مصوری اور ادب ایک مطالعہ


تاریخی پس منظر میں جھانکا جائے تو مصوری (آرٹ) ایک نمایاں حیثیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ نہ صرف ثقافتی، سماجی اور مذہبی حالات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اقوام کی تہذیب و تمدن پرکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مصوری کو ایک تصویری زبان بھی کہا جا سکتا ہے جو ہر دور میں بولی جاتی رہی ہے۔ زمانہ قدیم سے اب تک تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اس کے مقاصد میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ جیسے غاروں کے دور میں مصور جنگل میں جانوروں وغیرہ کی تصاویر کے ذریعہ اپنا مدعا بیان کرتا رہا۔ ویسے آج کے دور میں مختلف خیالات کو فن پاروں میں عیاں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مصوری ایک ایسا فن ہے جس میں انسان اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی بہتر انداز میں کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ مصوری اظہار کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی رائج ہوا۔ پہلے پہل انسان نے چیزوں کو نام دینے سے قبل ان کی تصویریں بنائی۔ شکار پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ان تصاویر کے ذریعے جادو کیا گیا۔ قدیم انسان شکار سے پہلے یقین اور جوش ان تصاویر سے حاصل کرتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ فلوبیئر اپنے مشہورِ زمانہ ناول ”مادام بواری“ میں سنگ تراشی اور مصوری کو شاعری سے بہتر خیال کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں ہیئت، رنگ اور روشنی کو بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ فلوبیئر شاعروں سے زیادہ مصوروں سے متاثر تھا۔

مصوری کی اہمیت ہمیشہ سے قائم رہی ہے۔ کوئی دوسری چیز اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اس حوالے سے دو ایک امثال بھی دیکھ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر تاج محل کی تعمیر کی جگہ کوئی خوبصورت سی نظم بھی نہیں لے سکتی۔ حالانکہ ادب نے کبھی کبھی اپنے تخیل کے بل بوتے پر تصویر کی جگہ لینے کی کوشش کی ہے۔ اور الفاظ میں تصویر کھینچنے کی بھرپور سعی کی ہے۔ لیکن یہ تصویر ادنٰی مرقع ہی کہلائی جائے گی۔ اسی طرح مثلاً کوئی شاعر اگر لیونارڈو ڈاؤنسی کی تصویر ”مونا لیزا“ سے متاثر ہو کہ نظم لکھے تو اس کی نظم مونا لیزا کی جگہ کیسے لے سکتی ہے۔ کیونکہ مصوری نمود خونِ جگر سے ہوتی ہے۔ علامہ اقبال اپنی مشہور نظم ”مسجد قرطبہ“ میں اس کا تذکرہ یوں کرتے ہیں :

رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرفِ صوت
معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود

لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ادب کی تخلیق خونِ جگر سے نہیں ہوتی یا اُس نے معاشرے کی آبیاری نہیں کی۔ ادب کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے لیکن مختصر پیرائے میں زندگی کی پیش کش میں آرٹ ادب سے بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ آرٹ احساسات و جذبات کا بہترین عکاس ہے۔

اس ضمن میں نپولین کی بات یاد آتی ہے وہ کہتے ہیں :
” A sketch is worth more than a long discussion.“

انسانی تاریخ کے مشاہدے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی مصوروں کو معاشرے میں ایک مخصوص مقام حاصل رہا ہے۔ مصوروں کو یہ مقام ان کی فنی و تخلیقی صلاحیتوں کے نتیجہ میں حاصل ہوا۔ کیونکہ تخلیق کے بغیر انسان نامکمل ہے۔ یہ تخلیق کہیں اظہارِ ذات کی صورت میں سامنے آئی تو کہیں روحانی بالیدگی کا ذریعہ بنی۔ اس طرح مصور اپنے فن کے ذریعے روح اور کائنات کے راز جان سکتا ہے۔ بقول آندرے موروا: ”فطرت مصور کو ایک تصویر کے لیے عام مواد مہیا کرتی ہے، مثلاً ہرے بھرے درخت، پھول، سمندر، مخلوق کے جیتے جاگتے پیکر، روشنی وغیرہ۔ مصور فطرت کے ان مظاہر کو آسان سی صورت دیتا ہے۔ اور ان کی اس طور تنظیم کرتا ہے کہ افراد کے ذہنی تقاضے ان سے آسودہ ہو سکیں“ ۔

آرٹ کی اصل فطرت کا اظہار کسی مخصوص تہذیب خطے یا مذہب کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اپنی شخصیت اور اس کی افتاد طبع کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے احساس و جذبے کی ترجمانی کرتا ہے اس کے خوابوں کو ایک ہیئت دیتا ہے۔ اور وہ اپنے تجربات کو اپنی گرفت میں لے کر انھیں زندگی عطا کرتا ہے۔ عبدالرحمٰن چغتائی جو کہ فن برائے زندگی کے قائل ہیں اُنھوں نے مصوری کے بارے میں جو رائے دی وہ قابل تحسین ہے۔ یہ حقیقت ہمیں فنِ مصوری کے ہر دور میں دکھائی دیتی ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ: ”آرٹ احترام کی ایک مخلصانہ شکل و صورت ہے اس میں زندگی ہے، اس میں مذہب وہ زندگی ہے اور دہریت جلوہ گر ہے اسے آج بھی اور کل بھی زندگی کے لیے سراہا گیا تھا۔ وہ زندگی کے لیے تھا اور زندگی کے لیے ہے“ ۔

رنگوں کی ویسے تو کوئی اہمیت نہیں لیکن جب وہ آرٹ میں شامل ہو جاتے ہیں تو وہ انسانی جذبات کے عکاس بن جاتے ہیں۔ شبنم کا قطرہ اگر خاک میں گرے تو گارا بن جاتا ہے جس سے لوگ اپنا دامن بچاتے ہیں اور یہی قطرہ شبنم اگر سیپ میں گرے تو موتی بن جاتا ہے۔ جس سے لوگ اپنے وجود کو سجاتے ہیں۔ یہی حال برش کا ہے کہ اگر یہ کسی رنگ ساز کے ہاتھ میں آ جائے تو وہ رنگوں کو جا بجا بکھیر کر ان کی توہین کرتا ہے اور یہی برش اگر مصور کے ہاتھ میں آ جائے تو وہ رنگوں میں اپنے جذبات کی تضمین کرتا ہے۔

اسی طرح کی صورتِ حال ہمیں صادقین کی ایک رباعی میں بھی ملتی ہے جس میں وہ کہتے ہیں :

قرطاس پہ جب نقش بنایا میں نے
تو عمر کا سرمایہ لگایا میں نے
اک جال لکیروں کا بنا اور اُس میں
اُڑتے ہوئے لمحوں کو پھنسایا میں نے

مصوری کی اہمیت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس سے مراد یہ ثابت کرنا نہیں ہے کہ ادب مصوری سے کمتر ہے۔ بلکہ ادب اور آرٹ کا ہمیشہ سے ایک گہرا تعلق ہے۔ ادب الفاظ کے ذریعے چیزوں کو تخلیق کرتا ہے جبکہ آرٹ ایک برش کے ذریعے کینوس پر زندگی کی پیش کش کرتا ہے۔ دونوں فنون تخلیقی صلاحیت اور جذبات کی عکاسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن وہ بات جو الفاظ ایک پوری کتاب میں بیان کرتے ہیں مصوری اسے ایک تصویر میں بیان کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS