے چوری ہو جانے کا ڈر رہتا ہے۔ جس بلڈنگ میں ہم رہتے تھے اس میں ہر تین فلیٹس کے ساتھ ایک ٹوائلٹ تھا جو حیرت انگیز طور پر وہ ہمیشہ صاف رہتا تھا شاید اس کے لئے کوئی تیز قسم کا تیزابی محلول استعمال ہوتا تھا۔ ابی کی ہدایت تھی کہ ہم سب صبح صبح ہی ”حوائج ضروریہ“ سے فارغ ہو آیا کریں۔ اس لئے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔
ابی ہر جگہ ہمیں ساتھ لے کر جاتے تھے۔ اکثر شام کو ہم ابی کے ساتھ نیٹی جیٹی کے پل پر چہل قدمی کے لئے جاتے تھے۔ ایک دفعہ تو ابی نے مجھے دوڑ لگانے کا چیلنج بھی دیا۔ اور ہم دونوں باپ بیٹی نے وہاں سے گزرنے والے لوگوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اولمپکس کے اسپرنٹرز کی طرح نیٹی جیٹی کے پل کے فٹ پاتھ پر دوڑ لگائی۔ یہ 1964 کا ذکر ہے۔ میری عمر پندرہ سال تھی، قد بھی نکال چکی تھی۔ لوگوں کی نظر میں تو میں ایک نوجوان لڑکی ہی تھی۔ لیکن ابی ایسے ہی تھے۔ انہوں نے کبھی اس بات کی پروا نہیں کی کہ لوگ کیا کہیں گے، اور پھر یہ بھی ہے کہ اس وقت تک معاشرہ اتنا تنگ نظر بھی نہیں تھا۔ کراچی کی آبادی بھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ وہاں زیادہ لوگ موجود نہیں تھے اور جو تھے وہ زیر لب مسکرا کر رہ گئے۔ اس دور کی ایک اور چیز جو مجھے یاد ہے، وہ ہیں کھارادر کی کچوریاں، ابی دفتر سے واپسی پر اکثر کچوریاں خریدتے لاتے، اتنی خستہ اور لذیذ کچوریاں مجھے کراچی میں آج تک کہیں اور کھانے کو نہیں ملیں۔ نو عمری کے اپنے مچلن اسٹارز ہوتے ہیں۔
میمن خاندانوں کے ساتھ رہنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔ وہ سب ہم سے بہت اچھی طرح پیش آتے تھے۔ لیکن ہر صبح گھڑی میں لگے الارم کی طرح ہماری آنکھ دو میمن پڑوسیوں کی آپس میں زبانی گولہ باری سے کھلتی تھی۔ اور باقی سب اپنی اپنی بالکونیوں سے یہ تماشا دیکھتے تھے۔ کسی یونانی المیے کی طرح چیخ و پکار ہو رہی ہوتی تھی لیکن آوازیں کہیں زیادہ بلند ہوتی تھیں اور درمیان میں کوئی وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں طرف اگلی صف میں عورتیں کھڑی ہوتی تھیں اور ہاتھ لہرا لہرا کر چیخ رہی ہوتی تھیں جب کہ ان کے گھروں کے مرد ان کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے اور کبھی کبھی گردن نکال کر کوئی جملہ پھینکتے تھے۔ معلوم نہیں پیچھے کھڑے رہنے کا مطلب عورتوں کی اخلاقی مدد تھی یا اپنے بچاؤ کے لئے ایسا کرتے تھے۔
ہر صبح ہونے والے اس تماشے سے قطع نظر ان کی کمیونٹی اسپرٹ بہت مضبوط تھی۔ ان کی کمیونٹی کی اپنی بسیں چلتی تھیں۔ گو اعلیٰ تعلیم ان کی اولین ترجیح نہیں تھی لیکن انٹر کرنے کے بعد جو نوجوان بیرون ملک جا کر اعلیٰ ڈگری حاصل کرنا چاہتے تھے، کمیونٹی ان کے تعلیمی اخراجات اٹھاتی تھی۔ یہ دراصل قرضہ ہوتا تھا جو وہ نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے بعد ملازمت کے دوران قسط وار اتارتے تھے۔ وہ لوگ سادگی میں یقین رکھتے تھے۔ ان کی خواتین لمبے فراک اور کھلے پائنچوں والے پاجامے پہنتی تھیں۔ ساتھ والے فلیٹ کی امینہ سے میری اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ ایک مرتبہ مجھے اس کے ہمراہ اس کی ایک سہیلی کی منگنی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا جس میں مہمانوں کی تواضع صرف کولڈ ڈرنک (غالباَ پاکولا) اور ایک میٹھے پان سے کی گئی۔ امینہ نے مجھے بیلن سے روٹی بنانا بھی سکھائی۔ میرے بھائی ہر معاملے میں میری تقلید کرتے تھے چنانچہ انہوں نے بھی لکڑی کے گول تختے پر بیلن کی مدد سے روٹی بنانا سیکھ لی۔ ہمارے لئے یہ ایک کھیل تھا کیونکہ لائلپور میں تو عورتیں ہاتھوں پر پلٹ کر روٹی بناتی تھیں۔ امی اور نانی کو کبھی روٹی بیلتے نہیں دیکھا تھا۔ امینہ کی امی اکثر ہماری امی کو سمجھاتی تھیں ”تم اتنے زیادہ جوڑے سلوانے پر اتنے پیسے کیوں خرچ کرتی ہو۔“ اپنی کاروباری کمیونٹی کے کسی حساب دان کی طرح وہ امی کو نصیحت کرتی تھیں۔ ”پیسہ جوڑو اور سونا زیور خریدو“۔ یہ مالیاتی منصوبہ بندی کا میمن ورژن تھا۔ اس کے لئے کسی سیمینار کی ضرورت نہیں تھی۔
کراچی میں میمن برادری کی کاروباری سمجھ بوجھ کے سب معترف ہیں۔ ہمیں اس کا ذاتی طور پر مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ ایک روز ہم نے دیکھا کہ امینہ کی امی نے ایک گول تھال میں آلو چھولے سجا کر امینہ کے چھوٹے بھائی جو میرے بھائیوں کا دوست تھا، کو حکم دیا کہ بلڈنگ کے گیٹ کے پاس بیٹھ کر آلو چھولے بیچ کر آئے۔ یوں بچوں کو کاروبار کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ اسے آپ بچپن کی میمن اسٹائل کی ایم بی اے کی ٹریننگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب کہ امینہ کے بڑے بھائی ستار نے انٹر کرنے کے بعد برادری کی مالی اعانت سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک جانے کو ترجیح دی تھی۔ عام طور پر میٹرک کرتے ہی لڑکوں کی شادی اپنی ہی برادری کی کسی لڑکی سے کر دی جاتی تھی اور والد کی دکان پر بٹھا دیا جاتا تھا یا خاندانی کاروبار میں شامل کر لیا جاتا تھا۔ میمن برادری کے جن لوگوں کے ساتھ ہمیں رہنے کا موقع ملا، وہ کارل مارکس کے ”ابدی ذخیرہ اندوزی“ کے تصور کی جیتی جاگتی مثال تھے۔ ”محنت اور بچت“ ان کے لئے مذہبی فضائل کا درجہ رکھتے تھے اور وہ قابل ستائش انداز میں دل و جاں سے اس پر عمل پیرا رہتے تھے۔

