خواب، محبت اور زندگی 31


mahnaz rahman

ان صاحب نے ہوسٹل کے پتے پر مجھے خط بھیج دیا۔ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وارڈن یا پرنسپل صاحبہ لڑکیوں کے نام آنے والے خطوط چیک کرتی ہیں۔ ہمارے درمیان چند خطوط کا ہی تبادلہ ہوا ہو گا کہ میری پرنسپل کے دفتر میں طلبی ہو گئی۔ ان صاحب کا خط دکھا کر انہوں نے میری جو سرزنش کرنی تھی سو کی۔ اور پھر میری منت سماجت کے باوجود وہ خط شکارپور میرے والدین کو بھجوا دیا۔ جو میرے لئے بے حد خفت کا باعث بنا۔ یہ 1968 کا ذکر ہے۔ اس زمانے میں اس طرح کے واقعات اسکینڈل کا درجہ رکھتے تھے۔ اس وقت کس نے سوچا تھا کہ چند عشروں کے بعد ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہو گا۔ اور وہ جسے چاہے کال کرے یا ٹیکسٹ میسیج بھیجے۔

اس واقعے کے بعد جب میں چھٹیوں میں گھر گئی تو ایک رات کھانے کے بعد ڈائننگ ٹیبل پر بھائیوں کی موجودگی میں امی نے مجھ سے اس خط کے بارے میں پوچھا۔ شاید میری مجروح انا نے مجھے بہادری کے مظاہرے پر اکسایا اور میں نے اعلان کر دیا کہ میں جب بھی شادی کروں گی تو اسی شخص سے کروں گی۔ میری یہ بات سن کر سب حیران اور پریشان تو ہوئے لیکن کوئی کچھ بولا نہیں۔ میری اس دوست لڑکی نے پھر کبھی مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ وہ کراچی کی وسیع بھول بھلیوں میں کہیں گم ہو گئی تھی۔ سالوں بعد کراچی میں شکارپور کالج کے ایک کلاس فیلو لڑکے سے ملاقات ہوئی تو اس نے پدر سری سادیت پسند انداز میں بتایا کہ اب وہ لڑکی فلم انڈسٹری کے کسی پروڈیوسر کی مسٹریس بن کے رہ رہی ہے۔ مجھے یہ سن کر دکھ ہوا لیکن اس نے اپنی رومانویت پسندی اور ذہنی نا پختگی کی بدولت میری ریپوٹیشن خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ لوگوں نے اسے نو عمری کا جذباتی پن سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔

جب میں نے زبیدہ کالج میں داخلہ لیا تو ہوسٹل میں ایک دو پرانی طالبات کے حوالے سے ہم جنس پرستی یا لیزبین تعلقات کی باتیں ہوتی تھیں۔ ظاہر ہے اس موضوع پر کوئی بھی کھل کر بات نہیں کرتا تھا۔ خوف اور احتیاط کے پیش نظر ایسے تعلقات کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔ ہوسٹل کی وارڈن اس حوالے سے بہت چوکنا رہتی تھیں اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہوسٹل کے راؤنڈ لگا کر دیکھتی تھیں کہ ہر لڑکی اپنے بستر پر موجود ہے۔ جیسا کہ ایک مشہور انگریزی نظم کا مصرعہ ہے کہ یہ وہ محبت ہے جو اپنا نام لینے سے ڈرتی ہے۔ اور ہوسٹل کی دنیا میں کوئی اس کا نام نہیں لیتا تھا۔

ہوسٹل میں میری چند بہت اچھی سہیلیاں بن گئیں۔ اس ہوسٹل میں ہر کمرے میں چار لڑکیاں رہتی تھیں۔ ہماری واحد تفریح مہینے میں ایک مرتبہ وارڈن کے ساتھ بس میں بھر کر سینما دیکھنے جانا تھی۔ کبھی کبھار چھوٹے گروپس میں بازار جا کے شاپنگ کرنے کی اجازت بھی مل جاتی تھی۔ سب لڑکیاں اپنی تصویر کھنچوانے کی شوقین تھیں۔ اس لئے ان مواقع پر فوٹو گرافر کی دکان کا چکر بھی ضرور لگتا تھا۔ اور بڑے اہتمام سے سنجیدہ پوز بنا کے تصویر کھنچواتے تھے۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اک روز ہاتھوں میں موبائل لئے سیلفی بنا رہے ہوں گے۔

ہوسٹل میں کھانے کا اپنا ایک مسئلہ تھا۔ ہر ڈش کا ٹیسٹ ایک جیسا ہوتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ مسالوں کی جگہ لکڑی کا برادہ ڈالا گیا ہو۔ کھانے کے معاملے میں ہوسٹل میں رہنے والوں کے نخرے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ بھوک لگ رہی ہو تو جیسا بھی ملے، کھانا پڑتا ہے۔ کبھی کبھار ہم پرنسپل صاحبہ سے جا کے شکایت بھی کرتے تھے لیکن ان کا اصرار ہوتا تھا کہ وہ اکثر ہوسٹل سے کھانا منگا کر کھاتی ہیں اور انہیں بہت اچھا لگتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میں جو ہمیشہ سے دبلی پتلی رہی، میرا وزن ہوسٹل میں قیام کے دوران بڑھ گیا تھا اور امی کو اس کی بے حد خوشی تھی۔

ان دنوں ہوسٹل میں فریج نہیں ہوتا تھا۔ آدھی رات کو اکثر لڑکیوں کو بھوک لگ جاتی تھی۔ انتظامیہ نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا تھا کہ رات کے کھانے کے بعد وہاں رکھے ہوئے نعمت خانوں میں کچھ پلیٹوں میں کھانا رکھ دیا جاتا تھا اور رات دیر گئے کسی لڑکی کو دوبارہ بھوک محسوس ہوتی تھی تو وہ جا کے ایک پلیٹ نکال کے کمرے میں لا کر کھا لیتی تھی۔

ایک رات ساتھ والے کمرے سے میری دوست ہمارے کمرے میں آ گئی اور ہم باتوں میں ایسے مشغول ہوئے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ آدھی رات گزر گئی تو ہم دونوں کو بھوک ستانے لگی۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ نچلی منزل پر جا کے ڈائننگ روم کے نعمت خانے میں سے پلیٹوں میں رکھا ہوا کھانا لے کر آتے ہیں۔ ہم دبے پاؤں نیم تاریک کوریڈور سے گزر کر نیچے گئے اور نعمت خانے میں رکھی کھانے سے بھری ایک پلیٹ لے کر فاتحانہ انداز میں واپس اپنے کمرے میں آ گئے۔ جب ہم پلیٹ میں رکھا ہوا کھانا تقریباً ختم کر چکے تھے تب ہمیں احساس ہوا کہ ساتھ والے کمرے سے نسیم بھی ہمارے کمرے میں آ چکی تھی اور ہمیں کھانا کھاتے دیکھ رہی تھی۔ ظاہر ہے اسے بھی بھوک لگ رہی ہو گی لیکن وہ بولے بنا ہمیں کھاتا دیکھتی رہی۔ اسے توقع ہو گی کہ ہم اسے دیکھ کر اپنے ساتھ کھانے میں شریک کر لیں گے۔ جب ہمیں اس کی موجودگی کا احساس ہوا تو پلیٹ میں مشکل سے ایک نوالہ بچا تھا۔ میری دوست اس کی طرف بڑھی اور اسے وہ پلیٹ پیش کی۔ اتنی کم مقدار میں کھانا دیکھ کراس نے غصے سے پلیٹ لے کر اولمپک کے کسی فریسبی چیمپئن کی طرح کمرے کے دوسرے کونے کی طرف پھینک دی۔ پلیٹ اڑتی ہوئی دوسرے کونے میں جا کے سیدھی گری اور آخری نوالہ اسی طرح سلامت رہا۔ میں حیرت زدہ کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی مگر میری دوست غصے یا ندامت کا اظہار کیے بغیر دوسرے کونے کی طرف گئی او ر پلیٹ اٹھا کر آخری نوالہ مزے سے منہ میں ڈال کے واپس میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ اتنے سالوں بعد بھی نسیم کا غصے میں پلیٹ پھینکنا اور میری دوست کا پلیٹ اٹھا کر مزے سے آخری نوالہ منہ میں ڈالنے کا منظر یاد آتا ہے تو مارے ہنسی کے برا حال ہو جاتا ہے۔

نسیم کے غصے کی پروا کیے بغیر پلیٹ میں موجود آخری نوالہ نگلنے والی میری اس دوست کا نام شہناز سلیم تھا۔ تھا، وہ مجھے زندگی میں ملنے والے بہترین انسانوں میں سے ایک تھی اور ہے۔ ایک انتہائی سمجھدار اور پرخلوص دوست۔ بعد میں وہ کراچی ریڈیو کی بزم طلبہ کی انچارج رہی۔ شادی کے بعد وہ امریکہ چلی گئی اور شہناز عزیز کے نام سے وائس آف امریکہ کے بے شمار پروگراموں کی ایوارڈ یافتہ پروڈیوسر رہی۔ اس کی خوش قسمتی کہ ٹرمپ کے وائس آف امریکہ کی اردو سروس بند کرنے سے کچھ ماہ پہلے ہی اس نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ اس نے ساری عمر اس ادارے میں کام کیا جو امریکی مفادات کا ترجمان تھا اور میں سیاسی اور نظریاتی طور پر ایک دوسرے کیمپ سے تعلق رکھتی تھی مگر یہ اختلاف کبھی ہماری دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہوا۔ وہ آج بھی میری بہترین دوست ہے۔

بی اے میں ہم دونوں نے اقتصادیات اور ایڈوانس اردو کے اختیاری مضامین چنے تھے۔ پاکستان اقتصادیات کا مضمون ہم دونوں کو اتنا بورنگ لگتا تھا کہ کلاس اٹینڈ کرنے کے سوا پورا سال ہم نے کتاب کھول کر نہیں دیکھی۔ جب امتحانات سر پر آ گئے اور ہم نے کتاب کھولی تو حالت خراب ہو گئی۔ ہم کتاب ہاتھ میں اٹھائے ہوسٹل سے باہر کالج کی طرف آئے جہاں تعمیراتی مقاصد کے لئے کچھ گڑھے کھودے گئے تھے۔ شہناز کے اندر ہمیشہ سے ایک غیر روایتی روح سمائی رہی ہے۔ اس نے کہا کہ گڑھے میں اتر کر کتاب کو رٹا لگاتے ہیں اور پھر اس نے واقعی گڑھے میں اتر کر کتاب کا مطالعہ شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے تجویز پیش کی کہ ہمیں امتحان نہیں دینا چاہیے۔ میں نے کہا میرے والدین نے مجھے ہوسٹل میں اس لئے تو داخل نہیں کرایا تھا کہ میں امتحان نہ دوں۔ میرے پاس امتحان نہ دینے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ جیسے تیسے ہم نے کتاب پڑھ کر امتحان دیا۔ ہم دونوں کی بی اے میں فرسٹ ڈویژن آئی اور ایڈوانس اردو کے پرچے میں تو ہم دونوں نے ریکارڈ توڑ نمبر حاصل کیے۔ میری اگلی منزل کراچی یونیورسٹی تھی۔ میری زندگی کا نیا موڑ جسے ”بایاں“ موڑ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔

Facebook Comments HS