ناول لہو رنگ فلسطین (آخری حصہ)


فلسطینی ادیبوں کا ذکر کیا جائے اور فلسطین کے عظیم عاشق، کہانی کار، مصور، صحافی، مزاحمت کار و قائد غسان کنفانی کی بات نہ کی جائے، یہ ممکن نہیں۔ 1948 کی عرب اسرائیل جنگی تباہی اور ان کے خاندان کی جلاوطنی و دربدری ان کی بچپن کی یادوں کا ہمیشہ حصہ رہی۔ یہی وہ دن تھے جن کے مصائب و تکالیف ان کی تخلیقی کائنات کا حصہ بنے۔

1959 میں انھیں بیروت آنے اور آزادی فلسطین کے لیے کام کرنے والی فلسطینی تنظیم کا حصہ و ترجمان بننے کا موقع ملا۔ 1962 میں جب ان کے گرد بیرونی دنیا کا دباؤ بڑھنے لگا تو انھیں ایک بار پھر روپوش ہونا پڑا۔ روپوشی کے یہ ایام ان کے لیے ذہنی اذیت و جسمانی مصائب سے پر تھے، جن کو اپنی تخلیق میں سماتے ہوئے انھوں نے اپنا شہرہ آفاق ناول ”رجال فی الشمس“ تحریر کیا۔

جونہی ناول کی اشاعت ہوئی، عربی ادب کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ ہر طرف اس ناول پر دادو تحسین بلند ہونے لگی۔ اس ناول نے جہاں انھیں عالمگیر شہرت دی وہیں کچھ ممالک میں اس ناول کی اشاعت، خرید اور فروخت پر پابندی لگا دی گئی۔ 1973 میں ایک مصری فلم ڈائریکٹر توفیق صالح نے اس ناول پر ایک فلم ”المخدعون“ بھی بنائی، جسے کئی عرب ممالک میں بین کر دیا گیا۔

1978 میں اس ناول کا ترجمہ Men in The Sun کے نام سے ہوا۔ جس سے معروف مترجم شاہد حمید صاحب نے اس کا ترجمہ ”دھوپ میں لوگ“ کے نام سے کیا، جس کی حالیہ اشاعت بک کارنر جہلم سے ہوئی۔ تاہم اس ناول کو اردو دنیا میں بھی بے حد مقبولیت و پذیرائی ملی۔

غسان کنفانی نے اس کے بعد بھی کئی مزاحمتی ناول، کہانیاں، ڈرامے اور فلسطینی ادب کے مطالعات تحریر کیے۔ ان کی تخلیقات میں عربی و فلسطینی تہذیب و ثقافت سے انسیت اور گہری وابستگی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس خطے کے دکھ درد کو اپنی کہانیوں میں یوں سمو دیتے ہیں کہ قاری خود اپنے دل میں ان کا درد محسوس کرتا ہے۔

لیکن حق اور سچ کی زبان بولنے والوں کو استعماری دنیا تا دیر برداشت نہیں کرتی اور یہی غسان کنفانی کے ساتھ ہوا، 8 جولائی 1972 کی صبح جب وہ اپنی بھانجی کے ہمراہ ہنستے مسکراتے اپنی گاڑی میں بیٹھے اور اسے سٹارٹ کیا تو اچانک گاڑی میں ہونے والے ایک زور دار دھماکے اور آگ کے بلند شعلوں نے انھیں موت کی آغوش میں لپیٹ لیا۔

سلمیٰ آپا کے ناول لہو رنگ فلسطین کو فلسطین کی تاریخ، تہذیب، ادب اور سماج کے ساتھ جوڑ کر پڑھنے سے نہ صرف ناول کی دلچسپی کئی گنا بڑھ گئی تھی بلکہ اس حساس و دلگیر موضوع پر حقائق اور تاریخ کی درست سمت کا تعین کرنا بھی میرے لیے آسان ہوتا جا رہا تھا۔

ناول کی کہانی کی فکر انگیزی تاریخ میں فقط فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم دکھانے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہاں ترکوں کی خلافتِ عثمانیہ کے دوران سلاطین کی عیاشیاں، شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ اور جبر و استبداد کے وہ انداز بھی صاف عیاں تھے، جنھوں نے انھیں قرض و غلامی کی دلدل میں دھکیلنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ چھوڑا تھا۔ ناول میں خلافت عثمانیہ کے زمانے میں ترک محلات میں سے ایک کا ذرا یہ منظر ملاحظہ کیجیے :

”یہاں ہر طرف اتنا حسن تھا کہ ایموس کو یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ کسی پرستان میں بھول بھٹک کر آ گئی تھی۔ حسن کی مورتیاں وہ سب یونانی، اطالوی، برطانوی، فرانسیسی، یوکرائنی اور سرکیشیائی عورتوں کی اولادیں تھیں۔ جن کی نانیاں سترہویں صدی میں غلام بازاروں سے خرید کر استنبول لائی گئی تھیں، جنھیں مشرف بہ اسلام کیے جانے کے بعد تربیت کے اکھاڑے میں اتار کر ان پر نئے ماحول کا رنگ و روغن کیا جاتا اور بعد ازاں سلطان کی خدمت میں پیش کر دیا جاتا۔

اسی طرح تصویر کے دوسرے رخ میں وہ فلسطینی عوام کی طرف سے بھی کچھ تلخ حقائق کو منظرِ عام پر لاتی ہیں، مثلاً اپنی کتاب عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں میں لکھتی ہیں کہ:

”پھر کوئی پانچ سال بعد مصر میں اپنی سیر کے دوران ایک تو فلسطین کے موضوع پر عام لوگوں سے کھل کر باتیں ہوئیں۔ مختلف آراء سننے کو ملیں، تند و تیز اور تلخ، جیسا کہ ان فلسطینیوں کو بھی ہابڑے پڑے ہوئے تھے مہنگے داموں اپنی زمینیں بیچنے کے، وہ بیرو میں جائیدادیں خریدنے کے بھوکے تھے، خیر سے اب بھگتیں۔“

اس سچ میں چھپا ایک سچ اور بھی ہے جسے سلمیٰ آپا اپنے ناول ”لہو رنگ فلسطین“ اور ایڈورڈ سعید اپنی کتاب ”مسئلہ فلسطین“ میں بہت صاف اور واضح الفاظ میں لکھا کہ بہت سے غریب فلسطینیوں نے یورپی یہودیوں کو اپنی زمینیں مہنگے داموں فروخت کیں، مگر جنھوں نے نہ کیں ان سے وہ زمینیں دھونس، زبردستی و ظلم سے چھین لی گئیں۔ سلمیٰ اعوان اس ناول کی ابتدائی شکل یعنی اپنی کہانی ”او غزہ کے بچو“ میں لکھتی ہیں کہ:

”میرے والد نے سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک مسلک ایک عقیدے کے لوگ پرائی جگہوں پر اپنی آبادیاں بنا لیتے ہیں۔ ہاں یہ غلط ہے کہ اس کے لیے آپ اس حد تک آگے چلے جائیں کہ مالکوں کو ہی نکال باہر پھینکیں۔ پھر ان کی زمینیں چھین لیں اور انھیں ان کی ہی زمین پر قیدی بنا ڈالیں۔

آپ سمجھتی کیوں نہیں؟ بشیت اور پینی میں آپ کے کتنے رشتے دار اور دوسرے لوگ تھے؟ کیا ہوا؟ سارا علاقہ مسمار کر دیا گیا؟ عالیشان گھر بنے اور یورپ کے ملکوں سے اسرائیلی آئے اور قابض ہو گئے۔ مہربانی کریں ابھی گھر کے دام مل رہے ہیں، یہ نہ ہو کہ اس سے بھی جائیں۔

وہ چھم چھم روتی جاتیں، ان کا کلیجہ منہ کو آتا اور رندھے گلے سے کہتیں جائیں تو کہاں جائیں؟ اچھا چلو پھر نظارت میں ہی جا بستے ہیں۔ ”

ناول کی کہانی جو نسل در نسل آگے بڑھتی ہے اور فلسطین کی بگڑتی سیاسی صورتحال کو مزید تلخ ہوتا دکھاتی جاتی ہے۔ عمانوئیل قرہ صو آفندی کی دوست ایموس جس کی ملاقات اس نے یوسف ضیاء الخالدی سے کروائی تھی جرمنی میں یہودیوں کی بگڑی حالتِ زار پر اپنی بیٹی یرڈینا اور اس کے دونوں بچوں کو یوسف ضیاء کے پاس یروشلم بھیج دیتی ہے۔ جہاں یوسف ضیاء کی بیوی سارا، بیٹے ڈاکٹر موسیٰ اور بہو ضالیہ انھیں نہ صرف خوش آمدید کہتے ہیں بلکہ انھیں گھر کے فرد کی طرح توقیر و احترام سے نوازتے ہیں۔ یرڈینا اور ضالیہ کی دوستی میں تثلیث کا تیسرا سرا ان کی ایک عیسائی دوست ہے۔ یہ تین مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی تین خواتین فلسطین میں بین المذاہب رواداری، ہم آہنگی اور دوستی و یکجا قومیت کی واضح علامت ہیں، جسے اسرائیل و یورپی ممالک سمجھنے و تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

بعد ازاں یرڈینا کی بیٹی یائل اور ضالیہ کے بیٹے منصور کی اس سر زمینِ زیتون پر پروان چڑھنے والی محبت محض اس لیے ایک نہیں ہو پاتی کہ کہیں ان دو مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں میں محض اسی بات پر تصادم نہ ہو جائے۔

محبت کی اس داستان کے پس منظر میں فلسطین کے مقدس و خاص مقامات و شہر، روایتی کھانے و پکوان، دستور اور رسمیں، روایتی شادیاں اور ان کے مقامی رقص و گیت، خوشی اور دکھ یہ سب مل کر اس کہانی کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں قتل و غارت و قبضہ گری کا ماحول مقامی لوگوں کے سوہانِ روح ہے۔ وہ جائیں تو کہاں جائیں، انھیں ان کی اپنی ہی زمینوں و مکانوں سے لمحے بھر میں بے دخل کر دیا جاتا، مزاحمت کی صورت میں ان کے گھر ہی نہیں پورے پورے گاؤں جلا کر انھیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔

منصور اور یائل کی ادھوری محبت ان کے بچوں ایمان اور شاہمیش تک میں سرایت کر جاتی ہے۔ ایمان کے شوہر ڈاکٹر یشار کی اسرائیلی حملے میں موت کے بعد اسے شاہمیش کی شکل میں سہارا تو ملتا ہے مگر اس محبت و وابستگی میں مذہب اب بھی اس رشتے کے درمیان اسی خوف کی علامت ہے جس سے یائل اور ڈاکٹر منصور گزرے، اور جس کی تکمیل انھیں مذہب کی تبدیلی تک ہی نہیں بلکہ اس صدیوں پرانی سر زمین جو اس وقت آتش و خوں کا مرکز بنی ہوئی ہے، اس سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

بے کلی میں گھرے دل اور بے آس نگاہوں سے تڑپتے ہوئے اپنا گھر بار و وطن چھوڑنا ان کے لیے کیسا سوہانِ روح ہوتا ہے اس سب کی منظر کشی سلمیٰ آپا نے کامل فنی ہنر مندی سے کی ہے۔ فلسطین کی تاریخ، تہذیب اور منظر نامے پر رقم کیے گئے اس ناول کی اہمیت کسی تاریخی دستاویز کی سی ہے۔ جسے اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ہمیشہ دوام حاصل رہے گا۔

Facebook Comments HS