جب عورت کی ’نہ‘ جرم بن جائے : ثنا یوسف اور ان سیل ذہنیت کا المیہ


ثنا یوسف چترال سے تعلق رکھنے والی ایک باہمت، تخلیقی اور خودمختار نوجوان لڑکی تھی، جو سوشل میڈیا پر سرگرم تھی اور ایک با اثر ڈیجیٹل کریئیٹر کے طور پر ابھر رہی تھی۔ مگر بدقسمتی سے، اس کی زندگی کا اختتام ایک ایسے المیے پر ہوا جو صرف ذاتی سانحہ نہیں بلکہ ایک گہری سماجی بیماری کی علامت ہے۔

ثنا کو ایک 23 سالہ نوجوان، عمر نے صرف اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے اس کی دوستی کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ معاملہ محض ”غیرت“ یا وقتی غصے کا نہیں بلکہ ایک زہریلی سوچ کی پیداوار ہے، وہ سوچ جو عورت کے انکار کو جرم، اور مرد کی انا کو انصاف کا پیمانہ سمجھتی ہے۔ دنیا اس سوچ کو ان سیل (In Cel) کے نام سے جانتی ہے۔

ان سیل کلچر: ایک خطرناک ذہنیت

”ان سیل“ (Involuntary Celibate) یعنی ”بغیر اپنی مرضی کے غیر رومانوی زندگی گزارنے والے افراد“ کی اصطلاح مغرب میں ایک آن لائن کمیونٹی سے وابستہ رہی ہے، جو جنسی یا رومانوی تعلق سے محرومی کے باعث عورتوں کے خلاف شدید نفرت اور غصے میں مبتلا ہوتے ہیں۔

یہ لوگ عورتوں کی ”نہ“ کو اپنی تذلیل سمجھتے ہیں، اور اس انکار کو ”انتقام“ کے قابل جرم مانتے ہیں۔ ان کی گفتگو، آن لائن فورمز، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا گروپس میں عورت دشمنی عام بات ہے۔

اگرچہ پاکستان میں اس اصطلاح سے واقفیت عام نہیں، لیکن اس کی روح اور ذہنیت ہمارے معاشرے میں کئی انداز سے موجود ہے :

مردانگی کو تسلیم کروانے کے لیے تعلق کا ”حاصل ہونا“ ضروری سمجھا جاتا ہے ؛
عورت کا انکار مرد کی تذلیل کے مترادف سمجھا جاتا ہے ؛
خودمختار عورت کو ”مغرور“ یا ”قابلِ سزا“ قرار دیا جاتا ہے۔

یہ وہ معاشرتی سانچے ہیں جو عمر جیسے نوجوانوں کی سوچ کی تشکیل کرتے ہیں۔ وہ شعوری طور پر خود کو ”ان سیل“ نہ بھی سمجھتے ہوں، تب بھی ان کی سوچ اسی زہریلے سانچے سے جنم لیتی ہے۔

ثنا کی ”نہ“ اور معاشرتی انا کا زخم

ثنا یوسف کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے تعلق سے انکار کیا، اپنی پسند اور اپنی آزادی کا استعمال کیا۔ عمر نے اس انکار کو نا صرف انا کا مسئلہ بنایا، بلکہ اسے ”سزا دینے“ کی حد تک پہنچا دیا۔ اس نے اسے قتل کیا، وہ بھی دن دیہاڑے۔

یہ ردعمل محض ایک فرد کی نفسیاتی بے چینی نہیں تھی، بلکہ ایک پوری سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ سوچ جو عورت کو انسان نہیں، ایک شے یا ”حق“ سمجھتی ہے۔

عمر، ان سیل تھا؟ شاید خود بھی نہ جانتا ہو

یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے : عمر شاید کبھی Reddit یا 4 chan پر نہ گیا ہو، نہ ہی ”ان سیل“ کے نظریے سے واقف ہو۔ مگر اس کے طرزِ فکر میں وہ تمام علامات موجود تھیں جو ان سیل کلچر کی بنیاد ہیں :

عورت کا انکار ناقابلِ برداشت؛
تعلق پر ”حق“ کا تصور؛
مسترد کیے جانے پر غصہ اور انتقام کی جبلّت۔

یہی وہ ذہنیت ہے جو ہمارے نوجوانوں میں غیر محسوس طریقے سے سرایت کرتی جا رہی ہے، کبھی واٹس ایپ گروپس، کبھی یوٹیوب پر ”مردانہ طاقت“ کے نام پر ویڈیوز، اور کبھی روزمرہ لطیفوں اور گفتگو میں۔

سوشل میڈیا اور زہریلا مردانہ بیانیہ

سوشل میڈیا پر مردوں کے لیے مخصوص کئی وی لاگرز، ”ریڈ پِل“ چینلز اور آن لائن گروپس موجود ہیں جو عورت کو ناقابلِ بھروسا، چالاک یا کمتر ثابت کرتے ہیں۔ وہ مرد کو یہ سکھاتے ہیں کہ عورت کو کیسے ”جیتا“ جائے، کیسے ”قابو“ میں رکھا جائے، اور کیسے اس کے انکار کو اپنی طاقت سے شکست دی جائے۔

یہی وہ بیانیہ ہے جو مسترد کیے جانے کو مرد کی شکست اور عورت کی غلطی بنا دیتا ہے، اور آخر کار ایسے سانحات کو جنم دیتا ہے جیسے ثنا یوسف کا قتل۔

حل کہاں ہے؟

ہمیں فرد کو سزا دینے سے آگے بڑھ کر، اس ذہنیت کا احتساب کرنا ہو گا جو ہر گھر، ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ہر کلاس روم میں جنم لے رہی ہے۔

1۔ عورت کے انکار کو حق تسلیم کرنا۔ یہ نصاب، میڈیا اور والدین کی تربیت کا حصہ ہونا چاہیے۔
2۔ مردوں کی جذباتی تربیت۔ لڑکوں کو یہ سکھانا کہ انکار زندگی کا ایک عام تجربہ ہے، نہ کہ انا کا زخم۔

3۔ سوشل میڈیا پر عورت دشمن مواد کی روک تھام۔ پلیٹ فارمز کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کے مواد سے حقیقی دنیا میں کیا اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔

4۔ معاشرتی گفتگو کی اصلاح۔ ہر وہ جملہ، مذاق، یا تصور جو عورت کو کمتر یا مرد کو غالب ظاہر کرے، اسی ذہنیت کو فروغ دیتا ہے جس نے ثنا کو مارا۔

ثنا کی یاد، ایک سوال بن کر باقی ہے

ثنا یوسف کا قتل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عورتوں کی خودمختاری، انکار اور انتخاب کو صرف قانون نہیں، معاشرتی سوچ بھی خطرہ سمجھتی ہے۔ جب تک ہم اس سوچ کو جڑ سے نہیں اکھاڑتے، ”نہیں“ کہنا کئی عورتوں کے لیے جان لیوا فیصلہ بنا رہے گا۔

اب وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں :
کیا ہم واقعی عورتوں کے ”نہ“ کہنے کے حق کا احترام کرتے ہیں؟
یا ہم اسے مرد کی شکست، اور سزا کے قابل جرم سمجھتے ہیں۔

Facebook Comments HS