تخلیقی اقلیت کے بارے میں مکالمہ
16 مئی 2025 ء
محترم و مکرم جناب ڈاکٹر خالد سہیل!
مجھے اُمید ہے کہ آپ بخیریت اور ہمیشہ کی طرح اپنی گرین زون زندگی کے مزے لے رہے ہوں گے۔ مجھے اکثر اوقات آپ کی زندگی پر رشک بھی آتا ہے۔ اس کی وجہ اگلی سطور میں خود بخود واضح ہو جائے گی۔
پیارے ڈاکٹر صاحب! ہم دونوں کو مبارک ہو کہ ہماری مشترکہ کتاب : ”تخلیقی اقلیت“ گزشتہ ماہ پاکستان میں شائع ہو کر کینیڈا پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کتاب ’ایماذان‘ جیسی عالمگیر کمپنی میں بھی اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ میں نے اس کتاب کو ’ہماری‘ اس لیے کہا کہ مجھے اس کو انگریزی کتاب CREATIVE MINORITY سے اردو زبان میں ترجمہ کر کے ”تخلیقی اقلیت ’بنانے کا شرف حاصل ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مجھے اس ضخیم کتاب کا ترجمہ مکمل کرتے ہوئے دو سال لگ گئے۔ اس دوران دو خزاں اور دو موسم بہار گزرے۔ بالکل اسی طرح میرے اندر کی دنیا میں بھی دو موسم بہار اور دو خزاں گزرے۔ موسمِ بہار تو فیض احمد فیض کے اس شعر کے مصداق گزر گئے :
نہ گلُ کھلے ہیں نہ اُن سے ملے نہ مے پی ہے
عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے
مگر اندر کے خزاں گزارتے نہیں گزر رہے تھے۔ کیونکہ میں ایک وجودی بحران میں گِرفتار تھا۔ ایسی صورت حال میں ترجمے نے میری بہت مدد کی۔ میں نے کتاب کا ترجمہ جاری رکھا جس سے میرا ذہنی کیتھارسس ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ جب میں نے تخلیقی اقلیت میں موجود شخصیات سے آپ کے توسط سے ملاقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کو کتنے بڑے المیے درپیش تھے مگر وہ پھر بھی ان سے سرخرو ہو کر نکلے۔ انہوں نے اپنے خوابوں، اپنے آدرشوں اور اپنے نصب العین کی خاطر کیا کیا برداشت نہ کیا۔ ان میں سے بعض تو کئی دہائیوں تک روایتی اکثریت کا تختہ مشق بنے رہے مگر شدید جسمانی اور ذہنی صدموں کے باوجود کس قدر ثابت قدم رہے۔ یہ جان کر میں رفتہ رفتہ اپنا غم بھولتا چلا گیا۔ چنانچہ جب کتاب کا ترجمہ ختم ہوا تو میں بھی اس وجودی بحران سے باہر آ چکا تھا۔
ڈاکٹر صاحب! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ دنیا کی عظیم شخصیات کے بارے میں چند انسائیکلوپیڈیا نما کتب لکھی گئی ہیں۔ مگر ان میں سے اکثر کا تعلق روایتی اکثریت سے ہے۔ خالص تخلیقی اقلیت پر لکھی جانے والی شاید یہ پہلی کتاب ہوگی۔ اس ضمن میں میرے چند سوالات ہیں :
·آپ کو ایسی کتاب لکھنے کا خیال کب اور کیسے آیا؟
·یہ کتاب کم و بیش 30 تخلیقی شخصیات کی سوانح ہائے حیات کا نچوڑ ہے اور اس میں شامل ہر شخصیت پر لکھی گئی ایک سے زیادہ کتب کے حوالہ جات موجود ہیں۔ بعض شخصیات پر مضامین رقم کرنے کے لیے دس دس کتب سے استفادہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ کام جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ یہ بات قابلِ رشک ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی ریسرچ کا طریقہ کار کیا تھا اور آپ نے یہ کام کتنے عرصے میں مکمل کیا؟
·آپ نے اس کتاب کے لیے ان ہی شخصیات کا انتخاب کیوں کیا؟ جب کہ دنیا میں تخلیقی شخصیات تو ان کے علاوہ بھی موجود ہیں؟
·مجھے ذرا برابر بھی شک نہیں کہ آپ بذاتِ خود ایک تخلیقی شخصیت ہیں۔ کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ :
1 کیا آپ کے بھی کوئی خواب تھے؟ کیا اور خواب شرمندہِ تعبیر بھی ہوئے؟
2 کیا آپ کو بھی کبھی روایتی اکثریت سے پالا پڑا؟ اگر ایسا ہے تو آپ ان کے عتاب سے کیسے بچ نکلے؟
3 آپ کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کیا ہے اور سب سے بڑا المیہ کیا ہے؟
مجھے آپ کے جواب کا انتظار تو رہے گا۔ مگر مجھے آپ کی مصروف زندگی کا بھی اندازہ ہے اس لیے میں طویل انتظار کی زحمت گوارا کر لوں گا۔ آپ کو تخلیقی اقلیت کی تخلیق پر ایک دفعہ پھر سے مبارک باد۔
شکر گزار
نعیم اشرف
۔ ۔ ۔
ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب
۔ ۔
محترمی و معظمی نعیم اشرف صاحب!
میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے میری کتاب کا اتنا دل لگا کر ترجمہ کیا۔ ترجمے کے بارے میں مشہور ہے کہ:
خوبصورت ہو تو وفادار نہیں ہوتا
وفادار ہو تو خوبصورت نہیں ہوتا
لیکن آپ کا ترجمہ خوبصورت بھی ہے اور وفادار بھی کیونکہ آپ نے اسے بڑی محنت مشقت اور محبت سے رقم کیا ہے۔ میں نے بھی یہ کتاب بڑی محنت اور ریاضت سے لکھی تھی۔ آپ نے اس کا حق ادا کر دیا ہے اب اسے وہ مرد و زن بھی پڑھ سکیں گے جو اسے انگریزی میں نہ پڑھ سکتے۔
میں جب بیس برس کا تھا تو میرے شاعر چچا عارف عبدالمتین نے مجھ سے کہا تھا: ”بیٹا ہر ملک اور معاشرے میں دو طرح کے لوگ بستے ہیں، اکثریت جو روایت کی شاہراہ پر چلتی ہے اور تخلیقی اقلیت جو من کی پگڈنڈی پر چلتی ہے۔ سہیل بیٹا! آپ کا تعلق تخلیقی اقلیت سے ہے۔ خیال رہے کہ اس تخلیقی اقلیت کو من کی پگڈنڈی پر چلنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔“
میرے چچا جان نے مجھے مشورہ دیا کہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد کسی ایسے سیکولر ملک سدھار جاؤں جہاں میں اپنی مرضی سے زندگی گزار سکوں۔ چنانچہ میں پہلے ایران اور پھر کینیڈا چلا آیا۔
ایران میں میں نے ہمدان کے ایک کلینک میں کام کیا۔ اس کلینک کے سامنے بو علی سینا کا مزار تھا جس کی بیسمنٹ میں ایک لائبریری تھی۔ اس لائبریری میں زیادہ تر کتابیں فارسی میں تھیں لیکن ایک کتاب انگریزی میں تھی اور وہ موہن داس گاندھی کی خود نوشتہ سوانح عمری تھی۔ میں نے وہ سوانح عمری پڑھی تو مجھے بہت لطف آیا۔ اس کے بعد میں نے ادیبوں شاعروں دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کی سوانح عمریاں بڑے ذوق و شوق سے پڑھنی شروع کر دیں۔
کینیڈا آ کر میں نے بہت سے مشرقی و مغربی دانشوروں کے انٹرویو بھی لیے۔ چنانچہ جب میں نے ”تخلیقی اقلیت“ شائع کرنے کا سوچا تو میں نے کوشش کی کہ چند سائنسدانوں، چند ادیبوں، چند فلاسفروں اور چند سیاسی رہنماؤں کی کہانیاں لکھوں اور پھر ان کا نفسیاتی تجزیہ کروں تا کہ قارئین ان کی شخصیت کی عظمتوں اور کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ان کی کوتاہیوں اور ناکامیوں سے بھی واقف ہو سکیں۔ عارف عبد المتین کا شعر ہے :
میری عظمت کا نشاں ’میری تباہی کی دلیل
میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو
میری نگاہ سے تخلیقی اقلیت کی شخصیت کے بارے میں کبھی اس سے بہتر شعر نہیں گزرا۔
غیر روایتی سوچ اور طرز زندگی کی وجہ سے تخلیقی اقلیت کے نمائندے نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر میں پاکستان کے روایتی معاشرے میں ہی رہتا تو نوجوانی میں ہی یا تو میں قتل کر دیا جاتا یا میں جیل میں ہوتا یا میں کسی پاگل خانے میں داخل کرا دیا جاتا۔ میں تو ایسے دیس کا باسی ہوں جس کے بارے میں بخش لائلپوری نے فرمایا تھا:
ہمارا شہر تو چھوٹا ہے لیکن
ہمارے شہر کا مقتل بڑا ہے
میری زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ میں نوجوانی میں اپنے ہی گھر میں اپنے آپ کو بے گھر محسوس کرتا تھا لیکن میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ جب زندگی کی شام آئی ہے تو میں نے اپنے ماضی کو قبول کر لیا ہے میں نے اپنے شہر کے لوگوں سے سمجھوتا کر لیا ہے اور اپنے ہم وطنوں سے پیار و احترام کا رشتہ جوڑ لیا ہے۔
وہ میری عزت کرتے ہیں
میں ان کی عزت کرتا ہوں
میں نے بڑی آزمائشوں اور قربانیوں کے بعد یہ سیکھا کہ اگر چاہیں تو تخلیقی اقلیت اور روایتی اکثریت کے لوگ مل جل کر بھی رہ سکتے ہیں ایک دوسرے کے دوست بن سکتے ہیں۔ یہ کسی کرامت سے کم نہیں۔ اس سفر میں پچھلے چند سالوں میں ’ہم سب‘ کے انٹرنیٹ میگزین اور سانجھ پبلشرز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’ہم سب‘ نے میرے سات سو کالم اور سانجھ پبلشرز نے میری سات کتابیں چھاپ کر میرے اور پاکستانی قارئین کے درمیان ایک پل تعمیر کر دیا ہے۔ میں وجاہت مسعود، عدنان کاکڑ اور امجد سلیم منہاس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جن کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ ان کی محبت کی بارش میں میں اندر تک بھیگ جاتا ہوں۔ آپ کے ادبی محبت نامے کا ایک دفعہ پھر شکریہ۔ ’تخلیقی اقلیت‘ کی رونمائی کی تقریب کا اہتمام و انتظام ”فیملی آف دی ہارٹ“ جولائی کے مہینے میں کر رہی ہے۔ ٹورانٹو میں بہت سے دوست آپ سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔
آپ کا مداح
خالد سہیل
27 مئی 2025



