پروفیسر خورشید احمد: زندگی اور خدمات


پروفیسر خورشید احمد ( 1932۔ 2025 ) پاکستان کے ایک نامور ماہرِ معاشیات، فلسفی، اور سیاستدان تھے جن کی خدمات نے علم، اسلامی معیشت اور عوامی خدمت کے شعبوں کو محیط کیا۔ آپ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد 93 سال کی عمر میں برطانیہ میں وفات پا گئے۔ آپ کا شمار ان مایہ ناز مفکرین میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی اقتصادیات کو باقاعدہ ایک علمی شعبہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جماعت اسلامی میں آپ کی قیادت اور اسلامی اصولوں کو عصری حکومت و معیشت میں نافذ کرنے کی کوششیں آپ کی علمی اور فکری میراث کا حصہ ہیں۔

پروفیسر خورشید احمد 23 مارچ 1932 کو متحدہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ 1947 میں پاکستان منتقل ہوئے۔ 17 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا پہلا انگریزی مضمون The Muslim Economist میں شائع کیا۔ آپ نے لاہور کے گورنمنٹ کالج سے 1952 میں معاشیات میں بی اے کی ڈگری فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ حاصل کی۔ 1958 میں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم ایس سی (آنرز) اور 1962 میں اسلامیات میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں، ایم ایس سی معاشیات کے تحت انہوں نے ایڈم اسمتھ کے ”غیر مرئی ہاتھ“ (Invisible Hand) اور سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) پر مبنی ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ 1970 میں شرح خواندگی (literacy) کے فروغ میں ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے لیسٹر یونیورسٹی نے انہیں تعلیم کے شعبے میں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔ انہوں نے تعلیم کے اصولوں اور فلسفہ تعلیم پر بھی کتب تحریر کیں۔ انہیں ملنے والے قومی اور بین الاقوامی اعزازات میں یونیورسٹی آف ملائیشیا کی جانب سے تعلیم میں اعزازی ڈاکٹریٹ ( 1982 ) ، برطانیہ کی لوگبرو یونیورسٹی کی طرف سے ادب میں اعزازی ڈاکٹریٹ ( 2003 ) ، اور دوبارہ یونیورسٹی آف ملائیشیا سے اسلامی معیشت میں اعزازی ڈاکٹریٹ ( 2006 ) شامل ہیں۔

دورانِ تعلیم وہ عالم اسلام کے عظیم مفکر اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار سے بے حد متاثر ہوئے، آپ زمانہ طالب علمی میں مولانا مودودی کے لٹریچر کے طفیل نہ صرف پاکستان کی سب سے بڑی اور منظم طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلک رہے بلکہ 1953 تا 1955 دو سال تک مسلسل اس کے مرکزی ناظم اعلیٰ بھی رہے، بعد ازاں آپ 1956 میں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور بطور نائب امیر تقریباً دو دہائیوں تک محترم قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے ساتھ ذمہ داریاں اداکرتے رہے۔ انہوں نے 1932 میں مولانا مودودی کے جاری کردہ معروف اسلامی علمی رسالے ترجمان القرآن کی دو دہائیوں تک ادارت کے فرائض بھی انجام دیے جس میں اشارات کے عنوان سے آپ کے اداریے اور علمی مضامین شائع ہوتے رہے۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ 1965 میں برطانیہ چلے گئے تھے جہاں یونیورسٹی آف لیسٹر سے 1968 میں اسلامی اقتصادیات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1970 میں لیسٹر یونیورسٹی نے انہیں تعلیم کے شعبے میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی اور اسی سال انہوں نے وہاں کے شعبۂ فلسفہ میں عصری فلسفہ پڑھانے کے لیے شمولیت اختیار کی۔ اسی عرصے 1973 میں انہوں نے جماعت اسلامی کے ایک اور فکری اور علمی راہنما خرم جاہ مراد کے ساتھ مل کر برطانیہ میں یو کے اسلامک مشن کی بنیاد رکھی، جو اسلامی فکر، تحقیق، تعلیم اور تربیت کا عالمی مرکز بن گیا اور بعد میں اس کا شمار برطانیہ کی سب سے بڑی مسلم تنظیموں میں ہونے لگا۔ ان کی قیادت میں اس ادارے نے 400 سے زائد علمی و تحقیقی تصانیف شائع کیں۔ آپ اسلام آباد میں قائم پبلک پالیسی سے متعلق ممتاز بین الاقوامی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) کے بانی اراکین میں بھی شامل تھے۔ اسلامی معیشت کے میدان میں آپ کے کام نے اسلامی اقتصادی فقہ (jurisprudence) کی تشکیل و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ دراصل پروفیسر خورشید احمد کی علمی زندگی کا مرکز و محور اسلامی معاشیات کا فروغ اور اسے ایک مستقل علمی شعبے کے طور پر قائم کرنا تھا۔

پروفیسر خورشید احمد نے اردو اور انگریزی میں 70 سے زائد کتب تحریر، ترجمہ اور تدوین کیں، جن میں سے کئی کتابیں دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ ہو چکی ہیں۔ ان کی معروف تصانیف میں Islam: Its Meaning and میسیج اور Islamic Perspectives: Studies in Honour of Sayyid Abul A ’la Maududi شامل ہیں۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں یونیورسٹی آف لوگبرو اور یونیورسٹی آف ملایا جیسے اداروں سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی دی گئیں۔ پروفیسر خورشید احمد کی خدمات کو عالمی سطح پربھی سراہا گیا۔ انہیں 1990 میں خادمِ اسلام کے طور پر شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2011 میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز عطا کیا۔ علاوہ ازیں، 1988 میں اسلامی ترقیاتی بینک (IDB) کا ایوارڈ برائے معیشت اور 1998 میں اسلامی مالیات میں La۔ Riba Prize بھی حاصل کیا۔ یوں آپ پہلے اور واحد مسلمان سکالر بنے جنہیں ان تینوں بین الاقوامی اسلامی اعزازات سے نوازا گیا۔

پروفیسر خورشید احمد کی سیاست ان کے فکری نظریات کی عملی تعبیر تھی۔ وہ جماعت اسلامی کے دیرینہ رکن رہے اور کئی برسوں تک نائب امیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کا سیاسی فلسفہ اسلامی اصولوں کو حکومت اور معیشت کے ڈھانچے میں شامل کرنے پر مبنی تھا۔ 1980 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کے دورحکومت میں انہوں نے پہلے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقیات و شماریات کے طور پر گراں قدر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں انہیں پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن (Planning Commission) کا سربراہ بنایا گیا جس کے دوران انہوں نے معیشت کی اسلامی تشکیل کے لیے پالیسی سازی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ آپ 1985 تا 1997 اور 2003 سے 2012 تک ایوان بالا (سینیٹ آف پاکستان) کے رکن بھی رہے۔ اپنی سیاسی زندگی میں وہ ہمیشہ اسلامی اقدار کو قومی پالیسی کا حصہ بنانے کے لیے سرگرم عمل رہے۔ اپنے سینیٹر شپ کے دوسرے دور 2003 تا 2012 کے دوران جب آپ کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے سینیٹر بنایا گیا تو آپ نے بینک آف خیبر کو ملک کا پہلا سرکاری بلا سود اسلامی بینک بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کی پہلی شاخ کا افتتاح اس وقت کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی مرحوم نے کیا تھا۔

پروفیسر خورشید احمد عذرا خاتون دختر محب اللہ سے 1967 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، آپ کی اہلیہ نے 2015 میں وفات پائی۔ آپ کی اولاد میں تین بیٹے حارث، سلمان اور عمر اور تین بیٹیاں اسماء، سلمیٰ اور فریحہ شامل ہیں جب کہ آپ کے پسماندگان میں معروف ماہر تعلیم، دانشور اور رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد (بھائی) بھی شامل ہیں۔

پروفیسر خورشید احمد کی فکری اور علمی میراث نہ صرف ان کی کتب اور مقالات میں محفوظ ہے بلکہ اسلامی اقتصادیات کی تشکیل میں ان کے عملی کردار میں بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے معیشت، سیاست، اور اسلامیات کے میدانوں میں جو گہرے نقوش چھوڑے، وہ آج بھی دنیا بھر کے طلبہ، محققین اور پالیسی سازوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی مثال چھوڑ گئے ہیں جو علم، خدمت اور اسلامی اصولوں پر مبنی قیادت کا حسین امتزاج ہے۔ درحقیقت پروفیسر خورشید احمد کی زندگی علم و عمل کا ایک کامل نمونہ تھی جس میں اسلامی اصولوں کے ذریعے سماجی بہتری کی بے پناہ جستجو نمایاں رہی۔ ان کی شبانہ روز اور انتھک جدوجہد کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ توقع بجا طور پر رکھی جا سکتی ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ و سیاسی خدمات اور علمی ورثہ رہتی دنیا تک اسلامی معیشت اور نظامِ حکمرانی کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھیں گے۔

Facebook Comments HS