کوانٹم مکینکس میں پیمائش کا کردار: ایک ناقابل فہم صورت حال


کوانٹم مکینکس 1925 میں آزادانہ طور پر ورنر ہائزنبرگ اور ایرون شروڈنگر نے ایجاد کی تھی، اور سو سال گزرنے کے بعد ، کوئی ایک بھی ایسا مشاہدہ نہیں ہے جو کوانٹم مکینکس کی پیشین گوئیوں کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ یہ ایک حیرت انگیز طور پر کامیاب نظریہ ہے جس نے ہمیں ایٹمی ذرات جیسی چھوٹی چیزوں سے لے کر کائناتی سائز کی اشیا تک کے مظاہر کی تفہیم فراہم کی ہے۔

لیکن کوانٹم مکینکس سے وابستہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تذکرہ عام طور پر نہیں کیا جاتا۔ اس مسئلے کا ذکر تدریسی کتابوں تک میں عمومی طور پر نہیں ملتا۔ اس کا تعلق کوانٹم مکینکس کی نظریاتی بنیادوں سے ہے۔

اگر مختصر انداز میں بیان کیا جائے تو مسئلہ یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس کے قوانین کا اطلاق تو کائنات کی ہر چیز پر ہونا چاہیے لیکن اگر ایسا ہو تو ہمارے لئے کسی قسم کی کی پیمائش کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی ذرے کی پوزیشن معلوم کرنا چاہیں، تو کوانٹم میکانکس کے قوانین کے مطابق چلنے والا کوئی بھی آلہ ذرے کی کسی مقام پر موجودگی کی پیمائش کرنے سے قاصر ہو گا۔

یہ صورت حال نیوٹن کی دریافت کردہ حرکت کے قوانین کے بر عکس ہے۔ نیوٹن کے قوانین کے مطابق اگر کسی ذرے کی ابتدائی پوزیشن اور اس پر اثر کرنے والی تمام قوتوں کا ادراک ہو تو یہ بتانا ممکن ہوتا ہے کہ ایک مخصوص وقت کے بعد وہ ذرہ کہاں ہو گا اور کس رفتار کے ساتھ حرکت کر رہا ہو گا۔

ایک مثال کے طور پر، ہم ایک الیکٹرون کی ایک اسکرین کی طرف حرکت پر غور کرتے ہیں۔ کوانٹم مکینیکل قوانین کے مطابق، الیکٹرون ایک لہر یا بادل کی طرح حرکت کرتا ہے۔ حرکت کرتے ہوئے یہ لہر پھیلتی جاتی ہے۔ اس لہر کے پھیلاؤ کی پوری تفصیل کوانٹم مکینکس کی بنیادی مساوات، شروڈنگر مساوات، کو حل کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس طور یہ محسوس ہو تا ہے کہ کوانٹم مکینکس کے قوانین بالکل نیوٹن کے قوانین کی طرح ایک مخصوص وقت پر الیکٹرون سے وابستہ لہر کا تعین پوری درستگی کے ساتھ کرتے ہیں۔ شروڈنگر مساوات کے مطابق اسکرین سے ٹکرانے سے پہلے، الیکٹرون کی لہر پوری اسکرین پر پھیل جاتی ہے۔ لیکن جو اہم بات ہے وہ یہ کہ یہ لہر کوئی حقیقی نہیں ہوتی، یہ تو محض ایک امکانی لہر ہے۔ جہاں لہر کی کثافت زیادہ ہے وہاں الیکٹرون کے پائے جانے کا امکان زیادہ ہو گا اور جہاں کثافت کم ہو گی وہاں کم ہو گا۔ یوں کوانٹم مکینکس کے قوانین ہمیں اسکرین پر کسی خاص مقام پر الیکٹرون کے پائے جانے کے صرف امکان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

اب ہم اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔

جب الیکٹرون اسکرین سے ٹکراتا ہے، تو یہ ایک نقطے پر پایا جاتا ہے، پوری اسکرین پر پھیلا ہوا نہیں ہوتا۔ اس طور الیکٹرون کی امکانی لہر، جو پیمائش سے بالکل پہلے پوری سکرین پر پھیلی ہوئی تھی، پیمائش کے نتیجے میں فوری طور پر ایک نقطہ پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک الیکٹرون کے بارے میں باقاعدہ پیشن گوئی نہیں کر سکتے کہ وہ اسکرین پر کہاں پایا جائے گا۔ لیکن اگر ہزاروں الیکٹرون اسکرین سے ٹکراتے ہیں تو ان کی وہی تقسیم ہو گی جس کی پیشن گوئی کوانٹم مکینکس کے قوانین کے تحت کی جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اوپر دی گئی مثال میں ہم پیمائش کے آلات کے ساتھ الیکٹرون کے تعامل کی تشریح کیسے کرتے ہیں۔ پیمائش کے آلات کے ساتھ ذرات کا یہ تعامل ایک اہم مسئلہ ہے جو کوانٹم میکانکس کے ابتدائی دنوں سے طبیعیات دانوں کے لیے حل طلب ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ کوانٹم مکینکس، خاص طور پر شروڈنگر مساوات، پیمائش کے مسئلے کو براہ راست حل نہیں کرتی ہے۔ کوانٹم میکانکس صرف لہر کی وقت کے ساتھ مربوط سپر پوزیشن کے ارتقاء کو بیان کرتی ہے، لیکن پیمائش کے آلات کے ساتھ تعامل کے بارے میں خاموش ہے۔

کوانٹم مکینکس پیمائش سے وابستہ بہت سے اہم سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے۔
پیمائش کے نتیجے میں ذرہ کہاں پایا جائے گا؟
وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب ذرہ پیمائش کے مرحلے میں ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتا ہے؟
اگر ذرہ ایک خاص مقام پر پایا جاتا ہے، تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ پیمائش سے قبل وہاں موجود تھا؟
کیا ہم جانتے ہیں کہ اس ذرے نے ابتدائی مقام سے مشاہدہ کردہ مقام تک کس راستے پر سفر کیا؟

لیکن اس مضمون میں میرا مقصد ان مسائل سے نبرد آزما ہونا نہیں ہے۔ بلکہ ایک اور گمبھیر مسئلے کا جائزہ لینا ہے اور وہ یہ کہ خود پیمائش کی نوعیت کیا ہے؟

صورت حال یہ ہے کہ سائنسدان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس کائنات میں موجود ہر چیز کوانٹم میکانکس کے قوانین کے تحت ارتقا پذیر ہے۔ لیکن پیمائش کے لیے ہمیشہ ان آلات کا سہارا لیا جاتا ہے جن پر خود کوانٹم مکینکل کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
اگر ایسا ہے تو یہ بہت غیر منطقی لگتا ہے۔
پیمائش کا مسئلہ شروڈنگر مساوات کی متعین نوعیت اور پیمائش کی امکانی نوعیت دونوں کو نمایاں کرتا ہے۔

کوانٹم مکینکس کے قوانین شروڈنگر مساوات کے ذریعے ایک طرف تو کسی سسٹم کے ارتقا سے متعلق ایک متعین انداز میں پیشن گوئی کرتے ہیں جس کے مطابق پیمائش کے نتیجے میں کسی حالت میں ملنے کا کیا امکان ہے، لیکن دوسری طرف جب پیمائش کی جاتی ہے تو سسٹم ان حالتوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے۔ پراسرار حصہ پیمائش کا وہ عمل ہے جس میں سسٹم ان امکانات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے۔

پیمائش کے عمل کے تین اجزاء ہیں : وہ نظام جس کی پیمائش کی جانی ہے، پیمائش کا آلہ اور مبصر۔

آئیے ایک سادہ سی مثال سے پیمائش کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ہمارے پاس پولرائزیشن سٹیٹس ↗ اور ↖ کی مربوط سپرپوزیشن میں ایک فوٹون ہے۔ پیمائش کرنے کا ایک سادہ آلہ ایک ایٹم ہو سکتا ہے جس کا الیکٹرون ابتدائی طور پر سب سے کم توانائی والی حالت G میں ہوتا ہے۔ آئیے فرض کریں کہ اگر پولرائزیشن سٹیٹ ↗ ہے، تو فوٹون جذب ہو جاتا ہے اور الیکٹرون پرجوش حالت E میں پہنچ جاتا ہے اور اگر پولرائزیشن سٹیٹ ↖ ہے، تو فوٹون جذب نہیں ہوتا ہے اور الیکٹرون حالت G میں رہتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اگر الیکٹرون حالت E میں پایا جاتا ہے، تو فوٹون حالت ↗ میں تھا اور، اگر الیکٹرون حالت G میں پایا جاتا ہے، تو فوٹون حالت ↖ میں تھا۔ اس کے بعد ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ فوٹون کی پولرائزیشن کی پیمائش کر لی گئی۔

تاہم، اگر غور سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہم اب بھی فوٹون کی پولرائزیشن حالت کے بارے میں اتنے ہی ناواقف ہیں جتنے کہ ہم پیمائش سے پہلے تھے۔ مسئلہ ابھی بھی باقی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ کیسے معلوم کیا جائے کہ الیکٹرون حالت G میں ہے یا حالت E میں؟

مسئلہ جوں کا توں موجود ہے، صرف نوعیت بدل گئی ہے۔ فوٹون کی پولرائزیشن کی پیمائش کرنے کے بجائے، ہمیں اب الیکٹرون کی حالت کی پیمائش کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا الیکٹرون حالت E میں ہے یا حالت G میں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں ایٹم کا مشاہدہ کرنے کے لیے ایک اور پیمائشی عمل کی ضرورت ہے۔ اس پیمائشی عمل کے بعد پھر ایک اور پیمائش کی ضرورت ہو گی اور یہ نہ تھمنے والا سلسلہ چلتا رہے گا۔ لہذا پیمائش کے آلات کے ساتھ بار بار تعامل کے ذریعہ کوانٹم سسٹم کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا۔ پیمائش کے آلے کی کوانٹم نوعیت فوٹون کی پولرائزیشن کی پیمائش ناممکن بنا دیتی ہے۔

اس تصور کو سمجھنے کے لیے ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔ فرض کرتے ہیں کہ ایک کھڑکی کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ اس کے کھلے ہونے کا امکان ساٹھ فیصد ہے اور بند ہونے کا چالیس فیصد۔ ہم یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کھڑکی کھلی ہے یا بند، ایک ایسا گیند نما آلہ استعمال کرتے ہیں کہ اگر کھڑکی کھلی ہے تو اس کا رنگ سبز ہو جاتا ہے اور اگر کھڑکی بند ہے تو رنگ سرخ ہو جاتا ہے۔ اب اگر پیمائش کے نتیجے میں یہ معلوم ہو کہ اس گیند کے سبز ہونے کا امکان ساٹھ فیصد ہے اور سرخ ہونے کا امکان چالیس فیصد ہے، تو مسئلہ جوں کا توں ہے۔ کھڑکی کے کھلے یا بند ہونے کے بارے میں ہماری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ جب تک آلے کا رنگ حتمی طور پر سبز یا سرخ نہیں ہوتا، پیمائش نامکمل رہتی ہے۔ یہ صورت حال ان پیمائش کے آلات کی ہے جو کوانٹم اصول پر کام کرتے ہیں۔ ایک کامیاب پیمائش کی خصوصیت تو یہ ہونی چاہیے کہ اگر کھڑکی کھلی ہے تو آلے کا رنگ اس طور سبز ہو جانا چاہیے کہ یہ رنگ ناقابل واپسی ہو۔ یہی صورت حال کھڑکی بند ہونے کی صورت میں ہونی چاہیے جب آلے کا رنگ ناقابل واپسی طور پر سرخ ہونا چاہیے۔ لیکن کوانٹم مکینیکل پیمائش کے آلات حتمی نتیجہ فراہم نہیں کرتے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مسئلہ کہاں ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم پیمائش کے آلے کے طور پر کسی کوانٹم سسٹم کا انتخاب کریں تو سسٹم کی امکانی حیثیت برقرار رہتی ہے۔ اوپر دی گئی مثال میں پولرائزیشن کی نامعلوم کیفیت ایٹم کی نامعلوم کیفیت میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ کوانٹم قوانین وقت کے لحاظ سے reversible ہیں، یعنی کوانٹم قوانین کے تحت کام کرنے والا آلہ اس طور پیمائش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ ایک خاص پیمائش کے نتیجے میں ایسا نتیجہ اخذ کرے جو حتمی ہو اور ناقابل واپسی۔

ہم اس دلدل سے کیسے نکل سکتے ہیں؟

کسی نہ کسی طرح ایک ناقابل واپسی عمل کو پیمائش کے عمل میں شامل کرنا ہو گا۔ ناقابل واپسی کی ضرورت کو صرف یہ نوٹ کر کے دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر پولرائزیشن کو حالت ↗ میں ماپا جاتا ہے تو پولرائزیشن حالت↗ اور حالت ↖ کی اصل مربوط سپرپوزیشن کو بازیافت کرنا ناممکن ہوجانا چاہیے۔ تاہم، تمام کوانٹم نظام شروڈنگر مساوات کے مطابق ایسی حالت میں ارتقا پذیر ہوتے ہیں کہ وقت کا رخ بدلنے سے سسٹم ابتدائی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ناقابل واپسی پیمائش کیسے حاصل کی جائے؟

ایک ناقابل واپسی عمل عام طور پر ایک کلاسیکی عمل ہے اور پیمائش کا آلہ کوانٹم میکانکس کے بجائے نیوٹن کی دریافت کردہ میکانکس کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔ یہ ایک ناقابل قبول صورت حال ہے کیونکہ ہم یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ہر شے، الیکٹرون جتنی چھوٹی اور سیارے یا ستارے کی طرح بڑی ہو، کوانٹم میکانکس کے اصولوں پر عمل کرتی ہے اور کلاسیکی میکانکس صرف اس صورت میں ایک درست تخمینہ فراہم کرتی ہے جب کوانٹم اثرات بہت کم ہوتے ہیں۔

یہاں میں ناقابل واپسی عمل کی ایک سادہ سی مثال پیش کرتا ہوں۔ ذرا تصور کریں کہ صاف پانی کے گلاس میں نیلی سیاہی کا ایک قطرہ گرتا ہے۔ ہم جو مشاہدہ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ چند منٹوں کے بعد نیلی سیاہی یکساں طور پر پھیل جاتی ہے اور پانی کا رنگ ہلکا نیلا ہو جاتا ہے۔

یہ ایک عام مشاہدہ ہے لیکن اس میں اسرار کا عنصر موجود ہے۔

سیاہی کے قطرے کے ایٹم پانی میں بکھر جاتے ہیں اور پانی کے رنگ کو ہلکا نیلا بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہلکے نیلے رنگ کا پانی نیلی سیاہی کے قطرے اور صاف پانی کے گلاس میں تبدیل ہو جائے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

سیاہی کے قطرے میں ہر ایٹم کی حرکت الٹ سکتی ہے۔ اگر ہم ہر ایٹم کی حرکت کی فلم بنا سکیں، تو ہم یہ معلوم نہیں کر پائیں گے کہ فلم ماضی سے مستقبل کی طرف چل رہی ہے یا مستقبل سے ماضی کی طرف۔ لیکن اجتماعی طور پر سسٹم ناقابل واپسی ہے، اگر ہم ایک ایسی فلم دیکھیں جس میں ہلکے نیلے رنگ کے پانی میں وقت کے ساتھ سیاہی کے ایٹم ایک قطرے کی شکل میں علیحدہ ہوتے جائیں اور صاف پانی علیحدہ ہوتا جائے توہم فوراً پہچان لیں گے کہ فلم الٹی چل رہی ہے۔ یہ سادہ مشاہدہ کہ ذرّات کی ایک بڑی تعداد کے نظام کی ناقابل واپسی کا نتیجہ ان ذرات سے ہوتا ہے جن کی اپنی حرکت الٹنے والی ہوتی ہے طبیعیات کی ایک اہم شاخ کی بنیاد ہے جسے تھرموڈینامکس کہتے ہیں۔

ایک ناقابل واپسی پیمائش کرنے والا آلہ، اصولی طور پر، نیلی سیاہی والے چھوٹے تھیلوں سے بنایا جا سکتا ہے۔ آئیے فرض کریں کہ جب عمودی طور پر پولرائزڈ فوٹون سیاہی کے تھیلے سے ٹکراتا ہے تو کچھ نہیں ہوتا ہے۔ تاہم، جب افقی طور پر پولرائزڈ فوٹون بیگ سے ٹکراتا ہے، تو بیگ کھل جاتا ہے اور صاف پانی والے گلاس میں سیاہی چھوڑ دی جاتی ہے۔ صاف پانی ایک ناقابل واپسی عمل میں ہلکا نیلا ہو جاتا ہے۔ اس طور پیمائش مکمل ہے۔ شیشے میں پانی کے رنگ کو دیکھ کر، ہم قطعیت کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ کون سا فوٹون، افقی یا عمودی طور پر پولرائزڈ تھا۔ یہ ہمیں پیمائش کے عمل کو ناقابل واپسی کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک بار پیمائش ہو جانے کے بعد ، پیمائش سے پہلے موجود حالت میں واپس آنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

پیمائش کی یہ نوعیت عام طور پر قابل قبول ہے۔
لیکن ذرا غور سے دیکھیں۔ کیا پیمائش واقعی ناقابل واپسی ہے؟

پانی میں نیلے رنگ کی مثال میں عمومی طور پر سسٹم ناقابل واپسی ہے لیکن حتمی طور پر ہرگز نہیں۔ اگر ہم ایک بہت طویل عرصہ، کائنات کی عمر کے برابر، انتظار کریں تو اس بات کا امکان ہے کہ نیلے رنگ کا قطرہ صاف پانی سے علیحدہ ہو جائے گا۔ اس طور پیمائش کا نتیجہ ابھی بھی حتمی نہیں۔

کچھ سائنسدانوں کے نزدیک، کسی سسٹم کے لیے ایک خالص پیمائش کے لئے کسی ایسی چیز کے ساتھ تعامل کی ضرورت ہوتی ہے جو مکمل ناقابل واپسی ہو، جس میں ابد تک واپسی کا امکان صفر ہو۔

سوال یہ ہے کہ ایسی کیا چیز ہو سکتی ہے؟

ایک امیدوار شعور ہے۔ پیمائش کا عمل صرف اس وقت مکمل ہوتا ہے جب پیمائش کا نتیجہ مبصر کے شعور میں درج ہو۔ جب ایک مبصر کسی خصوصیت کا ادراک شعوری طور پر کرتا ہے تو اپنی حالت سے آگاہ ہے جو ناقابل واپسی ہے۔ اگر ہمارے سامنے ایک امکانی صورت حال ہے، ایسا بھی ہو سکتا ہے یا ویسا بھی ہو سکتا ہے، اور ہم شعوری طور پر جان سکیں کہ صورت حال کیا ہے تو امکانی صورت حال تک لوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اوپر دی گئی ایک مثال میں اگر ہم ایک دروازہ جو دونوں، کھلی یا بند حالتوں، میں پایا جا سکتا ہے، کھلی حالت میں پائیں تو شعور اس نتیجے کا اندراج اس طور کرتا ہے کہ بھلانا ناممکن ہوتا ہے۔

پیمائش کے عمل میں شعوری ذہن کے کردار کو بیسویں صدی کے دو اہم سائنسدانوں، John VonNeumann اور Eugene Wigner، نے اجاگر کیا۔ Wignerکے الفاظ میں،

” یہ ہمارے شعور میں ایک تاثر کا داخل ہونا ہے جو پیمائش کا عمل مکمل کرتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شعور کوانٹم نظریے میں ناگزیر طور پر داخل ہوتا ہے۔ “

تاہم، ایک اہم سوال یہ ہے کہ شعور کیا ہے؟ کیا بلی یا چوہا، یا کوئی کیڑا بھی حقیقت بنا سکتا ہے؟ اور جب کائنات میں زندگی کی کوئی صورت موجود نہیں تھی، تو کیا کائنات موجود تھی؟ کیا کائنات اسی وقت وجود میں آئی جب پہلی زندگی یا پہلے انسان نے آنکھ کھولی اور اوپر دیکھا؟ شعور اور پیمائش میں اس کے کردار سے متعلق یہ سوالات اب بھی زیر بحث ہیں۔ جیسا کہ، ہمارے دور کے ایک عظیم سائنسدان، Ed Witten، نے ایک انٹرویو میں کہا،

”میرے خیال میں انسانی شعور ایک معمہ ہی رہے گا۔ ہاں، میں اسی بات پر یقین رکھتا ہوں۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ ایک دن شعوری دماغ کی نوعیت کو کافی حد تک سمجھنا ممکن ہو گا۔ حیاتیات اور شاید طبیعیات کے ماہرین زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے۔ لیکن جس چیز کو ہم شعور کہتے ہیں، اس کا دماغ سے کیا تعلق ہے، میرے خیال میں یہ پراسرار ہی رہے گا۔“

یہ الفاظ ایک عظیم سائنسدان کے سائنس کی محدودیت کے بارے میں اعتراف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا کبھی پیمائش کے تصور کو کوانٹم مکینکس کے اصولوں سے پوری طرح ہم آہنگ کرنا ممکن ہو گا؟

اور کیا ہم پیمائش میں شعور کا رول جان پائیں گے؟

میرا اپنا خیال ہے کہ اگر کسی دن ایسا ممکن ہوا تو شاید کوانٹم مکینکس کے بہت سے اسرار سے پردہ اٹھ جائے گا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy