انتہائی پُرشور اور ناقابل یقین حد تک قریب
عنوان میں استعمال کیا جملہ ایک ناول کے ٹائیٹل؛ ’ایکسٹریملی لاؤڈ اینڈ انکریڈبلی کلوز‘ کا ترجمہ ہے۔ یہ ناول جوناتھن سفران فوائر نے امریکہ میں ستمبر 2001 کی ٹریجیڈی کے بعد لکھا جس پر بعد میں ہالی وڈ میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔ اس جملہ سے مراد ناول کے مرکزی کردار ایک نو سالہ بچے آسکر شیل کا اپنے باپ کو نائین الیون حملوں میں کھو چکے ہونے کے بعد کا تجربہ ہے۔ آسکر نیویارک میں اپنے باپ کے چھوڑے سراغ سے ایک معمہ کے حل کی تلاش کے دوران انتہائی جذباتی مراحل سے گزرتا ہے اور جنہیں وہ اپنے آٹیزم سپیکٹرم پر ہونے کی وجہ سے پوری طرح سمجھنے سے قاصر دکھایا گیا ہے۔
عنوان میں یہ جملہ بہرحال نیویارک میں موجود اُن تمام لوگوں کے تجربہ کے لئے ایک استعارہ ہے جنہوں نے جہازوں کو میزائلوں کی طرح ٹکراتے اور پھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارتوں کو گرتے دیکھا اور بالخصوص ہر اُس شخص کے احساسات کے لئے بھی جس نے اپنا کوئی رشتہ دار دوست یا کولیگ اس حادثہ میں گنوا دیا؛ ایک انتہائی پُرشور افراتفری اور اُس سے ناقابل یقین حد تک متاثر ہونے کا قریبی یا ذاتی تجربہ۔
بدقسمتی سے ایسے تجربات دنیا میں اور لوگوں یا قوموں کو بھی ہو چکے یا ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر غزہ میں ڈیڑھ سال سے زیادہ سے جاری یک طرفہ اسرائیلی نسل کشی کی جنگ۔ نائین الیون کے بعد جن طریقوں سے امریکی معاشرہ نے اپنے دکھ، خوف اور اندیشوں کا اظہار کیا اُن میں ’ایکسٹریملی لاؤڈ اینڈ انکریڈبلی کلوز‘ جیسے ناول بھی شامل تھے۔ کچھ لوگ البتہ ایسے بھی تھے جن کے لیے امریکہ میں نائن الیون جیسے واقعہ کا ہوجانا ناقابل فہم تھا اور اُنہوں نے کانسپریسی تھیوریز کا سہارا لیا۔ لیکن اس واقعہ کا جو بھی محرک کسی نے سوچا اس میں کوئی شک نہیں کہ عام لوگ اس اندوہناک تجربہ سے گزرے اور بہت سوں نے اپنے عزیز و اقارب گنوا دیے۔
غزہ کے لوگ بھی ایک انتہائی پُرشور اور ناقابل یقین حد تک قریب تجربہ سے گزر رہے ہیں۔ نیویارک کی آبادی نائین الیون کے وقت تقریباً آٹھ ملین کے قریب تھی اور اُس دن کے دہشت گرد حملوں میں ستائیس سو کے لگ بھگ عام شہری مارے گئے۔ غزہ میں 2023 میں تقریباً بائیس لاکھ لوگ بستے تھے اور اب تک کے فلسطینی اندازوں میں پچپن ہزار جبکہ کچھ بین الاقوامی میڈیکل و دیگر رسائل کے پچھلی جنگوں کے حساب کی روشنی میں سوا لاکھ تک لوگ مارے جا چکے ہیں۔ نیویارک اور غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد اور ایک دن میں ہوئے حملہ کا ڈیڑھ سال سے چل رہے مسلسل حملوں کے موازنہ میں شاید صرف اتنا فائدہ ہے کہ یہ (بھی) گواہی دیتا ہے کہ عالمی نظام کس طرح طاقتور کے فوری دفاع اور کمزور کو مسلسل نظر انداز کرنے کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی آپریشن کے دوران جنگی جرائم کی نشاندہی اور اُسے نسل کشی کی مہم کہنے والوں کی کمی تھی اور ایسا بھی نہیں کہ دنیا نے اسرائیل کی نسلی عصبیت کی پالیسیوں کی بازگشت ماضی قریب میں دیکھ نہیں رکھی تھی۔ بس اتنا کہ غزہ میں پیدا ہو رہی انتہائی پُرشور اور ناقابل یقین حد تک قریب آواز مظلومیت کے اسرائیلی پراپیگنڈہ، اُسکی طاقتور لابیوں کے زیراثر میڈیا کی جانبداری اور مغربی حکومتوں کی نظر اندازی میں دب چکی ہے۔ فلسطینوں کی اپنی آواز اسرائیل کی طرف سے مسلسل گرائے جا رہے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کے دھماکوں، کروز میزائلوں کی گونج اور ڈرونوں کی زناہٹ میں دبی ہوئی ہے اور اس شور میں ہسپتالوں، سکولوں اور گھروں کے تباہ ہو کر ٹوٹنے اور گرنے کی آوازیں بھی شامل ہیں۔
بموں، میزائلوں اور ڈرونوں کی آوازوں کا ایک مہین سا تجربہ پاکستان انڈیا کی سرحد کے اردگرد رہنے والے لوگوں نے بھی حال ہی میں کیا ہے مثلاً وہ دھمک جو مئی کے مہینے میں ہوئی چند روزہ جنگ میں انڈیا کے داغے ہتھیاروں سے ایک دن کے لئے لاہور کی فضا میں بھی پیدا ہوئی۔ وہ دھمک شاید کچھ کے لئے کسی قومی موقعہ پر اکیس توپوں کی سلامی سے مختلف تو نا تھی لیکن ان کی پُرشور آواز ایک دشمن کی نفرت اور بدلہ لینے کی خواہش کو ناقابل حد تک قریب ضرور لے آئی تھی۔ ان حملوں میں کچھ لوگ مارے گئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔
ناول کے اختتام تک آسکر اپنی مسلسل تلاش سے اس معمہ کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس میں اُسکی ماں اور بلڈنگ کا چوکیدار خفیہ طور پر اور ابھی تک اجنبی رہ چکا دادا بھی اُسکی مدد کرتے ہیں۔ یہ تلاش اُسکے لیے نائین الیون کے بعد نیویارک میں موجود اُسی تجربہ سے گزرے دوسرے لوگوں سے ایک جذباتی تعلق بنا لینے اور اپنی بدل چکی دنیا کو کسی حد تک سمجھ سکنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ جہاں اس ناول جیسا تخلیقی اظہار اجتماعی ٹریجیڈی سے گزرے لوگوں کے لئے کسی حد تک مرہم کا باعث بنتا ہے وہیں حکومتیں ایسے حادثوں کے بعد اپنا جواز عسکری انتقامی کارروائیوں میں ڈھونڈتی ہیں اور جو بذات خود عوام کے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے نام پر کیا جاتا ہے۔
غزہ کے باسی بھی موجودہ اسرائیلی حکومت کی اپنی حیثیت کو جواز اور دوام بخشنے کی خواہش کا شکار ہیں۔ وہاں متاثرین میں ہزاروں کی تعداد میں بچے بھی شامل ہیں جن میں ہلاک ہو چکے ہونے والوں کے علاوہ بے تحاشا ایسے ہیں جو اپنے بازو ٹانگوں یا بینائی سے مستقل محروم ہو چکے ہیں۔ اپنے والدین اور رشتہ داروں کو کھو چکے ہونے والے بچوں کی تعداد کا تو شاید ابھی اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ اُن بچوں کا دشمن اُن کی نسل کشی کر رہا ہے اور اس کے لئے سامان حرب کے علاوہ اور طریقوں جیسے خوراک کی بندش سے اُن پر غزہ کی زمین کو تنگ کرتا جا رہا ہے۔
یقیناً عالمی نظام کے ہر وقت چوکنے اور دنیا کے چپے چپے پر نظر رکھ رہے چوکیدار کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ کیا غزہ میں ڈیڑھ سال سے جاری نسل کشی کی مہم میں جن بچوں نے اپنے ماں باپ اور سب رشتہ دار کھو دیے وہ اجنبیوں سے کوئی تعلق قائم کرنے کے قابل ہو رہے ہیں، ان بھوکے بچوں کی تلاش کس معمہ کو حل کرنے کے لئے ہے اور وہ اپنے ارد گرد کی انتہائی پُرشور اور ناقابل یقین حد تک قریب میں تباہ ہو رہی دنیا کو کیسے سمجھ رہے ہیں؟


