ستارہ رقص میں ہے


مونا شہاب کی شاعری کا تیسرا مجموعہ دیکھا؛ کتاب کا نام ”ستارہ رقص میں ہے“ پڑھتے ہی عشرت آفریں کی ایک نظم ”فرصت“ کی طرف دھیان چلا گیا۔ اس نظم میں وہ کہتی ہیں :

”میں خود پر منکشف ہونے کی ساعت میں
کسی گل رنگ فرصت میں
تمہیں جب یاد کرتی ہوں
مرے چاروں طرف جیسے ستارے رقص کرتے ہیں
زمانوں سے زمانوں تک
جہانوں سے جہانوں تک
محبت کے ہزاروں استعارے رقص کرتے ہیں
پرندے تتلیاں اور پھول سارے رقص کرتے ہیں
زمین و آسماں کے سب کنارے رقص کرتے ہیں
مری نظموں کے ٹکڑے اور تمہارے نثر پارے رقص کرتے ہیں
تمہیں جب یاد کرتی ہوں ”

واقعہ یہ ہے کہ مونا شہاب کے ہاں بھی یادوں کا لگ بھگ ایسا ہی سلسلہ ہے۔ جن کے بخت میں ہجرتیں ہوتی ہیں، اپنوں سے دور جانا ہوتا ہے، جنہیں اپنی زمینوں سے بچھڑنا ہوتا ہے یادوں سے ان کی جھولیاں ہمیشہ بھری رہتی ہیں۔ اپنوں سے کٹنے، بچھڑنے اور اپنی مٹی سے الگ ہو کر اس کی تاہنگ میں رہنے کے شدید تجربے کی زائیدہ یادیں، یوں گماں ہوتا ہے، جیسے ابتدائی زمانوں سے ہی اردو غزل کی گھٹی میں پڑ گئی تھیں، یوں کہ اس صنف کی گویا ایک قدر ہو گئی ہیں۔ شاید تب سے جب ولی دکنی جنہیں محمد حسین آزاد نے غزل کا باوا آدم کہا، کا دیوان دلی پہنچا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اورنگ زیب عالمگیر نے دکن کو قبضے میں لے لیا تھا اور دکنی شاعر دلی کی طرف نکل کھڑے ہوئے تھے۔ اسی ہنگامے میں ولی دکنی کا دیوان مہاجر ہو کر محمد شاہی عہد میں دلی پہنچا تھا؛ اپنی محبوب زمینوں سے اکھڑنے اور اس کے نتیجے میں ایک کسک کو وجود کے غلاف میں متبرک صحیفے کی طرح رکھ لینے کا تجربہ تب سے لے کر آج تک کی اردو غزل کا حصہ ہوتا چلا آیا ہے۔ افتخار عارف کہتے ہیں :

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

یہ ہجرتیں کسی نہ کسی صورت میں اس خطے میں بسنے والوں کا مقدر رہی ہیں ؛ تقسیم کا زمانہ تھا تو نئے وطن میں بسنے کے لیے ؛ نئے وطن آ گئے تو رزق کی تلاش میں نکلتے ہوئے۔ یہ سلسلہ رکا نہیں نقل مکانی کی نئی نئی صورتیں نکل آئی ہیں ؛ یہاں والے جو سرمایہ خوب بٹور چکتے ہیں تو انہیں بھی یہ زمین چھوڑنا ہوتی ہے کہ باہر سرمایہ محفوظ رہے گا اور جو باہر ہیں وہ یہاں کیسے آئیں کہ اولادیں ایک اور تہذیب کا حصہ ہو چکیں ؛ تو یوں یہ کہ یہ ساری نفسیاتی اتھل پتھل اب اردو شاعری اور بطور خاص اردو غزل کا حصہ ہو رہی ہے۔ مہاجرت کا کچھ ایسا ہی تجربہ اور اس نوع کے دیگر مشاہدات امریکہ میں جا بسنے والی شاعرہ مونا شہاب کے بھی رہے ہیں اور ان کی غزل کا باقاعدہ موضوع ہو گئے ہیں :

سفر میں سارے ستارے مرے مخالف تھے
کہیں ملا نہ کوئی ڈھنگ کا ٹھکانہ مجھے
مرا نصیب ہی ایسا تھا بابِ ہجرت میں
کہ راس آیا کہیں کا نہ آب و دانہ مجھے

اس مضمون کے ساتھ ساتھ، واپس اپنی زمین کی طرف دیکھنا ہو یا ان گھروں کا تصور جن میں وہ اپنا بچپن یا جوانی اور اپنے پیاروں کے روشن چہرے تھے اور پھر یادوں کی گٹھڑی کھول کر بیٹھ رہنا بھی مہاجر غزل کا ایک نمایاں موضوع ہوا ہے، مونا شہاب کے ہاں یہ موضوع اور اسی موضوع کے تنے سے پھوٹتے ہوئے دیگر موضوعات بہت قرینے سے برتے گئے ہیں، اسی غزل کے دو مزید اشعار دیکھیے :

