جھوٹ پکڑنے والی مشین کی دہائی


یہ 2019 کی رات تھی۔ میں چھت پر سویا ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ سب کیسے ہوا لیکن ایک جن آیا اور مجھے کوہ قاف لے گیا۔ میں بھی خوش تھا کہ اس بہانے سیر سپاٹا ہو جائے گا لیکن جن نے یہ کہہ کر میری امید پر ”سیلاب“ بہا دیا کہ انسان کوہ قاف کی صرف ایک وادی ”یوٹرنستان“ کی سیر کر سکتے ہیں۔ بہرحال بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی، میں نے اسی پر اکتفا کر لیا اور جن مجھے اس وادی میں لے گیا۔ اس وادی میں صرف دیواریں تھیں اور ان پر آویزاں گھڑیاں۔ میں نے اس بابت دریافت کیا تو جن نے مجھے بتایا کہ جب بھی کوئی انسان جھوٹ بولتا ہے تو گھڑی کی سوئیاں ایک نمبر آگے چلی جاتی ہیں۔ ایک دیوار پر لگی گھڑی بالکل ساکن تھی۔ میں نے پوچھا : یہ کس کی گھڑی ہے؟ اس نے جواب دیا : پرہیز گار کی۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ ہم مختلف گھڑیاں دیکھتے جا رہے تھے اور میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: شادی شدہ مردوں اور عورتوں کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا: وہ چھت کے ساتھ لگی ہیں ان سے پنکھوں کا کام لیا جاتا ہے۔ سب گھڑیاں تو دیکھ چکے تو میں نے پوچھا: سب سے بڑی گھڑی کہاں ہے؟ وہ مجھے ایک بڑے سے کمرے میں لے گیا جہاں سے پورے کوہ قاف کو بجلی سپلائی کی جا رہی تھی۔ اس نے الیکٹرک سسٹم کے مرکزی موٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس وادی کی سب سے بڑی گھڑی ہے اور ہم اس سے نہ صرف بجلی بنانے کا کام لیتے ہیں بلکہ پوری وادی میں اس کی ڈسٹری بیوشن بھی اسی گھڑی سے کی جاتی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ گھڑی کس کی ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ گھڑی ”مہا گرو مہاطمع“ کی ہے۔

میں واپس آیا تو یہی سوچ رہا تھا کہ اگر کبھی مہا گرو نے جھوٹ بولنا بند کر دیا تو کوہ قاف کا کیا بنے گا؟ وہاں تو لوڈ شیڈنگ شروع ہو جائے گی۔ لیکن پھر خیال آتا تھا کہ وہاں کی انتظامیہ نے اپنے بجلی گھر اس گھڑی کی تنصیب کچھ سوچ کر ہی کی ہو گی۔ بہرحال وقت گزرتا گیا اور اخبارات گواہی دیتے رہے کہ کوہ قاف کی انتظامیہ کا فیصلہ درست تھا۔ سچی بات ہے کہ گرو مہاطمع نے ہی مجھے ”جھوٹ کے بعد جھوٹ“ اور ”جھوٹ پر جھوٹ“ کے درمیان موجود باریک فرق سمجھایا تھا۔ ہاشو شکاری بتا رہا تھا کہ گرو ہر باریک فرق جانتا ہے کیونکہ وہ ہر باریک واردات کا مؤجد ہے۔ گرو نے دنیا کو پہلی بار جھوٹ کو سچ بنانا اور پھر اسے مہنگے داموں فروخت کرنا بھی سکھایا۔ کہا جاتا تھا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے لیکن اس نے ہمیں بتایا کہ جھوٹ کے نہ صرف پاؤں ہوتے ہیں بلکہ اس کے پر بھی ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ باقی جھوٹ نہیں بولتے، وہ بھی جھوٹ بولتے ہیں لیکن جھوٹ چلتا بلکہ اڑتا صرف اسی کے نام پر ہے۔ لگتا ہے کہ اس نے جھوٹ کے جملہ حقوق اپنے نام کرا رکھے ہیں۔ اس کے نام پر جھوٹ بول بول کر بہت سے کھوچل میڈیا انفلوئنسر ”عرب پتی، یورپ پتی اور سام پتی“ ہو گئے۔ بلکہ کچھ تو ایسے بھی ہیں کہ جھوٹ خود ان پر مر مٹا ہے اور وہ ”جھوٹ پتی“ ہو گئے ہیں۔ جب سچ اس کی وجہ سے جھوٹ کے سامنے بے بس ہو گیا بلکہ جھوٹ ہی سچ سمجھا جانے لگا تو مجبوراً جھوٹ کو جیل باشی کرنا پڑا۔ کام پھر بھی نہ بنا تو مجبورستان نے فیصلہ کیا کہ سائنس کا دور ہے لہذا مہا گرو کا پولی گراف ٹیسٹ کرا کر حقیقت عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔ تین بار دور دیس سے ایک ٹیم آئی لیکن گرو مہاطمع ٹیسٹ پر راضی نہ ہوا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ٹیسٹ کی بجائے ٹی ٹوئنٹی کھیلنا چاہتا ہے۔

وقت مقرر آن پہنچا۔ گرو مشین کے سامنے بیٹھا تھا۔ مشین نے پوچھا: کیا آپ نے کہا تھا کہ میں کسی چور کو نہیں چھوڑوں گا؟ گرو نے جواب دیا: جی بالکل۔ مشین میں لگی بتیاں سبز جل اٹھیں جس کا مطلب تھا کہ گرو سچ کہہ رہا ہے۔ یہ دیکھ کر چیلے شور کرنے لگے جبکہ سچ پریشان ہو گیا۔ اس کے بعد مشین نے گرو کو ایسی بہت سی ویڈیوز دکھائیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کا یہ وعدہ جھوٹا تھا۔ یہ دیکھ کر چیلوں نے ”ڈیپ فیک“ کے بین شروع کر دیے۔ گرو نے کہا، میں نے کہا تھا کہ میں کسی چور کو نہیں چھوڑوں گا اور میں نے واقعی کسی چور کو نہیں چھوڑا بلکہ سب کو اپنی پارٹی میں شامل کیا۔ اب اس میں جھوٹ کیسا؟ مشین نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ گرو سچ کہہ رہا ہے۔ اگلا سوال تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ میں الیکٹبلز کو ٹکٹ نہیں دوں گا لیکن آپ نے دیے۔ گرو نے جواب دیا: میں نے ٹکٹ ”دیے“ نہیں بلکہ انھوں نے ”لیے“ تھے۔ اس میں جھوٹ کہاں ہے؟ مشین نے ایک بار پھر گرو کے سچا ہونے کی تصدیق کی۔ یہی کچھ اس نے ”میں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے بلکہ خودکشی کرنے، کروڑوں نوکریاں اور گھر دینے، نیوٹرل رہنے سے جانور بننے، سال کے بارہ موسم، قرآن میں موسیٰ ؑ کا تذکرہ نہ ہونے، جاپان جرمنی کی سرحد ایک ہونے، سپیڈ کی لائٹ، مجھے کرسی کی بھوک نہیں، سب سے قابل ٹیم، حقیقی آزادی، ایبسولوٹلی ناٹ، وسیم اکرم پلس، حریم شاہ، ایوان ہائے ریاست کو یونیورسٹیاں بنانے، میں قانون کا احترام کروں گا“ وغیرہ جیسے بیانات کے ساتھ کیا، مشین حیرت زدہ ہوتی رہی، چیلے خوش ہوتے رہے اور سچ روتا رہا۔

بالآخر مشین نے پوچھا: آپ نے زندگی میں کبھی جھوٹ بھی بولا ہے؟ گرو نے جواب دیا: جی نہیں۔ جواب دینے کی دیر تھی کہ مشین سے دھواں نکلنے لگا۔ بلڈنگ میں جلتی لائٹیں بجھ گئیں۔ افسران گلی میں نکلے تو معلوم ہوا کہ پورے محلے کی بجلی اڑ گئی ہے۔ انھوں نے فون گھمانے شروع کیے تو معلوم ہوا کہ پورے ملک میں بلیک آؤٹ ہو گیا ہے۔ چیلوں کا شور بدستور جاری تھا کہ ہم جیت گئے۔

Facebook Comments HS