جدید سائنسی معاشروں میں دینی جماعتوں کا مستقبل؟
اس امر میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ ہماری مملکت کی ساخت، معیشت و سیاست کی حرکیات اور سماج کی ہیت بدل گئی یعنی ہمارا اجتماعی شعور روایتی طرز تمدن کو پیچھے چھوڑ کر ڈیجیٹل عہد کی نئی وسعتوں میں داخل ہو گیا، ٹیکنالوجی کی ترقی نے جنگ اور فن حکمرانی کو اتنا پیچیدہ بنا دیا کہ اقوام عالم کے مابین تعلقات کی نوعیت کے تعین کے علاوہ جمہوریت، آمریت اور استبدادیت کے مابین خط امتیاز کھنچنا دشوار ہو گیا۔ جیسا کہ ہمارے ہاں، امور مملکت چلانے کے لئے فیصلہ سازی کے عمل میں سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کا عمل دخل محدود، قومی سیاست میں مذہبی تنظیموں کا کردار تقریباً ختم، عدالتی فعالیت مدہم، انتظامی ڈھانچہ پر سول بیوروکریسی کی گرفت کمزور اور ریاست نئی شکل میں اپنی ہیت مقتدرہ کو استوار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی جماعتیں تو روز اول سے سٹیٹس quo کی نقیب اور محض عوامی جذبات کو مینیج کرنے کا ٹول تھیں، پچھلے سو سالوں میں پہلے انگریزوں نے ازاں بعد مقتدرہ نے سیاسی جماعتوں کی وساطت سے کروڑوں لوگوں کے احساسات کو کنٹرول کیا۔ 1971 میں سانحہ بنگال کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی نے اقتدار کی قیمت پہ جمہوریت و مساوات کے نعروں کی گونج میں ملک توڑنے کے المیہ کو تحلیل کر کے مقتدرہ کو دوبارہ پنپنے کا موقعہ دیا، بالکل ویسے جیسے اِس وقت پنجاب میں نواز لیگ، سندھ میں پیپلز پارٹی اور خیبرپختون خوا میں پی ٹی آئی کے ذریعے ہائبرڈ نظام کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان، جہاں کے عوام تک بوجوہ سیاسی جماعتوں کو رسائی نہ دی گئی، وہاں کے شہریوں کی استبدادیت کے خلاف مزاحمت کو علیحدگی پسند تحریکوں نے باآسانی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر لیا۔
جہاں تک مذہبی قوتوں کے وجودی مقاصد کا تعلق ہے تو پہلے ریاستی مقتدرہ نے عالمی سیاست کے تقاضوں کی تکمیل کی خاطر مذہبی جماعتوں کو افغانستان، کشمیر اور فلسطین سمیت دنیا بھر میں پھیلی استعماری جنگوں کو جہادی تقدس کے لبادے پہنانے اور مسلم معاشروں سے افرادی قوت کھنچنے کا وسیلہ بنایا، انہی مقاصد کے لئے انتہا پسندی اور سیاسی تشدد کو فروغ دینا پڑا اور اسی سرگرمی کو جواز بنا کر آخرکار مقتدرہ نے ملک کے آئینی و قانونی نظام کو غیر موثر اور معاشرتی نظم و ضبط کو دگرگوں بنا کے قومی بیانیہ پہ اجارہ داری اور نیشنل سکیورٹی پالیسی پہ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا بلکہ آج بھی ٹی ٹی پی کو فتنہ قرار دے کر کچلنے کے لئے قومی وسائل اور لامحدود اختیار پہ تصرف پا لیا گیا گویا لامتناہی جنگیں، شورشیں اور مذہبی انتہا پسندی بالآخر طاقتوروں کے لئے قوموں کی فکری آزادیوں اور مادی وسائل پہ قبضہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ جیسے 2014 میں پی ٹی آئی کی صورت میں سیاسی انتہا پسندی کے رجحان کی آبیاری کر کے جس نامطلوب جدلیات کو مہمیز دی گئی تھی اُسی ناشائستہ بنا دینے والی کشمکش کو اب سخت گیر ریاست (Neo۔ authoritarian regime) کی تشکیل کا جواز بنایا جا رہا ہے۔ تاہم ہماری تقدیر کے مالک ریاست پہ اپنی گرفت مضبوط بنا لینے کے باوجود صحت مند معاشرے کی تشکیل کے ہنر سے ناواقف ہونے کی وجہ سے مملکت کے داخلی نظام کے اندر مذہبی، سماجی اور لسانی تضادات کو کم کر کے معاشرتی توازن پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے، ہماری ریاست کے طاقتور قلعے کی یہی وہ کمزور دیوار ہے، جس پہ اندرونی و بیرونی دشمن حملہ زن ہوا چاہتے ہیں۔
مذہبی انتہا پسندی ہماری سوسائٹی کا وہ پیچیدہ مظہر ہے جس نے خطہ میں گہرے سماجی، سیاسی اور ثقافتی اثرات چھوڑنے کے علاوہ مذہبی جماعتوں کو اپنے حصار میں مقید کر کے اس قدر بے لچک بنا دیا کہ ان کے لئے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ ہم قدم رہنا دشوار ہو گیا، بظاہر یہی لگتا ہے کہ دینی جماعتوں کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے اور مروجہ سیاسی افکار مستقبل کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے ناکافی ثابت ہوں گے، تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ مذہبی تحریکیں ہمیشہ اپنے ہی بنائے ہوئے بے لچک اصولوں کا شکار بنتی ہیں، آج بھی ہمارے مذہبی رہنما مستقبل کے حوادث کو دیکھنے اور بدلتے عالمی منظرنامہ کے مطابق اپنے انسانی سرمایہ کو نارمل بنانے کی بجائے روایتی شدت کے ساتھ وقت کے دھارے کو روکنے میں سرگرداں ہیں، اگر وہ اپنے سیاسی افکار اور سماجی رویوں کو وقت کی رفتار سے ہم آہنگ نہ کر پائے تو مستقبل کے دبستانوں میں مذہبی جماعتوں کے مروجہ طرز سیاست کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ تیونس کی اسلام پسند النہضہ پارٹی نے 30 سال تک اعتدال پسند اسلامی تصورات کی ترویج کے باوجود بالآخر خود کو مذہبی سیاست سے الگ کر لیا۔ النہضہ کے رہنما راشد الغنوشی نے 2012 میں کہا تھا کہ ہم مذہب کو سیاسی جدوجہد سے دور رکھنے کے خواہاں ہیں کیونکہ جدید ریاستیں نظریات، آفاقی نعروں اور مذہبی تنازعات سے نہیں بلکہ عملی پروگراموں سے چلتی ہیں۔ 2011 میں، النہضہ نے عوامی تحریک کے ذریعے صدر زین العابدین بن علی کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد ملک کا پہلا جمہوری انتخاب جیتا لیکن عملی سیاست میں وہ کچھ ڈلیور نہ کر سکی، 2014 میں، وہ پارلیمانی انتخابات میں سیکولر نداٹونس پارٹی کے بعد دوسرے نمبر پر آئی تو مخلوط حکومت کا حصہ بن گئی۔ اس وقت کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ النہضہ کا جمہوری پارٹی بننے کا فیصلہ معاشرے کے ہر شعبوں تک اپنی اپیل کو وسعت دینے کی مساعی کا حصہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اسلامی اقدار کو ترک کر دے گی، وہ پھر بھی رہیں گی۔ تیونس میں سیاست اور تہذیب کی روح کے طور پر اسلام آج بھی قومی بیانیہ اور پالیسی تجاویز کی رہنمائی کرتا ہے لیکن جمہوری تناظر میں اُن سیکولر سیاسی قوتوں کو یقین دلانے کے لیے، جو النہضہ کی جمہوریت سے وابستگی بارے شکوک و شبہات کا شکار تھیں، مطمئن کر لیا گیا۔
بلاشبہ اسلام کا منشا بھی ایسے صحت مند معاشرے کا قیام ہے جو فلاحی ریاست کی تشکیل کو بنیادیں فراہم کر سکے لیکن ہمارے ملک کی مذہبی قوتیں سخت گیری اور ذہنی جمود کی وجہ سے معاشرتی توازن پیدا کرنے والی فطری لچک کھو بیٹھی ہیں۔ جماعت اسلامی کے دستور پہ تنقید کرتے ہوئے پروفیسر سرور نے لکھا تھا کہ اسلام ایسی مذہبی ریاست کے قیام کا روادار نہیں ہو سکتا، جو اُسے نوع انسانی کے مجموعی دھارے سے جدا کر دے، انہوں نے کہا ”جب بھی کبھی اس زمین پہ کہیں کوئی فلاحی اسلامی ریاست قائم ہوئی تو وہ سیکولر سٹیٹ ہو گی“ ۔ پروفیسر سرور کی طویل بحث کا لب و لباب یہی تھا کہ مثالی فلاحی اسلامی ریاست میں کسی خاص مذہب یا عقیدے کا غیر فطری غلبہ ہو گا نہ دیگر مذاہب و نظریات کی تحقیر کی جائے گی، اُس صحت مند اسلامی معاشرے میں تشدد کے ذریعے مذہبی اقلیتوں یا مختلف نظریات رکھنے والوں سے مذہبی آزادی اور جینے کا حق نہیں چھینا جائے گا لیکن آج کی مذہبی جماعتوں کے سامنے ایران کی ولایت فقیہا اور افغان طالبان جیسی مذہبی ریاستوں کے ماڈل ہیں جو تفریق، تشدد، نفرت اور عدم رواداری جیسی خصوصیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مستقبل کے مجوزہ ریاستی نظام میں بقاء کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے جماعت اسلامی اور جمعیت کی صلاحیت، زندہ و جاوید سیاسی پارٹیوں کے طور پر شعار اسلامی کے احیاء کے لئے اہم بن سکتی ہے۔ تاہم، موجودہ غیر یقینی صورت حال میں جماعت اور جمعیت کو جن سماجی و اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے وہ غیر معمولی لچک اور نئی اپچ کے متقاضی ہیں، یہ واضح طور پر جاننا تو ممکن نہیں کہ متذکرہ بالا جماعتوں کا مستقبل قریب میں سیاسی طرز عمل کیا ہو گا، کیا وہ روایتی سیاسی جماعتوں کی طرح محض انتخابی مقابلے اور ریاست کے موثر انتظام پر توجہ مرکوز رکھیں گی یا پھر اخوت انسانی کے جمہوری تقاضوں کے پیش نظر نفس انسانی کی تطہیر اور ذہنی ارتقاء کے لئے خیر و شر کے ابدی پیمانوں کی نئے آلات اور نئی اصلاحات میں تفہیم کا فریضہ سر انجام دے پائیں گی؟ سیاسی مسابقت میں جماعتوں کی بڑھتی ہوئی تلویث اور تنظیمی مسائل اسلامی تحریکوں کی ہم آہنگی اور اتحاد کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ النہضہ کی مثال جمہوری ماحول میں اسلامی تحریکوں کی رفتار کے لئے اہم بصیرت فراہم کرے گی۔ درحقیقت، النہضہ کا اپنے اساسی نظریے کو ترک کیے بغیر عملیت پسندی کی طرف پیشقدمی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگرچہ ایرانیوں کی مانند مذہبی بیانیہ پہ بھی انتخاب جیتا جا سکتا ہے لیکن وہ اقوام عالم میں اپنے ملک کے لئے برابری کا مقام لینے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ النہضہ کا سیاسی اجتہاد اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ دیگر اسلامی تحریکیں بھی اپنے آپ کو معروف حیثیت دلانے اور مستقبل میں تکثیری سیاسی ماحول کے اندر چیلنجوں کو نیویگیٹ کر سکتی ہیں۔


