انا پرست سیاستدان
پاکستانی سیاست میں انا پرستی کی جڑیں بہت گہری اور پرانی ہیں۔ اکثر سیاستدان اپنی ذات کو قوم کے مفاد سے بلند تر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف جمہوری اداروں کو کمزور کرتا ہے بلکہ عوام کے مسائل کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں ہمیں کئی مثالیں ملتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شخصی حکمرانی اور ”میں ہی سب کچھ ہوں“ کا تاثر ابھرا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ سلسلہ آمریت کی شکل میں پروان چڑھا جہاں اختلاف رائے کو دبایا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی ذاتی فیصلوں کو قومی مفاد کا لبادہ اوڑھا دیا گیا۔ آج بھی بعض سیاسی رہنما اسی راہ پر گامزن ہیں۔
ایسے سیاستدان عوامی فلاح کے نعرے تو لگاتے ہیں مگر ان کا اصل ایجنڈا صرف اپنی سیاست اور اقتدار کو دوام دینا ہوتا ہے۔ وہ تنقید کو دشمنی سمجھتے ہیں، اختلاف رائے کو بغاوت اور ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کی سیاست کا محور صرف ”میں“ ہوتا ہے۔ یہی انا پرستی سیاست کو ادارہ جاتی حکمرانی سے ہٹا کر شخصی حکمرانی کی طرف دھکیلتی ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پارلیمان جیسا اہم ادارہ غیر فعال دکھائی دیتا ہے۔ فیصلے چند لوگوں کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں اگر کوئی صحافی یا سیاستدان اختلاف کرے تو اس پر غداری یا سازش کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ اس ماحول میں پالیسی سازی بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ انا پرست سیاستدان اپنی ناکامی کو کبھی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ عوامی مفاد کو پس پشت ڈال کر اپنی ذاتی برتری کے خول میں مقید رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے میڈیا کا کچھ حصہ بھی ایسے رہنماؤں کی انا کو مزید ہوا دیتا ہے۔ ان کی تقریریں گھنٹوں نشر ہوتی ہیں اور ان کی ذاتی خواہشات کو قومی مفاد کا رنگ دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف عوام کے مسائل جیسے مہنگائی، غربت، بے روزگاری نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
یہ خطرناک رجحان ہے۔ جمہوریت کا حسن اختلاف رائے میں ہے لیکن جب سیاستدان انا پرستی کا شکار ہوں تو جمہوریت محض ایک دکھاوا بن کر رہ جاتی ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل صحت، تعلیم اور انصاف ثانوی ہو جاتے ہیں۔
وقت کی ضرورت ہے کہ ہم بطور قوم یہ شعور پیدا کریں کہ سیاستدان کا اصل کردار عوام کی خدمت اور مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی انا کی پرستش۔ ہمیں ایسے رہنماؤں کو بے نقاب کرنا ہو گا جو اقتدار کو ذاتی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
جمہوریت کی بقا اور پاکستان کا مستقبل اس بات سے مشروط ہے کہ سیاستدان اپنی انا کو پس پشت ڈالیں اور عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔ انا پرستی کی سیاست نے ہمیں بہت نقصان دیا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اس روش کو بدلیں اگر ہم آج بھی نہ سنبھلے تو کل کی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ ہم نے کس انا پرست سیاستدان کو اپنا مقدر سونپ دیا؟

