نوزائیدہ بچّوں کے مزید عام مسائل ان کی گھریلو دیکھ بھال (حصّہ اوّل)


نوزائیدہ بچّوں میں کچھ مسائل بہت عام ہیں جو اکثر والدین کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں کچھ مسائل بہت معمولی ہوتے ہیں اور ان کے لئے کوئی خاص علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا غیر ضروری علاج نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لیکن کچھ مسائل بہت سنگین ہوتے ہیں اور کبھی کبھی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں اگر ان کا بر وقت علاج نہ کیا جائے۔ آج ہم انہی مسائل پر بات کریں گے۔ ان میں ناف کی دیکھ بھال، جسم پر نکلنے والے دانے، الٹیاں، پاخانہ یا اسٹول کی تعداد و نوعیت، زبان کی سفیدی، چھاتی کی سوزش، سر پر سوجن، ویجائنا سے خون بہنا، نیند کا معمول اور دانتوں کے مسائل بہت اہم ہیں۔

1۔ ناف کی دیکھ بھال:

نوزائیدہ بچّے کی ناف کی دیکھ بھال بہت اہم ہے کیونکہ ناف کی غیر مناسب دیکھ بھال نوزائیدہ بچوں میں تشنّج یعنی ٹیٹنس اور سیپسس جیسی سنگین بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کی دیکھ بھال اور اس سے متعلقہ مسائل ذیل میں بیان کیے گئے ہیں۔

(الف) ناف کی عام اور روز مرّہ کی دیکھ بھال

ناف پر کوئی چیز لگائے بغیر اسے ایسے ہی چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ عام طور پر خود بخود سوکھ جاتی ہے اور پہلے ہفتے کے اندر خود ہی گر جاتی ہے۔ تاہم، انفیکشن کو روکنے کے لئے، اسے الکحل کے پھائے (Alcohol swab) سے صاف کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پر کچھ اور نہیں لگانا چاہیے کیونکہ یہ انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ جو پورے جسم میں پھیل سکتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی قسم کا پوڈر یا مرہم وغیرہ بھی نہیں لگانا چاہیے۔ مرہم لگانے سے ناف کے خشک ہونے میں اور گرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ کچھ علاقوں میں گائے کے گوبر کو ناف پر لگانے کا رواج ہے۔ یہ ایک خطرناک عمل ہے کیونکہ یہ تشنّج یا ٹیٹنس کا سبب بن سکتا ہے جو ایک شدید جان لیوا بیماری ہے۔ گوبر کو کبھی بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ناف کو خشک ہونے اور گرنے کے لئے اکیلا چھوڑ دینا بہترین عمل ہے۔

(ب) ناف سے پیپ کا اخراج

بعض اوقات ناف سے پیپ کا اخراج ہوتا ہے۔ یہ بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کے علاج کے لئے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ چونکہ نوزائیدہ بچوں میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے، لہذا ناف کا انفیکشن ایک جنرل انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے جسے سیپٹسیمیا کہتے ہیں جس کا اگر بر وقت علاج نہ کیا جائے تو بچّے کی جان جا سکتی ہے۔ لہذا اگر ناف سے پیپ کا اخراج ہوتا ہے تو مناسب علاج کے لئے بچّوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

(ج) ناف سے خون بہنا

بعض اوقات ناف سے خون بہنے لگ جاتا ہے۔ زیادہ تر یہ ناف کے خشک ہونے کے بعد بننے والی خشکی کو ہٹانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس طرح کا خون بہت کم ہوتا ہے۔ اگر شدید خون بہہ رہا ہو تو یہ معاملہ سنگین ہو سکتا ہے۔ شدید خون بہنا یا تو عارضی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے جیسے وٹامن ”کے“ کی کمی کی وجہ سے جسے نوزائیدہ بچے کی ہیمرہیجک بیماری (Hemorrhagic disease of newborn) کہا جاتا ہے یا پھر ہیموفیلیا ( (Hemophilia جیسی مستقل اور پیدائشی خون بہنے کی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دونوں حالتوں میں مناسب تشخیص اور فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے اور بچّے کو خون دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ لہذا بّچے کو فوراً کسی اچّھے ہنگامی علاج مہیّا کرنے والے اسپتال لے جایا جانا چاہیے۔

(د) ناف کا ہرنیا

1 سے 2 فیصد نوزائیدہ بچّوں میں رونے پر ناف پیٹ کے اوپر پھول جاتی ہے۔ اسے ناف کا ہرنیا کہتے ہیں۔ اس میں عام طور پر کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کو دبانے کے لئے ‏ کوئی پریشر پٹّی یا سکہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ایک سال کی عمر تک خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اگر یہ ایک سال کے عرصے میں ٹھیک نہیں ہوتا تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ البتّہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اگر بچّے کے رونے پر ناف پھولتی ہے اور انگوٹھے سے دباؤ ڈالنے پر واپس نیچے نہیں جاتی تو یہ آنتوں میں رکاوٹ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اس میں فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس لئے بّچے کو جلد از جلد کسی اچّھے اسپتال لے جانا چاہیے۔

2۔ جسم پر نکلنے والے دانے

نوزائیدہ بچّوں کے جسم پر اکثر مختلف قسم کے دانے نکل آتے ہیں۔ یہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔

ایک عمر کے پہلے ہفتہ اور پہلے مہینہ میں جسم پر لال رنگ کے باریک دانے نکلتے ہیں۔ کبھی یہ صرف چہرے پر ہوتے ہیں اور کبھی پورے جسم پر ہوتے ہیں۔ انہیں ایریتھیما ٹاکسیکم کہتے ہیں۔ اکثر لوگ اور ڈاکٹر انہیں الرجی سمجھتے ہیں۔ اور اکثر الرجی کی دوائیں بھی دیدیتے ہیں۔ لیکن ان دانوں کا سبب کسی قسم کی الرجی نہیں ہوتا۔ اور نہ ہی ان کے علاج کے لئے کسی الرجی کی دوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ ہی کسی قسم کے مرہم یا کریم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چند دنوں میں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اور کوئی نشان بھی نہیں چھوڑتے۔

دوسرے ذرا بڑے اور پیلے رنگ کے دانے ہوتے ہیں۔ ان کا سائز تقریباً دو سے تین ملی لیٹر ہوتا ہے۔ ان میں پیپ بھری ہوتی ہے۔ یہ اکثر خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ان کی وجہ جراثیم ہوتے ہیں۔ چونکہ نوزائیدہ بچّوں میں قوّت مدافعت کی کمی ہوتی ہے اس لئے اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ یہ جراثیم خون میں شامل ہو کر جسم کے دوسرے اعضاء تک پہنچ کر انہیں متاثّر کر دیں۔ اور انہیں بیمار کر دیں جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ایسے بچّوں کو فوری علاج اور اینٹی بایوٹکس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے اگر کسی بچّے کے جسم پر چار پانچ پیپ بھرے دانے نظر آئیں تو کسی بچّوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ اگر ڈاکٹر اینٹی بایوٹکس تجویز کرے تو ضرور استعمال کریں اور انکار نہ کریں۔

اس کے علاوہ کبھی کبھار بچّے کو ایگزیما بھی ہو سکتا ہے جو اکثر چہرے پر ہوتا ہے۔ اور لمبے عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ جس کے علاج کے لئے مختلف قسم کی دواؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔

3۔ الٹیاں :

نوزائیدہ بچّوں میں اور زندگی کے پہلے چند ہفتوں کے دوران الٹیوں کا ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ زیادہ تر بچّوں میں یہ معمولی اور بے ضرر ہوتی ہیں۔ جو خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ ان کو کسی قسم کے علاج یا دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ البتّہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ بچّے کو پانی کی کمی نہ ہو جائے۔ اس لئے بچّے کو ماں کا دودھ بار بار دیتے رہنا چاہیے جو نہ صرف ان الٹیوں کا علاج ہوتا ہے بلکہ پانی کی کمی کو بھی روکتا ہے۔ الٹیوں کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ الٹیوں کی عام وجوہات میں ضرورت سے زیادہ دودھ پلانا، معدے اور آنت میں رکاوٹ، انفیکشن خاص طور پر پیشاب کا انفیکشن، سوزش معدہ و آنت یعنی گیسٹرو اینٹرائٹس وغیرہ شامل ہیں۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ الٹیوں کی وجہ تلاش کی جائے اور اس کا علاج کیا جائے۔ لیکن سب سے اہم بات پانی کی کمی کو روکنا ہے۔

الٹیوں کی وجوہات اور علاج

(الف) بعد از پیدائش فوری الٹیاں اور دودھ کا واپس نکلنا

نوزائیدہ بّچے عام طور پر اپنی زندگی کے پہلے ایک یا دو دن ایک دو بار یا بار بار الٹیاں کرتے ہیں۔ زیادہ تر یہ ماں کے رحم کے پانی کے بچّے کے پیٹ میں چلے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے، خاص طور پر اگر یہ پانی میکونیم سے آلودہ ہو۔ میکونیم سبز رنگ کا پاخانہ ہوتا ہے جو پیدائش کے بعد نوزائیدہ بّچے کا ہوتا ہے۔ تاہم یہ کبھی کبھار پیدائش یا زچگی سے پہلے بّچہ دانی میں بھی نکل سکتا ہے۔ اس قسم کی الٹیاں خود بخود رک جاتی ہیں اور اس میں کسی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا علاج عام طور پر بار بار دودھ پلانا ہے۔ بعض اوقات ڈاکٹر یا نرسیں اس کے لئے معدے کی صفائی کرتے ہیں۔ تاہم، زیادہ تر بچّوں میں اس کی ضرورت نہیں ہوتی اور الٹیاں خود بخود رک جاتی ہیں۔ صرف یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ نوزائیدہ بّچے میں پانی کی کمی نہ ہو۔ اس کا اندازہ نوزائیدہ بچّے کے پیشاب کی مقدار سے لگایا جاسکتا ہے۔ اگر وہ کافی مقدار میں پیشاب کر رہا ہے، تو شاید پانی کی کمی نہیں ہے۔ لیکن اگر الٹیاں زیادہ ہوں اور کئی دن جاری رہیں یا بچّہ کچھ بھی برداشت نہ کر رہا ہو تو فوری طور پر اسپتال لے جانا چاہیے۔

(ب) غذائی نالی، آنت یا معدے میں رکاوٹ

گلے کے پچھلے حصے سے معدے تک ایک پائپ یا ٹیوب ہوتی ہے جسے ”غذائی نالی“ کہتے ہیں۔ معدہ وہ اہم عضو ہے جہاں کھانا اور دودھ جمع ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ آنتوں میں منتقل ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ اعضاء مناسب طریقے سے نہیں بنتے اور ان میں رکاوٹ ہو سکتی ہے یہ رکاوٹ تین جگہ ہو سکتی ہے

(i) ۔ بندش نالی غذا یا ایسو فیجیل ایٹریزیا۔ اس میں غذا کی نالی میں رکاوٹ ہوتی ہے۔ اور دودھ معدہ میں نہیں پہنچ پاتا اور الٹی کی شکل میں واپس باہر آ جاتا ہے۔ اس قسم کے مریضوں میں اکثر غذا کی نالی پیدائشی طور پر دو حصّوں میں تقیسم ہوتی ہے۔ اس کی مزید کئی قسمیں ہیں۔ لیکن زیادہ تر مریضوں میں اوپر کا حصّہ سانس کی نالی سے جڑا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے دودھ پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہے۔ اور سانس میں بھی تکلیف ہوجاتی ہے اور بچّے کے سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ اس کا علاج بھی فوری آپریشن ہے۔ اس آپریشن میں غذائی نالی اور سانس کی نالی کے درمیان رابطہ کو کاٹ دیا جاتا ہے اور غذائی نالی کے دونوں سروں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح غذائی نالی کا تسلسل بحال ہوجاتا ہے۔ اگر پھیپھڑے بہت بری طرح متاثر نہ ہوں تو صحت یاب ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ لگتا ہے۔ ان بچّوں کو مستقبل میں بھی بار بار سانس کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

(ii) ۔ تنگی باب معدہ یا پائیلورک اسٹینوسس۔

اس صورت میں معدہ کا آخری حصّہ جسے پائلورس کہا جاتا ہے موٹا ہو جاتا ہے اور اس سے دودھ گزر کر آنتوں میں نہیں پہنچ پاتا اور الٹیوں کی شکل میں واپس باہر نکل آتا ہے۔ اس قسم کی الٹیاں عام طور پر پیدائش کے دوسرے ہفتہ میں شروع ہوتی ہیں، بچّہ کا وزن بڑھنا رک جاتا ہے، قبض ہو جاتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ آج کل اس کی تشخیص میں الٹرا ساؤنڈ کی مدد لی جاتی ہے۔ اس کا علاج سرجری ہوتا ہے۔ اس میں عام طور پر پائیلورس کے کے پٹّھوں کو تھوڑا تھوڑا کاٹ دیا جاتا ہے۔ اس سے پائیلورس کی رکاوٹ میں کمی آجاتی ہے اور دودھ آسانی سے گزرنے لگتا ہے اور الٹیاں بند ہو جاتی ہیں۔

(iii) بندش آنت یا ڈیوڈینل ایٹریزیا۔ اس میں چھوٹی آنت کے شروع کے حصّہ جسے ڈیوڈینم کہتے ہیں اس کا ایک حصہ صحیح طور پر نہیں بن پاتا اس میں مکمّل رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی آنتوں کے دوسرے حصّوں میں بھی رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ اس حالت میں الٹیاں پہلے دن سے شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی تشخیص پیٹ کے ایک سادہ ایکسرے سے کی جا سکتی ہے۔ اس کا علاج بھی سرجری ہے۔ اس صورت میں رکاوٹ والے حصّے کو کاٹنے کے بعد آنت کے دونوں سرے دوبارہ جوڑ دیے جاتے ہیں۔ اسے ٹھیک ہونے میں کچھ دن لگتے ہیں۔ بعض اوقات ان بّچوں کو بعد میں بھی کبھی کبھار الٹیاں آتی رہتی ہے۔

(ج) ریفلکس:

یہ ایک اور حالت ہے جس میں دودھ پینے کے بعد بچّہ الٹی کرتا ہے۔ اس صورت میں غذا کی نالی اور معدہ کے درمیان کا جوڑ کھانا کھانے یا دودھ پینے کے بعد مضبوطی سے بند ہونے کے بجائے ڈھیلا اور کھلا رہتا ہے۔ اس طرح معدہ سے کھانا یا دودھ واپس غذائی نالی میں آ جاتا ہے اور پھر الٹی ہو جاتی ہے۔ اسے ریفلکس کہتے ہیں۔ چونکہ تمام دودھ یا کھانا الٹی میں نہیں نکلتا اس لئے بّچے کا وزن کم نہیں ہوتا۔ اس کے علاج میں عام طور پر دو ا‏‏ؤں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زیادہ تر وقت بّچے کو دودھ پلانے کے بعد صرف 15 سے 30 منٹ تک سیدھا رکھنا کافی ہوتا ہے۔ تاہم کچھ بّچوں میں ادویات کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔

(د) انفیکشن

انفیکشن کی چند اہم علامات میں سے ایک علامت الٹی ہے۔ انفیکشن میں سوزش معدہ و آنت یعنی گیسٹرو اینٹیرائٹس، پیشاب کا انفیکشن، گردن توڑ بخار یعنی میننجائٹس، سیپسس وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں اکثر بخار بھی ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں ہوتا۔ لہذا ان بیماریوں کی تشخیص کے لئے مختلف ٹیسٹ، جیسے خون، پیشاب، الٹرا ساؤنڈ، اور کمر کے پانی کے ٹیسٹ (ایل پی) کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ ٹیسٹ کا انتخاب بیماری کی علامات اور بچّہ کے معائنہ پر منحصر ہوتا ہے۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS