چائلڈ میرج اور چائلڈ لیبر قوانین کا آغاز کب اور کہاں ہوا


دس برس پہلے کی بات ہے چائلڈ میرج کے خلاف ایک ایڈووکیسی ایونٹ میں تقریر کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی ایک خاتون ایم پی اے نے انکشاف کیا کہ وہ خود چائلڈ میرج کا شکار ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا اور ظاہر ہے کہ وہ ایک امیر خاندان کی بہو بن کر جا رہی تھیں لیکن وہ اتنی خوف زدہ اور صدمے کی حالت میں تھیں کہ سارے راستے صرف خودکشی کے علاوہ کچھ نہ سوچا تھا۔ اس تقریر سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

آج سے کوئی دو سو سال قبل، سن 3318 میں، برطانیہ میں ایک قانون، برطانیہ فیکٹری ایکٹ 1833، آیا تھا۔ جو چائلڈ لیبر کے حوالے سے بچوں کے تحفظ کا پہلا قانون لگتا ہے کیونکہ اس قانون کے تحت ماڈرن تاریخ میں پہلی مرتبہ مزدوری کرنے والے بچوں کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر کی گئی تھی۔ برطانوی فیکٹری ایکٹ 1833 کے تحت نو برس سے کم عمر بچے کا مزدوری کرنا غیر قانونی قرار دیا گیا اور مزدور بچے کو روزانہ بارہ گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ تھا مزدوری کرنے والے بچوں کے لیے دو سو سال پہلے کا برطانیہ (اور دنیا بھی) ۔ لیکن یہ آغاز تھا مزدوری کرنے والے بچوں کے حقوق کے تحفظ کا۔ آج کے برطانیہ، اور بہت سارے دوسرے ممالک، میں شاید ہی کوئی بچہ مزدوری کرتا ہو۔ پاکستان میں کروڑوں بچے (لڑکے، لڑکیاں اور ٹرانس جینڈر) انتہائی سخت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

اب آتے ہیں چائلڈ میرج کے قوانین کی جانب۔ برطانیہ ہی میں چائلڈ میرج پر پہلا قانون آج سے ساڑھے سات سو برس پہلے آیا۔ یعنی برطانیہ کے بادشاہوں کا دھیان چائلڈ لیبر پر جانے سے ساڑھے پانچ سو سال پہلے چائلڈ میرج پر پڑ چکا تھا۔

سن 1275 میں آنے والے اس قانون کی وضاحت کے مطابق شادی کے لیے کم از کم عمر لڑکی کے لیے 12 برس جب کہ لڑکے کے لیے 14 برس مقرر کی گئی تھی۔ بچوں کے انسانی حقوق کے آج کے معیار کے مطابق تو یہ قانون بھی بہت ہی خراب ہے لیکن پھر بھی آج سے ساڑھے سات سو برس پہلے کسی نے اس عذاب کے متعلق سوچا تو سہی۔ برطانیہ میں اگلے کئی سو برس یہی قانون رہا اور اس میں پہلی تبدیلی بیسویں صدی میں ہی کی گئی۔ اب اٹھارہ سال سے کم عمر کسی لڑکی یا لڑکے کی شادی جرم ہے اور اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں چائلڈ میرج نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کہ پاکستان میں کروڑوں بچیاں چائلڈ میرج کے ظلم کا ایسے ہی شکار ہوتی ہیں جیسا ہزار برس پہلے ہوتی تھیں۔ صرف یہی نہیں اس ملک میں ایک بڑی تعداد ہے جو خاص طور پر بچیوں کو اسی عذاب میں رکھنا چاہتی ہے اور یہ بہت ہی خطرناک بات ہے۔

برٹش انڈیا میں بھی بچوں کی شادی کو ”محدود“ کرنے کے لیے پہلا قانون 1929 میں آیا۔ محمد علی جناح ”فادر آف دی نیشن“ نے بھی اس قانون کی حمایت کی۔ اس قانون کے مطابق شادی کی کم از کم عمر لڑکی کے لیے 14 سال اور لڑکے کے لیے 16 سال مقرر کی گئی۔ انڈیا نے 1978 میں اس قانون کو بدل دیا۔ ترمیم کے بعد وہاں 18 سال سے کم عمر لڑکی اور 21 سال سے کم عمر لڑکے کی شادی قانونا جرم ہے۔ ہمارے ہاں 1977 میں جنرل ضیا الحق آ گئے تھے جو خود تو 1988 میں آموں کی پیٹی کے ساتھ پھٹ کر ہلاک ہوئے لیکن ان کے مذہبی جانشین ابھی تک عورتوں اور بچیوں کی خوشیوں پر مارشل لاء لگائے بیٹھے ہیں۔

یہاں یہ بتانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلم دنیا میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، عراق، اردن، مراکش، الجزائر اور مصر جیسے اہم مسلم اکثریتی ممالک میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 برس ہے۔ ان تمام ممالک میں 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی قانونا جرم ہے۔

اس وقت صرف ایران اور پاکستان دو مسلم اکثریتی ممالک ہیں جہاں کم عمر لڑکیوں کا خوف یا پھر لالچ ملاؤں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ خوف (بغاوت کا) انہیں اپنی لڑکیوں سے ہے اور لالچ دوسروں کی کم عمر لڑکیوں کا۔ دونوں صورتوں میں وہ لڑکیوں کو بغیر شادی کے 18 سال کی عمر حاصل کرتا دیکھ نہیں سکتے۔ اسی لیے جب بھی پاکستان میں لڑکیوں کو چائلڈ میرج کے عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے یہ سڑکوں پر آنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کو اپنی عورت دشمنی دکھانے کا موقع مل جاتا ہے اور ہمارے کمزور دل سیاست دان ڈر جاتے ہیں۔

پاکستان میں ابھی تک سات وفاقی اکائیوں میں سے صرف سندھ اور کیپیٹل ایریا اسلام آباد میں 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی قانونا جرم ہے۔ باقی تمام اکائیوں بشمول پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پرانا قانون ہے جس کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم عمر 16 برس ہی ہے۔

اس سلسلے میں اسلام آباد میں ابھی ابھی قانون پاس ہوا تو کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی نے صدر آصف زرداری کو دھمکانے کی کوشش کی کہ وہ دستخط نہ کریں لیکن صدر زرداری نے پیپلز پارٹی کی قدرے لبرل اقدار کا پاس رکھا اور بل پر دستخط کر کے سرخرو ہوئے۔

ٹیل پیس: مستند اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں رہنے والی ایک کروڑ 90 لاکھ عورتیں ایسی ہیں جن کی شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی گئی تھیں۔ ان میں 46 لاکھ تو ایسی ہیں جنہیں 15 برس کی عمر سے بھی پہلے شادی کے عذاب میں ڈال دیا گیا تھا۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik