یوسف خالد کی قطعہ نگاری
قطعہ نگاری کا سلسلہ تو اردو شاعری کے آغاز سے ہی ہو گیا تھا لیکن اس صنف نے بیسویں صدی کے نصف میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور ادب کی مسلمہ اصناف کے مدِ مقابل اپنا مقام بنا لیا۔ اس دور میں شعرا کے باقاعدہ مجموعے اشاعت پذیر ہونے لگے جن کا سلسلہ معاصر عہد تک جاری و ساری ہے۔ اس صنف کو مولانا حالی، اکبر الہ آبادی، علامہ اقبال، مجید لاہوری، ظفر علی خان، اختر شیرانی رئیس امروہوی، وقار انبالوی، انور شعور، احمد ندیم قاسمی اور انور مسعود جیسے شعرا نے پروان چڑھانے میں خونِ جگر صرف کیا۔ اس صنف کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ شاعر کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ معنی پیدا کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس میں اختصار اور جامعیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ دوسرا اس میں موضوعات کی قید بھی نہیں ہے۔ شاعر کسی بھی موضوع یا خیال کو اس صنف میں پیش کر سکتا ہے۔ مزید اس میں اوزان کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔ چھوٹی سی چھوٹی اور لمبی سی لمبی بحر میں قطعات لکھے جا سکتے ہیں۔
یوسف خالد کا تعلق ایسے شعرا سے ہے جنھوں نے ادب کی دیگر اصناف کے ساتھ ساتھ قطعہ نگاری کے فن میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کے قطعات کا مجموعہ ”خوابوں کے حاشیے پر “ ماہوزا، فیصل آباد سے شائع ہوا ہے۔ یوسف خالد کی قطعہ نگاری زندگی کے تمام موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ انھوں نے رومانی، جمالیاتی اور سماجی و ثقافتی موضوعات کو اس طرح سے پیش کیا ہے کہ ان پر یوسف خالد کے منفرد اسلوب کی چھاپ نمایاں ہو گئی ہے جو انھیں معاصر شعرا سے ممیز کرتی ہے۔ ان کا اسلوب اس بات کا شاہد ہے کہ ان کے ہاں رفعتِ خیال، لطافتِ بیان اور مشاہدے کی گہرائی موجود ہے۔ وہ دقیق اور فلسفیانہ مسائل کو بھی سادگی اور روانی سے قطعات میں بیان کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں :
بے نیازی میں اک نیاز بھی ہے
زندگی جس کے گرد گھومتی ہے
ایک منظر نیا ابھرتا ہے
جب ہوا بادباں کو چومتی ہے
یوسف خالد کے قطعات میں اہم بات ان کا مرکزی خیال ہے جس کے گرد انھوں نے قطعات کے اشعار کہے ہیں۔ اسی لیے ان کے قطعات کے اشعار میں خیال مربوط ہے اور ہر شعر دوسرے کی تکمیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یوسف خالد کا قاری ان کے قطعات کو پڑھتے ہوئے کسی ایک شعر پر رُک نہیں جاتا بلکہ فوراً اگلے شعر کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب خیالات کی کڑیوں میں انتشار نہ ہو اور وہ باہم مربوط ہوں، بیان صاف، برجستہ اور رواں ہو، تا کہ بے کیفی کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ مثال دیکھیں :
اوڑھ لی الفاظ نے چپ کی ردا
بن کہے سب کچھ کہا جانے لگا
بے حقیقت ہو گئے سب فاصلے
خواب منظر رو برو آنے لگا
یوسف خالد کے قطعات میں خواب کا استعارہ بار بار ملتا ہے۔ اسی لیے شاید انھوں نے اس کتاب کا عنوان بھی ”خوابوں کے حاشیے پر “ رکھا ہے۔ دیکھا جائے تو خواب یوسف خالد کی شاعری کا مرکزی استعارہ ہے جو امید کی نوید لے کر نمودار ہوتا ہے۔ ان کے ہاں خواب انسان کی زندگی میں ایک ایسے دروازے کے مانند ہیں جو انوکھی سر زمینوں، اجنبی کائناتوں اور حیرت انگیز مناظر سے روشناس کراتے ہیں۔ بعض جگہوں پر خواب، گم شدہ میراث تک پہنچنے کے اشارے بن کر سامنے آتے ہیں۔ جو ان اشاروں کو سمجھ لیتا ہے وہ نہ صرف گمشدہ خزانوں کو پا لیتا ہے بلکہ مستقبل کی جھلکیاں بھی ان کی آنکھ کی پتلیوں پر نمودار ہو جاتی ہیں۔ یوسف خالد کے ہاں بھی خوابوں کی خاص اہمیت ہے :
آ کسی طور میرے خواب میں آ
نارسائی کا زخم سینا ہے
راستہ دیکھنا نہیں تیرا
بن ترے ہو کے جینا ہے
دیکھنا ہے گر تجھے ہوتا ہے کیسے معجزہ
آ دکھاؤں خواب کی تجسیم کا منظر تجھے
