استاد کی جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی ایک طالبہ
گزشتہ دنوں ایک بچی کا وڈیو کلپ نظروں سے گزرا، کسی یونیورسٹی کیمپس کی طالبہ لگتی تھی، وڈیو میں وہ اپنے ایک روحانی باپ کی جنسی کارستانیاں بتا رہی تھی۔
ہماری نسلوں کو اس خواہ مخواہ کے تابعداری اور فرمانبرداری والے کلچر نے بھی خاصا نقصان پہنچایا ہے، بچے بچیوں کو حقیقی معنوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ہمیں انہیں یہ بتانا ہو گا کہ استاد کوئی اوتاری شخصیت نہیں ہوتا، اس سے سوال کیا جا سکتا ہے، اگر وہ کسی بھی طرح سے استحصال کرتا ہے تو اس کے خلاف بلاخوف آواز بلند کی جا سکتی ہے۔
طالبہ کے بیان کے مطابق ایک استاد اس بچی کو مسلسل ہراساں کرتا رہا، جنسی آگ بجھانے کے لیے وہ اسے نجانے کب سے بلیک میل کر رہا تھا۔ ادارہ کے ڈائریکٹر سے بھی اس سلسلے میں مداخلت کرنے کو کہا گیا لیکن بیان کے مطابق اس نے بھی اسی جنسی درندے کی حمایت کی، اس طرح کے جنسی درندے ہر محکمہ میں موجود ہوتے ہیں جو اپنی اختیاراتی طاقت کو اپنی جنسی ہوس مٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں اس طرح کی مکروہ ذہنیت کا پایا جانا جہاں قابل افسوس ہے وہیں ریاست پر بھی ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے جنسی درندوں کا کڑا احتساب کریں۔ مہذب ملکوں میں اس طرح کے جنسی درندوں کو کھلا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ایسے لوگوں کو تو سماج سے ہی الگ کر دیا جاتا ہے اور تعلیمی اداروں کے تو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جاتا، کیونکہ اس طرح کے لوگ نارمل نہیں ہوتے بلکہ ذہنی مریض ہوتے ہیں۔
کیا ایک خاتون کا جسم محض جنسی طور پر دان کرنے کے لیے ہوتا ہے؟
یہ جنسی درندہ جو ایک استاد کے روپ میں معزز بن کر بیٹھا ہوا ہے نجانے کتنی بچیوں کا جنسی استحصال کر چکا ہو گا کون جانے؟
جنسی اتاولا اس قدر ہے کہ ”ناں“ کی اہمیت کو جاننے سے ہی قاصر ہے بس ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھا کہ مجھے اپنے وجود سے جنسی اٹکھیلیاں کرنے دو ورنہ میں تمہیں تمہارے تعلیمی کیریر سمیت تباہ کر دوں گا، دل پر ہاتھ رکھیں اور اس دھمکی کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور بچی کو معاشرتی پیراڈایم میں رکھ کر سوچیں کہ وہ کس قدر ذہنی اذیت سے گزری ہوگی؟
خاص طور پر ایک ایسا گھٹن زدہ سماج جہاں بچیوں کو سنے بنا ہی بیڈ کریکٹر سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے اور یہ اخذ کر لیا جاتا ہے کہ ضرور بچی نے ہی پیش قدمی کی ہوگی، اب بھلا ایسے ماحول میں کاہے کی تعلیم بھائی؟ بچیوں کا تو آدھے سے زیادہ تعلیمی دورانیہ اسی فکر میں گزر جاتا ہے کہ وہ اپنی عزت کا تحفظ کیسے کریں؟
اس قدر سماجی دباؤ تلے اس کی شخصیت کی تعمیر کس انداز میں ہوگی آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں، اب اسے سماج کی بدبختی کہیں یا معاشرتی جبر کی مکروہ ترین شکل کہ ہماری بچیوں کے ذہنوں میں یہ بات کہیں نا کہیں راسخ ہو چکی ہوتی ہے کہ اسے ڈیل کرنے والا شخص نجانے کب اس کا جنسی استحصال کر سکتا ہے۔
یہ تو اکا دکا واقعات ہیں جو ہماری بچیوں کی بہادری کی وجہ سے رپورٹ ہو جاتے ہیں ورنہ تو آئے روز ہماری بچیوں کو نجانے کیا کچھ جھیلنا پڑتا ہے، مجبور جو ٹھہریں نا! اگر وہ زبان کھولتی ہیں تو خیرات یا احسان کی صورت میں میسر ہونے والا تعلیمی دورانیہ متاثر ہو سکتا ہے، اگر وہ معاشرتی رویوں کا پردہ چاک کرتی ہیں تو کچھ دیر کے لیے میسر یہ لمحے اس سے چھن سکتے ہیں۔
جس دن ہماری بچیوں نے زبان کھول دی تو کئی شرفاء ننگے ہو جائیں گے، وہ سب جنسی ٹھرک باز اساتذہ جو تعلیم کے نام پر دھبہ ہیں اور پڑھائی کے دوران اپنے جینوئن کام پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے بچیوں کی ٹانگوں کے بیچ نظریں گاڑے رکھتے ہیں ان کے نقاب اتر جائیں گے۔


