باولے (ہلکے ) کتے
روزانہ کی سیر کے لیے جناح گارڈن نمبر ایک پر پہنچے تو گیٹ بند، بڑی تعداد میں سندھ، جنوبی پنجاب، کے پی اور جی بی کے نوجوان گیٹ پر جمع ہیں۔ انہیں باغ سے کوئی غرض نہیں ہوتی ان کی روزانہ کی منزل جناح لائبریری کی ایک اچھی نشست ہوتی ہے جہاں بیٹھ کر یہ مستقبل کے ایک موہوم سے سپنے کی تعبیر کی کوشش کر سکیں۔ یہ اپنے تئیں سی ایس ایس اسپیرنٹ لکھ، پڑھ اور بول کر دل بہلاتے ہیں۔
پارکنگ میں جا کر استفسار پر معلوم ہوا کہ آج کچھ کتے ہلکے ہوئے ہیں اور انہیں مارنے کے لیے اندر ٹیم آئی ہوئی ہے۔ ان میں سے کسی نے ایک انسان کو کاٹ بھی لیا ہے۔
ہلکا کتا ہوتا کیا ہے؟ بچپن میں سنا تھا کہ کتا جب سانپ یا کوئی اور زہریلی چیز کھا لیتا ہے تو اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہے اور اپنے مالک تک کو کاٹنے لگتا ہے۔ اس کا علاج نہیں ہوتا؟ بتانے والے نے بتایا کہ نہیں اسے مارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اب شاید اس کا علاج آ گیا ہو۔ لیکن بہرحال اسے اپنی نسل سے الگ تو کرنا ہی پڑتا ہے چاہے ہسپتال داخل کر کے یا اس دنیا سے ہی چھٹکارا دلا کر۔
یاد آیا انسانوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جو دوسرے انسانوں کا خون چوسنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ شروعات چاہے سور کا گوشت، سودی معیشت یا رشوت سے ہی کرتے ہوں لیکن آگے بڑھتے ہیں تو پلاٹوں کی ہوس میں زرعی اراضی کو سیمنٹ پتھر کے جنگل میں بدلتے جاتے ہیں۔ کسان کی فصل کی قیمت کے لئے اسے ترساتے ہیں۔ اس کے گنے کو لیتے وقت اونے پونے لیتے ہیں اور جب اسی سے بنی چینی اسے دینے کی باری آتی ہے تو اسے برآمد کر کے اس کی قیمت بڑھا دیتے ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ جب جب ان ہلکے کتوں کے خلاف کوئی مہم شروع ہوتی ہے تو ان کے حقوق کے علمبردار انہیں محفوظ کروانے کے لئے آواز اٹھاتے ہیں ان کے لئے محفوظ مقامات بنواتے ہیں۔ انسانوں کے کیس میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے ہلکے ہوئے انسانوں کو بھی بچانے کے لیے لندن، سعودی عرب، قطر، فرانس، جرمنی اور امریکہ وغیرہ محفوظ مقامات ہیں۔ جب بھی ان پر کوئی ابتلاء آتی ہے انہیں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو انہیں بنایا بھی ایسی جگہوں پر ہی جاتا ہے۔ انسانی خدمت کے جذبہ کو مارنے والی اکیڈمیوں میں انسانی تذلیل کی ٹریننگ دے کر، کھانے، لباس و پلاٹوں کی ہوس پیدا کر کے جو ہلکنے پر منتج ہوتی ہے۔


