آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا


بھارتی حکمرانوں کے اس بیان پر پاکستان میں طرح طرح کے سوالات جنم لے رہے ہیں اور بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں جبکہ وزیر دفاع کو دفاع سے متعلق بہت سی باتوں کا کوئی علم ہی نہیں جس کا انہوں نے سما ٹی وی پر ندیم ملک کے پروگرام میں برملا اظہار بھی فرمایا۔

قطع نظر ان تمام باتوں کے، یہ بیان بھارتی اداکاروں راج کمار، امیتابھ، دھرمیندر، سنی دیول یا اکشے کمار کے ان معروف ڈائیلاگ کی طرح ہے جو مذکورہ ہیرو اکثر اپنی ہیرو گیری کی دھاک بٹھانے کے لیے مارتے رہے ہیں جو زبان زد عام ہوئے۔ ان فلمی مکالموں پر وہاں ناظرین کرکٹ میچ کی طرح تالیاں پیٹتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں کیونکہ یہ ان کی نفسیات ہے جس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے یہ ڈائیلاگ سرکاری سطح پر پورے شد و مد سے مارا جا رہا ہے۔

اس کے برعکس حقیقت حال یہ ہے کہ نام نہاد آپریشن سندور کا جب شاید نام بھی تجویز نہ ہوا تھا تب ہی بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل امر پریت سنگھ، کشمیر میں تعینات بری فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل سچندرا کمار اور فضائیہ کی شمالی کمان کے سربراہ ائر مارشل ایس پی دھارکر نے ایسی کسی مہم جوئی کو ناقابل عمل اور خلاف حقیقت قرار دیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ شمالی کمان کے مذکورہ دونوں سربراہان کو برطرف کر کے ان کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی۔

فضائیہ کے سربراہ نے جہازوں کی کمی جبکہ لیفٹننٹ جنرل سچندرا کمار نے فوج کو کسی مہم جوئی کے لیے فی الوقت تیار نہ ہونے اور ائر مارشل ایس پی دھارکر نے اس لحاظ سے پیشہ ورانہ تربیت مکمل نہ ہونے کے عذر پیش کیے تھے جنہیں کسی طور درخور اعتناء ہی نہ سمجھا گیا۔

مودی اینڈ کمپنی کو ہر صورت پاکستان میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنا ہی تھا۔ ان کا خیال تھا کہ بہار اور راجھستان کے انتخابات میں کامیابی کے لیے مقبولیت کے حصول کا یہی مناسب طرز اور اس کے لیے یہی اصل وقت ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف انہیں پاکستان کو دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی اور سفارتی محاذوں پر بھی شدید نقصانات سے دو چار کیا جس کے گا۔

بھارتی انتظامیہ نے سوچا کہ پاکستان چونکہ پہلے ہی معاشی دباؤ اور سیاسی انتشار کا شکار ہے جہاں حالیہ دنوں میں ملک کے مقتدر اور طاقت ور ترین ادارے فوج کے خلاف آوازیں اٹھانے کا چلن عام ہو رہا ہے جس سے یقیناً فوج کا مورال بھی گرا ہو گا یعنی مہم جوئی کے لیے اس سے بہترین وقت ہو ہی نہیں سکتا۔ سفارتی سطح پر پاکستان کو دہشت گردی کے الزامات کی بوچھاڑ سے مہم جوئی کو جواز دیا جائے گا جبکہ پاکستان کو سفارتی تنہائی سے دو چار کر کے مودی انتظامیہ فقید المثال کامیابیاں سمیٹ لے گی۔

حملے کی جو غلطی کی سو کی، اس سلسلے میں پاکستان کے یقینی پلٹ وار کو کمال حماقت سے یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ پاکستان کے جوابی وار اتنے ہولناک، شدید اور غیر متوقع تھے کہ ہوش اڑ گئے، یوں چند ہی گھنٹوں میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے جنگ بندی کی بنتی ہونے لگی۔ نقصانات اور ناکامیوں کو کامیابیاں دکھایا گیا، جھوٹے قصے گڑھے گئے مگر باتیں کہاں چھپتی ہیں؟ ہزیمت مٹانے کا کوئی ذریعہ نہیں ملا تو یہ بڑھک ماری گئی ”آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا“

حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے جنگ میں ہونے والے نقصانات اور سفارتی محاذ پر ناکامیوں کے علاوہ ان کی کمزوریاں سامنے آنے سے جو نقصان انہیں پہنچا اس نے ان کی ساکھ اور فوج کے مورال کو تباہی سے دو چار کر دیا ہے جس وجہ سے اگلے کم از کم پانچ سال یہ کسی مسلح تنازعہ میں نہیں پڑیں گے۔

وہ بھارت جسے امریکہ تین دہائیوں سے اس سے دس گنا بڑے اور طاقتور چین کا مدمقابل بنا رہا تھا، دس گنا چھوٹے اور بظاہر کمزور پاکستان کے سامنے تین دن بھی نہ ٹک سکا۔ یہ بھی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارتی بیانیے کو یکسر نظر انداز کر کے بھارت کے ساتھ رویہ میں 180 درجہ تبدیلی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے ”باہمی تنازعات“ طے کرنے کی پیشکش کردی۔

سفارتی محاذ پر حالات یہ ہیں کہ اکثر ممالک نے بھارتی موقف صرف سن لیا جبکہ متعدد نے پاکستانی کردار کو موضوع بنائے بغیر مجموعی طور پر دہشت گردی کے خلاف اظہار یکجہتی کیا جسے بھارتی اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ کئی ممالک نے پاکستان پر بے بنیاد بھارتی الزام تراشیوں کو مسترد بھی کر دیا۔ دوسری طرف پاکستانی سفارتی وفود کو کہیں بھی ناکامی نہیں ہوئی بلکہ امریکہ اور روس سمیت متعدد اہم ممالک میں توقع سے بڑھ کر کامیابی ملیں۔

کویت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ پر سالہا سال سے عائد پابندی ختم کردی، روس نے 2.6 ارب ڈالر کا تجارتی معاہدہ کیا جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی افغان طالبان سے متعلق پابندیوں کی کمیٹی کی سربراہی اور انسداد دہشت گردی کی کمیٹی کی نائب صدارت بھی پاکستان کو سونپ دی گئی۔

اس پوری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپریشن سندور جاری رکھنے کے بھارتی بیان کو کسی بڑی کارروائی کے تناظر میں تو زیادہ اہمیت حاصل نہیں البتہ بھارتی حکمران جماعت کی شکست خوردہ ہیجانی کیفیت کو دیکھتے ہوئے کسی بھی ناپسندیدہ اقدام کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

بھارتی نفسیات کے مطابق اب پاکستان میں بھارتی دہشت گردی ایک بار پھر 2008 تا 2014 جیسی کارروائیوں کی شکل اختیار کرنے کی کوشش کرے گی جس کے لیے حکومت، عوام اور فوج کو ویسی ہی حکمت عملی، جرات اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا جو وہ 7 تا 10 مئی اور اس کے بعد سے کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS