شکست کا دکھ اور دھمکیاں


گزشتہ کئی دنوں سے شکست خوردہ اور بوکھلاہٹ کا شکار نریندر مودی اپنی تقاریر میں ایسی ایسی دھمکیاں اور دعوے کر رہا ہے جنہیں سن کر پہلے تو افسوس اور غصہ بہت آتا تھا لیکن اب اس کی ذہنی حالت، بے بسی، دیوانگی اور بے چارگی پر ترس بھی آنے لگا ہے۔ چند گھنٹوں میں آسمان سے زمین پر گرنے کا دکھ سینے سے لگائے خود کو اور اپنی عوام کو جھوٹی تسلیاں دینے کی کوشش میں یہ جنونی ایسی ایسی بڑھکیں مار کر اپنے اندر کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جنہیں سن کر واقعی اس کی حالت زار پر ترس آتا ہے۔ گزشتہ روز مودی نے سخت لب و لہجہ میں پانی جیسے مشترکہ مسئلے اور معاہدے کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی جو عالمی اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح گجرات میں نریندر مودی نے پاکستانی نوجوانوں کو گولی مارنے کی دھمکی دی۔ کاش وہ یہ جان سکتا کہ پاکستانی نوجوانوں کو گولی کی دھمکی دینا بچوں کو آئس کریم کھانے کا نقصان بتانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے کیونکہ پاکستانی مسلمان بچے تو پیدا ہی شوق شہادت لے کر ہوتے ہیں۔ وہ رزق اور زندگی کو اللہ کی جانب سے دی گئی نعمت اور انعام سمجھتے ہیں۔ مسلمان کی زندگی اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کو شیخ چلی کے لطیفوں سے اتنا مزا نہیں آیا جتنا آج کل شکست خوردہ مودی کی تقاریر اور دھمکیاں سن کر آتا ہے۔ لگتا ہے کہ ہماری عسکری قیادت کی جانب سے موجودہ شکست نے اسے نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ہمیں سے میزائل کھا کر تڑپتے ہوئے بھی ہمیں ہی گولیوں کی دھمکیاں دے رہے ہو؟ بزدل مودی ہمارے بچوں سے لڑتے ہو، معصوموں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہو، مگر پھر بھی شکست ہی تمہارا مقدر ہو گی۔ ان نوجوانوں کو دھمکی دیتے ہو جو تمہارے ڈرون کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ان کو اپنی بندوق سے گراتے ہیں اور تمہارے ڈرون لے کر موٹر سائیکل پر دوڑ جاتے ہیں۔ جو میزائل چلتے ہوئے بھی یوں بیٹھے ہوتے ہیں جیسے آتش بازی ہو رہی ہو؟ شاید خوفزدہ مودی ان بڑھکوں اور دھمکیوں سے اپنے اندر کے خوف پر قابو پانا چاہتا ہے؟ لیکن یاد رہے کہ شکست بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔ اس کی علاقائی تھانیداری کا سہانا خواب ٹوٹ چکا ہے۔ بھارت دنیا میں اپنا خود ساختہ اور مصنوعی اجارا داری کا بھرم بھی گنوا بیٹھا ہے۔ اپنی اس بدترین ہار کی خفت بیانات اور تقاریر سے مٹانے کی کوشش بھی ناکام ہوگی کیونکہ جس چیز یعنی موت سے تم ہمارے نوجوانوں کو ڈرا رہے ہو وہ تو ان کے لیے شہادت کا عظیم اعزاز ہے جس کی تمنا ان کے ایمان کا حصہ ہے۔ ہماری عسکری قیادت تمہارے ہر اقدام کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ کاش مودی ایک مرتبہ برصغیر کی تاریخ بھی پڑھ لیں کہ ہمیشہ شکست ان کا مقدر بنتی چلی آئی ہے چاہے وہ ہندو رانا سانگا کی افواج ہوں یا پھر سومنات میں پورے ہندوستان کی سپاہ جمع ہو جائیں۔ اس لیے یاد رہے کہ تم اس لفظوں کی گولہ باری سے پنی عوام کو بے وقوف بنا کر الیکشن تو جیت سکتے ہو جنگ ہرگز بھی نہیں جیت پاؤ گے۔ مان لو کہ تم ہار چکے ہو میدان جنگ میں بھی اور میدان سفارت کاری میں بھی اور تمہارے تکبر اور تمہاری ہٹ دھرمی نے یہ دن دکھایا ہے کہ تم لفظ تلاش کرتے ہو مگر کہنے کو لفظ نہیں ملتے۔ اور دوسری جانب پاکستانی یوم تشکر منا رہے ہیں اور وہ سپہ سالار کی قیادت اور اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ شکست کا دکھ ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی بلند و بانگ دعوے کر کے کسی خطے پر اپنی اجارا داری کے خواب اور امیدیں وابستہ کر چکا ہو۔ تکبر اور بڑائی کی اس سطح پر یہ دکھ صرف ناکامی کا ہی نہیں ہوتا بلکہ اپنی طویل کوششوں اور خواہشات کی تباہی کا بھی ہوتا ہے۔ اور پھر اس ہار اور شکست کی راکھ میں سلگتی اناء چین نہیں لینے دیتی۔ شکست صرف کسی معرکہ کے ہارنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک ایسا زخم ہوتا ہے جس زخم کو وہ چاٹنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔ خاص طور پر ایسے بے بنیاد غرور پر جو برسوں سے مصنوعی فتوحات کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا ہو۔ مودی کی قیادت میں بھارت نے برسوں تک ایک ایسا بیانیہ تراشا جس میں اپنی طاقت، تکبر اور پاکستان جیسے امن پسند ملک کو کو حقیر جاننے کا زہر بسا تھا۔ مگر حالیہ عبرت ناک شکست فاش نے بھارت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان کو کمزور اور منتشر دکھانے کی ناکام کوشش میں آج وہ خود اندرونی شکست خوردگی کا شکار ہو گیا ہے۔ ایسے میں خاموشی کے اندھیروں میں پناہ لینے کی بجائے مودی کی چیخ و پکار عوامی سطح پر الجھن، سیاسی حلقوں میں بے چینی، اور فوجی قیادت کی غیر معمولی خاموشی گویا ایک اجتماعی شکست کا ماتم کر رہے ہیں۔ مودی کی یہ بوکھلاہٹ محض ایک شخص مودی کی ہی بے چینی نہیں بلکہ ایک جھوٹے اور من گھڑت بیانیے کے زمین بوس ہونے پر نکلنے والی دلخراش چیخ بھی ہے۔ بھارت کی ریاستی مشینری آج خود اپنے پیدا کردہ پراپیگنڈے کے نیچے دب کر سسک رہی ہے۔ بھارتی عوام جان چکے ہیں کہ نریندر مودی کا ”نیا بھارت“ صرف نفرتوں کا اشتہار تھا۔ اور جھوٹی نعرہ بازی ایک سیاسی ڈرامہ اور ڈھونگ تھا۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی جس طرح عسکری اور سفارتی ہزیمت ہوئی ہے اور بہادر افواج پاکستان نے جو عبرتناک دھول چٹائی ہے۔ اس نے نہ صرف بھارتی میڈیا کے جھوٹے اور زہریلے پراپیگنڈا کی قلعی کھول دی ہے بلکہ نریندر مودی کے چہرہ بدلتی مسکراہٹ کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارت کی انتہاپسند مودی سرکار ہمیشہ جارحانہ بیانیے کے سہارے اپنے اندورنی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ چاہے وہ کسانوں کا احتجاج ہو، کشمیر کی بگڑتی صورتحال ہو، یا پھر بھارت کے طول و عرض میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتی نفرت ہو لیکن جب سرحدوں پر سچائی سے سامنا ہوا تو جھوٹی بڑھکوں اور دھمکیوں کے یہ خواب ایسے چکنا چور ہوئے کہ اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارتی میڈیا جس جوش و خروش سے سرجیکل اسٹرائیک یا ”سندور“ جیسے الفاظ ادا کر رہا تھا وہ اب بوکھلاہٹ میں نئی لغت تراشنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ بھارتی اپوزیشن کی اور بھارتی وزارت دفاع کی خاموشی اور مودی کا غیر معمولی غصہ اور جھنجھلاہٹ اس بات کا اعلان ہیں کہ ان کو شکست صرف میدان جنگ میں ہی نہیں ہوئی بلکہ وہ یہ جنگ اپنے ذہنوں میں بھی ہار چکے ہیں بلکہ درحقیقت اسے تسلیم بھی کر چکے ہیں کیونکہ پاکستان نے صرف دفاع ہی نہیں کیا بلکہ قومی وقار کا پرچم بھی تھامے رکھا ہماری عسکری قیادت نے خاموشی سے اپنے حصے کا کام اس تیزی سے کیا کے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستانی تدبر، خود داری، اور قومی یکجہتی نے بھارتی بیانیے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اور شاید یہی بات ہے جو دشمن کو ہضم نہیں ہو پا رہی اور اندر سے کھائے جا رہی ہے کہ پاکستان اب رد عمل نہیں بلکہ پیشگی حکمت عملی کا ملک بن چکا ہے۔ مودی کی موجودہ بوکھلاہٹ اس امر کی غماز ہے کہ جسے وہ کمزور سمجھ رہے تھے وہی اب آئینے کی طرح ان کا اصل اور گھناؤنا چہرہ انہیں ہی دکھا رہا ہے۔ بھارتی سوچ سے نقاب اترتے ہی پوری دنیا نے ان کا اصل اور بھیانک چہرہ بھی دیکھ لیا ہے۔

مودی سرکار نے پچھلے دس برسوں میں بھارت کے اندر جنگی جنون کا ایسا بدترین ماحول پیدا کیا ہے۔ جس میں نفرت کو بھی حب الوطنی کا نام دیا جاتا ہے۔ ہندوازم کا پرچار اور مذہبی جنوں کی باعث اقلیتوں پر اذیت ناک سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور مسلمان دشمنی کو سیاست کا ایندھن بنا دیا گیا ہے۔ مگر تاریخ کا کمال دیکھیں کہ آج وہی پاکستان عالمی سطح پر وقار، تحمل، اور حکمت کا علمبردار بن کر ابھرا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ فتح ہمیشہ تلوار سے نہیں کردار سے ہوتی ہے اور شکست صرف بندوق سے نہیں انا غرور اور تکبر کے زوال سے آتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن و سلامتی کا خواہاں رہا ہے لیکن اس کی اس مثبت خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ یاد رہے کہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ بھارت کو دھمکیوں اور بڑھکوں کی بجائے مذاکرات کی جانب ہی آنا ہو گا۔ کیونکہ یہی دنیا اور اس خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ لفظوں کی گھن گرج اور معاہدے توڑنا ان مسائل کا کوئی حل نہیں بلکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی جنوبی ایشیا کو پرامن بنایا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS