وہ در جو پھر کُھلا


گورنمنٹ کالج لاہور کا حالیہ دورہ میرے لیے ایک سادہ ناسٹیلجِک ٹرپ نہیں تھا بلکہ ایسا تھا جیسے کوئی ایک نیا در، نیا باب کُھل گیا ہو۔ وہی پرانے سنگِ مرمر، وہی قدیم درخت، وہی پُر اسرار راہداریاں، مگر جیسے کسی نئے شعور، نئے جذبات اور نئی پہچان کے ساتھ مجھے ملی ہوں۔

سماجیات کی زبان میں خاندان کی کئی تعریفیں ہوتی ہیں نسلی، ذاتی، طبقاتی۔ لیکن میرے نزدیک سب سے بامعنی خاندان وہ ہوتا ہے جو آپ کے اندر ایک خاص جنون، ایک خاص ذوق، یا ایک خاص ’پاگل پن‘ منتقل کرے۔ اور اگر یہ پاگل پن علم، فن، اور تخلیق سے جُڑا ہو تب میں اسے خانوادے کی اصل جُون مانتی ہوں۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ رشتہ جتنا پرانا ہو، اتنا ہی گہرا ہو جاتا ہے۔ مگر کچھ رشتے وقت کے ساتھ بنتے نہیں، بلکہ وقت کے اندر پیچھے کی سمت بڑھتے بھی چلے جاتے ہیں۔ جیسے کہ جی سی سے میرا تعلق، زمانے کے چلن کے برعکس، وقت کی الٹی سمت میں گہرا ہوتا گیا۔ یہ رشتہ 2008 میں ایک عام طالبعلم کی طرح شروع ہوا جب میں نے گورنمنٹ کالج کے شعبہِ نفسیات میں داخلہ لیا۔ پھر 2004 کے راوین دوست بنے، ان کی باتوں میں کالج کی پرانی رُوح کی خوشبو آتی تھی۔ اُن دوستیوں نے مجھے ایک ایسے وقت کی طرف کھینچا جو میں نے دیکھا نہیں تھا، پر محسوس ضرور کیا۔ اُن کی محفلوں، اُن کی باتوں، ان کی صحبتوں نے مجھے ماضی سے جوڑا اور وقت کے ریورس سفر نے مجھے 1960، 70 کی دہائی کے ماحول میں پہنچا دیا۔ اس دوران میرے سفر میں کئی ایسے راوین شامل ہوئے جنہوں نے بطور استاد، دوست، اور محسن میری علمی اور فکری تربیت کی، اور جو اپنی موجودگی سے ایک عہد کی گواہی بن کر میری زندگی میں شامل ہوتے گئے۔

اب، قدرت کا ایک اور کرشمہ یہ ہوا کہ میرا نیا رشتہ (میری حالیہ شادی) مجھے گورنمنٹ کالج کی تاریخ میں مزید پیچھے لے گیا۔ میرے سسر، محترم اسلم اظہر، پاکستان ٹیلی ویژن کے بانی، ایک روشن خیال، جمالیات سے آشنا ذہن، وہ بھی گورنمنٹ کالج کے فارغ التحصیل تھے۔ ان کی باتوں میں، ان کی آنکھوں کی چمک میں، وہی فکری تربیت جھلکتی تھی جو جی سی کی پہچان ہے۔

یہ میرا پہلا موقع تھا جب میں اسامہ ( اپنے شوہر) کے ساتھ گورنمنٹ کالج گئی۔ ایک ساتھ، اس جگہ کو دیکھنا جہاں نہ صرف میری طالب علمی کے دن بیتے، بلکہ اسامہ کے والد، نانا، اور میری ساس اماں، نسرین اظہر کے ماموں، جناب مرزا محمد سعید دہلوی کے طالبعلمی کے دن بھی وہیں گزرے تھے۔ میں نے محسوس کیا، شاید میرے (میری تعریف کے مطابق) خاندانی ورثے کی جڑیں ایک صدی پہلے ہی گورنمنٹ کالج کی زمین میں پیوست کر دی گئی تھیں۔ جناب مرزا محمد سعید دہلوی جو گورنمنٹ کالج کے مایہ ناز استاد بھی رہے، وہی جنہوں نے پطرس بخاری جیسے شاگردوں کو تراشا اور پطرس نے اپنی نوشت، ”پطرس کے مضامین“ ان کے نام کی۔ مرزا محمد سعید کی تصنیف، ”مذہب اور باطنی تعلیم“ تقسیمِ ہند سے پہلے کے زمانے میں کئی ہندوستانی یونیورسٹیوں میں نصاب کا حصہ بھی رہی۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، ”ریلیجن اینڈ ایسوڑیرِک ٹیچنگز“ مرزا محمد سعید دہلوی کے ایک نواسے، پروفیسر اشرف اقبال (جن کا ذکر تحریر میں آگے چل کر بھی آئے گا) کی کاوشوں سے شائع ہوا۔ یہ ترجمہ مرزا محمد سعید دہلوی کی بھتیجی، اسماء رشید (ان کا ذکر بھی تحریر میں آگے چل کر آئے گا) نے کیا۔

یہ سب جان کر مجھے یوں لگا جیسے میرے قدم وقت میں پیچھے جا رہے ہوں۔ پہلے 2008، پھر 2004، 1960، 1950، اور اب شاید 1920 کی دہائی جہاں اقبال، بخاری، اور سعید دہلوی جیسے لوگ گورنمنٹ کالج کی فضا میں سانس لے رہے تھے۔

گورنمنٹ کالج سے نکلنے کے بعد جب لاہور میں سسرال کے رشتہ داروں کے ہاں جانا ہوا، تو گویا گورنمنٹ کالج کا وہی علمی ماحول ایک گھر کی بیٹھک میں دوبارہ زندہ ہو گیا۔ کیونکہ وہیں میری ملاقات ہوئی سعید دہلوی کی بھتیجی، مترجم، اور اب پچانوے برس کی ہو چکیں اسماء خالہ، یعنی اسماء رشید سے، جو اب کبھی کبھی بے خوابی کی راتوں میں زبانی یاد کی ہوئیں بائرن، شَیلے اور ایملی ڈکنسن کی نظمیں خود کو سناتی ہیں۔ اُن کی آنکھوں میں جو روشنی تھی، وہ کسی یونیورسٹی کی لائبریری سے کم نہ تھی۔ ان کی داستان پر ایک الگ تحریر بنتی ہے، جو میں ضرور لکھوں گی۔

اسی گھر میں ایک اور شاندار شخصیت سے ملاقات ہوئی: پروفیسر اشرف اقبال، جن کی کاوشوں سے ”ریلیجن اینڈ ایسوڑیرِک ٹیچنگز“ شائع بھی ہوئی اور لمز یونیورسٹی لاہور کی لائبریری میں بھی رکھوائی گئی۔ کتاب کا ٹائٹل کور بھی اشرف صاحب نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ یہ سب باتیں مجھے بعد میں اشرف صاحب نے ہی بتائی ہیں، جو اس تحریر کی صورت میں اب آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں۔

گھر میں جب میں اشرف صاحب کے کمرے میں گئی تو ایک حیرت کدہ کُھل گیا۔ ان کا کمرہ ایک عجیب و دلکش تجربہ گاہ ہے جہاں ریاضی اور جمالیات ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آتے ہیں۔ پروفیسر اشرف اقبال، جنہیں میں نے دل سے ”Mathemaesthete“ کا نام دیا۔ یہ اصطلاح میں نے خود وضع کی کیونکہ ان کا کمرہ، ان کی شخصیت، اور ان کا تخلیقی زاویہ اس روایتی تقسیم کو توڑ دیتا ہے جو فن اور ریاضی کے درمیان سمجھی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیائے علم ہے جہاں ریاضی کی تجرید، اور جمالیات کی نزاکت ایک دوسرے میں زم ہوتی نظر آتی ہے۔ ”Mathemaesthetics“ میرے لیے اُس تجربے کا نام ہے جہاں ہندسوں کا نظم، اور تصوّرات کا حسن ایک دوسرے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ اس پر بھی انشاءاللہ ایک الگ تحریر لکھوں گی۔

ابھی، میں اس بات سے بہت خوش ہوں کہ میری زندگی کے اس نئے مرحلے نے مجھے گورنمنٹ کالج سے محض ایک یادگار یا خواب کی طرح نہیں، بلکہ ایک زندہ، رواں، اور ہم عصر نسبت میں پھر سے جوڑ دیا ہے۔ اگر ماضی نے گورنمنٹ کالج کو میرے لیے صرف ایک ادارہ نہیں، بلکہ ایک فکری خانوادے کی شکل دی، تو حال نے اس رشتے کو تازگی، تحرک، اور جاری تسلسل کی صورت میں جینے کا موقع دیا ہے۔ ایک ایسا علمی و جمالیاتی خانوادہ، جو نسل سے نہیں، نظر سے جُڑا ہے، جو خون کے رشتے سے نہیں، ذوق، مزاج، اور شوق کے رشتے سے پرویا گیا ہے۔

اسی تسلسل کا ایک عکس میری چھوٹی بہن عنزیٰ راجہ، اور خالہ زاد بھائی عمر فاروق ہیں، عمر نے حال ہی میں 2023 میں جی سی میں داخلہ لیا، اور صرف چار سمیسٹرز میں وہ ڈرامیٹک کلب اور ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے نہ صرف سرگرم رکن بنے بلکہ قومی سطح کے مقابلے جیت کر گورنمنٹ کالج کے لیے شیلڈز بھی لے آئے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے وہی ذوق جو ایک زمانے میں میرے ہم عمر راوین دوستوں میں تھا، اب اگلی نسل میں منتقل ہو چکا ہے۔ اسی زنجیر میں ایک اور کڑی میرے دیرینہ دوست، عرفان خان ہیں، جو کبھی میرے جونئیر تھے، پھر گورنمنٹ کالج کے لیگل ایڈوائزر بنے، اور اب نو قائم شدہ ڈیپارٹمنٹ آف لا میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وقاص احمد شہباز، جو 2004 کے اس بیچ کا حصہ تھے جس نے مجھے اپنے دَور کی روح سے روشناس کرایا تھا، اور جو اپنے وقت میں گزٹ کے مدیر رہے، ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے فعال رکن تھے، اور آج محکمہ تعلیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر جیسے وقت کی ایک اور پرت کھل گئی۔ اسی ملاقات میں مجھے موقع ملا کہ اپنی محترم اساتذہ، میڈم سلمیٰ حسن (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، نفسیات) اور ڈاکٹر آمنہ سے بھی دوبارہ ملوں۔ وہی استاد، جنہوں نے کبھی میرے طالبعلمانہ شعور کو نکھارا، اور گورنمنٹ کالج کو میرے لیے صرف ایک ادارہ نہیں، بلکہ ایک گھر، ایک پہچان، اور ایک فکری جائے پناہ بنا دیا۔ ان سب کی موجودگی نے مجھے آج کے جی سی کی نبض، اس کی فکری دھڑکن، اور نئے دور کی جہتوں سے بھی روشناس کرایا۔

یوں، گورنمنٹ کالج میرے لیے ایک ایسا مقام بن گیا ہے، جو پیچھے بھی لے جاتا ہے، اور آگے بھی دھکیلتا ہے۔ ایک ایسا گہرا رشتہ جو وقت کے کسی ایک لمحے میں مقید نہیں، بلکہ وقت کے دونوں کناروں پر ایک ساتھ موجود ہے۔ نہ خالص نسلی، نہ خالص ذاتی، بلکہ ایک فکری اور تخلیقی میراث کی صورت، جس کا نام گورنمنٹ کالج ہے۔

Facebook Comments HS