ڈراما ”چاند گرہن“ کا خلاصہ
ناول کا مرکزی کردار لال حسین شاہ ہے۔ جو کہ ایک سیاست دان ہے۔ ڈرامے کی کہانی لال حسین شاہ کے بنگلے سے شروع ہوتی ہے وہاں ایک میز پر دو ٹیلی فون رکھے ہیں دو ملازم کرسیوں پر بیٹھے کاغذ قلم سامنے رکھے فون پر الیکشن ایجنٹوں کی طرف سے نتائج نوٹ کر رہے ہیں۔ اور ملازم آپس میں باتیں کر رہے ہوتے ہیں کہ پولنگ سٹیشن کے نتائج اچھے نہیں آئے اس کا مطلب شاہ جی ہار گئے ہیں۔ اب یہ بات شاہ جی کو کیسے بتائیں۔ لال حسین شاہ کچھ بھی کہے بغیر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ جہانیاں جو کہ لال حسین شاہ کا بیٹا ہے کراچی شہر آ رہا ہوتا ہے۔ راستے میں اشارے پر وہ ایک لڑکے سے اخبار لیتا ہے جس میں وہ یہ پڑتا ہے کہ اس کا والد الیکشن ہار رہا ہے۔ یہ خبر پڑھ کے وہ غصے سے اخبار کو پانی میں پھینک دیتا ہے۔
(ناصر اور شہر بانو دونوں ایک ساتھ پڑھتے تھے )
ناصر جو کہ نوجوان صحافی ہیں شہر بانو اس کے پاس جاتی ہے۔ ناصر اس کو کہتا ہے تم نے الیکشن ٹرانسمشن دیکھی شہر بانو کہتی ہے کہ ہاں دیکھی ہے۔ کچھ ایسے رزلٹ آئے ہیں جن کی امید نہیں تھی۔ تو ناصر کہتا ہے یہ مت بھولو لوگ اب سمجھدار ہو گئے ہیں۔
جہانیاں گھر آتا ہے اور اپنے والد سے کہتا ہے بابا سائیں یہ کیا ہوا ہم کیسے ہار گئے۔ لوگ پاؤں ہمارے چومتے ہیں اور ووٹ دوسروں کو دیتے ہیں۔ تو لال حسین شاہ کہتا ہے۔ جہانیاں لوگ مجھ سے سیاست سیکھتے ہیں اور تم نے مجھ سے کچھ نہیں سیکھا سیاست کو اب دولت کا تڑکا لگ چکا ہے۔ تو جہانیاں کہتا ہے یعنی کہ اب ہمیں الیکشن جیتنے کے لیے لوگوں کو پیسے دینے پڑیں گے۔
ناصر اور شہر بانو گاڑی میں بیٹھ کر سمندر کے کنارے جاتے ہیں۔ ناصر کہتا ہے میں تمہاری طرح دنیا کو بھی خوبصورت دیکھنا چاہتا ہوں۔ تو شہر بانو کہتی ہے کہ کیا یہ ممکن ہے ہم ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ میں ایک جاگیر دار باپ کی بیٹی اور تم خواب دیکھنے والے صحافی۔
(کمال حسین جو کہ ناصر کا باپ اور ایک صحافی ہے )
کمال حسین ناصر کو کہتا ہے کہ تم اخبار میں وہی لکھو گے جو میں کہوں گا ناصر کہتا ہے میں نے سچ لکھا ہے۔ کچھ غلط نہیں لکھا۔ کمال حسین کہتا ہے کہ اگر تم نے سچ لکھنا ہے تو پھر اپنا الگ سے ایک اخبار نکال لو اس میں وہی لکھا جائے گا جو میں چاہوں گا۔ ہم ان لوگوں کے خلاف کچھ کیوں لکھیں جہاں سے ہمیں فائدہ ہو۔ یہ سن کر ناصر اپنے والد کا دفتر چھوڑ کر اپنے دوست محمود کی فلیٹ میں چلا جاتا ہے۔
(شیریں جو کہ امجد کی کزن اور کمال حسین کے آفس میں کام کرتی ہے )
جب شیریں ناصر کو جاتے دیکھتی ہے۔ تو وہ بھی نوکری چھوڑ دیتی ہے اور اس کے پیچھے چلی جاتی ہے۔
(گل بہار بیگم جو کہ لال حسین شاہ کی بیوی ہے )
گل بہار شاہ جی میں نے آپ کے لیے بہت سی منتیں مانگی تھی لگتا ہے آپ کو نظر لگ گئی ہے۔ جو آپ الیکشن ہار گئے ہیں۔
ناصر اپنے دوستوں کے ساتھ نوکری کی تلاش میں ہوتا ہے شہر بانو محمود کے فلیٹ میں ناصر کو ملنے آتی ہے۔ جہانیاں شہر بانو کو گھر سے نکلتے دیکھ لیتا ہے اور وہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ وہ شہر بانو کو فلیٹ میں جاتے دیکھ لیتا ہے اور پھر واپس آ کر اپنے والد سے کہتا ہے۔ آپ جانتے ہیں شہر بانو کہاں گئی ہے۔ لال حسین شاہ کہتا ہے کہ وہ جہاں بھی جاتی ہے۔ مجھے اس پر اعتبار ہے تم اپنے کام سے کام رکھو۔
شہر بانو جب گھر واپس آتی ہے تو لال حسین شاہ کہتا ہے تم کہاں گئی تھی؟ تو وہ کہتی ہے کہ میں ناصر سے ملنے گئی تھی۔
ہم ساتھ پڑھتے تھے۔ لال حسین شاہ کہتا ہے کہ یونیورسٹی میں اکٹھے پڑھتے تھے اب نہیں۔ اب ملنے کی بات اور ہے ہمارے یہاں سو دوست سو دشمن ہیں۔
(دلال لڑکیوں کے سودے کرتا ہے )
دلال ایک لڑکی امیر النساء کو لے کر آتا ہے اور گاہک کو دکھاتا ہے۔
(گاہک ایک ہوٹل کا مینیجر ہوتا ہے )
مینیجر اسے خرید لیتا ہے اور اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اور اسے ہوٹل کی وردی پہننے کے لیے دیتا ہے۔ امیر النساء وردی پہنے کے لیے کمرے میں جاتی ہے اور وہاں سے ایک کھڑکی کھول کر بھاگ جاتی ہیں۔
آگے جا کر اسے کچھ لڑکے اغواء کر لیتے ہیں اور اپنے ساتھ ایک فلیٹ میں لے جاتے ہیں۔ وہ فلیٹ محمود کی فلیٹ کے بالکل ساتھ والی فلیٹ ہوتی ہے۔
امیر النساء کو وہاں چھوڑ کر وہ لڑکے بھاگ جاتے ہیں۔ ناصر اور محمود جب اپنے فلیٹ سے باہر نکل کر آتے ہیں۔ تو اس لڑکی کو ادھر بیٹھے دیکھتے ہیں۔ تو اس سے پوچھتے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں بولتی۔ ناصر اور محمود اس سے پوچھتے ہیں تم۔ کون ہو۔ لیکن وہ کوئی بھی جواب نہیں دیتی۔ تو پھر ناصر اور محمود شیریں کو بولا کر کہتے ہیں کہ تم اس سے پوچھو۔ شیریں امیر النساء کو کہتی ہے دیکھو اس شہر میں تمہارا کوئی نہیں ہے۔ باہر نکلو گی تو پھر ایسا حادثہ ہو جائے گا۔ محمود کہتا ہے اتنا بڑا جرم ہوا ہے تم اس پر کیسے خاموش رہ سکتی ہو۔ تم کچھ بولو بات کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ امیر النساء اب ہمارا کوئی نام تو باقی نہیں رہا خالی ہم رہ گئے ہیں ناصر بہت وقت گزر چکا ہے۔ پولیس کو مطمئن کرنا مشکل ہو جائے گا۔
ناصر پولیس اسٹیشن جا کر پولیس کو بتاتا ہے کہ ہمیں ایسے ایک لڑکی ملی ہے اور اس کے ساتھ کچھ برا ہوا ہے۔
پولیس والے ناصر پر الزام لگاتے ہیں۔ کہ تم نے اتنے دن اس عورت کو کہاں رکھا اور کیا کرتے رہے اس کے ساتھ ناصر کہتا ہے وہ اپنے حواس میں نہیں تھی۔ اب اس قابل ہے کہ بیان دے سکے پولیس والا کہتا ہے۔ تو ڈاکٹر ہے جو یہ فیصلہ کرے گا یہ تو ڈاکٹری معائنے سے پتہ چلے گا کہ کیا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے تمہارے خلاف ہی کیس درج کرنا پڑ جائے۔
اور پولیس والے امیر النساء کو لے جا کر دوبارہ اسے دلال کے پاس پیچ دیتے ہیں۔
جہانیاں بندوق لے کر سیڑھیوں سے نیچے آتا ہے شہر بانو پوچھتی ہے کہاں جا رہے ہو؟ جہانیاں کہتا ہے شکار کرنے لیکن ضروری نہیں یہ شکار جنگل میں ہی ہو۔ تو شہر بانو کہتے ہیں تم میرے معاملات میں دخل دینے کی کوشش نہ کرو۔
(بابر امجد کا والد ہے )
بابر اور مسز بابر امجد سے کہتے ہیں کہ لال حسین شاہ کو جانتے ہو کتنا بڑا جاگیر دار ہے امجد کہتا ہے میرا ان سے کیا تعلق بابر کہتا ہے اس کی ایک بیٹی ہے شہر بانو اگر تمہاری شادی اس سے ہو جائے تو ہمیں بہت کچھ ملے گا تم لال حسین شاہ کے جانشین بھی بن سکتے ہو۔
(امجد اپنی کزن شیریں کو پسند کرتا ہے اور شیریں ناصر کو )
بابر اور اس کی بیوی لال حسین شاہ کے گھر جاتے ہیں اور لال حسین سے اس کی بیٹی شہر بانو کا رشتہ اپنے بیٹے امجد کے لیے مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں امید ہے کہ آپ ہمیں نا امید نہیں کریں گے۔
لال حسین شاہ اس رشتے کو قبول کر لیتا ہے اور اپنی بیٹی شہر بانو کی شادی امجد سے کر دیتا ہے۔
(جبکہ شہر بانو ناصر کو پسند کرتی ہے )
جہانیاں الیکشن ہارنے کی وجہ سے اپنے گاؤں والے بنگلے میں جاتا ہے۔ اور وہاں لوگوں سے پوچھتا ہے کہ آپ لوگوں نے ہمیں ووٹ کیوں نہیں دیے۔ جب لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق استعمال کیا ہے تو جہانیاں غصے میں آ کر دو تین لوگوں کی جان لے لیتا ہے۔
جس کی وجہ سے جہانیاں پر کیس چلنا شروع ہو جاتا ہے اور لال حسین شاہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے اپنے بیٹے کو بچانے کی۔
جہانیاں اپنی جان بچانے کے لیے پھر اپنے بنگلے میں واپس نہیں جاتا اور اگر جاتا بھی ہے تو رات کے وقت جاتا ہے اور رات کو ہی واپس آ جاتا ہے۔ وہ پھر بچل کے پاس جاتا ہے۔
(بچل جہانیاں کی بیوی ہے )
وہاں اس کو پتہ چلتا ہے کہ بچل ماں بننے والی ہے جہانیاں اس کو کہتا ہے کہ اگر یہ بچہ دنیا میں آیا تو میں اسے مار دوں گا۔
جہانیاں اپنی جان بچانے کے لیے چاچڑ کے پاس پناہ لیتا ہے۔
جب شہر بانو اور امجد کی آپس میں نہیں بن پاتی تو شہر بانو اپنے والد کے پاس واپس چلی جاتی ہیں اور خلع کا کہتی ہے۔
لیکن مسٹر بابر خلع دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ جب یہ بات جہانیاں کو پتہ چلتی ہے۔ تو وہ بابر کو اغواء کر لیتا ہے اور پھر اس کو کہتا ہے کہ میں تمہیں تب چھوڑوں گا جب تم لوگ میری بہن کو خلع دے دو گے۔
اس طرح امجد پھر شہر بانو کو طلاق دے دیتا ہے۔ جہانیاں کی اس حرکت پر لال حسین شاہ جہانیاں کو جائیداد سے محروم کر دیتا ہے۔
(کہ جہانیاں کی اس حرکت کی وجہ سے میں دو بارہ الیکشن نہیں جیت پاؤں گا)
جب جہانیاں کو اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ اپنے چھوٹے بھائی کو اغواء کرتا ہے اور گل بہار کو کہتا ہے کہ اگر تمہیں اپنا بیٹا چاہیے تو لال حسین شاہ کو کہو میری جائیداد میرے نام کرے۔
لال حسین شاہ کہتا ہے کہ میں نے جہانیاں کو پہلے تو جائیداد سے محروم نہیں کیا تھا لیکن اب ضرور کروں گا۔
کچھ دنوں بعد جہانیاں کو یہ خبر ملتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے یہ خبر سن کر وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ کہ اب اگر میرا والد مجھے جائیداد سے محروم کر دیں تو اپنے پوتے کو اس کے حصے کی جائیداد ضرور دیں گے۔
خانم جو کہ لڑکیوں کو ناچ گانا سکھا کر پھر انہیں کسی امیر آدمی کے ہاتھوں بیچ دیتی ہے اس نے گل بہار بیگم کا سودا پہلے دلبر سے کیا تھا اس سے دولت لے کر پھر اسے پولیس کے حوالے کر دیا بعد میں گل بہار کو لال حسین شاہ سے زیادہ دولت لے کر اسے بیچ دیا۔
(دلبر گل بہار بیگم کا عاشق تھا )
پولیس سے چھٹکارا پانے کے بعد دلبر گل بہار بیگم کو اس کے گھر جا کر تنگ کرتا ہے کہ میرے پاس واپس لوٹ آؤ لیکن جب گل بہار واپس نہیں آتی تو دلبر خانم کے کہنے پر دلال سے ایک لڑکی خرید کر لاتا ہے جو کہ امیرالنساء ہوتی ہے۔
لیکن دلبر اور خانم گل بہار بیگم کو تنگ کرتے ہیں اور مجبور کرتے ہیں کہ وہ دو بارہ ان کے پاس واپس آ جائے اور گانا گانا شروع کر دے۔ لیکن جب گل بہار انکار کر دیتی ہیں تو خانم مینجر کو گل بہار کے پاس بھیجتی ہے کہ وہ اسے مجبور کرے گانا گانے پر۔ آخر کار گل بہار گانا گانا کے لیے مان جاتی ہے۔
خانم امیر النساء کا نام میرا رکھ دیتی ہے اس کو ناچ گانا سکھا کر اس کے ذریعے دولت کمانا چاہتی ہے
ایک دن امیر النساء کا شوہر متین امیر النسا کو ڈھونڈتا ڈھونڈتا کراچی پہنچ جاتا ہے اور اس کی ملاقات ناصر سے ہوتی ہے وہ ناصر سے امیر النساء کی بارے میں پوچھتا ہے۔
گل بہار خانم کی باتوں میں آ کر دو بارہ گانا گانا شروع کر دیتی ہے لال حسین کو جب اس بارے میں پتہ چلتا ہے تو وہ گل بہار سے اس کا بیٹا چھین لیتا ہے اور کہتا ہے کہ اب جو مرضی کرو۔ میں اپنے بیٹے پر تمہارا سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گا۔
(لال حسین شاہ نے گل بہار کو چھپا کر رکھا تھا کسی کو نہیں پتہ تھا کہ وہ گانا گاتی ہے )
گل بہار لال حسین شاہ سے بدلہ لینے کے لیے اس کی خلاف شیریں کو بتاتی ہے اور شیریں اخبار میں وہ سب چھاپ دیتی ہے
اپنی عزت بچانے کے لیے لال حسین شاہ اپنا بیٹا دو بارہ گل بہار کے حوالے کر دیتا ہے۔
شیریں ناصر کے کہنے پر گل بہار کو امیر النساء کے بارے میں بتاتی ہیں گل بہار خانم کے کوٹھے میں جاتی ہے تو وہاں پر ایک لڑکی کی آواز سنتی ہے خانم سے پوچھتی ہے کہ یہ کون ہے تو وہ کہتی ہے کہ کوئی پاگل ہے۔ جبکہ امیر النساء گل بہار سے کہتی ہے کہ آپ مجھے خرید لو مجھے ان سے بچا لو۔
خانم کا ملازم جو کہ گل بہار بیگم کو بھی جانتا تھا وہ گل بہار کو امیر النساء کے بارے میں بتاتا ہے کہ خانم نے آج اس کا سودا کرنا ہے۔
جب خانم، دلال اور دلبر امیر النساء کا سودا کرنے لگتے ہے۔ تو گل بہار بھی وہاں پہنچ جاتی ہے اور گل بہار امیر النساء کو خرید لیتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ آج ایک عورت نے ایک عورت کو خریدا ہے اور اسے خرید کر آزاد کر دیتی ہے اور متین جو کہ امیرالنساء کا شوہر ہے اس کے حوالے کر دیتی ہے۔
بچل کے محلے والے اس سے پوچھتے ہیں کہ تمہاری اولاد کا باپ کون ہے جب بچل نہیں بتاتی تو وہ کہتے ہیں کہ یہ شریفوں کا محلہ ہے یہاں سے چلے جاؤ بچل اپنے والد کے ساتھ اس محلے کو چھوڑ کر جہانیاں کی تلاش میں جاتی ہے لیکن جب اسے جہانیاں کا پتہ نہیں چلتا تو وہ اپنے بیٹے کے ساتھ لال حسین شاہ کے بنگلے میں آ جاتی ہے اور اسے بتا دیتی ہے کہ میں جہانیاں کی بیوی ہوں اور یہ آپ کا پوتا ہے یہ سن کر لال حسین شرمندہ ہوتا ہے۔ اور سنگھار کو کہتا ہے کہ اگر یہ میرا پوتا ہے تو میں اسے تم سے چھین لوں گا لیکن تمہارے پاس نہیں رہنے دوں گا۔ شہر بانو بچل کو کمرے میں لے جاتی ہے اور اس کے بیٹے کو پیار کرتی ہے کہ یہ میرے بھائی کی اولاد ہے۔
جہانیاں جس پر لوگوں کو مارنے کے الزام تھے اور بابر جو کہ تھانیدار ہے اس کو بھی اغواء کرنے کا اور اپنے بھائی کو اغواء کرنے کا الزام تھا جس کی وجہ سے پولیس اس کی تلاش میں تھی۔
پولیس لال حسین شاہ سے معاہدہ کرتی ہے کہ آپ اپنے بیٹے کو ہمارے حوالے کر دیں ہم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
دو چار ماہ جیل میں رکھنے کے بعد اسے رہا کر دیں گے لال حسین شاہ معاہدے پر دستخط کر دیتا ہے اور جہانیاں سے رابطہ کرتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ پولیس سے میری بات ہو گئی ہے اب تم اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دو وہ تمہیں جلد ہی رہا کر دیں گے۔
جہانیاں اور چاچڑ لال حسین شاہ کی بات مان کر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنے کے لیے ایک مقام پر آ رہے ہوتے ہیں وہاں پر پولیس اور لال حسین شاہ پہلے سے کھڑے ہوتے ہیں جب پولیس جہانیاں اور چاچڑ کو آتے دیکھتے ہیں تو پیچھے سے پولیس والے گولیاں چلاتے ہیں جس سے چاچڑ اور جہانیاں کو گولی لگتی ہے اور وہ وہاں پر ہی مر جاتے ہیں۔
یہ دیکھ کر لال حسین شاہ کہتا ہے کہ یہ کس نے کیا۔ تم لوگوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ پولیس والے کہتے ہیں جناب ہمیں معاف کر دیں ہمیں پیچھے سے یہی حکم ملا تھا۔
لال حسین شاہ اپنے ملازموں کے ساتھ گھر واپس آ جاتا ہے شہر بانو بچل کو جا کر بتاتی ہے کہ پولیس نے جہانیاں کو مار دیا ہے۔
جہانیاں کے مرنے کے بعد لال حسین شاہ الیکشن جیت جاتا ہے۔
جہانیاں کی وفات کے کچھ دنوں بعد شہر بانو فیصلہ کرتی ہے کہ وہ لندن چلی جائے گی۔
ناصر بھی فیصلہ کرتا ہے کہ میری شادی ہو یا نہ ہو اب میں نے ملک چھوڑ کر چلے جانا ہے۔
شہر بانو اپنے والد کو جا کر کہتی ہے کہ میں ملک چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں لال حسین شاہ کہتا ہے اکیلی جانا چاہتی ہوں شہر بانو کہتی ہے آپ کو شک ہے تو کسی دائی کو میرے ساتھ بھیج دیں لال حسین شاہ کہتا ہے نہیں۔ میرا مطلب تھا مجھے اکیلا چھوڑ کر جانا چاہتی ہو۔ شہر بانو کہتی ہے آپ کو جو چاہیے تھا وہ تو آپ کو مل گیا کیا خبر یہ جیت ہے یا ہار اور جیت کس کی ہے آپ کی میری یا جہانیاں کی۔ آپ نے میرا بھائی دے کر یہ جیت لی ہے آپ کا تو کچھ نقصان نہیں ہوا۔ آپ کے پاس دوسرا بیٹا ہے اور ایک پوتا موجود ہے میرے پاس کچھ نہیں رہا۔
لال حسین شاہ کہتا ہے چھوڑو ان باتوں کو۔ کہاں جانا چاہتی ہو۔ شہر بانو کہتی ہے میں لندن جانا چاہتی ہوں لال حسین شاہ کہتے ہیں کہ تم اکیلی باہر نہیں جاؤ گے میں اب تمہاری مرضی سے تمہاری شادی ناصر سے کروں گا اور تم دونوں مل کر باہر جاؤ گے۔
گل بہار اپنے بیٹے کو لے کر باہر جانے لگتی ہے ائرپورٹ پہنچتی ہے کہ پیچھے سے کچھ لوگ آتے ہیں اور اس کا بیٹا اس سے چھین لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ لال حسین شاہ کے بیٹے کو اپنے ساتھ باہر نہیں لے جا سکتی اسے ہمارے حوالے کر دیں گل بہار اپنے بیٹے کو ان لوگوں کے حوالے کر کے چلی جاتی ہے۔
دلبر خانم سے ساری دولت لے کر ملک چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
شہر بانو ناصر کے پاس آ جاتی ہے اور کہتی ہے میں آ گئی ہوں کبھی نہ جانے کے لیے۔ اب میں تمہیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گی ناصر مسکراتا ہے اور وہ دونوں آسمان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔


