بلاول بھٹو! یہ بھی غیرت کا سوال ہے
دوپہر بارہ نیند سے بیدار ہوا بیڈ ٹی پیتے ہوئے موبائل دیکھنے لگا تو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک نو دولتیے کی ویڈیو دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے، دماغ سن ہو گیا، آنکھیں پتھرا گئیں کیونکہ ویڈیو میں دیکھا کہ ایک سفید بالوں والا فرعون صفت شخص گاڑی میں بیٹھے ایک نوجوان کے ہاتھ قابو کیے ہوا تھا اور گاڑی کے اندر بیٹھا دوسرا شخص اس نوجوان کو تھپڑ مار رہا ہے اور باہر ایک لڑکی ہاتھ جوڑ کر سفید بالوں والے فرعون صفت شخص کی منتیں کر رہی تھی کہ نہ مارو۔ مگر ”شمر“ کو ذرا ترس نہیں آ رہا تھا اور وہ مسلسل نوجوان کے ہاتھ قابو کر کے نوجوان کو پٹوا رہا ہے، یزیدیت ننگی ناچ رہی تھی، کافی دیر ظلم ہوتا رہا مگر سندھ پولیس حکمران کی حفاظت کے فرائض سرانجام دینے میں لگی رہی، ہر لمحہ اس واقعہ کی خبریں پڑھ کر دل کا درد بڑھتا گیا کیونکہ تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائی ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں، ایک غیر مسلم سے اس طرح کا ظلم کھلم کھلا یزیدیت ہے۔
پھر جیسے جیسے موبائل کو سکرول کرتا گیا دماغ سُن ہونے لگا کیونکہ اس واقعہ کی مزید ویڈیوز بھی لوگوں نے پوسٹ کی ہوئی تھیں، ایک اور ویڈیو میں لڑکی زمین پر گری ہوئی ہے اور منتیں کر رہی ہے اور لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ کوئی تو کچھ کرے مگر تمام تماشا دیکھتے رہے اور کسی کو اس فرعون صفت شخص کا ہاتھ روکنے کی جرات نہیں ہوئی، یہ سین دیکھ کر دکھ اس لئے بھی بڑھ گیا کہ یہ وہی کراچی ہے جہاں ایک معمولی سے واقعہ پر بسوں، دکانوں کو آگ لگا دی جاتی تھی اور ہنگامے برپا ہو جاتے تھے، آج نجانے کراچی والوں کی غیرت کیوں سُو گئی تھی جہاں دو نوجوان لڑکیاں اپنے پیارے نوجوان (جو بھی ان کا رشتہ تھا) کی جان بخشی کے لئے لوگوں کی منتیں کرتی رہیں مگر کسی نے بھی ہمت اور بہادری کا مظاہرہ نہ کیا، فرعون صفت شخص گالم گلوچ بھی کرتا رہا اور خاتون کو دھتکارتا بھی رہا، مجھے اس بات پر بھی دکھ ہوا کہ یہ وہی سندھ ہے جہاں کی ایک لڑکی کی پکار پر محمد بن قاسم سندھ پر چڑھ دوڑا تھا، ہماری نصابی کتب میں محمد بن قاسم کو سندھ کی ماؤں، بہنوں کا ہیرو یعنی نجات دہندہ قرار دیا جاتا تھا آج اسی سندھ کے نوجوان بے بسی کی تصویر بنے یہ ظلم ہوتا دیکھتے رہے، لڑکیوں کی التجائیں اور چیخیں بھی ان کی غیرت کو بیدار نہ کر سکیں اور فرعون صفت شخص نے دل بھر کر نوجوان پر ظلم کیا۔
سوشل میڈیا سے ویڈیو ہوتی ہوئی نجی ٹی وی چینلز پر پہنچ گئی جس کے بعد سندھ حکومت کو خیال آیا کہ یہ تو سندھ حکومت بلکہ پیپلز پارٹی جس کی سندھ میں حکومت دو دہائیوں سے قائم ہے اس کی بدنامی ہو رہی ہے اس لئے میڈیا کی زبان بند کرنے کے لئے سندھ پولیس نے روایتی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور بتایا گیا کہ ملزم فرار ہو گیا ہے اس کی گاڑی قبضہ میں لے لی گئی ہے اور مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے، پولیس نے اپنی پھرتیاں دکھاتے ہوئے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں مگر جب معاملہ ٹھنڈا نہ ہوا تو ملزم کو گرفتار کرنے کی ”خوش خبری“ سنا دی گئی اور کچھ دیر بعد ملزم کو حوالات میں بند کر کے تصویر بھی میڈیا کو جاری کردی گئی، اس جلدی کے فوٹو شوٹ میں پولیس حوالات کو تالا لگانا ہی بھول گئی، دروازے کو صرف کنڈی لگا دی، پولیس کی کارکردگی کا پول سوشل میڈیا پر صارفین نے کھول دیا کہ حوالات کا تالا کیوں نہیں لگایا گیا؟ کیا فوٹو شوٹ کے بعد ملزم کو سندھ کے وڈیروں والا روایتی پروٹوکول دیا گیا اور اسے حوالات سے نکال کر شاہی مہمان کا درجہ دے کر اے سی والے کمرے میں سلا دیا ہو گا۔
کراچی تو کیا دنیا کے ہر شہر میں ہر روز چھوٹے بڑے ٹریفک حادثات ہوتے رہتے ہیں مگر اس طرح کا ظلم آج تک نظر سے نہیں گزرا، اس نو دولتیے فرعون کو اپنی گاڑی کی اتنی ہی فکر تھی تو وہ اسے سڑک پر لایا ہی کیوں تھا، اگر غلطی سے نوجوان کی موٹرسائیکل ٹکرا گئی تھی تو کتنا نقصان ہو گیا ہوتا، اس فرعون نے یہ کیوں نہ سوچا کہ کراچی میں آئے روز ڈمپر کے حادثات ہوتے ہیں اگر کوئی ڈمپر اس کی گاڑی پر چڑھ جاتا اور وہ خود اس میں سوار ہوتا تو کیا ہوتا، اس فرعون نے نوجوان کو کمزور سمجھ کر بہادری دکھائی اور یہ شرم بھی نہ کی کہ اس کے ساتھ خواتین ہیں، شاید اس کے اپنے گھر میں خواتین کو کوئی احترام ہی نہیں دیا جاتا ہو گا جس کی وجہ سے اس نے دوسروں کی خواتین کو اپنے گھر جیسی خواتین ہی سمجھ کر ان کی حیا نہیں کی۔
ایک شہری نے مدعی بن کر اندراج مقدمہ کی درخواست دی جس میں کہا گیا کہ میں ایک شہری کی حیثیت سے رپورٹ کرنے آیا ہوں، گاڑی کے مالک سلمان فاروقی، ڈرائیور و گارڈ پر اسلحے کے زور پر موٹر سائیکل سوار کو گاڑی میں محصور کر کے زد و کوب کرنا، گالم گلوچ کرنا اور دھمکیاں دینا، خاتون کو دھکے دے کر اس کی عفت میں خلل پیدا کرنے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، یہ اس شخص کی بہادری ہے کہ جس نے ظالم کے سامنے کھڑا ہونے کا حوصلہ کیا، یہ سب واقعات دیکھ کر نیم جان صوفے پر لیٹ گیا اور سگریٹ پر سگریٹ سلگا کر خود بھی سلگتا رہا تو مجھے یاد آیا سندھ تو بھٹو کا ہے اور بھٹو کا آج کا وارث بلاول بھٹو زرداری ہے جو زندہ اور جاوید ہے اور ملک کی خدمت کرنے کے لئے ملک کے مقبول ترین سیاستدان کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سے مل گیا، وہی اسٹیبلشمنٹ جس نے اس کے نانا اور والدہ کی زندگیاں چھین لی تھیں، بھٹو کا سلوگن تھا، ”عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں“ میں سوچنے لگا کہ طاقت کے سرچشمے عوام کے ساتھ کراچی کی سڑک پر دن دیہاڑے ظلم و بربریت کا ننگا مظاہرہ کیا گیا نہ ہی بھٹو جاگا نہ ہی سندھ حکومت اور سندھ کی پولیس۔
گزشتہ چند سالوں میں سندھ میں جو واقعات ہوئے ہیں انہوں نے سندھ کے چہرے کو داغدار کر دیا ہے جس میں شاہ رخ جتوئی کا کیس ہے جس میں طاقتور نے سندھ کی انتظامیہ کی ساتھ مل کر کیسے مظلوم والدین کو صلح پر مجبور کر کے مجرم کو سزا سے بچا لیا، صحافی کے قتل کا واقعہ بھی سب کو یاد ہے جس میں ایم این اے نے اپنے وڈیرہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر معاملہ رفع دفع کرا دیا، اب اس کیس میں بھی ایسا ہی ہو گا کہ سلمان فاروقی جیسا دولت مند اور با اثر شخص انتظامیہ کی مدد سے نوجوان اور اس کی فیملی کو ڈرا دھمکا کر صلح کرنے پر مجبور کردے گا، یہ وہ سندھ ہے جس کا مائی باپ آج کل بلاول اور اس کی پیپلز پارٹی بنی ہوئی ہے، دو دہائیوں سے حکومت کرنے کے باوجود بلاول سندھ میں قانون کی حکمرانی قائم نہ کر سکا اور طاقت کے سرچشمے عوام کو سڑکوں پر سرعام پٹوا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی انسانی اور عوامی حقوق کی ہمیشہ علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، معمولی سی بات پر آصفہ بھٹو، شیری رحمان اور دیگر رہنما ٹویٹس کرنے لگ جاتے ہیں اور طوفان برپا کر دیتے ہیں، اس معاملے پر ان کی انگلی ٹویٹ کے لئے نہیں اٹھی، وزیر اعلیٰ سندھ کو کوسا اور نہ ہی آئی جی سندھ کو شرم دلائی کہ تمھاری پولیس کیا کر رہی ہے، پیپلز پارٹی سے بڑی ڈرامہ بازی اور دوغلی پارٹی کوئی ہو سکتی ہے۔
بلاول کے حوالے سے مجھے اس کی قومی اسمبلی کی تقریر بھی یاد آ گئی جب عمران خان کی حکومت میں مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کی بیٹی اور موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو کراچی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کرایا تھا تو بلاول قومی اسمبلی میں اس واقعہ پر اتنا جذباتی ہو گئے تھے اور کہا تھا میرا وزیراعظم بے غیرت ہے، آج جو واقعہ ہوا ہے وہ بلاول کے صوبے اور ان کی صوبائی حکومت کے دارالحکومت میں ہوا ہے، یہ بلاول کے لئے ٹیسٹ کیس ہے اگر ملزم کو سخت ترین سزا نہ ملی اور مظلوم کو صلح کرنے پر مجبور کیا گیا تو ہم بھی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ پیپلز پارٹی کا لیڈر بلاول بے غیرت ہے؟


