دیر یوتھ جرگہ کا قیام اور تیمرگرہ میڈیکل کالج بچاؤ تحریک کی کامیابی کا سفر


 

کرپشن کسی بھی معاشرے کے لئے کسی ناسور سے کم نہیں جو اداروں کو بگاڑنے میں اول درجے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے کرپشن کی جڑیں اس ملک کے ہر ادارے میں مضبوط ہوتی جا رہی ہیں اور ادارے تباہ ہوتے نظر آرہے ہیں۔ کوئی معمولی سا کام بھی بغیر رشوت کے نہیں ہوتا۔ اور یہ سلسلہ نیچے سے اوپر لیول تک مختلف پیمانے پر جاری رہتا ہے۔ اسی طرح کرپشن اور بدعنوانی کا ایک واقعہ اس وقت ہوا جہاں تیمرگرہ میڈیکل کالج میں ایک نجی ٹیسٹنگ ادارے کے ذریعے بھرتیوں کے لئے ٹیسٹ لیا گیا اور رزلٹ میں جو ٹاپ پر تھے ان کو انٹرویو تک کے لئے نہیں بلایا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کے ٹیسٹ مارکس اور پھر انٹرویو کال کی تصاویر شیئر ہوئیں جس میں فیل امیدواروں کو بھی بلایا گیا اور اسی طرح ٹاپرز نیچے گئے اور ان کی سلیکشن تک نہیں ہوئی۔ یہ بات سوشل میڈیا سے نکل کر سڑک پر آ گئی جہاں اس کے خلاف احتجاج ہوا۔ احتجاج کے بعد مسجد میں ہم جمع ہوئے اور وہاں قسم لی کہ ہم بغیر کسی سیاسی یا ذاتی ایجنڈے کے حالیہ بھرتیوں اور باقی کرپشن کے خلاف اور ہسپتال میں ہونے والی آلات کی گمشدگی پر کھڑے ہوں گے۔ وہاں مسجد سے 30، 40 لوگوں کے نام اور ایڈریس بمعہ موبائل نمبر آئے جن میں اکثریت میں نوجوان تھے۔ انھوں نے اپنی احتجاجی تحریک مرتب کرنے کے لئے تین دن بعد ایک میٹنگ رکھی جس میں فیصلہ ہوا کہ اس ٹولے اور اس بیٹھک کو غیر سیاسی نام ”دیر یوتھ جرگہ“ دینا ہے اور اسی پلیٹ فارم سے تیمرگرہ میڈیکل کالج بچاؤ تحریک کا آغاز ہوا اور اگلے جمعے کو دوبارہ احتجاج کی کال دی گئی۔ احتجاجی سلسلہ جاری رہا اور جرگہ کی میٹنگز بھی ساتھ ہوتی رہیں جس میں باقاعدہ تنظیمی عہدوں کی مشاورت کی گئی اور متفقہ طور پر جماعت اسلامی یوتھ سے عتیق الرحمٰن چیئرمین، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے ضلعی صدر شہاب احمد جرگہ کے صدر اور واجد اللہ جن کا تعلق تحریک انصاف سے تھا سیکٹری انفارمیشن ہو گئے، مسلم لیگ نون کے جوان رہنماء اخونزادہ سعید اللہ اور عوامی نیشنل پارٹی سے ناصر افغان، پیپلز یوتھ کے خانزادہ جنید ظفر اور میں ڈاکٹر عدنان خان اس جرگے کے مرکزی ستون بنے اور یہ جرگہ اپنی جد و جہد کے رستے پر چل پڑا۔

جس کے خلاف ہم تین سال پہلے نکلے اور قوم کو چلا چلا کر کہتے رہے کہ ہماری لڑائی ذاتی نہیں بلکہ مافیاز اور کرپشن کے خلاف ہے اس وقت ہمیں قسم قسم کی باتیں ہوتی رہی، انتظامیہ مافیاز کی ساتھی رہ کر ہم پر ایف آئی آر کرتی رہی۔ ہمارے خلاف سرکاری میڈیکل کالج ملازمین بطور فرنٹ لائن ڈیفنڈر اور فائٹرز استعمال ہوتے رہے جو ہمارے خلاف پریس کانفرنسز کرتے رہے۔ ہمارے خلاف ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف بطور پروپیگنڈا اور پریشر گروپ استعمال ہوتے رہے جو ہمیں اپنے مطالبات سے پیچھے نا ہٹنے پر سروسز کے بائیکاٹ کی دھمکیاں دیتے رہے۔ ہمارے خلاف اس وقت مختلف سیاسی جماعتوں کے چمچوں کا سہارا لیا گیا اور ہمیں بار بار کسی نے کسی ذریعے سے اپروچ کیا گیا تاکہ ہم اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ہمارے ساتھیوں پر حملہ کیا گیا اور الزام ہم پر لگایا گیا۔ ہمارے ساتھیوں کی فیملیز کو ٹارچر کیا گیا۔ ان کا ٹرانسفر کیا گیا۔ اور ان سب میں مافیاز کے سہولت کار تحریک انصاف کے لیڈرز اور ورکرز تھے جن کا اس کرپشن اور بدعنوانی میں بڑا حصہ رہا۔ بات اس وقت تبدیل ہوئی جب تحریک انصاف کو ان کا کرپشن میں حصہ ملنا بند ہوا اور مگرمچھوں نے بڑے پیمانے پر شکار کرنا شروع کیا کیونکہ ان کو اس کرپشن کے باوجود ڈی جی ہیلتھ تحریک انصاف نے بنایا اور اسے کھلی چھوٹ دی گئی۔ ہم چیختے رہے کہ ضلع میں کرپشن ہو رہی ہے اور پورا ہیلتھ سسٹم یرغمال ہے۔ وکلاء برادری کو آگاہ کیا، گورنر ہاؤس تک گئے، سیکٹری ہیلتھ اور چیف سیکریٹری تک گئے، نیب اور اینٹی کرپشن تک گئے، دیر کے نام پر چلنے والی تنظیموں کو آگاہ کیا، میڈیا کو بھی دستاویزات فراہم کیں لیکن خاموشی ہی رہی اور ہمارے ساتھ کھڑے ہونے والے بہت کم لوگ تھے۔ یہاں تک کہ ہم کورٹ تک ان کو گھسیٹتے رہے۔ وہاں سے بھی سرکاری اثر رسوخ کا استعمال کر کے کیس کو دوسری طرف لے جانے کی کوشش ہوئی لیکن عدالت نے مزید بھرتیوں پر سٹے دیا اور اس طرح کرپشن کا ایک رستہ روکا گیا۔ اس کے مقابلے میں الٹا ہمارے ساتھیوں پر کیسز بنائے گئے جن کا ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور الحمدللّٰہ 26 مئی 2025 کو عدالت نے وہ کیسسز خارج کیے اور ہمارے ساتھی عدالت سے سرخرو ہوئے۔ ہمارے احتجاجوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہوتی رہی، ہماری آواز دبانے کی پلاننگ ہوتی رہی لیکن ہم نے دیر یوتھ جرگہ سے تیمرگرہ میڈیکل کالج بچاؤ تحریک جاری رکھی اور ہر ہفتے احتجاج کا تسلسل مہینوں جاری رکھا جو دیر کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ انکوائریاں ہوتی رہیں اور ہمارے ساتھی کھڑے رہے۔ پھر کچھ ساتھی باہر ممالک رزق حلال کے لئے چلے گئے اور کچھ یہاں مصروف ہو گئے اور کچھ حالات ایسے تھے مزید احتجاج جاری رکھنا ممکن نہیں تھا تو احتجاج کا وہ سلسلہ ختم ہو گیا اور اور سوشل میڈیا پر وہ کام جاری رکھے ہوئے تھے۔

ہمارے تین مطالبات میڈیکل کالج میں ہونے والی بھرتیوں میں میرٹ کی بالادستی اور شفافیت، ڈی ایچ کیو ہسپتال کے لئے خریدے گئے میڈیکل آلات کا آڈٹ اور ہسپتال میں موجودگی یقینی بنانا، میڈیکل کالج کالونی کے لئے خریدی گئی زمین میں خورد برد کا حساب شامل تھے۔ ہم اس کاز کے لئے بغیر کسی ذاتی فائدے یا لالچ کے سیاست سے بالاتر ہو کر صرف اپنے دیر اور اپنے لوگوں کے لئے یہ جدوجہد کرتے رہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہیں کہ صوبائی اسمبلی کی ہیلتھ سٹینڈنگ کمیٹی رپورٹ میں ثابت ہوا اور خود تحریک انصاف کے دیر سے نمائندگان اقرار کر رہے ہیں کہ ہسپتال سے آلات چوری ہوئے۔ 32 ایکسرے مشینوں میں سے 25 غائب ہیں جن کی قیمت 19 کروڑ بنتی ہے۔ زمین کی خریداری میں بھی جو جو باتیں ہم کرتے رہے وہی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھیں کہ اس میں بڑے پیمانے پر پیسہ کھایا گیا۔ نوکریوں پر میں پچھلے دنوں ایک پوسٹ کر چکا کہ کیسے ایک ایم پی اے کے بھائی کو ٹیسٹ میں فیل ہونے کے باوجود بھرتی کروایا گیا۔ اس طرح 234 دیگر لوگوں کو بھرتی کرایا گیا۔

یہ صرف ضلعی سطح پر ہونے والی کرپشن کی بات تھی تحریک انصاف نے اسی کرپشن کو پروموٹ کرنے کے لئے ڈی جی ہیلتھ بنا کر اس کا دائرہ صوبے تک پھیلایا جس کا نتیجہ اب صوبے میں ضلع دیر کرپشن میں تیسری پوزیشن پر آیا اور صوبائی لیول پر ہیلتھ سیکٹر میں میگا کرپشن سکینڈلز سے اربوں کا اس صوبے کو جو نقصان ہوا، سب آپ کے سامنے ہیں۔

مجھے دیر یوتھ۔ جرگہ کے اپنے باہمت اور بہادر ساتھیوں پر فخر ہے جنہوں نے اپنی جدوجہد مسلسل سے ایک مافیا کو اپنے عوام کے سامنے مافیاز ثابت کر دکھایا اور آج وہ مافیاز کا سرغنہ نوکری سے جبری برخاست کیا گیا اور اس سے ان پیسوں کی ریکوری ہوئی جو اس نے عوام کا خون چوس کر سرکاری کرسی کے استعمال سے ہڑپے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اور تمام ان ساتھیوں کے شکر گزار ہیں جنھوں نے اس جدوجہد میں بغیر کسی لالچ کیے ہمارا ساتھ دیا۔ عوام کے حقوق کی جنگ جاری رہے گی۔

Facebook Comments HS