سنا ہے وہ لوٹ آئے گا


کورٹ روم میں بیٹھی اس لڑکی کی آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو اکثر عورتیں طویل تماشے کے بعد لاتی ہیں بلکہ ایک تھکا ہوا اقرار تھا جیسے کسی نے بہت چیخا ہو، بہت سہ لیا ہو، اب لفظ بھی ہار گئے ہوں۔

”سر۔ خلع چاہیے مجھے۔“

رات کے آخری پہر جب خاموشی تنہائی کا کفن اوڑھ لیتی ہے تو کچھ آنکھیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں نیند کی بجائے یادیں جگاتی ہیں۔ ایک ادھورا لمس، ایک بے نام وعدہ اور ایک خالی پن جسے نہ لفظ بھر سکتے ہیں، نہ آنسو۔ عدالت کی کرسی پر بیٹھی وہ لڑکی سفید دوپٹہ، سادہ سا چہرہ، مگر آنکھوں میں تھکاوٹ اور سوالوں کا سمندر۔ جب میرے پاس پہلی بار آئی تو یوں لگا جیسے وہ کوئی کیس نہیں، اپنی زندگی کی شکست لے کر آئی ہو۔

اس کا شوہر بیرونِ ملک تھا۔ ایک خواب کی تلاش میں نکلا ہوا وہ مرد، جو کبھی وقت پر فون نہیں کرتا تھا مگر والد کے اکاؤنٹ میں ہر ماہ پیسہ ضرور بھیجتا تھا۔ افسوس، وہ پیسہ اس عورت تک نہیں پہنچتا تھا جس کے نام پر وہ شوہر تھا۔ ”وہ کہتے ہیں، میں بیٹے کی بہو ہوں، بیٹے کی بیوی نہیں!“ ۔ یہ جملہ اس کے ہونٹوں پر کانپتے ہوئے آیا۔ میں نے نگاہیں جھکا لیں، شاید شرم کے مارے، شاید کچھ سوچنے کے لیے۔

ساس۔ وہ ساس، جسے ماں بننا تھا، مگر حاکم بننے کا شوق تھا۔ جو لڑکی بیمار پڑے تو اسے کہتی، ”تیری دوائیں تیرے باپ کے گھر سے آئیں گی!“ پہلی ڈیلیوری ان کی ذمہ داری ہے۔ اور باپ؟ وہ تو پہلے ہی اس معاشرے کے دیوالیہ پن میں گروی رکھا جا چکا تھا۔

اس کا شوہر شادی کے بعد ایک ماہ تک پاکستان میں رہا۔ بہت خوش واپس گیا۔ اس کے جانے کے پندرہ روز بعد اسے نئے مہمان کی آمد کی خوشخبری بھی دے دی گئی۔ مگر، بقول نادیہ کے، سسرال نے اس پر زندگی تنگ کر دی۔ بات پر روک ٹوک لڑائی جھگڑے۔ اگر وہ کچھ کھانے کے لئے منگواتی تو طرح طرح کے طعنے۔ بیمار گھر پڑی رہتی۔ ایک روز سسر اسے ڈاکٹر کے بجائے میڈیکل سٹور لے گئے دوا دلوائی مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ لڑکی نے اپنے بھائی کو فون کیا۔ وہ اسے ہسپتال لے کر گئے الٹراساؤنڈ سے پتہ چلا کہ بچہ نارمل نہیں ہے۔ ابارشن کروانا پڑے گا۔ سو کروا دیا گیا۔

تین ماہ سے والدین کے گھر میں رہ رہی تھی۔ شوہر بس جھوٹی تسلیاں دیتا رہا۔ بار بار تقاضا کے باوجود صرف دو بار دس دس ہزار روپے بیگم کو بھیجے۔

میں نے عدالتی دستاویزات میں اس کے شوہر کے گھر کا پتہ لکھا، مگر اصل پتہ کہیں اور تھا۔ وہ پتہ جہاں مرد اپنے بیوی بچوں سے دور صرف اپنے خاندان کی انا کی چھت تلے رہتا ہے، وہ پتہ جہاں رشتے محض قانونی ہوتے ہیں، جذباتی نہیں۔

سماعتوں کے دوران، کئی بار جج نے سوال کیا، ”کیا شوہر نے کبھی تم سے بات کی؟“
اور ہر بار وہ خاموش رہی۔
کیونکہ بعض دفعہ خاموشی خود گواہی ہوتی ہے، اور بعض دفعہ زخم کی چیخ زبان سے بلند ہوتی ہے۔

کیس کے دوران اس کا شوہر بھی پاکستان آ گیا۔ کیسا بدتمیز اور گھٹیا انسان تھا میں نے اپنے آفس دونوں میاں بیوی کو بلایا تو دوران گفتگو اپنی بیوی سے ایسی بدتمیزی سے بولا کہ مجھے درمیان میں مداخلت کرنا پڑی۔ ہم نے صلح صفائی کی بہت کوشش کی مگر بے سود۔ اس کے شوہر کا یہی اصرار تھا کہ میں باہر رہوں گا یہ میرے گھر رہے گی۔ میں خرچہ اپنے باپ کو بھیجوں گا یہ ان سے لے گی۔ قصہ مختصر ہماری تمام تر کوششیں بارآور ثابت نہ ہوئیں۔

جب فیصلہ آیا، اور عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کی تو میں نے اس لڑکی کو دیکھا۔ وہ روئی نہیں، وہ ہنسی بھی نہیں۔ بس ایک طویل سانس لی جیسے کوئی قبر کے کتبے پر فاتحہ پڑھ کر لوٹ رہا ہو۔ وہ نکاح، جو برسوں سے محض ایک پیپر تھا، آج دفن ہو گیا۔

عدالت سے نکلتے ہوئے وہ بولی، ”اب میں صرف بیٹی ہوں، کسی کی بہو نہیں۔“ ۔ مجھے افسوس تھا کہ اس کے دماغ میں بہو کا کانسیپٹ کیسا خوفناک بنا دیا گیا تھا حالانکہ ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا۔ خیر میں نے دل میں کہا: ”بیٹی رہنا ہی کافی ہے، اگر دنیا سمجھ جائے۔“

یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں، یہ ان سب عورتوں کی ہے جو شوہروں کے پردیس جاتے ہی ان کے خاندان کے لئے نوکرانی بن جاتی ہیں جن کی تنخواہ صرف بے عزتی، بھوک اور خاموشی ہوتی ہے۔

سنا ہے وہ لڑکا پھر لوٹے گا۔

مگر اب شاید وہ دروازہ نہ کھلے جس کے پیچھے کبھی ایک بیوی، بیمار، لاچار اور امید بھری آنکھوں سے تکتی تھی۔

Facebook Comments HS