ستارے، شاہ لطیف اور وادی سندھ کی تحریر


ہزاروں سالوں سے سندھ کی لوک دانش میں ستاروں اور برجوں سے متعلق مختلف روایات موجود رہی ہیں۔ ان فلکی مظاہر میں ”کَتِی“ (سات ستار ے ) ، ”ٹیڑو“ (تین ستارے ) ، ”کھٹ“ (چارپائی، چار ستارے ) ، ”وچھوں“ (بچھو) ، ”کہکشاں“ (ملکی وے ) ، قطبی ستارہ، ”سہیل ستارہ“ (کینوپس) ، ”سُہاؤ ستارہ“ (صبح کا ستارہ) ، ”وِہاؤ تارو“ (شام کا ستارہ) ، اور ”لدھو“ یا ”لدھا تارا“ (جُڑواں ستارے ) شامل ہیں۔ شاہ لطیف نے اپنی شاعری میں کتی، ٹیڑو اور لدھا ستاروں جیسے ستاروں اور برجوں کا حوالہ لوک دانش یا علم کے مطابق دیا ہے۔ نہ صرف حسن و جمال اور چمک دمک کے استعارے کے طور پر بلکہ مقامی فلکیاتی فہم کو بیان کرنے کے لیے بھی۔

لوک دانش میں، خاص طور پر ستاروں کے بارے میں، مختلف خیال اور روایات پائی جاتی ہیں۔ سائنسی علم عام ہونے سے پہلے، جو روشن ستارہ طلوعِ صبح سے پہلے دکھائی دیتا تھا، وہ ”سُہاؤ ستارہ“ (صبح کا ستارہ) کہلاتا تھا، اور جو سورج غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتا تھا، اسے ”وِہاؤ ستارہ“ (شام کا ستارہ) کہا جاتا تھا۔ اب بھی یہ نام رائج ہیں۔

لوک روایات اور دانش کے مطابق، کتی (سات ستاروں ) کا ظہور رات کے وقت ہوتا ہے اور رات ڈھلتی ہے تو رات ختم ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ”لدھا تارا“ ، جسے جُڑواں ستارے بھی کہا جاتا ہے، انگریزی میں ”کاسٹر اور پولکس“ کہلاتے ہیں۔ یہ آسمان کے روشن ترین ستاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ دیگر اہم ستاروں میں ”سہیل ستارہ“ (کینوپس) ، قطبی ستارہ، صبح کا ستارہ (زہرہ) ، اور شام کا ستارہ (جو کہ زہرہ ہی ہے ) شامل ہیں۔ زہرہ طلوعِ آفتاب سے پہلے مشرق میں اور غروبِ آفتاب کے بعد مغرب میں ظاہر ہوتا ہے، اس لیے اسے صبح و شام دونوں وقت کا ستارہ کہا جاتا ہے۔ ”وِہاؤ“ کا تعلق دن کے وقت زہرہ کی حرکت سے جوڑا جاتا ہے۔

شاہ لطیف نے اپنی شاعری میں جُڑواں ستاروں (لدھا ستارے ) کو استعارے کے طور پر استعمال کیا۔ اس جوڑی میں پولکس زیادہ روشن ہے، لیکن یہ ستارے صبح کے آسمان میں دکھائی نہیں دیتے۔ بعض عوامی روایات میں کہا گیا ہے کہ لدھا ستارے، کتی کے پیچھے ہی نمودار ہوتے ہیں۔ اور شمالی آسمان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ عوامی دانش کے مطابق، شاہ لطیف نے ان ستاروں کی چمک کو محبوب کے حسن سے تشبیہ دی ہے۔ اگرچہ لدھا ستارے رات میں نمودار ہوتے ہیں مگر صبح کے وقت نہیں، ممکن ہے کہ سندھ کے بعض علاقوں میں یہ عقیدہ رہا ہو کہ وہ صبح کو طلوع ہوتے ہے میں، اور شاہ لطیف نے ”صبح“ کا لفظ اسی تناظر میں استعمال کیا ہو۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ انہوں نے ”صبح“ کو استعارے کے طور پر استعمال کیا ہو تاکہ چمک یا نورانیت کا اظہار کیا جا سکے، کیونکہ یہ ستارے واقعی بہت روشن اور رنگین ہوتے ہیں۔ شاہ لطیف نے اپنے سور کمبھات میں شعر کہا ہے :

”تارا تیلی رُؤِ، لدھا لالن اُبھریں
جَہڙو توں صُبُوح، تہڑو صافی سَجَنیں ”

لطیف نے برج ”کَتِی“ اور ”ٹیڑو“ کا بھی ذکر کیا ہے، اور انہیں عوامی فلکیاتی تصور کے مطابق وقت کے تعین کے طور پر استعمال کیا ہے :

”کَتیُن کر موڑیا، ٹیڑُو اُبھا ثیئی،
رانو رات نہ آئیو، ویل ٹری ویئی،
کھؤِ سا کھنی راتڑی، جا پریَنِ ری پیئی،
مونکھے ڈؤں ڈیئی، وجی ڈھولیو ڈھٹ قراریو ”

اٹھارہویں صدی کے ابتدائی دور میں شاہ لطیف نے شاعری کے ذریعے اس مقامی فلکیاتی علم اور روایت کا اظہار کیا جو وادی سندھ کی تہذیب کے دور سے موجود تھی۔ اس دور کی مہروں پر ایسے نشانات موجود ہیں جو ستاروں یا برجوں سے مشابہت رکھتے ہیں اور ان پر قدیم سندھو تحریر کندہ ہے۔

پروٹو دراوڑی اور دراوڑی زبانوں میں ”مِن“ کا مطلب ”مچھلی“ کے ساتھ ساتھ ”چمکتا ہوا، سفید، سنہری یا چمکدار“ بھی ہوتا ہے۔ سندھی میں بھی ”مِن“ یا ”مِین“ کے یہی معانی ہیں : مچھلی، چمک، روشنی، سونا، چاندی۔ ”سون مین“ (سنہری یا چاندی) اور ”میناکاری“ (سونے یا چاندی پر کندہ کاری) جیسے الفاظ آج بھی سندھی زبان میں مستعمل ہیں۔ محقق ”آسکو پارپولا“ اور دیگر محققین کے مطابق ”مِن“ یعنے مچھلی ایک روشن ستارے کی علامت ہو سکتی ہے۔ سندھو تحریر میں مچھلی کے نشان کے ساتھ جو لکیریں ( 7 +مچھلی یا مچھلی + 7 ) ہیں وہ اعداد کی نشاندہی کرتی ہیں۔

7+ مچھلی
7+ مچھلی

پارپولا نے ”سات ستاروں“ (ممکنہ طور پر کتی) کو ”سات رشیوں“ سے جوڑا ہے، اور ”ٹیڑو“ ( 3 +مچھلی یا مچھلی + 3 ) کو تامل ثقافت کے مچھلی جیسے رشیوں کے مہینے سے مربوط کیا ہے، لیکن یہ تفسیریں وادی سندھ کے مذہب یا زبان پر مبنی نہیں۔

3+مچھلی
3+مچھلی

اپنے ذاتی کام میں، میں نے موجودہ سندھی روایات میں ”ٹیڑو“ کو جون اور جولائی میں نظر آنے والے تین ستاروں کے برج کے طور پر پڑھا ہے۔ سات ستاروں کی تشریح جو سندھی روایت میں موجود ہے، وہ ”کَتِی“ کہلاتی ہے، جو سندھی کیلنڈر کے دوسرے مہینے سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ مہینہ کاشتکاری کے آغاز کے لیے اہم ہوتا ہے، جب پیاز، باجرہ، تل، گوار اور دیگر فصلیں بوئی جاتی ہیں۔

”لدھا ستاروں“ کے برج کی تشریح بھی لوک روایت کے مطابق ہے۔ سندھو مہروں پر موجود نشانات یا علامات ( 2 +مچھلی یا مچھلی + 2 ) کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان ستاروں کے مجموعوں سے وادی سندھ کے لوگ واقف تھے اور دراوڑی زبانوں میں ان کی اہمیت بھی ہوگی۔ تاہم، اس زمانے میں ان ستاروں کے برجوں کو کیا نام دیے گئے تھے، یہ اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتا جب تک سندھو تحریر مکمل طور پر پڑھ نہ لی جائے۔

2+مچھلی
2+مچھلی

وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر شاہ لطیف کے دور تک اور آج تک، سندھی زبان نے فلکیاتی عوامی علم کو زندہ رکھا ہے۔ تاہم، آج کے برجوں کے سندھی نام دراوڑی زبانوں سے وراثت میں نہیں آئے۔ حتیٰ کہ جدید دراوڑی زبانوں جیسے تامل، تیلگو، کناڑ، ملیالم، گونڈی، براہوی وغیرہ میں بھی وادی سندھ کے دور کے قدیم برجوں کے نام موجود نہیں رہے۔

آخر میں، شاہ عبداللطیف بھٹائی نے برجوں سے متعلق عوامی دانش کو اپنی شاعری میں شامل کر کے نہ صرف عام لوگوں سے اپنی گہری وابستگی ظاہر کی، بلکہ اس خطے کی فلکیاتی روایت کو بھی دوام بخشا۔

 

Facebook Comments HS