سترہ سالہ چیخ: ہم کب جاگیں گے؟
حال ہی میں پاکستان میں ایک سترہ سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے لرزہ خیز قتل نے پوری قوم کو افسردہ اور پریشان کر دیا۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے افسوس اور غم کا اظہار کیا، مگر یہ واقعہ محض ایک المناک خبر نہیں بلکہ ایک بہت بڑے سماجی بحران کی علامت ہے۔ ایک معصوم، خواب دیکھنے والی لڑکی کو اس کی آن لائن موجودگی، اظہارِ خیال اور خود اعتمادی کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم سوچیں : آخر ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ ہماری سوچ، اقدار اور ردعمل کس قدر متشدد ہوتے جا رہے ہیں، خاص طور پر جب بات خواتین کی ہو۔
پاکستانی معاشرہ ایسے واقعات کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والی نوجوان لڑکیاں اکثر تنقید، طعن و تشنیع، ہراسانی، بلیک میلنگ اور اب جسمانی تشدد تک کا شکار بن رہی ہیں۔ سوشل میڈیا، جو دنیا بھر میں اظہار، مواقع اور تعلیم کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، یہاں عزت کے نام پر موت کی وجہ بن رہا ہے۔ اس مسئلے کے پیچھے کئی گہرے اور پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں، جنہیں سمجھے بغیر ہم اس رویے کو ختم نہیں کر سکتے۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ ایک مضبوط پدرشاہی نظام کے تحت چل رہا ہے، جہاں خواتین کی خودمختاری کو شکوک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لڑکی کا سوشل میڈیا پر متحرک ہونا، اپنی رائے دینا یا اپنی شناخت ظاہر کرنا بعض افراد کے نزدیک ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ اسے خاندان کی عزت کے خلاف بغاوت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ مرد اگر یہی سب کرے تو قابلِ قبول ہوتا ہے۔
دوسری اہم وجہ غیرت کا وہ غلط تصور ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا ہے۔ غیرت کا مطلب اپنی ذات اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے اسے خواتین کو قابو میں رکھنے، دھمکانے یا ختم کرنے کا جواز بنا لیا گیا ہے۔ ایسے جرائم کو لوگ گناہ کے بجائے ”واجب“ سمجھنے لگے ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
تیسری وجہ تعلیم اور شعور کی کمی ہے۔ معاشرے میں سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات کو سمجھنے والا نقطہ نظر کمزور ہے۔ لوگ اکثر بغیر تحقیق کیے نوجوانوں کے انداز، لباس، بات یا ویڈیوز کو بنیاد بنا کر ان کے کردار پر فیصلے سنا دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہر انسان کی ترقی، اظہار اور آزادی کا اپنا انداز ہو سکتا ہے۔
چوتھی وجہ قانونی نظام کی کمزوری ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم کے ملزمان کو بہت کم سزا ملتی ہے۔ مقدمات کمزور، تفتیش سست، اور سماجی دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ متاثرہ خاندان کو خاموش کرا دیا جاتا ہے یا وہ خود بدنامی کے ڈر سے بولنے سے گھبرا جاتے ہیں۔ یوں مجرموں کو شہ ملتی ہے کہ وہ آئندہ بھی ایسی حرکت کریں گے اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
اس خطرناک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے شعور کی بیداری ضروری ہے۔ سکولوں، کالجوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے لوگوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ عورت کی عزت صرف اس کے سوشل میڈیا استعمال کرنے سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ اصل عزت یہ ہے کہ ہم اسے جینے، بولنے اور آگے بڑھنے کا حق دیں۔ میڈیا لٹریسی، خواتین کے حقوق اور غیرت کے اصل مفہوم پر مکالمہ ہونا چاہیے۔
قانون کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔ ایسے جرائم پر فوری اور سخت سزا ہونی چاہیے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ پولیس، عدالت اور سائبر کرائم اداروں کو خواتین کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی چاہیے کہ وہ خطرے میں موجود صارفین کو فوری تحفظ اور مدد فراہم کریں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ والدین، بہن بھائی، اور خاندان کے افراد لڑکیوں کے ساتھ کھڑا ہونا سیکھیں۔ اگر گھر کا فرد ان کے ساتھ ہو تو معاشرہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ ہر بیٹی کا حق ہے کہ وہ محفوظ اور باوقار زندگی گزارے، خواب دیکھے اور ان کے لیے محنت کرے۔
سترہ سالہ لڑکی کی موت ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے اندر چھپے اس ظلم اور تعصب کی علامت ہے جو ہم روز دیکھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو کل کو کوئی اور بیٹی، بہن یا دوست اسی انجام سے دوچار ہو گی۔ تبدیلی ہم سب سے شروع ہوتی ہے، آج، اسی لمحے۔