فضا میں جب بھی پرندوں کا غول دیکھا ہے
تو یاد آیا ہے بچھڑا ہوا گھرانا مجھے
چلے گئے ہیں مرے لال چھوڑ کر مجھ کو
یہ گھر تو لگنے لگا ایک سرد خانہ مجھے

ہجرت کے تجربے سے خوابوں اور یادوں کا جو سلسلہ جڑا ہوا ہے اس نے مونا شہاب کی غزل میں بہت قرینے سے جگہ پائی ہے، کچھ ایسے کہ پڑھتے ہوئے متحرک تصویروں کا ایک سلسلہ آنکھوں کے سامنے رواں ہو جاتا ہے۔

سچ مچ کوئی آیا تھا دریچے پہ گئی شب
یہ مجھ کو یقیں ہے کہ وہ پروائی نہیں تھی

ہاتھ کی کٹوری میں اک گلاب رکھا ہے
جیسے میری آنکھوں میں میرا خواب رکھا ہے

یادوں اور خوابوں کی ان متحرک تصویروں کے ساتھ فریم میں مڑھی ہوئی اور دیواروں پر سجی ہوئی تصویریں بھی ایک نظر دیکھ لیجیے کہ یہ ان کے شعر میں آ کر الگ سا لطف دے رہی ہیں :

جو بھی تصویر لگانا چاہوں
اس کو دیوار نگل جاتی ہے

تم کسی زاویے سے بھی دیکھو
میری تصویر دیکھتی ہے تمہیں

مجھے تصویر سے باہر نکالو
میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں

مونا شہاب کے یہاں محض اور صرف خوابوں، یادوں اور تصویروں کا سلسلہ ہی نہیں ہے سیاسی سماجی شعور کی لہریں بھی ہیں کہ وہ معاصر صورت حال سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ مڑ مڑ کر اپنے وطن کو دیکھتی ہیں تو اپنے خوابوں کے اتلاف کا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے اور دھیان میں وہ کارواں آ جاتا ہے جسے اپنی منزل پر پہنچنا تھا مگر وہ اسے بھول کر خار ہائے دشت میں مقیم ہو گیا ہے۔ ان کا شعری شعور اس قومی عارضے کی یوں تشخیص کرتا ہے :

سوال تھا کہ گلستاں کا حال کچھ بتائیے
ملا جواب باغباں سوالیہ نشان ہے
یہ کارواں تو خیمہ زن ہے خار ہائے دشت میں
کہاں ہے میر کارواں، سوالیہ نشان ہے

اسی احساس کے تحت تخلیق ہوئی ایک اور غزل کے کچھ اشعار:

کلام کر رہا تھا رب سے جو کبیر مر گیا
دعائیں بانٹتا تھا سب کو، وہ فقیر مر گیا
جناب والا تعزیت مری قبول کیجئے
سنا تو دُکھ ہوا کہ آپ کا ضمیر مر گیا

مجموعی طور پر دیکھیں تو وہ بند دریچوں اور کسی ایک موضوع کی شاعرہ نہیں ہیں ایسی شاعرہ ہیں جو کھڑکی سے باہر دور تک دیکھ سکتی ہیں وہاں جہاں سب نظارے یوں آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں جیسے وہ رقص میں ہوں :

مری کھڑکی سے باہر کا نظارہ رقص میں ہے
فلک پر دور دیکھو اک ستارہ رقص میں ہے

”ستارہ رقص میں ہے“ کی غزلیں، نظمیں، قطعات اور مفردات پڑھنے کے بعد مجھے یوں لگا ہے کہ تخلیقی سطح پر وہ غزل کے زیادہ قریب ہیں۔ اور غزل کہنا ہی ان کا مسئلہ ہوا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ ہے اور وہ شعری روایت کا گہرا مطالعہ رکھتی ہیں یہی سبب ہے کہ روایت سے کنی کاٹ کر گزرنے کی بجائے وہ پرکاری سے وہ عصری حسیت کو گرفت میں لیتی اور شعر کا حصہ بناتی ہیں۔ ان کے مصارع بہت سے مقامات پر بولتے ہوئے اور رواں دواں ہیں اتنے کہ ان کی تاثیر منتقل ہوتی ہے اور دیر تک زائل نہیں ہوتی۔ میں انہیں ان کے تیسرے مجموعے کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

Facebook Comments HS