سوتیلے باپوں کا بچوں پر تشدد


اکثر سوچتی ہوں کہ سوتیلی ماؤں کے ظلم و ستم کے بارے میں تو بے شمار کہانیاں اور قصے لکھے گئے لیکن سوتیلے باپوں کے بارے میں کیوں کچھ نہیں لکھا گیا۔ انسانی حقوق اور عورتوں اور بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے یقیناً سوتیلے باپوں کے بچوں پر تشدد کے واقعات کا علم رکھتے ہیں مگر انہیں قلم بند کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کچھ سال پہلے مجھے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کے ایک ادارے کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ وہاں میں نے ایک معذور بچے کو دیکھا جسے اپنی جسمانی حرکات و سکنات پر بالکل کنٹرول نہیں تھا۔ منتظمین نے بتایا کہ اس کے سوتیلے باپ نے اسے اوپر کی منزل کی سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر معذور ہو گیا اور اس کی ماں اسے اس ادارے میں چھوڑ گئی۔ اس بچے کو میں کبھی نہیں بھلا پائی۔ اسی طرح کے اور بہت سے قصے پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچی کہ سوتیلی ماں چاہے کتنی ہی بری کیوں نہ ہو، وہ ایک دوسری عورت کے بچوں کو پال لیتی ہے لیکن سوتیلا باپ کسی دوسرے مرد کے بچوں کو نہیں پال سکتا۔

آج مجھے یہ سطور لکھنے کا خیال اس لئے آیا کہ صبح اخبار کھولتے ہی ایک خبر پر نظر پڑی کہ نارتھ کراچی میں دو بہنوں جن میں ایک کی عمر پندرہ سال اور دوسری کی صرف آٹھ سال ہے تشدد اور ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔ آٹھ سالہ بچی کی حالت نازک ہے۔ اصل مجرم تو پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا لیکن بچیوں کے ماموؤں کا کہنا ہے کہ سوتیلا باپ انہیں مارتا پیٹتا تھا۔

ہم لوگ عورتوں پر تشدد اور صنفی امتیاز کی بات تو کرتے ہیں لیکن طبقاتی تفریق اور پدر سری کے معاشی پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے سامنے سوتیلے باپوں کے تشدد کے جو واقعات آئے، ان میں زیادہ تر کا تعلق نچلے متوسط طبقے یا محنت کش گھرانوں سے تھا۔ ان گھرانوں میں معاشی کفالت کی ذمہ داری مرد کی ہوتی ہے۔ عورتیں زیادہ تر گھریلو کام کاج کرتی ہیں کیونکہ اکثر مرد حضرات غربت اور معاشی پریشانیوں کے باوجود خاندانی روایات کے نام پر عورتوں کو گھروں سے باہر کمانے کے لئے نکلنے نہیں دیتے۔ کچھ عورتیں گھروں میں بیٹھ کر سلائی کڑھائی کے ذریعے کچھ پیسے کما لیتی ہیں مگر ان کی کمائی اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ وہ بچوں کی پرورش کا بوجھ اٹھا سکیں۔ اور جیسا کہ پدر سری سماج میں ہوتا ہے، مرد کما کر لاتا ہے، اس لئے حکم بھی چلاتا ہے۔ گو کہ بالائی متوسط طبقے میں صورت حال مختلف ہے۔ اس طبقے کی عورتیں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرتی ہیں اور ان میں سے اکثر ملازمت بھی کرتی ہیں لیکن وہاں بھی سماجی اور خاندانی روایات کے نام پر مرد حضرات ان پر حکم چلاتے ہیں، کبھی ملازمت چھڑوا دیتے ہیں، کبھی ان کی کمائی پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی لکھوں گی۔

اس وقت بات ہو رہی ہے سوتیلے باپوں کے مظالم کی۔ میرا سوال ہے کہ سوتیلی ماں تو اپنے شوہر کی پہلی بیوی کے بچوں کو رو پیٹ کر پال لیتی ہے۔ سوتیلا باپ اپنی بیوی کے پہلے شوہر کے بچوں کو کیوں نہیں پال سکتا۔ اس کے لئے ہمیں طبقاتی نظام کو ذہن میں رکھتے ہوئے میاں بیوی کے رشتے کو دیکھنا ہو گا۔ ایک بات تو طبقاتی تفریق سے بالا تر ہو کر بھی کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں میاں بیوی کا رشتہ غیر مساوی اور استحصالی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ہر طبقے کی عورت دہری تہری ذمہ داریاں اٹھاتی ہے لیکن غریب طبقے کی عورت زیادہ پستی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اقتصادی اور پھر سماجی ہے۔

مرد کی طرح عورت کا بھی اقتصادی طور پر خود مختار ہونا ضروری ہے۔ ویسے تو تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ہماری ریاست یہ ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ اس لئے جو بھی گھرانے بیٹوں کو تعلیم دلاتے ہیں، انہیں بیٹیوں کو بھی تعلیم دلانی چاہیے۔ ہمارے ہاں جو تصور ہے کہ لڑکی پرایا دھن ہے، اس لئے اس کی تعلیم پر پیسہ کیوں خرچ کیا جائے، بالکل غلط ہے۔ ٹھیک ہے میاں بیوی کے رشتے کی موجودہ صورت حال میں کفالت کی بنیادی ذمہ داری شوہر پر عاید ہوتی ہے لیکن اگر کسی حادثے یا آفت کے نتیجے میں شوہر اس دنیا میں نہ رہے تو آپ کی بیٹی کیا کرے گی۔ اسے تو آپ نے اپنی اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہی نہیں کیا۔ اسے تو صرف کھانا بنانے، گھریلو ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہی تربیت دی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ آپ کو اس کا یہی حل نظر آتا ہے کہ اس کی دوسری شادی کر دی جائے لیکن دوسرا مرد یعنی سوتیلا باپ اس کے پہلے شوہر کے بچوں کا کیا حشر کرے گا، اس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔

اس لئے ضروری ہے کہ جب آپ بیٹے کو اپنے بڑھاپے کی لاٹھی سمجھ کر اسے باہر کی زندگی اور اقتصادی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے تیار کر رہے ہوتے ہیں، ویسے ہی اپنی بیٹی کو آنے والے وقت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کریں۔ یہاں میں سول سوسائٹی کے اس مطالبے کو دہرانا چاہوں گی کہ ریاست کو شہریوں کے لئے سماجی تحفظ کا جامع پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں ریاست فراہم کرے۔ بے روز گار شہریوں کو روزگار فراہم کیا جائے اور بے روزگاری الاؤنس دیا جائے۔ سینئر سٹیزنس یعنی معمر افراد کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ خطے میں امن کے قیام کی پوری کوشش کی جائے تا کہ ہمارے اور ہمسایہ ملک کے وسائل اپنے غریب عوام پر صرف ہوں نہ کہ ہتھیاروں پر۔ اپنا دفاع کرنا ہمارا حق ہے لیکن جس حکومت کو بھی عوام کا خیال ہے اس کی اولین ترجیح اس کے غریب عوام کی ترقی اور خوش حالی ہونی چاہیے اس لئے جنگ کبھی نہ ہو تو بہتر ہے، جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ امن ترقی کی پیشگی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS