خواب، محبت اور زندگی 27

وہ خوبصورت خاتون جو میری بہن بھی ہو سکتی تھی
جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے 1965 میں میرے میٹرک کرنے کے بعد ہم عزیز آباد کے ایک کشادہ گھر میں منتقل ہو گئے تھے۔ عزیز آباد کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ ایک زمانے میں یہ کتنا صاف ستھرا اور خوب صورت علاقہ ہوتا تھا۔ کئی سال بعد اس کی وجہ شہرت ایم کیو ایم کا ہیڈ کواٹر ہونا بنی۔ ایک تعمیراتی کمپنی نے بڑے سلیقے سے ایک سو بیس گز کے پلاٹوں پر قطار در قطار بنگلہ نما گھر بنائے تھے۔ عزیز آباد نمبر آٹھ میں ایسے ہی ایک گھر میں ہماری رہائش تھی۔
ہمارے گھر سے قریب کریم آباد میں دو کالج تھے، اپوا گرلز کالج اور سراج الدولہ کالج جو اسی سال راجہ صاحب محمود آباد نے کھولا تھا۔ میں اپوا کالج میں داخلہ لینا چاہتی تھی لیکن امی نے میرے لئے جو بڑے بڑے خواب دیکھ رکھے تھے، ان کے خیال میں وہ میرے ڈاکٹر بننے کی صورت میں ہی پورے ہو سکتے تھے۔ سراج الدولہ کالج میں مخلوط ذریعۂ تعلیم تھا اور امی کا خیال تھا کہ میڈیکل کی تعلیم کے لئے مجھے ابھی سے لڑکوں کے ساتھ پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے میرے لئے سراج الدولہ کالج کا انتخاب کیا۔ کسی گزشتہ باب میں پی آئی اے کی قاہرہ پرواز کو پیش آنے والے حادثے کا ذکر ہوا تھا، جس میں کئی ممتاز صحافی جاں بحق ہوئے تھے۔ اس وقت میں سراج الدولہ کالج میں زیر تعلیم تھی۔ میں نے سارے شہر کو سوگ میں ڈوبا دیکھا تھا۔ اس وقت تک اجتماعی دکھ، مشترکہ غم اور قومی وحدت کا احساس باقی تھا۔ اس وقت تک ریاست سے لوگوں کی توقعات اور امیدیں باقی تھیں۔ امی جب مجھے کالج میں داخل کرانے گئیں تو ایک مزے دار واقعہ پیش آیا۔ کالج کلرک نے فارم دیتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا ”آپ دونوں میں سے کس کو داخلہ چاہیے؟ ”۔ امی کی شادی سولہ سال کی عمر میں ہو گئی تھی اور وہ مجھ سے سترہ سال بڑی تھیں۔ اس لئے اکثر لوگ ہمیں بہنیں سمجھتے تھے۔ اسی طرح ایک رات ابی، امی اور میں چہل قدمی کے لئے نکلے تو دو لڑکے ہمارے پاس سے تیزی سے یہ کہتے ہوئے گزر گئے ”ہمیں تو ایک نہیں ملتی۔ یہ دو دو کو لے کر گھوم رہا ہے ”۔ اور ابی نے ذرا جو پروا کی ہو۔ وہ ہر جگہ ہمیشہ ہمیں ساتھ لے کر جاتے تھے۔
آسمان تدریس کے روشن ستارے
میں نے سراج الدولہ کالج میں فرسٹ ائر انٹر سائنس پری میڈیکل گروپ میں داخلہ لیا تھا۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ کالج اسی سال قائم ہوا تھا لیکن راجہ صاحب محمود آباد نے مشہور اور تجربہ کار اساتذہ کا انتخاب کیا تھا۔ مشہور ترقی پسند نقاد مجتبیٰ حسین اور عتیق احمد ہمیں اردو اور انگریزی پڑھاتے تھے۔ مجتبیٰ صاحب اکثر بزم ادب کے پروگراموں میں جوش ملیح آبادی کو لے کر آتے تھے لیکن ہم ٹھہرے فرسٹ ائر فول، ہمیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ ہمیں دنیائے ادب کی کس جناتی شخصیت سے شرف ملاقات حاصل ہو رہا ہے۔ ویسے بھی ہم نے اپنے آپ کو سائنس کا طالبعلم سمجھتے ہوئے شاعری سے کچھ عرصہ دور رہنے کی کوشش کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ایک دفعہ شرارتاً صرف مجتبیٰ صاحب کو ستانے کے لئے عندلیب شادانی کی اردو شاعری کے بارے میں ایک متنازعہ کتاب کالج لائبریری سے ایشو کرائی اور اسے ہاتھ میں لے کر اس طرح گھومتی تھی کہ مجتبیٰ صاحب کی نظر اس پر ضرور پڑے اور وہی ہوا جیسے ہی ان کی نظر پڑی، ان کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے ”اچھا تو آج کل آپ یہ کتاب پڑھ رہی ہیں؟ ”اور میں ہنستے ہوئے وہاں سے بھاگ لی۔ یہ سطور لکھتے ہوئے احساس ہو رہا ہے کہ کبھی میں شرارتیں بھی کیا کرتی تھی۔ اپنی شخصیت کے اس پہلو کا مجھے کبھی اندازہ نہیں ہوا۔ اس پہلو کا تعلق نظریات، اخلاقیات یا کسی اعلیٰ مقصد سے نہیں تھا بس یہ بھی میرے اندر تھا لیکن میں نے اس چنچل پن کو ہمیشہ مسترد کیا اور اسے ایک خامی سمجھا۔ اکثر بس میں جانے کی بجائے میں اپوا کالج جانے والی محلے کی لڑکیوں کے ایک گروپ کے ساتھ پیدل کالج جایا کرتی تھی۔ اس زمانے کے طالب علم رہنماؤں میں مختار علی رضوی بہت مشہور تھے۔ ایک مرتبہ وہ اپنی چھوٹی بہن قمر کو ہمارے کالج داخلہ دلوانے کے لئے آئے تو ہم طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہم انہیں دور سے دیکھا کیے لیکن ان کی بہن قمر سے دوستی کرنے میں ہم نے بالکل دیر نہیں لگائی۔
اس زمانے میں کالجوں میں اور ریڈیو کی بزم طلبہ میں بھی سالانہ ہفتہ طلبہ بہت دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ اردو اور انگریزی میں انٹر کالجیٹ مباحثے اور مشاعرے ہوتے تھے۔ اپنے کالج کے ہفتۂ طلبا میں میری ملاقات ایک لڑکی نون سے ہوئی۔ وہ میری دوست بن گئی اور مجھے ساتھ لے کر عبید اللہ علیم سے ملنے اسلامیہ کالج گئی۔ علیم بی اے فائنل کے طالبعلم تھے اور شاعر کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے۔ وہ دور طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لحاظ سے سنہرا دور تھا۔ نصیر ترابی، پیرزادہ قاسم، پروین شاکر اور دیگر زمانہ طالب علمی میں ہی مشہور ہو گئے تھے۔
اب تو ہماری طاہرہ کاظمی نے گائنی فیمنزم کے حوالے سے بہت معلومات پھیلائی ہیں۔ لیکن میرے کالج کے زمانے میں گھر میں امی کے جو گائنی کے مسائل چل رہے تھے، ان کے بارے میں ہماری معلومات صفر تھیں۔ طاہرہ نے ماہواری پر بہت سی کتابیں لکھ ڈالی ہیں تو امی کو بھی ماہواری کی زیادتی کا سامنا تھا۔ امی کی گائنا کولوجسٹ نے ایک غیر معمولی علاج تجویز کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھر بچے کی پیدائش کے عمل سے گزرنے سے امی کی یہ ماہانہ تکلیف صحیح ہو جائے گی۔ میں نہیں جانتی کہ طاہرہ اور دیگر ماڈرن گائنا کولوجسٹ اس بارے میں کیا کہیں گے لیکن ہمارے والدین نے اس مشورے کو سنجیدگی سے لیا اور اس پر عمل کر ڈالا۔ میں سراج الدولہ کالج میں فرسٹ ائر میں پڑھ رہی تھی اور ہم عزیز آباد میں رہتے تھے جب ہمارے سب سے چھوٹے بھائی فراز اس دنیا میں تشریف لائے۔ وہ مجھ سے پندرہ یا سولہ سال چھوٹے ہیں۔ اس زمانے میں احمد فراز کی غزلیں ریڈیو پر بہت گائی جاتی تھیں۔ ایسی ہی ایک غزل ریڈیو پر سن کر امی نے میرے بھائی کا نام فراز رکھا۔ خود فراز بھی اس بات سے آگاہ تھے کہ مائیں ان کے نام پر بچوں کا نام رکھتی ہیں، اسی لئے تو انہوں نے کہا تھا:
اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

