شنگریلا ڈائیلاگ 2025 : ایشیا میں طاقت کا نیا توازن اور پاکستان
گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی سیاست کا محور مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد وجود میں آنے والے ایک غیر متوازن عالمی نظام میں ایشیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے اس خطے کو نئے جغرافیائی تناؤ، فوجی چیلنجز، اور سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایسے میں شنگریلا ڈائیلاگ 2025 کا حالیہ اجلاس ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوا جہاں دنیا کی بڑی طاقتوں نے ایشیا بحرالکاہل میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عسکری اخراجات میں اضافے، اور اپنے بدلتے بیانیوں کا کھل کر اظہار کیا۔
یہ فورم 2002 میں لندن کے بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹریٹیجک اسٹڈیز
(IISS)
کے زیر اہتمام سنگاپور کے شنگریلا ہوٹل میں قائم کیا گیا۔ ہر سال مئی یا جون میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا بنیادی مقصد ایشیا بحرالکاہل میں سلامتی اور دفاعی مسائل پر کھلا مکالمہ کرنا ہے۔ اس میں وزرائے دفاع، فوجی سربراہان، سفارت کار، اور سیکیورٹی ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں امریکہ، چین، جاپان، بھارت، پاکستان، یورپی ممالک، آسٹریلیا اور آسیان ریاستوں کے نمائندوں نے اس میں حصہ لیا ہے۔
شنگریلا ڈائیلاگ 2025 کے حالیہ اجلاس میں اس خطے سے متعلق سلامتی کے خدشات، فوجی حکمت عملیوں اور سفارتی کشمکش پر جامع بحث ہوئی، جس میں کئی اہم نکات سامنے آئے۔
اجلاس میں سب سے نمایاں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ تھا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے اپنے خطاب میں چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اثر و رسوخ کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اپنے ایشیائی اتحادیوں خصوصاً آسٹریلیا، جاپان اور جنوبی کوریا پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں۔ انہوں نے آسٹریلیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کا 3.5 فیصد تک بڑھائے۔
چینی نمائندوں نے اس امریکی موقف کو ”سرد جنگ کی ذہنیت“ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ مصنوعی طور پر خطے میں تناؤ پیدا کر رہا ہے تاکہ اپنے اسلحے کی فروخت کو بڑھا سکے۔ چین نے اپنے بیانیے میں واضح کیا کہ وہ خطے میں امن چاہتا ہے، لیکن اپنے علاقائی مفادات سے سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی پالیسی کا تعین ”بیرونی مطالبات“ کی بجائے قومی ضروریات کی بنیاد پر AUKUSہونا چاہیے۔ انہوں نے
معاہدے کے تحت جوہری آبدوزوں کی خریداری جیسے منصوبوں کو جاری رکھنے پر زور دیا۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک بار پھر یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو چین اور امریکہ کے درمیان کھڑے ہونے کی بجائے ایک متوازن اور آزاد پوزیشن اپنانی چاہیے۔ میکرون نے ایشیا اور یورپ کے درمیان آزاد اتحاد کی تجویز پیش کی، جو دونوں خطوں کو جیوپولیٹیکل دباؤ سے بچا سکے۔ فرانس کے موقف سے واضح نظر آ رہا تھا کہ ماضی کے برعکس موجودہ یورپ بدلتی عالمی صورتحال میں امریکہ کے بیانیہ کے ساتھ نہیں
اس فورم میں اسلحے اور دفاعی اخراجات پر بھی بات ہوئی بتایا گیا کہ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نے فوجی صلاحیت بڑھانے پر 2.7 بلین ڈالر اضافی خرچ کیے۔ اس میں جدید ہتھیاروں، جیسے آبدوزوں، لڑاکا طیاروں، ڈرونز، اور انٹیلی جنس سسٹمز کی خریداری شامل ہے
ان اضافی اخراجات میں نمایاں بھارت نے 90 لڑاکا طیارے، 3 طیارہ بردار جہاز، اور 6 آبدوزیں خریدنے کے معاہدے اور آسٹریلیا کا 12
P-8A
پوسیڈن نگرانی طیارے، 3 ڈسٹرائرز، اور 12 آبدوزیں خریدنے کا اعلان شامل ہے
شنگریلا ڈائیلاگ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے وفود نے اپنے اپنے مخصوص ایجنڈے پر کام کیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر نے کی، جنہوں نے کشمیر کے مسئلے کو نمایاں طور پر اجلاس میں اٹھایا اور خطے میں تناؤ کم کرنے کی اپیل کی۔ دوسری جانب بھارتی وفد کے سربراہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور جنرل انیل چوہان نے دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون کو اپنی ترجیح بنایا۔ اگرچہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان نے فوجی شفافیت اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا، لیکن کشمیر جیسے بنیادی تنازعات پر کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی۔ اجلاس کے دوران دونوں وفود نے الگ الگ سیشنز میں شرکت کی اور کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سفارتی جمود برقرار ہے۔ تاہم، یہ فورم دونوں ملکوں کو اپنے موقف عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا رہا۔
اگرچہ اجلاس کا مرکزی محور ایشیا تھا، لیکن فرانسیسی صدر نے فلسطین کے مسئلے پر بھی بات کرتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔ تاہم، یہ موضوع اجلاس میں زیادہ نمایاں نہیں ہو سکا۔
شنگریلا ڈائیلاگ 2025 میں بہت سے اہم معاملات پر عالمی توجہ مبذول کروائی گئی جیسا کہ ایشیا بحرالکاہل اب عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بن چکا ہے، امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں شدت آ رہی ہے، یورپ امریکی اثر سے آزاد اپنی خودمختار پالیسی پر گامزن ہو چکا ہے اور ایشیائی ممالک اپنے دفاع کو جدید پیمانوں پر استوار کرنے پر اخراجات بڑھا رہے ہیں۔
شنگریلا ڈائیلاگ 2025 کے کو پاکستانی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کو مزید متوازن، مستحکم اور فعال خارجہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنا ہو گا، خاص طور پر اقتصادی راہداریوں (CPEC) اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں، جبکہ ساتھ ہی امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ بین الاقوامی تنہائی سے بچا جا سکے۔ دوسرا اہم نکتہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے، جس میں کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر مسلسل اٹھانا اور بھارت کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے رکھنا شامل ہے۔ تیسرا، پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانا ہو گا، خاص طور پر سائبر سیکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل ڈیفنس سسٹمز میں، لیکن ساتھ ہی اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا ہو گا کہ دفاعی اخراجات معیشت کے لیے بوجھ نا بنے۔ آخر میں، پاکستان کو آسیان اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا ہو گا تاکہ اسٹریٹجک تنہائی سے بچتے ہوئے ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی کو برقرار رکھا جا سکے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شنگریلا ڈائیلاگ 2025 نے ایشیا بحرالکاہل میں ایک نئی جیوپولیٹیکل حقیقت کو واضح کیا ہے، جہاں طاقت کا توازن مسلسل بدل رہا ہے اور تمام ممالک کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اس تبدیلی کے مطابق اپنی پالیسیوں کو مرتب کریں۔


