مذاق ہی مذاق میں گزری عید
عید گزری ہے لیکن حسب معمول اپنے ساتھ کچھ نئے واقعات، تجربات اور مشاہدات بھی لیتی آئی۔ ماضی میں ہم اخبارات کی مدد سے گزری عید کے واقعات و معمولات سے آگاہ ہوتے کیوں کہ عیدین کی چھٹیوں کے بعد اخبارات ایک طرح گزری چھٹیوں کا ضمیمہ ہوا کرتے تھے۔اب یہ معمول بدل چکا ہے اور خبروں سے وقتی دوری کی نعمت سے بھی ہم محروم ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا سب کچھ ساتھ ساتھ نشر کرتا رہتا ہے اور یوں خبروں سے دوری کا احساس مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔جو ہوا،جیسے ہوا سب سے بڑھ کر آگے کیا کچھ ہونے کو ہے، ہر چیز دوچار کلکس کے بعد مل جاتی ہے۔ عید کے دوران ہم پوری طرح آگاہ رہے کہ مشہور زمانہ شملہ معاہدے کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے بلاول بھٹو زرداری سفارتی وفد کے ساتھ کہاں سے کہاں پہنچے اور کیا کچھ کہتے رہے۔اعتراض اُٹھانے والوں کی بھی سنی اور واہ واہ کے ڈونگرے بجانے والوں کی بھی خبر رہی کہ وہ نانا نواسے کے اس تقریبا ایک جیسے سفر کو بلاول بھٹو کے وزارت اعظمیٰ تک فاصلے کے قدم سمجھ رہے ہیں۔ البتہ یہ ضرور کہا جا رہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا سفر ایک ہاری ہوئی جنگ کے ساتھ جڑی ندامت کے بوجھ تلے دبا ہوا سفر تھا جس میں منزل بھارت کی قید میں پڑے نوئے ہزار فوجی قیدیوں کی رہائی اور کچھ دوسرے معاہدے تھے جب کہ بلاول بھٹو کا سفر جیتی ہوئی مختصر دورانیے کی جنگ کے بعد دنیا کو بتانے کا سفر ہے کہ پاکستان بھارت کی جارحیت کا شکار ہوا ہے لیکن اس نے جواب میں بھارت کو مات دی ہے۔
بھارت بھی دنیا کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے ایک سفارتی وفد روانہ کر چکا ہے جو قریہ قریہ گھوم کر پاکستان کی سفارتی ناکہ بندی میں مصروف ہے۔ شاید کچھ عرصہ بعد معلوم ہو گا کہ دونوں ممالک کے سفارتی وفود نے کیا کچھ حاصل کیا ہے۔ مودی کا اقتدار بچے گا کہ نہیں اور بلاول کی وزارت اعظمیٰ تک کی منزل آسان ہوگی کہ نہیں،ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔دونوں ہمسائے کب تک سفارتی وفود کی کاوشوں پر بھروسہ کرتے ہیں یا پھر ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لیے کمر کس لیتے ہیں، حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔جہاں تک پاکستان میں سیاسی صورت حال کا تعلق ہے تو وہ ایک طرح سے معلق ہے کیوں کہ نواز لیگ اور پی پی پی کو ایک جیسی سیاسی سوچ کی حامل پارٹیاں قرار دیا جا رہا ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر مشترکہ دشمن عمران خان کے سیاسی خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔
اس دوران دوسری خبر ایک خاتون ٹی وی اینکر کی طرف سے ازراہ مذاق معروف صحافی سہیل وڑائچ کو یہ کہنا کہ اگر وہ صحافی نہ ہوتے تو یورپ میں کہیں ریسٹورنٹس کے ٹائلٹس کی صفائی کا کام کر رہے ہوتے۔لوگوں کی اکثریت نے اس مذاق کو بہت سجنیدہ لیا ہے اور ٹائلٹس کی صفائی کو ہتک عزت جیسا جرم تصور کرتے ہوئے سہیل وڑائچ صاحب کی طرفداری میں مذکورہ خاتون کو سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا ہے۔اول تو یہ مزاح پیداکرنے کی ایسی کوشش تھی جیسی ہم روزانہ ٹی وی کے مزاحیہ شوز یا شہروں میں باقی بچے تھیٹروں میں دیکھتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو اس مذاق کے دوران وہاں موجود بعض سینئر صحافیوں کے بلند آہنگ قہقہے سے بھی تکلیف پہنچی ہے اور اُن کا خیال ہے کہ ٹی وی میزبان نے جان بوجھ کر ایسا ڈرامہ رچایا اور معزز صحافی کو اذیت دینے کی کوشش کی۔ ہوسکتا ہے یہ کوئی گہری سازش ہو لیکن بظاہر ایسا نہیں لگتا کیوں کہ مذاق پر ہنسنا ایک فطری امر ہے اور اگر اس کو محض ایک مذاق ہی رہنے دیا جائے تو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ مذاق کس درجے کا تھا،وجہ یہ ہے کہ ہم اس قدر زودرنج اور حساس واقع ہوئے ہیں کہ ہم کو مذاق بھی توہین محسوس ہوتے ہیں، سازش لگتے ہیں اور سب سے بڑھ کرہم قد ناپ کر مذاق کی جزئیات اور مہلک پن کا اندازہ لگاتے ہیں۔سب لوگوں نے خاتون کے مذاق اور جواب میں دیگر افراد کے قہقہے کو ہی ناپنے میں قوت صرف کی ہے کسی نے مذاق کا نشانہ بنے سہیل وڑائچ کا قہقہہ نہیں سنا کہ اصل جواب وہ آہنگ تھا جس کے لاتعداد معانی تھے اورجس کا ایک واضح ترین مطلب یہ تھا کہ مذاق کرنے والی محترمہ کس قدر مذاق سے عاری خاتون ہیں۔
دنیا بھر میں مذاق کرنے اور سہنے کے لیے ذہنی طور پر صحت مند اور توانا ہونا اولین شرط ہے جو اس دوسری ناگزیر شرط کے ساتھ منسلک ہے کہ مذاق میں حلیے اور رنگ ڈھنگ کے ذکر کا شائبہ بھی نظر نہ آئے لیکن ہم اس باریکی سے محروم ہیں اور ہمارے ہاں مذاق دراصل بدذوقی کا ایک لفظی سلسلہ ہوتا ہے جس میں سوائے تحقیر کے کچھ نہیں ہوتا۔جب ملک کا وزیراعظم مخالفین کے لہجے اور حلیے کو مذاق کا موضوع بنائے اور ہر طرف سے داد سمیٹے تو اجتماعی صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔
مذاق ہی مذاق میں ہم بہت دور نکل آئے ہیں، اگر اس دوران سنجیدہ معاملات کو بھی مدنظر رکھا جائے تو ایک عدد مذاق نما سنجیدہ مرحلہ شاید آج سے ہی لاحق ہو کہ نئے مالی سال کا بجٹ پیش ہونے جا رہا ہے جس کے کئی پہلووں پر اگرچہ خدشات سامنے آرہے ہیں لیکن اس بجٹ کی جزئیات پر آنے والے دنوں میں بحث ہوگی۔کہنے کو یہ بجٹ بھی عوامی بجٹ ہوگا کیوں کہ خواص کا تیار کردہ بجٹ ہمیشہ عوامی ہوتا ہے۔اگرچہ اعدادوشمار اور جائزے بتارہے ہیں کہ پاکستان میں غربت کی لکیر بہت واضح ہوچکی ہے اور تقریباً نصف آبادی خط غربت کے نیچے تک کھسک چکی ہے اور اس سے ملتی جلتی حالت پڑوسی ملک بھارت میں بھی ہے لیکن دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہیں اور وسائل کو بارود پر جھونکنے کے لیے پرتول رہے ہیں۔یقینی طور سرحدوں کا دفاع ممالک کے لیے ناگزیر ہوتا ہے لیکن سرحدوں کے اندر بسنے والوں کی زندگیوں کا دفاع بھی اُتنا ہی ناگزیر قرار دیا جاتا ہے۔دونوں ممالک میں بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے بھی تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی غربت کے ساتھ جنگ بھی ضروری ہے۔کبھی کبھہار جنگوں جیسا مذاق تو چلتا ہی رہتا ہے، اس مذاق کے دوران یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اطراف میں پون صدی سے جن کروڑوں کے ساتھ مذاق ہی چلتا رہا ہے، اِن کو اور اِن کی نسلوں کو لاحق بھوک اور بیماری کو بھی سنجیدہ لینا ضروری ہے تاکہ مذاق اور اہل مذاق دونوں زندہ اور موجود رہیں۔


