عالمی سپورٹس کی 22 عہد ساز حجابی خواتین


مسلمان حجابی کھلاڑیوں پر 2007 تک پا بندی تھی کہ وہ اسلامی لباس اور حجاب پہن کر سپورٹس میں حصہ نہیں لے سکتیں۔ اس کے پیش نظر ایسی خواتین کی سلامتی تھی۔ مسلمان خواتین کے بارے میں عام طور پر یہ غلط تاثر پایا جاتا کہ وہ تابعدار اور کمزور ہوتی ہیں۔ ان کی دینی تعلیم یہ ہے کہ اپنے جسم اور بالوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ اس مضمون میں آپ ایسی جرات مند خواتین کے بارہ میں پڑ ہیں گے جنہوں نے پرانے دقیانوسی خیالات اور روایات کو چیلنج کیا اور وہ رفتہ رفتہ ایسے پا بندی والے مغربی قوانین کو تبدیل کرنے میں کا میاب ہو گئیں۔ ایسی مخصوص خواتین کی سپورٹس میں قابلیت خدا داد تھی۔ وہ اپنے دین کی اطاعت کے ہمراہ کھیلنا بھی چاہتی تھیں۔ غیروں نے کھیلوں میں جو ان کی شمولیت کی مخالفت کی وہ تو الگ اپنوں نے ہی اس کی شدید مخالفت کی تھی۔ ایسی مسلمان خواتین کا عزم صمیم، ان کا جذبہ، ان کی مقصدیت کو سلام جنہوں نے اس جد و جہد میں حصہ لیا۔ ان با ہمت خواتین کی کوششیں بالآخر رنگ لائیں اور 2014 میں حجاب پہن کر کھیلنے پر پا بندی ہٹا دی گئی۔

دعا الغوباشی بیچ والی بال

اس حجابی خاتون کھلاڑی کا تعلق مصر سے ہے۔ اس نے 2016 میں ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی اولمپکس میں بیچ والی بالی کے کھیل میں حجاب پہن کر حصہ لیا تھا۔ اس کے والد بھی والی بال کے کھلاڑی تھے جنہوں نے اس کو 8 سال کی عمر میں اس کھیل سے متعارف کرایا تھا۔ اس نے اپنے کیرئیر کا آغاز اِنڈور والی بال سے شروع کیا جس میں چھ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد اس نے بیچ والی بال کھیلنا شروع کر دیا جس میں صرف دو کھلاڑی ہوتے ہیں۔ اس کھیل کا یونیفارم باکینی ہوتا ہے جو وہ پہن نہیں سکتی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ حجاب پہن کر اولمپکس میں حصہ لے گی۔ 2016 کی گیمز میں اس نے اپنی ٹیم میٹ ندا میواد کے ساتھ بیچ والی بال میں مصر کی نمائندگی کی۔ یوں اس نے تاریخ رقم کی کیونکہ وہ پہلی خاتون کھلاڑی تھی جس نے حجاب پہن کر کھیل میں حصہ لیا۔ ریو ڈی جنیرو میں جو آخری میچ کھیلا اس میں دس ہزار شائیقین موجود تھے۔ سب لوگ دعا کے لئے تالیاں بجا رہے تھے۔ دعا کے اس دور اندیش قدم نے مستقبل کی لڑکیوں کے لئے دروازے کھول دیے کہ وہ بھی حجاب پہن کر ہر کھیل میں حصہ لے سکتی ہیں۔

