انسانی ماؤں کا جذباتی آنول کو کاٹنا


ڈاکٹر سارہ علی کا ڈاکٹر خالد سہیل کو خط

صبح کے دس گیارہ بجے کا وقت تھا میں اپنی واک اور ناشتے سے فارغ ہو کر اپنا لیپ ٹاپ کھول کر کام کر رہی تھی اور بہت الگ سا احساس ہونا شروع ہوا شاید اس لیے کہ میں اپنے جسم کی طرف زیادہ متوجہ تھی کیونکہ میں پریگننٹ تھی اور ایک ہفتہ پہلے ہی اپنے گائناکولوجسٹ سے چیک کروا کے آئی تھی اور اس نے مجھے آگاہ کیا تھا کہ یہ آٹھواں مہینہ ہے اور اگلے مہینے کے تیسرے ہفتے میں مجھے اس کے پاس ڈلیوری کے لیے جانا تھا۔

چونکہ میں بہت زیادہ واک کرتی تھی تو ڈاکٹر کا خیال تھا کہ نارمل ڈلیوری میں کوئی خاص مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن میری پوری پریگننسی بہت زیادہ طبیعت خراب رہی۔ مجھے ایسیڈ ریفلکس کا مسئلہ اتنا شدید تھا کہ کچھ بھی کھانا میرے لیے بہت مسئلہ تھا لیکن اس دن عجیب سا تھا۔ میں نے اپنی امی کو بتایا تو انہوں نے کہا ڈاکٹر کے چلتے ہیں۔ میں چیک کروانے گئی تو اس نے الٹراساؤنڈ پر کہا مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ڈوپلر کرواتے ہیں اور ساتھ ہی الٹراساؤنڈ والوں کو فون کیا کہ ایمرجنسی ہے فوراً ڈوپلر کرنا ہے۔

میں نے ڈوپلر کروایا اور چار بجے مجھے میرے ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے بچے کی umbilical cord (آنول نال) اس کے گلے کے گرد پھر گئی ہے جس سے اس کو آکسیجن کی سپلائی کم ہو گئی ہے اور اس سے ہارٹ ریٹ اور موومنٹ بھی کم ہو گئی ہے، اگر ایمرجنسی میں آپریشن نہ کیا گیا تو میں اس کو کھو دوں گی۔ اور میں نے فوراً حامی بھر لی۔ ایمرجنسی میں آپریشن کیا گیا اور میرے پیارے سے بچے کو بچا لیا گیا۔

میرے لیے یہ بہت حیران کن بات تھی کہ وہ آنول نال جو بچوں اور ماں کے درمیان سب سے مضبوط زندگی کی لائن ہے جس سے بچے کو ماں سے غذائیت اور توانائی پہنچتی ہے اور اس کی نشوونما کرتی ہے وہی آنول نال اس کی زندگی اس کی بڑھوتری اور نشوونما کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو وہ آنول جس نے اس بچے کے لیے نو مہینے لائف لائن کا کام کیا ہوتا ہے ڈاکٹر سب سے پہلے اس کو کاٹنے کا اہتمام کرتے ہیں کیونکہ بچے کی آئندہ زندگی کی بقا اس پر ہے کہ وہ سب کام جو اس کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری تھے اور آج تک اس کی ماں کرتی آئی ہے اب وہ خود سرانجام دے۔ کوئی بھی ماں اس امبیلیکل کورڈ کو جڑا رہنے نہیں دینا چاہتی۔

ڈاکٹر صاحب بچے ماؤں کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور مائیں بہت محنت اور پیار سے ان کی پرورش کرتی ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میرے بچے چھوٹے تھے تو میں ان کے ساتھ مل کر کھیلتی تھی ہم مانو بلی بن کر سارے گھر میں پھرتے اور مل کر کتابیں پڑھتی تھی اور ان کو روزانہ رات کو کہانیوں کی کتابیں پڑھ کر سناتی تھی۔ ان کو اس کی بے انتہا ایکسائٹمنٹ ہوتی تھی۔ ہم نے بلامبالغہ کئی سو کتابیں خریدیں اور جب ان کی کتابوں کی تلاش بڑھی تو ہم سیکنڈ ہینڈ کتابوں کی دکانیں کھنگالنی شروع کیں۔ ڈاکٹر صاحب ہم نے اپنے شہر کی کوئی دکان نہیں چھوڑی یہاں تک کے جس شہر بھی سیر و تفریح کے لیے گئے وہاں کی کتابوں کی دکانوں سے بھی بے شمار کتابیں خریدیں یہاں تک کے ان کو کتابیں پڑھ کر سنانے سے ایک وقت ایسا آیا کہ ہم سب اپنے اپنے بستروں پر اپنی مرضی کی کتابیں پڑھتے پائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب مجھے اپنے بچوں کا اسکول کا پہلا دن کیا ہر دن یاد ہے کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں جس ایک رشتے کو بہت انجوائے کیا وہ ماں ہے مجھے کوئی دکھ نہیں کہ میں نے اپنے پروفیشن اور اپنے وقت کی قربانی دی کیونکہ میں جس طرح سے اپنے بچوں کی پرورش کرنا چاہتی تھی میں نے کی ان کے ساتھ کرکٹ فٹ بال کھیلنے پارک زو کے چکر لگانے گیمنگ آرکیڈ باؤلنگ سینما اور ہوم ورک میں ساتھ دیا۔ اسکول کے پہلے دن سب سے زیادہ دل مضبوط میں نے کیا اگرچہ گھر آ کر بھاں بھاں کر کے روئی بھی میں ہی۔

اس سب میں بس ایک فائدہ ہوا کہ ہمارا آپس میں ایک مضبوط ایموشنل بانڈ بنا اور میرے بچوں کو لگا کہ گھر میں ایک ایسا فرد موجود ہے جو ہمیشہ ہر حال میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور آپ اس سے کوئی بھی بات کر سکتے ہیں۔ ان کا ہر سیکرٹ مجھے پتہ رہا اور میں ان کی پارٹنر ان کرائم رہی وہ بھی قابل اعتماد۔ اس سب نے جہاں ہمارا رشتہ مضبوط کیا وہاں دکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ بغیر کچھ کہے کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی دیا۔ ہم نے پچھلے چار سال میں اپنی دو جان سے پیاری ہستیوں کو کھویا اور اس دکھ نے ہمیں ایک دوسرے کے بہت قریب کر دیا۔

ڈاکٹر صاحب ماؤں کو اپنے بچوں کی کامیابی میں بے انتہا خوشی ہوتی ہے اس لیے میرے لیے بہت خوشی کا سال ہے کہ میرا بچہ یونیورسٹی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے لیکن وہاں ہی میرے لیے یہ بات بے حد مشکل ہے کہ اس کو گھر سے دور ہوسٹل جانا ہے اور ایک انتہائی مشکل پروگرام میں وہ اکیلا ہو گا جب کہ اب تک اس کی ساری جدوجہد میں جہاں تک اس کو ایموشنل اسپورٹ دے سکی میں نے دی لیکن مجھے خوشی ہے کہ بے انتہا مشکلات اور تکلیفوں کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم جاری رکھی ورنہ کئی ایسے موقع آئے جب میں بھی پریشان تھی، حالات سے اور اس کی صحت سے۔

ڈاکٹر صاحب جب بچے پہلی دفعہ اسکول جاتے ہیں تو مائیں اور بچے دونوں رو رہے ہوتے ہیں لیکن اسکول اس کو ایک
transition smooth
بناتا ہے وہ ماؤں کو کچھ دن اسکول بیٹھنے دیتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ مائیں اسکول بیٹھنے کے دورانیہ کو کم کرتی جاتی ہیں لیکن یہ ہوسٹل جانے والے عمل میں ایسا کچھ نہیں آپ کتنا بھی اپنے آپ کو اس کے لیے ذہنی طور پر تیار کریں آپ اس کے لیے تیار نہیں ہو پاتے اور خاص کر جب وہ بچہ آپ کا بہت اچھا دوست اور بک پارٹنر بھی ہو لیکن مجھے اندازہ ہے کہ اس
emotional umbilical cord
سے مجھے اپنے آپ کو اور اسے الگ کر کے ایک اور زندگی کے فیز میں ٹرانزیشن کرنا ہے جس میں وہ زیادہ خودمختار ہو گا اور بے شک میں اس سے بے پناہ محبت کرتی ہوں لیکن میں جانتی ہوں کہ یہ اس کی ترقی اور شخصیت کے لیے اہم ہے کہ وہ گھر سے باہر جا کر اپنے بل بوتے پر دنیا ڈسکور کرے شاید اسی کو آپ
”cutting the emotional umbilical cord“
کہتے ہیں۔

میں جاننا چاہتی ہوں کہ بطور ماں میں یہ کیسے کر سکتی ہوں کیونکہ اس نے میرے سے بے پناہ محبت اور لگاؤ کے باوجود ہوسٹل جانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے مجھے پتہ چلا کہ میرے بچہ اپنے ونگز ٹیسٹ کرنے کے لیے تیار ہے اور میں اس سے بہت خوش ہوں کہ جس مقصد کے لیے بطور ماں میں نے کوشش کی وہ پورا ہونا جا رہا ہے۔ لیکن میں آپ سے جاننا چاہتی ہوں کہ اس عمل
cutting the emotional umbilical cord
کو تکلیف دہ بنانے کی بجائے ہم خوشگوار کیسے بنا سکتے ہیں اور اپنے بچوں کی پاؤں کی زنجیر بننے کی بجائے مائیں دور رہ کر ان کے لیے اسپورٹ سسٹم کا کام کیسے کر سکتی ہیں۔ یہ اس وقت ایڈمیشن اور ہوسٹل کے پیپر جمع کرانے کا سیزن ہے اور آپ کی رائے اور مشورے بہت سی ماؤں کی مشکل آساں کریں گے۔

آپ کی دوست اور شاگرد
سارہ علی

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

محترمہ و معظمہ ڈاکٹر سارہ علی صاحبہ!

آپ کا خط پڑھ کر مجھے وہ دن رات یاد آ گئے جب میں پشاور کے زنانہ ہسپتال میں کام کیا کرتا تھا اور ماؤں کو ان کے حمل اور بچے کی پیدائش کے دوران مدد کرتا تھا۔ زچہ و بچہ کا خیال رکھتا تھا۔ مجھے یاد ہے جب بچہ پیدا ہو جاتا تھا تو آنول کاٹ دی جاتی تھی۔ جب آیا آنول اور پلیسنٹا کو کوڑے میں پھینک دیتی تھی تو اس وقت مجھے بہت دکھ ہوتا تھا۔

میں نے ایک دن اماں سے کہا کہ اس آنول اور پلیسنٹا نے نو ماہ اس بچے کی اپنے خون سے پرورش کی ہے اس لیے ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے اور اسے کوڑے کی ٹوکری میں پھینکنے کی بجائے اسے بڑے احترام سے دفن کرنا چاہیے۔

بچے کی جسمانی پیدائش کے وقت جسمانی آنول نرس کاٹتی ہے لیکن نوجوانی میں بچے کی جذباتی پیدائش کے وقت اس کی ماں جذباتی آنول خود کاٹتی ہے تا کہ وہ نوجوان بچہ آزادی و خود مختاری کی زندگی گزار سکے اور ذہنی طور پر صحتمند بن سکے۔

بہت سی ماؤں کے لیے جذباتی آنول کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے بچے سے بہت قریب ہوتی ہیں اور اسے بچے کی جدائی دکھی کر دیتی ہے۔ یہ ماں کا مشکل امتحان ہوتا ہے۔

میں ایسی ماؤں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں اپنی دوست بنائیں اپنے مشاغل شروع کریں اور اپنی علیحدہ زندگی گزارنا سیکھیں اور اگر وہ ایسا کریں گی تو ان کے لیے بچے سے جدائی آسان ہو جائے گی اور ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہو گا۔

مجھے آپ کو خط لکھتے ہوئے یاد آ رہا ہے کہ جب ہوائی جہاز میں ایر ہوسٹس جہاز کی پرواز کی تیاری کروا رہی ہوتی ہے تو وہ مسافروں سے کہتی ہے کہ اگر ہوائی جہاز میں ہوا کا دباؤ کم ہو تو چھت سے ماسک گریں گے۔ پھر وہ ماؤں سے کہتی ہے کہ ماؤں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے چہرے پر اور پھر بچے کے چہرے پر ماسک لگائیں کیونکہ بعض مائیں اپنے چہرے پر ماسک لگانے سے پہلے بچے کے چہرے پر ماسک لگانے کی کوشش کرتی ہیں اور بے ہوش ہو جاتی ہیں۔

بچے کا خیال رکھنے سے پہلے ماں کو اپنا خیال ہو گا تا کہ وہ بچے کا بہتر خیال رکھ سکے۔
ہم ماؤں کو بتاتے اور سکھاتے ہیں کہ
خود خیالی خود غرضی نہیں ہے۔

ڈاکٹر سارہ علی!

جب میں اور میری عنبر بہن بچے تھے تو ہم گھر میں مرغیاں پالتے تھے اور جب کوئی مرغی کڑک ہوتی تھی تو ہم اس کے نیچے انڈے رکھتے تھے اور پھر انتظار کرتے تھے کہ ان انڈوں میں سے کب خوبصورت چوزے نکلیں گے۔

جب چوزے پیدا ہوتے تھے تو مرغی انہیں کک کک کہہ کر اور بلا کر چوگا کھلاتی تھی۔

ایک دن میرے والد عبدالباسط نے میری والدہ عائشہ کو بلایا اور دکھایا کہ مرغی کے پاس کھانا ہے لیکن وہ چوزوں کو چوگا نہیں کھلا رہی۔ میرے والد صاحب نے میری والدہ سے کہا

عائشہ دیکھو یہ ماں جانتی ہے کہ اس کے بچے اتنے بڑے ہو گئے ہیں کہ اب یہ خود اپنا چوگا تلاش کر سکتے ہیں اس لیے وہ کھانا ہوتے ہوئے بھی انہیں کھانا نہیں دے رہی۔

پھر والد صاحب نے کہا

کاش انسانی مائیں اس مرغی ماں سے یہ سبق سیکھیں کہ جب بچے جوان ہو جائیں تو انہیں آزاد کر دیں تا کہ وہ خود اپنی زندگی کے فیصلے کر سکیں

جو انسانی مائیں زندگی کا یہ راز سیکھ جاتی ہیں وہ خوشی خوشی اپنے جوان بچوں کو گھر سے باہر بھیجتی ہیں۔ اور ان پر اعتماد کرتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں صحیح فیصلے کریں گے اور غلط فیصلوں سے سبق سیکھیں گے۔

جس طرح بچپن میں ماں جب بچے کو سکول لے کر جاتی ہے تو وہ اسے استانی کے حوالے کرتی ہے تا کہ وہ بچہ اپنی استانی سے کچھ سبق سیکھ سکے اسی طرح جوان بچے کی ماں اسے زندگی جیسی استانی کے حوالے کرتی ہے کیونکہ زندگی اسے کچھ ایسے سبق سکھانا چاہتی ہے جو ماں نہیں سکھا سکتی۔

بچے جب کالج یونیورسٹی جاتے ہیں تو اپنے پروفیسروں سے اپنے ہم جماعت طلبا و طالبات سے وہ سبق سیکھتے ہیں جو وہ گھر رہ کر نہیں سیکھ سکتے۔

یہ ماں کی گریجویشن کا وقت ہوتا ہے۔

ماؤں کو پہلے بچے کے گھر سے جانے کو سیلیبریٹ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ماں اور بیٹے دونوں کی زندگی کے اگلے باب کا وقت ہوتا ہے۔ دونوں کو اس موقع پر مٹھائی کھانی چاہیے کیونکہ وہ کامیابی کی اگلی منزل کا دور ہوتا ہے۔

اس موقع پر ماں اور بیٹے کی آنکھوں میں جو آنسو ہوتے ہیں وہ دکھ کے نہیں سکھ کے آنسو ہوتے ہیں۔
غمی کے نہیں خوشی کے آنسو ہوتے ہیں۔

خوش قسمت ہیں وہ مائیں جنہوں نے اپنے بچوں کی اتنی عمدہ اور اعلیٰ تربیت کی کہ وہ اب اپنی ماں کو چھوڑ کر نئی منزل کی طرف پرواز کر رہے ہیں اور مزید بلندی کی طرف اڑ رہے ہیں۔ میرا ایک شعر ہے

اپنی پرواز کا اندازہ لگانے کے لیے
اپنے ماحول سے آزاد فضائیں مانگیں

میں آپ کو اور آپ کے بیٹے کو زندگی کے اہم امتحان میں کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آپ کا دوست خالد سہیل

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail