تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول: (9)
”ارے میرے اللہ! یہ کیسی مصیبت ہے کہ میں اسے اب دیکھ بھی نہیں سکتا۔ جس کے دیدار کے لئے میں یہاں آیا ہوں، پورے دس کوس کا فاصلہ طے کر کے۔ یہ ہاتھ ابھی تک سرخ ہیں، ان پر چھالے سے پڑ گئے ہیں۔ دس میل نوکا جو مجھے چلانا پڑا۔ میں اسے یہ سب کچھ کیسے بتاؤں میرے تو چاروں طرف انسانوں کا ہجوم ہے۔ جی چاہتا ہے اسے دھکیل کر اس تک جا پہنچوں۔“
”ارے دادو میں بھی انہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ “ وہ لڑکا جھنجھلا کر چلاّیا۔
اور بنگال کے اس عالم نے پوتے کے اس جوش کا خیر مقدم کیا اور اس کے لئے جگہ بنائی تاکہ وہ اسے دیکھ سکے، جو شہید سہروردی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
”یہ تم ہو۔“ اس کی آنکھیں خوشی سے چمکیں اور وہ اپنے آپ سے بولا۔
” خدا کا شکر ہے کہ میں نے تمہیں دیکھا جس کی آرزو مجھے مدت سے تھی۔ کتنی کہانیاں سنی ہیں میں نے تمہارے متعلق تمہاری آواز نرم اور ملائم ہے اور اس میں محبت کی باس ہے۔“
وہ انسانوں کا ایسا سمندر دیکھ رہا تھا جس میں سر ہی سر تیر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر غربت کا گہرا رنگ تھا۔ ان کی دھوتیاں بھی پرانی اور گندی تھیں۔ ان میں اکثریت ان کی تھی جو قمیضوں کی جگہ گنجیاں (بنیانیں ) پہنے ہوئے تھے۔ ان میں اکثر پاؤں سے ننگے تھے۔
تب اس نے بے اختیار سوچا۔
” یہ سب اسے دیکھنے اسے ملنے اور سننے آئے ہیں اس بارانی موسم میں اپنا وقت ضائع کر کے کیونکہ یہ ہمارے لئے ہندؤوں اور انگریزوں سے لڑ رہا ہے۔ ایک ایسے ملک کے لئے جہاں ہم مسلمان آزادی سے رہ سکیں گے۔“
”ہم پاکستان چاہتے ہیں۔ پاکستان جو ہمارا دیش ہو گا۔“
تب اس نے اتھاہ جذبے سے اپنی دلی آواز کو اس نعرے میں شامل کیا جو۔ ”پاکستان ہوبے، پاکستان ہوبے۔“ کی صدا بلند کر رہا تھا۔ شام ڈھلے جب گھر آتے ہوئے دادو حیدر علی سے باتیں کر رہے تھے۔ تب حیدر علی نے پوچھا تھا کہ یہ عجیب بات نہیں چالیس سال قبل جس بنگال کی تقسیم کا ہندو شدت سے مخالف تھا وہ خود اسے منقسم کرنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے۔
ارے بھئی! عجیب کیوں؟ جواب میں دادو نے کہا۔ ”ہندو ذہنیت تو پوری طرح عیاں تھی۔ بس مسلمان سیاسی طور پر بالغ نہیں تھا۔ 1905 ء میں مشرقی بنگال اور آسام کے صوبے کے قیام کا مقصد ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کو بہتر بنانا تھا۔ طاقت کا توازن یکسر بگڑ گیا تھا۔ لارڈ کرزن نے صورت حال کو بیلنس کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا تھا۔ اب مسلمانوں کی سادہ لوحی تو دیکھو کہ احتجاجی تحریک کے اندرون ِ خانہ مقاصد کو سمجھ ہی نہ سکے۔
سودیشی تحریک میں مسلمانوں کی اکثریت نے بندے ماترم کے نعرے لگائے اور نواب سر سلیم اللہ خان کی سیاسی بصیرت کو چیلنج کیا۔ ”
ان کی ساری باتیں اس کے سر پر سے گزر رہی تھیں۔ وہ تو بس ایک بات جاننے کے لئے بے کل تھا۔ شاید اسی لئے اس نے دادو کا ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچا او ر بولا۔
”دادو مجھے ایک بات بتائیں پہلے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ پاکستان بن جانے سے ہمارے یہ دکھ درد دور ہو جائیں گے؟“
” بیٹو! یہ دکھ درد تو جیون بھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ پر یہ کتنی خوشی کی بات ہوگی کہ ہمارا اپنا ایک اسلامی دیش ہو گا جہاں کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ کسی کا استحصال نہیں ہو گا۔ انصاف کے حصول کے لئے کوئی دقت نہ ہوگی۔“
”پر دادو! جب پاکستان بن جائے گا تو بیماروں کو ہسپتال میں داخلہ ملے گا نا۔ ان کا علاج توجہ سے تو ہو گا نا۔ یہ عبدل چاچا جیسے لوگ اتنے مجبور تو نہ ہوں گے تب۔“
”مجھے امید ہے یہ مسائل فوری توجہ پائیں گے۔“
دادو نے اس کی پشت پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔
خوش ہو کر اس نے اطمینان بھرا سانس لیا اور اپنے بازؤوں میں چپوؤں کو کھینے کے لئے ایک نئی طاقت اور جوش کا احساس پایا۔ اور جب وہ گھر پہنچے باشا میں دیے کی ہلکی ہلکی زردی ملگجا اُجالا بکھیرے تھی۔ دادی ماں ان کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔ وہ بچھی چٹائی کے ایک کونے پر بیٹھ گیا۔ نرم نرم چٹائی، انتظار کرتی شفیق دادی ماں اور چنگڑی ماچھ کی خوشبو یہ سب اسے بہت اچھا معلوم ہوا وہ دادو سے بولا۔
”یہ اپنا باڑی (گھر) بھی کیا چیز ہے دادو!“
ہاں بیٹے! یہ راجباڑی ہو یا اسی طرح ٹوٹی پھوٹی باشا، انسان اس میں سکون پاتا ہے۔ دادی ماں نے تھالیوں میں بھات نکالا اور وہ بے صبری سے کھانے پر ٹوٹ پڑا بھوک بھی تو بہت لگی تھی اسے۔
تب دادی نے ان دونوں کی طرف دیکھ اور کہا۔
”مولوی خلیل ڈھاکہ سے آیا ہے۔ بہو نے شلپی کو بلایا ہے۔“
”کیوں؟“ اس نے ناگواری سے کہا اور منہ کی طرف لقمہ لے جاتا ہاتھ روک لیا۔
”ماں جو ہوئی وہ تیری بچھ، یاد آتا ہو گا اسے، ملنا چاہتی ہوگی۔“
”لو ابھی پچھلے دنوں تو مل کر آیا ہوں اتنی جلدی اداس بھی ہو گئیں؟ اکیلی تو نہیں ہیں وہ نذرُل چاچا، فخر اور بابا بھی تو ہیں۔“
”تو اپنی جگہ ہے بیٹو، تیرا چاچا اور فخر اپنی جگہ ہیں۔ وہ تیری کمی تو پوری نہیں کر سکتے۔“ دادی اماں نے رسان سے کہا۔
”ارے دادی ماں میں نہیں جاتا بس۔ من گھبراتا ہے میرا وہاں۔“
وہ ان کے پاس قطعی نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہاں اس کے بابا جنہوں نے کلکتہ یونیورسٹی سے چو دھویں جماعت تک پڑھا تھا، اس پر بہت سختی کرتے تھے۔ گھومنے پھرنے کا کوئی موقع تو نصیب سے ہی ملتا تھا۔ اسے تو وہ کہانیاں بھی سننے کو نہ ملتیں جن کا وہ حد درجہ رسیا تھا۔ یوں بھی رات بھر میں وہ کئی مرتبہ جاگتا اور دادو کا نرم نرم محبت بھرا وجود اپنے پاس نہ پا کر تشنگی محسوس کرتا۔ گو اسے وہاں کھانے کو کبھی کبھی موسمی پھل ضرور ملتے جن کی شکل اسے یہاں نظر نہ آتی پر پھر بھی اسے ان کی اتنی لمبی چوڑی تمنا نہ تھی۔ اسے اس کھلی فضا میں دادو اور دادی ماں کی سنگت میں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہوتی اور اب تو اور بھی بہت ذمہ داریاں اس کی جان کے ساتھ چمٹی ہوئی تھیں۔ یہ عبدل چچا اور ان کی بیوی تو بس مر ہی جائیں گے۔ انہیں کون دیکھے گا؟ روز شام ڈھلے وہ عبد اللہ اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ مسلم لیگ کا جھنڈا لہراتا ہے۔ وہ اگر چلا گیا تو اسے کون لہرائے گا اور یہاں ہر روز باشا میں دادو اور دوسرے مسلمان جو سیاست پر اتنی دلچسپ باتیں کرتے ہیں وہاں تو یہ باتیں بھی سننے کو نہیں ملیں گے۔ ”
جاری ہے۔
٭٭٭

