خواب، محبت اور زندگی 28


mahnaz rahman

انٹر سائنس کے دوسرے سال میں مجھ پر اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف ہوا کہ میری افتاد طبع سائنس کے مضامین سے میل نہیں کھاتی، میں ٹھہری شعر و ادب کی دلدادہ۔ مجھے آرٹس پڑھنا چاہیے تھا لیکن امی کی مجھے ڈاکٹر بنانے کی خواہش آڑے آ گئی تھی۔ سائنس کے مضامین لے تو لئے تھے لیکن پڑھنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ ویسے بھی میں کبھی بھی پڑھاکو طالبعلم نہیں رہی تھی۔ مجتبیٰ صاحب نے ایک دفعہ میرے اور میری سہیلی نجم النسا کے بارے میں کہا تھا ”مہ ناز ذہین ہے اور نجم النسا محنتی ہے،“ ۔ امی اور گھر والوں کو یہ بتانا بہت مشکل تھا کہ میں سائنس چھوڑنا چاہتی ہوں۔

سراج الدولہ کالج کے زمانے کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ مجھے اپنے ایک نوجوان استاد پر کرش ہو گیا تھا۔ اس کا شمار ترقی پسند طالب علم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ اسے بی ایس سی کے بعد کالج میں ڈیمانسٹریٹر کی ملازمت مل گئی تھی۔ وہ ہمیں کیمسٹری کے پریکٹیکل کراتا تھا لیکن زولوجی پڑھانے والے سید صاحب کی بارہا غیر حاضری کی صورت میں وہ ہماری زولوجی کی کلاس بھی لیتا تھا۔ میں نے کبھی کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا اور دل کی بات کو دل میں ہی رکھا۔ کالج چھوڑنے کے بعد شاید میں یہ بات بھول بھی جاتی لیکن قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا اور چند سالوں بعد یہ بے ضرر سا پوشیدہ کرش کسی پلٹ کر آنے والے تیر کی طرح دل میں ترازو ہوا اور مجھے دکھی کر گیا۔ خیر اس کا ذکر آگے چل کر کریں گے۔

پاکستان کی اقتصادی لبرلائزیشن کی ناکام مہم جوئی

خاندان میں ایک فرد کے اضافے سے ابی کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو گیا تھا اور ان کی ”خوب سے خوب تر“ ملازمت کی تلاش جاری تھی۔ بالآخر انہیں اے بی فوڈ گروپ کی طرف سے بہت اچھی ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ انہوں نے شکارپور میں سیون اپ کی فیکٹری لگائی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ ابی شکارپور جا کے جنرل مینجر کی حیثیت سے اس فیکٹری کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالیں۔ یہ ایوب خان کی امریکہ سے متاثر اقتصادی لبرلائزیشن کی پالیسی کے عروج کا زمانہ تھا جسے مغرب میں اپنایا جا چکا تھا اور اس کے بعد ہماری اشرافیہ نے بھی اسے دل و جاں سے قبول کیا تھا۔ ایوب خان کو امریکہ سے قلبی لگاؤ تھا اور امریکہ بھی اسے بہت پسند کرتا تھا۔ امریکی یونیورسٹیوں اور اداروں میں فری مارکیٹ یا آزاد منڈی کا سبق مقدس صحیفے کی طرح پڑھایا جاتا تھا۔ اسی کی پیروی کرتے ہوئے ایوب خاں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ پاکستانی معیشت کو لبرلائز کیا تھا۔

سیون اپ اور کولا مشروبات کی فیکٹریاں لگا کر سمجھا جا رہا تھا کہ ملک میں خوشحالی آئے گی۔ اس سے پہلے غیر ملکی ماہرین کو پاکستان کے اقتصادی مستقبل کے امور میں ہماری رہنمائی کے لئے بلایا گیا تھا۔ لیکن اس سے بھی پہلے بہت سے پاکستانی ماہرین کو امریکہ میں خاص طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے مشہور اداروں میں یہ نظریاتی تربیت دی جا چکی تھی تا کہ وہ لبرلائزیشن کے عمل کو آگے بڑھا سکیں۔ آج بھی ہمارے بہت سے اقتصادی فیصلہ ساز اس نظریے پر شدت سے یقین رکھتے ہیں۔ وہ سچے دل سے اس نظریے کے پیروکار تھے اور ابھی بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اقتصادی لبرلائزیشن ہی پاکستان کی خوشحالی کا اصل راستہ ہے۔ ظاہر ہے تاریخ نے انہیں واضح طور پر غلط ثابت کیا ہے۔ دراصل خوشحالی ان ملکوں کو نصیب ہوئی جنہوں نے اس قبل از وقت لبرلائزیشن کی مزاحمت کی اور اپنی منڈیوں کو تحفظ فراہم کیا۔ ایشین ٹائیگرز کی مثال لے لیں، انہوں نے اندرونی طاقت اور استحکام حاصل کرنے کے بعد ہی اپنی معیشتوں کے دروازے کھولے تھے۔ ان کے برعکس پاکستان نے بہت عجلت میں کسی ٹھوس حکمت عملی کے بغیر محض نظریاتی ترغیب پر معیشت کو لبرلائز کیا۔ اور ہم آج تک ان اقتصادی فیصلوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں جو ہم نے کسی پالیسی کی بنا پر نہیں بلکہ فری مارکیٹ معیشتوں کو مذہب کا درجہ دے کر کیے تھے۔

میرا وہمی پن

ایوب خان کے لبرلائزڈ خواب میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے امی ابی سیون اپ کی فیکٹری لگانے کے لئے شکارپور روانہ ہو گئے۔ ہم بچے نانی کے ساتھ عزیز آباد کراچی میں ہی رہے۔ گھر کا بجٹ چلانے کی ذمہ داری نانی کے ساتھ مجھے سونپی گئی تھی۔ ہم بہن بھائیوں نے امی ابی کو بتائے بغیر گھر کا ایک کمرا ایک نئے شادی شدہ جوڑے کو کرایہ پر اٹھا دیا۔ اس جوڑے کے ساتھ ان کے ایک پختہ عمر کے کزن بھی تشریف لائے۔ وہ برآمدے میں چارپائی ڈال کے پڑے رہتے تھے۔ انہیں علم نجوم اور دست شناسی سے بھی شغف تھا۔ نو عمری میں مجھے بھی دست شناسی میں کافی دلچسپی تھی اور اپنے مستقبل کے بارے میں جاننے کا تجسس رہتا تھا چنانچہ ایک روز میں نے انہیں اپنا ہاتھ دکھایا۔ انہوں نے میرے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر بڑی سنگ دلی سے فرمایا کہ میری ازدواجی زندگی بہت نا خوشگوار گزرے گی۔ ان کی بات سن کر میرا دل بیٹھ گیا۔ یہ بات ایک نو عمر لڑکی کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کے لئے کافی تھی۔ ویسے بھی میں نے امی ابی کے رشتے کی پیچیدگیاں دیکھ رکھی تھیں۔ ایک نا خوشگوار ازدواجی زندگی کی وعید موت سے بھی بڑی بد دعا لگی۔ سالوں تک یہ پیشگوئی بھوت بن کر میرا پیچھا کرتی رہی۔ اب پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے کہ اپنی ساری روشن خیالی اور وسیع مطالعے کے باوجود اس لحاظ سے میں توہم پرست ثابت ہوئی۔ احفاظ اور میری ازدواجی زندگی میں جب بھی اتار چڑھاؤ آیا، مجھے اس نجومی کی پیشگوئی یاد آجاتی تھی۔ اور میں یاسیت کا شکار ہو جاتی تھی۔

Facebook Comments HS