فاطمہ علی آئیس ہاکی

فاطمہ علی کی ولادت جنوری 1990 کو ابو ظہبی (متحدہ عرب امارات ) میں ہوئی تھی جہاں آئیس ہاکی نہ تو کھیلی جاتی تھی نہ ہی کوئی ہاکی لیگ تھی اور نہ ٹیلی ویژن پر دکھائی جاتی تھی۔ ہا کی سے اس کا تعارف بچوں کے لئے فرائیڈ چکن انعامی مقابلہ جیتنے سے شروع ہوا۔ انعام میں اس کو The Mighty Ducks فلم دیکھنے کو ملی تھی جس میں بچے آئس ہاکی کھیلتے ہیں۔ البتہ ملک میں سکیٹنگ رنگ تھی تو اس نے سکیٹنگ شروع کر دی۔ جب وہ 18 سال کی تھی تو اس کو ہاکی ٹورنامنٹ دیکھنے کا موقعہ ملا جہاں وہ فوٹو گرافی کرتی رہی۔ اکیس سال کی عمر میں اس نے پہلی بار ہاکی سٹک کو پکڑا۔ جب ویمن نیشنل ہاکی ٹیم بنائی گئی تو وہ اس کی ممبر تھی۔ اس کے بعد وہ مردوں کی امیریٹ ہاکی لیگ EMLکی ریفری بنا دی گئی۔ ایک گیم میں ایک پلئیر نے غلطی سے اس کو منہ پر تھپڑ جھاڑ دیا۔ اس کے بعد ابو ظہبی ہا کی لیگ سے اس کو پیشکش ہوئی کہ وہ ان کی لیگ میں کھیل سکتی ہے۔ اس نے مردوں اور عورتوں دونوں ٹیموں میں ہا کی کھیلی۔ پروفیشنلی اس نے ہاکی 2023 میں شروع کی جب اس نے قازقستان کی ٹیم میں شامل ہو کر ہاکی کھیلی تھی۔ وہ پہلی حجابی عرب خاتون ہے جو انٹرنیشنل آئیس ہاکی فیڈریشن کی عہدے دار ہے۔

فطریہ محمد باسکٹ بال

فطریہ کی پیدائش ایتھوپیا میں ہوئی مگر ملک میں سول وار کی وجہ سے دس سال کی عمر میں وہ ٹورنٹو (کینیڈا) فیملی کے ساتھ آ گئی۔ جب اس نے سکول شروع کیا تو اس کو انگلش نہیں آتی تھی اس لئے وہ جم GYMمیں زیادہ وقت گزارتی تھی۔ ہائی سکول میں اس نے

باسکٹ بال کھیلنا شروع کیا مگر ٹیم میں کوئی بھی کھلاڑی حجاب نہیں پہنتا تھا۔ 2020 میں اس نے مسلم ویمن سمر باسکٹ بال لیگ کی بنیاد رکھی مگر کو و ِڈ 19 کی وجہ سے اس نے سمر سکول 2022 میں شروع کیاجس میں 90 لڑکیوں کے شرکت کی جس سے آٹھ ٹیمیں بنیں۔ اس لیگ

شاندار کا میابی سے ہمکنار ہوئی جس کی وجہ سے گرمیوں کے بعد باسکٹ بال کلنک جاری کیا گیا۔ باسکٹ بال اس کی زندگی کا منشائے مقصود بن گیا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ مسلمان لڑکیاں اس کھیل کو سیکھیں، ہر قسم کی سپورٹس میں حصہ لیں۔

ہاجر ابوالفضل فٹ بال

افغانستان میں نومبر 1993 کو پیدا ہونے والی اس لڑکی کے والد کے چار بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔ لوگ اس کے والد پر ترس کھاتے تھے کہ اس کی بیٹیاں بڑے ہو کر محض بچوں کو جنم دیں گے، گھر پر رہ کر بچوں کی پرورش اور کھانے پکائیں گی۔ جب ہاجر 14 سال کی ہوئی تو اس نے سکول کی ٹیم میں فٹ بال (ساکر ) کھیلناشروع کیا۔ اس نے عزم کیا کہ وہ فٹ بال کے ذریعہ تبدیلی لائیگی، وہ دکھائیگی کہ لڑکیاں فٹ بال کے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔ سکول میں ٹورنامنٹ کے لئے اس کو یونیفارم کی ضرورت تھی جو اس کے والد نے بخوشی خرید کر مہیا کیا۔ ٹورنامنٹ کے بعد افغانستان فٹ بال فیڈریشن نے فیصلہ کیا کہ وہ حجاب پہن کر کابل سٹی ٹیم کے لئے کھیلے گی۔ اس کے باپ کی فیملی نے اس کا کھیلنا پسند نہیں کیا۔ اس کو 2008 میں افغانستان ویمن نیشنل ٹیم کی کیپٹن مقرر کیا گیا۔ یہاں وہ قریب دس سال 2017 تک کھیلتی رہی۔ اس دوران وہ میڈیکل کی تعلیم بھی حاصل کر رہی تھی۔ اس نے مختلف سکولوں کو وزٹ کیا اور لٹرکیوں کو نیشنل ٹیم کے فوٹودکھائے اور کہا ان کا یونیفارم (لانگ سلیو، پینٹس اور حجاب) مناسب ہو گا۔ 2017 میں اس کو نیو یارک شہر میں مدعو کیا گیا جہاں اس کو سپورٹس ایوارڈ دیا گیا۔ افغا نستان میں جب یہ خبر پہنچی تو ہر کوئی اس پر فخر کر نے لگا۔ وہ اپنے وطن کی انڈر 17 گرلز فٹ بال ٹیم کی کوچ بھی رہی ہے۔ اس نے 2017 میں کابل کی خاتم البنین دانش گاہ سے میڈیکل ڈگری حاصل کی۔ اس کے والد کو جو لوگ طعنے دیتے تھے اب اس پر فخر کرتے ہیں۔

کیانڈرا براؤن باسکٹ بال Kiandra Brown

کیانڈرا کی ولادت مانٹریال (کینیڈا) میں ہوئی جہاں اس نے سپورٹس چھوٹی عمر میں کھیلنا شروع کیا۔ اگلے سالوں میں اس نے جوڈو، فٹبال، ٹریک اینڈ فیلڈ، والی بال، اور ہاکی کھیلی۔ جب وہ پانچویں گریڈ میں پہنچی تو اس کا قد چھ فٹ دو انچ تھا۔ اونچا قد ہونے کے باعث اس کے لئے باسکٹ بال کھیلنا فطری امر تھا۔ ہائی سکول کی ٹیم اکثر امیریکہ جایا کرتی تھی جہاں وہ کالج لیول پر کھیلنے کے لئے ریکروٹ کر لی گئی۔ اس نے انڈیانا یو نیورسٹی بلو منگٹن میں کھیلنا شروع کیا جہاں وہ 2020 میں مشرف بہ اسلام ہوئی تھی۔ اس سیاہ فام طالبعلم کے قبول اسلام میں اس کے ہائی سکول کے دوستوں کا بہت بڑا ہا تھ تھا جو اس کو اسلامی تعلیمات (پا نچ وقت نماز، قرآن، ماہ رمضان، صوم اور حجاب) سے آگاہ کیا کرتے تھے۔ یو نیورسٹی میں اس نے حجاب پہننا شروع کیا تو اس کی کافی مزاحمت ہوئی۔ حجاب پہن کر باسکٹ بال کھیلنا خلاف قانون تھا۔ اس نے نیشنل کا لجئیٹ ایتھلیٹک ایسو سی ایشن کو خط لکھا کہ وہ ہیڈ سکارف پہن کر کھیلنا چاہتی ہے تو اس کو اجازت دے دی گئی۔ اس نے بیگی پینٹس، ہیڈ سکارف اور لانگ سلیو شرٹ پہن کر کھیلنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ اس نے کلوتھنگ بزنس شروع کیا جس میں یو نیفارم پا کستان میں ایک چھوٹے بزنس سے بن کر آتے ہیں۔ اس کے ہمراہ وہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کر رہی ہے اور پرسنل ٹریننگ کا جاب کر رہی ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمان لڑکیاں جو سپورٹس میں حصہ لینا چاہتیں ان کے لئے کیانڈراشانداررول ماڈل ہے۔ اس کی جد و جہد پر مضمون نیویارک ٹائمز میں 6 مارچ 2025 کو شائع ہوا تھا۔

کلثوم عبد اللہ ویٹ لفٹنگ

کلثوم کی پا کستان میں پرورش 1980 کی دہائی میں ہوئی۔ اس وقت اس نے ٹیلی ویژن پر عورتوں کو ٹریک اینڈ فیلڈ، فگر سکیٹنگ، اور جمنا سٹکس میں حصہ لیتے دیکھا تھا۔ امریکہ میں جس چھوٹے شہر میں اس کی فیملی رہتی تھی وہاں کوئی سپورٹس فسیلٹی نہیں تھی۔ اس لئے اس نے ٹیکوان ڈو کھیلنا شروع کر دیا۔ تب اس کو احساس ہوا کہ اس کھیل کے لئے ویٹ لفٹنگ کس قدر ضروری ہے۔ اس کے کوچ نے مشورہ دیا کہ وہ ویٹ لفٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لے تو اس نے انجوائے کیا۔ جلد ہی وہ نیشنل مقابلے کے لئے کوالیفائی کر گئی۔ وہ اپنی ٹریننگ لانگ سلیو شرٹ، ایکسر سائز پینٹس اور ہیڈ سکارف میں کرتی تھی۔ اس کے کوچ نے اس کو بتلایا نیشنل لیول کے مقابلوں کے لئے اس کو سنگ لیٹ singlet (خاص یونیوفارم) پہننا ضروری ہو گا جس میں ججز بازو اور ٹانگیں ننگی دیکھ سکتے ہیں۔ کلثوم پہلی حجابی لڑکی تھی جو نیشنل مقابلوں تک پہنچی تھی۔ اس کے کوچ نے امریکہ کی ویٹ لفٹنگ باڈی کو ریلجئیس اکاموڈیشن کی درخواست دی مگر رد کر دی گئی۔ کلثوم کو انٹر نیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی میٹنگ میں مدعو کیا گیا جہاں اس نے پریزنٹیشن دی اور آئی ڈبلیو ایف IWFنے مسلمان لڑکیوں کو اجازت دے دی کہ وہ مقابلوں میں حصہ لے سکتیں جبکہ ان کے جسم مکمل طور پر ڈھکے ہوئے ہوں۔ اس قانون میں تبدیلی کی بدولت مصر کی سارہ احمدنے 2016 کی سمراولمپکس میں ویٹ لفٹر کے طور پر حصہ لیا اور میڈل جیتا تھا۔ کلثوم نے ایشین ویٹ لفٹنگ چمپئین شپ (کوریا) اور ورلڈ ویٹ لفٹنگ میں اسلا می جہوریہ پا کستان کی نمائندگی کی تھی۔

رحاف خطیب میراتھان رننگ

رحاف خطیب کی فیملی نے جب ایک بار حجابی ایتھلیٹ کی فوٹوفٹنس میگز ین کے سرورق پر دیکھی تو سب نے فخر محسوس کیا۔ دنیا میں اس وقت بہت کم تعداد میں حجابی رنرز ہیں اور مسلم ایتھلیٹ خواتین کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک دفعہ کسی نے اس کو پوچھا کیا مسلمان عورتیں دوڑ لگا سکتی ہیں تو اس نے عزم صمیم کیا کہ وہ دنیا کو دکھائے گی مسلمان عورتیں کیا کچھ کر سکتی ہیں۔ جب وہ ایک سال کی تھی تو اس کی فیملی شام سے امریکہ آئی تھی۔ ٹین ایجر کے طور پر اس کو رننگ کا زیادہ شوق نہیں تھا۔ سکول کے زمانے میں ایک میل دوڑ میں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد اس نے ہالف میراتھان ( 13.1 miles ) میں حصہ لیا اور اگلے سال فل میراتھان ( 26.2 ) میں حصہ لیا۔ وہ پہلی شامی مسلمان خاتون تھی جس نے چھ شہروں (ٹوکیو، بوسٹن، لندن، برلن، شکاگو، نیویارک سٹی) میرا تھان میں دوڑ لگا کر Six star medal

حا صل کیا۔ اب تک وہ 10 فل میراتھان، 35 ہالف میراتھان اور 2 سپرنٹ ٹرائی ایتھلان میں حصہ لی چکی ہے۔ اکتوبر 2016 میں اس کی تصویر Women ’s running کے سرورق پر شائع ہوئی جس میں اس نے حجاب پہنا ہوا تھا۔

شہزانا انور تیر اندازی /آرچری

شہزانا نے 13 سال کی عمر میں مقامی تیر اندازی کے مقابلے میں نیروبی میں حصہ لیا تھا۔ اس کے مقابل پر بالغ مرد تھے جن کو تیر اندازی کا کئی سال کا تجربہ تھا مگر اس نے سب کو مات کر دیا۔ دو سال بعد اس نے جرمنی میں ہو نے والی ورلڈ گیمز میں کینیا کی نمائندگی کی۔ اس نے اپنی والدہ جو اس کی کوچ بھی تھی کے ساتھ سفر کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے نیشنل اور انٹر نیشنل مقابلوں میں حصہ لیا۔ 2016 میں اس نے افریقن آرچری چیمپئین شپ کے مقابلے میں انعام حاصل کیا۔ اسی سال اس نے ریو ڈی جنیرو کی اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ شہزانا کو کئی مواقع پر نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انڈین والدین کی وجہ سے اس کا رنگ صاف تھا اور بعض لوگ کہتے کہ وہ کینیا کی اصلی با شندہ نہیں ہے۔ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں اس نے کینیا کا جھنڈا اٹھایا ہوا تھا۔ اگرچہ اولمپکس میں اس کوئی میڈل نہ ملا مگر پھر بھی وہ حد درجہ خوش تھی۔

شیریں جیرامی ٹرائی ایتھلان Triathelone

شیریں کی پیدائش تہران میں ہوئی مگر اس کو کئی ممالک (برطانیہ، امیریکہ، مشرق و سطیٰ) میں رہنے کا موقعہ ملا۔ جب وہ لندن کے قریب ڈرہم یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ تھی تو اس نے ٹرائی ایتھلان کلب کو جائن کیا۔ ٹرائی ایتھلان کے ہر حصے ( سومنگ، سائیکلنگ اور رننگ ) کو ختم کر نے کا معین وقت ہوتا ہے۔ اگر کوئی سومنگ میں زیادہ وقت لے تو وہ ریس سے ڈسکوالی فائی ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے بعد اس نے لندن کے ایک ٹرائی ایتھلان کلب کو جائن کر لیا۔ یہ 2013 کا سال تھا اس سال ستمبر میں لندن میں ورلڈ ٹرائی ایتھلان چیمپئین شپ کے مقابلے منعقد ہونے تھے۔ اس نے ایران کی ٹرائی ایتھلان فیڈریشن کو ای میل کیا کہ وہ اس کو مقابلوں میں ایران کی نمائندگی کی اجازت دیں، انہوں نے جواب دیا کہ وہ عورتوں کو ایسے مقابلوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایران میں قانون ہے کہ تمام عورتیں اپنے جسم اور بالوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ اس کے لئے ایران میں خاص یونیفارم تیار کیا گیا اور اس کو اجازت مل گئی۔ یوں وہ پہلی عورت تھی جس نے ایران کی ٹرائی ایتھلان میں نمائندگی کی اور آنے والی نسلوں کے لئے راہ ہموار کی۔ ہوائی میں ہونے والے 2016 کے مقابلوں میں اس نے ایران کی نمائندگی نہیں کی، بلکہ حجاب کے بغیر اس نے ہوائی کی جان لیوا شدیدگرمی میں ٹرائی ایتھلان کو 13 گھنٹے اور 11 منٹ میں مکمل کیا جبکہ کٹ آف ٹائم 17 گھنٹے تھا۔ اس نے متعدد قسم کے سپورٹس یونیفارم بھی ڈیزائن کیے ہیں تا ایرانی لڑکیاں کھیلوں میں حصہ لے سکیں۔ بی بی سی کی 100 کی عورتوں کی فہرست بی بی سی 100 women 2016 میں اس کا نام بھی شامل تھا۔

سمیہ گرین بائیک ریسنگ

سمیہ کی مرغوب سپو رٹس ڈاؤن ِہل ماؤنٹین بائیک ریسنگ ہے۔ وہ فل فیس ہیلمٹ، باڈی آرمرگاگلز اور گلو پہن کر ریسنگ کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہے۔ زخمی ہو نے کا احتمال اس کھیل میں بہت زیادہ ہوتا جس کے لئے انسان کو جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہو نا لازمی ہے۔ بچپن میں اس کو بائیکنگ کا جنون تھا۔ اس کا بھائی ڈاؤن ہل بائیکنگ کرتا تھا تو اس نے والد کے مشورہ پر 13 سال کی عمر میں یہ کھیل شروع کر دیا۔ ان کا گھر برطانیہ کے کنٹری سائڈ میں تھا۔ ریسنگ کے مقابلوں کے لئے اس نے کر و ایشیا، قبرص، پرتگال، سلو و ینیا، سکاٹ

لینڈ کے سفر کیے ہیں۔ سمیہ نے ہر ریس کے دوران حجاب پہنا۔ اس نے اب تک 50 مقابلوں میں حصہ لیا ہے بشمول نیشنل اور انٹرنیشنل ریسز کے نیز ورلڈ کپ مقابلوں کے۔

ٹینا رحیمی اولمپکس باکسر

ٹینا نے 2024 میں پیرس اولمپکس میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی تھی۔ وہ پہلی آسٹریلین حجابی تھی جس نے 2022 میں کا من ویلتھ گیمز (برمنگھم) میں باکسنگ میں بروز میڈل جیتا تھا۔ اس نے مشغلے کے طور پر باکسنگ 2017 میں شروع کی تھی مگر اب اس کی نظریں گولڈ میڈل پر مرکوز ہیں۔ حجاب پہن کر باکنسگ میں اس کو کافی نفرت اور ریسزم کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ اس کا کہنا ہے جب میں باکسنگ مقابلے کے لئے جاتی ہوں تو صبح جلدی اٹھ کر دعا تی ہوں بلکہ مقابلے سے پہلے مزید نوافل ادا کرتی ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ ہر چیزخدا کے ہاتھ میں ہے۔ جب میں کوئی میچ جیتنا چا ہوں تو ہار جاتی ہوں تو میں کہتی ہوں اگر جیتنا میرے مقدر میں نہیں تھا تو ٹھیک ہے۔

صفیہ الصائغ سائیکلنگ

بائیس سال کی حجابی صفیہ کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے۔ 2023 میں اس نے چین میں ہونے والی ایشن گیمز میں حصہ لیا تھا۔

دنیا ابو طالب ٹیکوان ڈو

سعودی عرب کی 27 سالہ حجابی نے ٹیکوان ڈو کی ٹریننگ بوائز کلب میں لی تھی کیونکہ ملک میں لڑکیوں کا ایسا کوئی کلب نہیں تھا۔ میکسی سیکو میں 2022 میں ہونے والے ورلڈ ٹیکوان ڈو چمپئین شپ مقابلوں میں اس نے برونز میڈل جیتا تھا۔ پیرس او لمپکس میں اس نے عورتوں کے 49 kg کے مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔

مر وہ بوزیانی سٹیپل چیزر steeplechaser

تیونس کی 3000 m سٹیپل چیزر نے ٹوکیو کی اولمپکس میں چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔ پیرس کی اولمپکس اس نے دوسری بار حصہ لیا تھا۔ وہ ہر مقابلے میں حجاب اور مناسب لباس میں ملبوس ہوتی ہے کیونکہ وہ مسلمان لڑکیوں کے لئے رول ماڈل بننا چاہتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایلیٹ سپورٹس میں کامیابی دینی اقدار اور عقائد کو ترک کیے بغیر بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

خدیجہ اlالمردی امیچور باکسنگ

مراکش کی خدیجہ پہلی افریقن عرب حجابی خاتون تھی جس نے 2023 میں انٹر نیشنل امیچوئر با کسنگ ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ نئی دہلی میں ہونے والے ویمن ورلڈ باکسنگ چمپئین شپ میں اس نے اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ باکسنگ کھیل میں اس شوق اس طرح پیدا ہوا کہ سکول میں اس کو لڑکے چھیڑا کرتے تھے۔ اس نے لوکل کلب کی ممبرشپ لے لی اور خفیہ طور پر ٹریننگ لیتی رہی۔ اس کو ایک صدمہ سے دوچار ہونا پڑا جب اس کی والدہ مراکش میں ایک ٹورنامنٹ کے دوران ہارٹ اٹیک سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔ 33 سالہ خدیجہ موذنبیق اور گھانا میں ہونے والے افریقن گیمز میں گولڈ میڈل جیت چکی ہے۔

ابتہا ج محمد فینسنگ

ابتہا ج محمد پہلی امیریکن حجابی ایتھلیٹ ہے جس نے 2016 میں حجاب پہن کر امریکہ کی اولمپکس میں نمائندگی کی تھی۔ وہ سات سال تک 2010۔ 2017 یو ایس اے نیشنل فینسنگ ٹیم کی ممبر رہی اور متعدد ایواڈ جیتے۔ وہ اپنی سوانح عمری شائع کر نے کے علاوہ بچوں کے لئے ایک کتاب بھی شائع کر چکی ہے۔ اس کی اپنی کلوتھنگ کمپنی بھی ہے۔ Mattel کمپنی نے اس کی عزت افزائی کے لئے حجاب والی باربی ڈال بھی بنائی تھی۔ صدر اوبامہ نے اس کو پر یزیڈ نٹ کونسل آن فٹنس، ہیلتھ، اینڈنیو ٹریشن کا ممبر مقرر کیا تھا۔

زہرہ لاری فگر سکیٹنگ

فگر سکیٹنگ کے لئے اس کو انسپریشن ایک ڈزنی فلم سے ملی تھی۔ زہرہ متحدہ عرب امارات کی پانچ بار نیشنل چیمپئین ہے۔ اس نے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حجاب ماڈسٹی شو کرنے کا ایک ذریعہ ہے اس کو انسان کے مقاصد حاصل کر نے میں رکاوٹ نہیں ہو نا چاہیے۔

آسما حان منصور فٹ بال/ ساکر

کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کی اس حجابی نے 2007 میں فٹ بال ٹورنامنٹ میں حجاب پہن کر کھیلنا چاہا مگر ریفری نے اس کو اجازت نہیں دی۔ اس کی ٹیم نے کیوبک میں کھیلنے سے انکار کر دیا۔ کینیڈین ساکر ایسو سی ایشن کے بعد اس کی شکایت فیفا FIFAکے پاس پہنچی۔ مگر دونوں اداروں میں اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اگلے سات سال تک نوجوان حجابی لڑکیاں فٹ بال نہیں کھیل سکیں جب یہ پا بندی ہٹا دی گئی۔

بلقیس عبد القادر باسکٹ بال

بلقیس ہائی سکول کے زمانے میں سب سے زیادہ سکور کرنے والی باسکٹ بال پلئیر تھی۔ وہ ہمیشہ جرسی کے نیچے لانگ سلیو شرٹ، شارٹس کے نیچے لیگنگ، سر پر ہیڈ سکارف لے کر کھیلتی تھی۔ جلد ہی اس کو فیصلہ کر نا پڑا یا تو وہ کھیلے یا پھر اپنے دین کو بچا لے۔ اسلامی لباس کی وجہ سے وہ 2014 میں ویمن با سکٹ بال ایسو سی ایشن WNBA میں نہیں کھیل سکی تھی۔

زہرہ نعمتی آرچری

زہرہ پہلی ایرانی خاتون تھی جس نے 2012 میں سمر پیرا اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ ریو ڈی جنیرو میں اس نے 2016 کی اولمپکس میں آرچری کے مقابلے میں حصہ لیا اور گیمز کے افتتاح کے موقعہ پر ایران کا جھنڈا ٹھا یا ہوا تھا۔

ہدایہ ملک ٹے کو ان ڈو

ہدایہ نے دو سمر اولمپکس یعنی 2012 & 2016 میں مصر کی نمائندگی کی تھی۔ ہر بار اس نے برونز میڈل جیتا تھا۔

رو میسا جہادخاں فٹ بال/ساکر

کینیڈا اور پاکستان کی شہریت رکھنے والی، ٹورنٹو میں پیدا ہونے والی 28 سالہ رومیسا پا کستان کی فٹ بال ٹیم کی گول کیپر ہے۔ اسی طرح وہ یو نیورسٹی آف کیلگری کی سا کر ٹیم کی بھی گول کیپر رہ چکی ہے۔ بچپن میں اس نے جمناسٹکس میں تربیت حاصل کی تھی۔ اس نے 8 سال تک باسکٹ بال بھی کھیلا۔

لطیفہ میک برائڈ ریسلنگ wrestling

لطیفہ کی پیدائش بفیلو (نیویارک) میں ہوئی تھی۔ اس نے اور بہن جمیلہ نے چار یا پانچ سال کی عمر میں ہیڈ سکارف لینا شروع کیا تھا۔ اس کا والد اس کا کوچ تھا اور چھوٹی عمر میں ہی ٹورنامنٹس میں حصہ لینا شروع کیا۔ 2021 میں لطیفہ اور جمیلہ اور زینا نے امریکہ کی ویمن نیشنل چیمپئین شپ اور ورلڈ ٹیم ٹرائلز کے ٹورنامنٹ میں حصہ لیا۔ اس نے دوسری پوزیشن حاصل کی اور اس کو پین امیریکن گیمز میں امریکہ کی نمائندگی کر نے کے لئے بلاوا آیا۔ مگر کچھ روز بعد اس کے والد کا فون آیا کہ وہ مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکتی جب تک وہ سٹینڈرڈ ریسلنگ سنگ لیٹ singlet نہیں پہنتی۔ اگر وہ ایسا کرتی تو اس کے بازو، ٹانگیں اور سر ننگا ہو جانا تھا۔ اس کو اپنا مقدمہ پاڈ کاسٹ پر پیش کر نے کا موقعہ ملا۔ یوں اس کی کافی مشہوری ہوئی۔ جلد ہی جارجیا ریاست کی لائف یونیورسٹی نے اس کو سکا لر شپ پیش کردی، نہ صرف اس کو بلکہ جمیلہ اور زینا کو بھی۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف انٹر کا لجئیٹ ایتھلے ٹکس نے ان کے ویڈیوز دیکھے اور اجازت دے دی۔

Facebook Comments HS