ادھوری کہانیوں کا آسیب: انسل کا بیانیہ
رات کی تاریکی میں اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک لرزہ خیز چیخ گونجی اور ثنا یوسف کی سالگرہ کا دن اس کے لیے موت کا پروانہ بن گیا۔ ایک ایسا واقعہ جس نے نہ صرف ایک لڑکی کی زندگی نگل لی بلکہ معاشرتی گہرائیوں میں چھپی ایک بیماری کو بھی سطح پر لے آیا۔ آئی جی اسلام آباد کے بیان نے ایک ایسے ناسور کی نشاندہی کی ہے جو مغرب میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب ہمارے ہاں بھی اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ ”مجرم ثنا یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا جبکہ وہ مسلسل انکار کرتی رہی۔“ یہ جملہ بظاہر سادہ مگر اپنے اندر انسانی نفسیات کی کئی گرہیں اور معاشرتی بگاڑ کی کڑیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ کہانی صرف ایک قتل کی نہیں، یہ ان ادھوری کہانیوں کا آسیب ہے جنہیں دنیا ”Involuntary celibacy“ یعنی ”غیر ارادی تجرد یا اکیلا پن“ یا مختصراً ”Incel“ کہتی ہے۔
یہ کوئی نیا تصور نہیں کہ کچھ افراد رومانوی یا جنسی تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ انسانی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو آپ کو ایسے کتنے ہی کردار ملیں گے جو اپنی جذباتی تنہائی میں گھٹتے رہے یا جن کے دل میں محبت کی پیاس کبھی نہ بجھ سکی۔ قدیم یونانی فلسفے میں افلاطون نے محبت کی ماہیت پر گہری بحث کی ہے، جہاں جذباتی اور روحانی تعلق کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن جسمانی اور جنسی تعلقات سے محرومی کو کبھی بھی اتنی بڑی سماجی شناخت نہیں ملی جتنی کہ آج کے دور میں ”انسیل“ کو ملی ہے۔ مذہبی نکتہ نظر سے دیکھیں تو دنیا کے اکثر بڑے مذاہب میں تجرد کو بعض اوقات روحانی ترقی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ کیتھولک مسیحیت میں پادریوں اور راہبات کے لیے تجرد کا تصور، یا ہندو مت میں سادھوؤں کا دنیاوی لذتوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا، یہ سب غیر ارادی نہیں بلکہ ارادی انتخاب تھے۔ لیکن انسیل کا مسئلہ ارادے کی بجائے مجبوری کا ہے۔ یہ محرومی انہیں دوسروں کی طرف سے مسترد کیے جانے کے نتیجے میں محسوس ہوتی ہے، اور یہ مسترد کیا جانا ان کے اندر شدید غصہ، مایوسی اور بعض اوقات نفرت میں بدل جاتا ہے۔
انسانیت کا سفر ارتقا کے کٹھن مراحل سے گزرا ہے۔ حیاتیاتی طور پر، جنسی تعلقات اور نسل کی بقا کا ایک گہرا تعلق ہے۔ ارتقائی نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان میں جفتی کی خواہش اور تعلقات قائم کرنے کی جبلت گہری رچی بسی ہے۔ یہ صرف نسل بڑھانے کا عمل نہیں بلکہ سماجی تعلقات، قربت اور جذباتی وابستگی کا بھی حصہ ہے۔ جب یہ جبلت غیر فطری طور پر دبائی جاتی ہے یا اپنی تکمیل سے محروم رہتی ہے، تو حیاتیاتی دباؤ نفسیاتی مسائل کا روپ دھار لیتا ہے۔ ایک انسیل کے دماغ میں ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے ہارمونز کی سطحیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جو موڈ، خوشی اور سماجی تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان ہارمونز کی عدم توازن کی صورت میں بے چینی، ڈپریشن اور غصے جیسی کیفیات پیدا ہو سکتی ہیں۔
فلسفیانہ نکتہ نظر سے، انسیل کا مسئلہ فرد کی آزادی اور خود مختاری کے تصور سے بھی ٹکراتا ہے۔ ایک آزاد معاشرے میں ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے رشتوں کا انتخاب کرے۔ ثنا یوسف کا اپنے قاتل سے دوستی یا رشتہ نہ رکھنے کا فیصلہ اس کی ذاتی آزادی کا عکاس تھا۔ لیکن انسیل کی سوچ اس آزادی کو تسلیم نہیں کرتی۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ”حق“ ہے کہ انہیں رومانوی یا جنسی تعلقات میسر آئیں۔ یہ حق کی طلب ایک خطرناک رخ اختیار کر لیتی ہے جب یہ تسلیم نہ کی جائے اور جبر کا راستہ اختیار کیا جائے۔ وجودیت کے فلسفے میں انسان کو اپنے وجود کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، اور اس کی تنہائی یا محرومی کو اس کی اپنی چوائس کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن انسیل خود کو معاشرے اور خواتین کے مظلوم سمجھتے ہیں، اور یہی مظلومیت کا احساس انہیں ایک زہریلی شناخت دیتا ہے۔ وہ ایک ایسے دائرے میں قید ہو جاتے ہیں جہاں انہیں اپنے تمام مسائل کی جڑ معاشرے، نظام اور بالخصوص خواتین نظر آتی ہیں۔
سماجی طور پر، انسیل ایک ابھرتا ہوا گروہ ہے جس کی جڑیں ڈیجیٹل دنیا میں گہرائی تک پیوست ہو چکی ہیں۔ انٹرنیٹ فورمز اور مختلف سوشل میڈیا گروپس نے انسیل کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جہاں وہ اپنی محرومیوں کا رونا روتے ہیں، خواتین کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور ایک دوسرے کے منفی خیالات کی تائید کرتے ہیں۔ یہ گروپس اکثر ایک ”ایکوئنگ چیمبر“ کا کام کرتے ہیں جہاں ان کے زہریلے خیالات مزید تقویت پاتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں خوبصورتی اور ظاہری شکل کو حد سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، ڈیٹنگ ایپس پر مبنی ثقافت نے انسیل کے احساسِ محرومی کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ ”ہائیپر گیمی“ (خواتین کی بہتر پارٹنر کی تلاش) اور ”انسیل ٹرانسفارمیشن“ (خود کو بدلنے کی کوشش) جیسے تصورات نے ان کی گفتگو کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ گروپس ایک ”ریڈ پِل“ اور ”بلیک پِل“ کی فلسفہ گری کرتے ہیں، جہاں ”ریڈ پِل“ حقیقت کی تلخیوں کو جاننے کو کہتے ہیں اور ”بلیک پِل“ اس حد تک مایوسی کہ زندگی کی کوئی امید ہی باقی نہ رہے۔ انسیل کے یہ گروپس معاشرتی رابطوں کے فقدان کا نتیجہ بھی ہیں، جہاں حقیقی دنیا میں تعلقات قائم کرنے میں ناکامی کے بعد وہ مجازی دنیا میں پناہ لیتے ہیں، جہاں انہیں ہم خیال لوگ ملتے ہیں جو ان کے دکھ کو سمجھتے ہیں اور انہیں مزید تنہائی اور نفرت کے گڑھے میں دھکیلتے ہیں۔
نفسیاتی طور پر، انسیل ایک پیچیدہ نفسیاتی حالت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں شدید کمتری کا احساس، بے چینی، ڈپریشن، سماجی فوبیا، اور بعض اوقات شخصیت کے مسائل بھی پائے جاتے ہیں۔ ”ناکارہ“ محسوس کرنے کا یہ احساس انہیں ایک تاریک راستے پر لے جاتا ہے جہاں وہ دوسروں کو اپنی محرومیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں۔ جذباتی ذہانت کا فقدان، دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت میں کمی، اور اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے دوسروں پر ڈالنے کا رجحان ان کے نفسیاتی پروفائل کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب یہ تمام نفسیاتی مسائل شدت اختیار کر لیتے ہیں تو بعض اوقات وہ پرتشدد رویے اختیار کر لیتے ہیں، جیسا کہ ثنا یوسف کے معاملے میں ہوا۔ یہ تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ ذہنی اور جذباتی بھی ہوتا ہے، اور انٹرنیٹ پر خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی اس کی ایک عام مثال ہے۔ انسیل اکثر خود کو معاشرے کا ”مظلوم“ سمجھتے ہیں، اور ان کا یہ مظلومیت کا بیانیہ انہیں اپنے پرتشدد اقدامات کو جائز ٹھہرانے کا جواز فراہم کرتا ہے۔
ثنا یوسف کے معاملے نے ہمیں یہ باور کرایا ہے کہ یہ مسئلہ اب صرف مغربی معاشروں تک محدود نہیں۔ پاکستانی معاشرہ بھی جہاں سماجی اقدار اور روایتی رشتے مضبوط سمجھے جاتے ہیں، تیزی سے بدل رہا ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹلائزیشن نے سماجی روابط کی نوعیت کو تبدیل کر دیا ہے۔ نوجوانوں میں تعلقات قائم کرنے کی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں، اور جذباتی ذہانت کی کمی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔ خاندانی نظام کی کمزوری، تنہائی اور سماجی دباؤ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ ہمیں اس مسئلے کی گہرائیوں کو سمجھنا ہو گا اور اس کے حل کے لیے جامع حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ تعلیم، ذہنی صحت کی آگاہی، جذباتی ذہانت کی تربیت، اور صحت مند سماجی روابط کے فروغ سے ہی ہم اس آسیب سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، ثنا یوسف جیسی مزید کہانیاں جنم لیتی رہیں گی اور ادھوری کہانیوں کا یہ آسیب ہمارے معاشرے کو نگلتا چلا جائے گا۔ ہمیں انسیل کو مجرم قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان نفسیاتی اور سماجی عوامل پر بھی غور کرنا ہو گا جو انہیں اس حال تک پہنچاتے ہیں۔ کیا یہ محض ذاتی ناکامی ہے یا معاشرتی ڈھانچے کا ایک حصہ؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمیں پریشان کر رہا ہے۔