دیکھ میری آنکھ میں اک مسکراتے شخص کو
جس کی قربت کا فسوں دیتا ہے سر شاری مجھے
حیرتیں آنکھ کا مقدر ہیں
دل یقین و گماں کا مسکن ہے
زندگی خواب سے عبارت ہے
خواب عمرِ رواں کا مسکن ہے
یوسف خالد نے خواب کے استعارے کو خوبی سے نبھایا ہے۔ معاصر عہد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے جس میں موضوعیت، معروضیت میں دب گئی۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا، انسان جتنی چاہے ترقی کر لے، انٹر نیٹ کے توسط سے کمیونیکیشن کو جتنا مرضی تیز کر لے۔ مصنوعی ذہانت سے معجزے دکھائے مگر وہ خوابوں سے جان نہیں چھڑا سکتا۔ خواب انسان کا تخیل ہیں اور تخیل فن کی بنیاد ہے۔ جس دن انسان کی آنکھ نے خواب دیکھنا بند کر دیے انسان اسی دن، روبوٹ میں بدل جائے گا اور فن غیر متعلقہ ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے خواب اہم ہیں اور ان سے نجات ممکن نہیں۔ یہ زندگی کو معنویت عطا کرتے ہیں۔ شاعری تخیل، احساس اور جذبے سے تشکیل پذیر ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کی اپنی منطق ہوتی ہے جیسے خواب و خیال کی اپنی منطق ہوتی ہے۔
دورِ حاضر کی مادیت اور مشینی دور کی یلغار نے جب انسان کے عقائد اور اقدار کو متزلزل کیا تو ایمان، روحانیت اور تہذیبی اقدار سے انسان کا رشتہ ٹوٹ گیا جس سے وہ داخلی شکست و ریخت کا شکار ہوا۔ مادیت، خود غرضی، زر پرستی اور معاشرے کی جبریت نے انسان کی بوریت اور اکتاہٹ میں اضافہ کیا۔ یوسف خالد اس ساری صورتِ حال کو محسوس کرتا ہے۔ وہ انسان کی داخلی شکست و ریخت کو اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔
وہ مطمئن ہے بظاہر مگر نہ جانے کیوں
یہ لگ رہا ہے وہ ٹوٹا ہوا ہے اندر سے
ہے اس کی آنکھ میں منظر کی دلکشی لیکن
یہ بات سچ ہے، وہ بکھرا ہوا ہے اندر سے
بے سبب اک تیز رفتاری ہے، ہر سو بھیڑ ہے
جانے کس منزل کی جانب بھاگتے جاتے ہیں لوگ
کوئی بھی چہرہ نہیں ایسا کہ جو شاداب ہو
دیکھیے اندھے سفر سے فیض کیا پاتے ہیں لوگ
یوسف خالد کی قطعہ نگاری میں صرف خواب ہی نہیں بلکہ انسانی زندگی کے دیگر پہلوؤں کو بھی قطعات میں سمویا گیا ہے۔ ان کی کتاب ”خوابوں کے حاشیے پر “ اردو قطعہ نگاری میں خوب صورت اضافہ ہے۔ انھوں نے انسانی زندگی کے رومانوی اور جمالیاتی پہلوؤں کے ضمن میں انسان کی داخلی کیفیات کو قطعات کا حصہ بنایا ہے جس سے ان کی شاعری ثروت مند اور قابلِ قدر بن گئی ہے۔ ورنہ آج کے دور میں قطعہ نگاری صرف مزاح اور سیاسی بدعنوانیوں کو سامنے لانے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ اختر انصاری نے اپنے مضمون میں ایک جگہ قطعہ نگاری پر اپنی رائے دیتے ہوئے اسے ”سمٹی ہوئی نظم“ سے موسوم کیا تھا، یوسف خالد کی مذکورہ کتاب میں اس کی عملی تعبیر دیکھی جا سکتی ہے۔ انھوں نے تخلیقی قوت سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ کوئی ایسی صنفِ سخن نہیں جسے شعرا منھ کا ذائقہ بدلنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان قطعات کے پہلے مصرعے سے لے کر آخری مصرعے محض خیال کا تسلسل ہی نہیں پایا جاتا بلکہ خیال کا ارتقا بھی ملتا ہے۔ پہلے مصرعے میں وہ جو بات کہتے ہیں، دوسرے مصرعے میں اسے آگے بڑھاتے ہیں اور چوتھے مصرعے تک پہنچتے پہنچتے مضمون بڑھتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔ خیال کے تدریجی ارتقا کے ساتھ ساتھ تاثر بھی زیادہ سے زیادہ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ دو قطعہ کو ایک مربوط وحدت اور مسلسل اکائی میں ڈھال دیتے ہیں جس سے ان کے قطعات میں کیفیاتی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ وہ اسے بسیط اور مجرد تجربات کے اظہار کا وسیلہ بنا لیتے ہیں۔ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کے قطعات، ایجاز، اختصار اور جامعیت کے فنکارانہ امتزاج کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔


