چین سے منسوب "زرعی دہشت گردی”



چینی ٹیکنالوجی نے حالیہ پاک- بھارت جنگ کے دوران یورپی ٹیکنالوجی کو شرم ناک انداز میں غیر موثر ثابت کیا۔ بطور پاکستانی میرے لئے یہ خوشی کی خبر تھی۔ عالمی امور کا طالب علم ہوتے ہوئے مگر جی کو یہ دھڑکا بھی لگا رہا کہ چین کو مذکورہ واقعے کے بعد کسی نہ کسی طرح رسوا کرنے کی کوشش ہو گی۔ یہ توقع اگرچہ میں امریکہ سے نہیں ’’کسی اور ملک‘‘ سے باندھ رہا تھا کیونکہ صدر ٹرمپ چین سے کہیں زیادہ ان دنوں روسی صدر پوٹن سے ناراض ہے۔ امریکہ کا دوسری بار صدر منتخب ہونے سے قبل وہ انتخابی مہم کے دوران تواتر سے یہ دعویٰ کرتا رہا کہ وہ اگر واشنگٹن کے وائٹ ہائوس میں بیٹھا ہوتا تو روس یوکرین پر حملہ کرنے کی جرأت ہی نہ کرتا۔ حملہ کر بھی دیتا تو اس کی جانب سے ہوئی ایک ٹیلی فون کال ان دو ملکوں کے درمیان جنگ بند کروا دیتی۔

جنوری میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ٹرمپ نے یوکرین کے صدر کو وائٹ ہائوس بلا کر کیمروں کے روبرو ذلیل کیا۔ کمال رعونت سے اسے سمجھاتا رہا کہ پوٹن کو تھلے لگانے کے لئے اس کے پاس فیصلہ کن ’’پتے(یعنی ہتھیار)‘‘ موجود نہیں۔ محض جدید ترین امریکی اسلحہ کی مدد سے جو بائیڈن انتظامیہ نے اسے فراہم کیا تھا کہ وہ روس کو یوکرین پر تیزی سے قبضہ کرنے سے روک رہا ہے۔ ٹرمپ مگر اس کے ملک کو مزید ہتھیار اور مالی امداد مہیا کرنے کو اب تیار نہیں۔ اسے امریکہ کی معاشی مشکلات کا مداوا ڈھونڈنا ہے۔ یوکرین کے صدر کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ روس کے ساتھ جنگ بندی کو آمادہ  ہو جائے۔ زیلنسکی نے اس کی بات نہ ماننے کی وجہ سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہاتھوں کیمروں کے روبرو اپنی بے عزتی کروائی اور احتجاجاََ اپنے لئے تیار ہوئے دوپہر کے کھانے کا بائیکاٹ کر کے وائٹ ہائوس سے رخصت ہو گیا۔

یوکرینی صدر کی امریکی صدر اور نائب صدر کے ہاتھوں برسرعام بے عزتی کے باوجود روسی صدر کا دل نہیں پسیچا۔ موصوف یوکرین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے دل برداشتہ ہو کر حال ہی میں ٹرمپ نے پوٹن کے بارے میں اپنی ’’مایوسی‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے چند تند و تیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ٹرمپ کی صدر پوٹن پر ہوئی تنقید کے چند ہی روز بعد یوکرین نے ڈرون ہتھیاروں کے تخلیقی استعمال سے روس کے مہنگے اور جدید ترین ہتھیاروں کو تباہ کر دیا۔ اس کے دو دن بعد روس کو کریمیا کے جزیرے سے ملانے والے پل کی بنیادوں کو بھی بارودی مواد کی تنصیب سے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان دو واقعات کے بعد ساری دنیا حیرت سے منتظر تھی کہ روسی صدر پوٹن کب اور کس انداز میں اپنے ملک کے دفاعی اعتبار سے اہم ترین اثاثے تصور ہوئے ہتھیاروں اور پل کے نقصان کا بدلہ لے گا۔

پوٹن نے ابھی ایک قدم بھی نہیں بڑھایا کہ پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی رات امریکہ سے خبر آئی کہ شکاگو کی مشی گن یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک چینی خاتون طالب علم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس خاتون پر الزام ہے کہ رواں برس کی جولائی میں اس کے ایک ہم وطن اور نظر بظاہر ’’بوائے فرینڈ‘‘ نے امریکہ داخل ہونے کی کوشش کی۔ ایئرپورٹ پر تلاشی کے دوران اس کے سامان سے ٹشو پیپرز میں لپٹے ’’کیمیکل‘‘ برآمد ہوئے۔ ’’بوائے فرینڈ‘‘ کو ان کی دریافت کے بعد امریکی ایئرپورٹ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ ان پْڑیوں سے ملے مواد کو مگر تحقیق کے لئے لیبارٹری بھجوادیا گیا۔

لیبارٹری نے تحقیق کے بعد جو رپورٹ تیار کی اس کے مطابق جو مواد چینی طالب علم کے ہم وطن بوائے فرینڈ سے برآمد ہوا وہ ایک نوعیت کا زہر (Fungus) ہے۔ اس کے وسیع پیمانے پر سپرے کے ذریعے گندم، باجرے اور مکئی کی فصل کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی باعث چینی طالب علم کے بوائے فرینڈ سے برآمد کئے مواد کو ’’زرعی دہشت گردی‘‘ پھیلانے والا مواد پکارا جا رہا ہے۔

یہ کالم لکھنے سے قبل میں نے آدھے گھنٹے تک اپنا لیپ ٹاپ کھول کر تھوڑی تحقیق کی۔ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ چینی خاتون طالب علم کی مشی گن ریاست کی ایک عدالت میں پیشی کی خبر وہاں کے مین سٹریم میڈیا میں سنسنی خیز سرخیوں اور بینڈ باجہ کے ساتھ ’’بریکنگ نیوز‘‘ کی صورت پیش نہیں ہوئی تھی۔ شکاگو میں مقامی طور پر مقبول ریڈیو اور ٹی وی چینلوں میں اگرچہ اس کا ذکر سنسنی خیز انداز میں نہیں بلکہ روایتی صحافت کے دھیمے رویے کیساتھ ہوا۔بھارت کے تمام بڑے اخبارات جنہیں پاکستان میں ان دنوں کھولانہیں جاسکتا البتہ اس خبر کو اپنے صفحہ اوّل پر نمایاں کئے ہوئے تھے۔ جو سرخیاں میں وہاں دیکھ پایا ان میں Terrorism – Agro یعنی زراعتی دہشت گردی اور چین کے الفاظ نمایاں تھے۔

چینی طالب علم نے عدالت کو یہ بتایا ہے کہ اس نے جو مواد ایئرپورٹ سے پکڑا گیا اپنی تحقیق کی خاطر منگوایا تھا۔ جس یونیورسٹی کی وہ طالب علم ہے اس نے مگر دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ہاں ایسی کوئی سہولت دستیاب نہیں جہاں ایئرپورٹ پر پکڑے مواد کا ’’تحقیقی جائزہ‘‘ لیا جا سکے۔ گرفتار طالب علم کے بیک گرائونڈ کا جائزہ لینے والے حکام نے عدالت کے روبرو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مذکورہ طالب علم چینی کمیونسٹ پارٹی کی زیر نگرانی چلائے ایک ’’فیاض ادارے‘‘کی مدد سے امریکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے آئی تھی۔ ملفوف الفاظ میں اس پر لہٰذا چینی کمیونسٹ پارٹی کا کارندہ ہونے کا الزام لگا دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ان دنوں امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FBI) کا سربراہ بھارتی نژاد کاش پٹیل ہے۔ منگل کی رات اس نے ایک طویل ٹویٹ لکھا۔ اس کے ذریعے ’’کنفرم‘‘ کیا کہ امریکہ نے ایک چینی کو گرفتار کیا ہے جو ایک خطرناک زہریلا مواد اس کے وطن درآمد کرنا چاہ رہی تھی۔ مواد کا نام اس نے Graminearum Fusarium لکھا ہے جو اس کی دانست میں ’’زرعی دہشت گردی کاموثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اگر اس مواد کو گندم، باجرے، مکئی اور چاول کی فصل پر چھڑک دیا جائے تو مذکورہ اجناس استعمال کرنے والے انسان اور حیوان جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ چینی طالب علم پر ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے چینی کمیونسٹ پارٹی اور حکومت سے مالی مدد لینے کا الزام بھی لگایا اور نظر بظاہر یہ دعویٰ کیا کہ اسے چینی حکومت مالی مدد امریکہ میں ’’زہریلا مواد‘‘ پھیلانے کے لئے فراہم کر رہی تھی۔

چینی خاتون کے بوائے فرینڈ کے بارے میں کاش پٹیل کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک چینی یونیورسٹی میں اسی مواد کو ’’مزید توانا‘‘ بنانے کی تحقیق کر رہا ہے جو امریکہ میں پکڑا گیا۔ اس کی دانست میں مذکورہ مواد کی گرفت ثابت کرتی ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی امریکی اداروں میں اپنے ایجنٹ گھسا کر وہاں وسیع پیمانے پر میسر کھانوں کو ’’زہریلا‘‘ بنانے کی کاوشوں میں مصروف ہے اور یہ ’’حرکت‘‘ عام امریکی شہریوں کی زندگی اور امریکی معیشت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

چین کے خلاف گویا ایک نئے طرز کی جنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس کے طلبا کو امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے لئے ویزے کا حصول پہلے ہی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ ’’زرعی جنگ‘‘ کے نام پر جو نئی جنگ چھڑی ہے مقصد اس کا فقط چینی حکومت پر دبائو بڑھاتے ہوئے انہیں امریکہ بھیجی مصنوعات پرگرانقدر ٹیکس ادا کرنے کے لئے رضا مند کرنا ہے یا چین کو عالمی تنہائی کی جانب دھکیلنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

(بشکریہ نوائے وقت)

Facebook Comments HS