ملیر جیل میں زلزلہ یا آزادی مارچ؟


کراچی کے معروف تاریخی ”سہولت خانہ“ المعروف ملیر جیل سے متعلق جو ابتدائی رپورٹ آئی ہے، وہ کسی ہالی وڈ فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے نہایت سنجیدگی سے بتایا ہے کہ ہزاروں قیدی زلزلے کے خوف سے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے باہر نکلے۔

ذرا سوچیے، وہ زلزلہ کیسا ہو گا جس نے قیدیوں کو بھی انسانی ہمدردی کے جذبے سے لبریز کر دیا جیل کی دیواریں کہیں گر نہ جائیں، چلو خود ہی باہر نکل کر جان بچاتے ہیں

ایسا سچے دل سے صرف وہی قیدی سوچ سکتا ہے جس نے سالوں تک جیل کو اپنا دوسرا گھر سمجھ رکھا ہو۔ اور اگر یہ محبت کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ قیدی جیل کو نقصان سے بچانے کے لیے خود ہی باہر نکل گئے۔

مرکزی دروازہ۔ ہٹ کے رہو، کھلنے لگا ہے

رپورٹ کے مطابق رات ڈیڑھ بجے قیدیوں نے ”مرکزی دروازہ توڑ دیا۔ جی ہاں، وہی دروازہ جو ہائی سیکیورٹی، آئرن بارز، اور 24 / 7 پہرہ کا حامل بتایا جاتا ہے، وہ بس ایک دھکے سے ایسا کھلا جیسے جیل نہیں، کوئی سرکاری دفتر ہو

یہ دروازہ عوام کے لیے ہے، زور سے دھکّا نہ دیں، خود کھل جائے گا۔

اہلکار شاید اس وقت اپنی نیند، واٹس ایپ، یا پکوڑوں کے آرڈر میں مصروف تھے، اس لیے دروازے کے ”کھُلنے“ کی آواز بھی صرف قیدیوں نے سنی۔

216 قیدی نکل گئے، جیسے وہ پہلے ہی کاؤنٹ ڈاؤن میں تھے۔
ایک، دو، تین، چلو باہر۔ ان میں سے 78 قیدی پکڑ لیے گئے ان سے پوچھا جا رہا ہے۔
”واپس کیوں آئے؟“
اور انہوں نے معصومیت سے جواب دیا
سمجھا تھا یہ کوئی ڈرل ہے، اصل فرار کا وقت بعد میں ہو گا۔

باقی 138 قیدیوں کی تلاش جاری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ وہ جائیں گے کہاں؟ کراچی میں ٹریفک، مہنگائی، اور لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی واپس آ جائیں گے، بس تھوڑا صبر چاہیے۔

جیل سپرنٹینڈنٹ کی رپورٹ حقیقت یا افسانہ؟

رپورٹ کو پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جیل نہیں، کوئی انسانی ہمدردی کی سوسائٹی ہو، جو زلزلے کے دوران اپنی ”محفوظ دیواریں“ قیدیوں پر گرانے سے روکنے کے لیے ”فوری ایگزٹ“ کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

قیدیوں نے خود کو بچانے کے لیے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا اور پھر واپس آنا بھول گئے۔
یہ رپورٹ اتنی رنگین ہے کہ لگتا ہے کسی اسکول کے بچے نے ”میرے خوابوں کی جیل“ پر مضمون لکھا ہے۔
سوشل میڈیا پر عوام پھٹ پڑے۔
ایک صارف نے لکھا، یہ زلزلہ نہیں تھا، جیل کے اندر ضمیر کا ارتعاش تھا۔
دوسرے نے کہا، جب جیل کا دروازہ خود توڑنے کی اجازت ہو، تو قیدیوں کو ٹریننگ کی کیا ضرورت؟
تیسرے نے مطالبہ کیا، اب قیدیوں کو این ڈی ایم اے کا رضاکار قرار دے کر تمغۂ شجاعت دیا جائے۔
آخر میں ایک چھوٹا سا سوال

اگر واقعی زلزلہ آیا تھا، تو سب سے پہلے جیل کی دیواریں کیوں گرنے لگیں؟ اور اگر اتنی ”محبت“ تھی قیدیوں کو اپنی جان کی، تو پھر پکڑے جانے والے قیدی واپس کیوں آئے؟ اور باقی کہاں جا رہے ہیں اگلی جیل کی جانچ کے لیے؟

ملیر جیل کی یہ رپورٹ خود ایک قیدی بننے کے لائق ہے حقائق کی جیل میں قید۔ بس فرق اتنا ہے کہ یہ خود باہر آنے کی کوشش نہیں کرے گی، جب تک کوئی دوسرا ”تحقیقاتی زلزلہ“ نہ آ جائے۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar